اردو
Friday 6th of August 2021
302
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

شیعہ اور بیعت رضوان

شیعه٬ ابوبکر اور عمر کے درخت کے نیچے پیغمبر اکرم(ص) کی بیعت (بیعت رضوان) سے انکار نهیں کرسکتے هیں اور خدا وند متعالنے خبر دی هے که وه ان افراد سے راضی هے٬ جنهوں نے درخت کے نیچے پیغمبر (ص) کی بیعت کی هے اور وه جانتا تها که ان کے دلوں میں کیا هے ٬پس شیعه اس خبر الهی کےبعد اس کے خلاف کهه کر کیوں کفر کے مرتکب هو رهے هیں؟! گویا شیعه کهتے هیں: خداوندا! جو کچھ هم ان کے بارے میں جانتے هیں تو نهیں جانتا هے! نعوذ بالله-»شیعوں نے٬ بهت سے صحابیوں کی بیعت٬ من جمله صلح حدیبیه کے واقعه سے متعلق افراد کی بیعت سے انکار نهیں کیا هے اور اس کے علاوه اس کے بهی منکر نهیں هیں که خداوند متعال نے اس وقت ٬صحابه کی کارکردگی کے بارے میں کلی طور پر رضامندی کا اظهار کیا هے٬ اگر چه ان میں سے بعض افراد نے٬ من جمله دوسرے خلیفه کے٬ بیعت کے بعد بهی پیغمبر اکرم (ص) کےفیصله کے بارے میں چه می گوئیاں کی هیں- اس بناپر٬ شیعه اعتقاد رکهتے هیں که بیعت پر قائم نه رهنے اور عهد شکنی کر نے کی صورت میں٬ یه ممکن هے که خداوند متعال کی رضا مندی اس کے خشم و غضب میں تبدیل هوگی اور یهی موضوع قرآن مجید کے سوره فتح کی دسویں آیت میں بهی بیعت رضوان کے بارے میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا هے اور خداوند متعال نے فر مایا هے که : " بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے هیں وه در حقیقت

الله کی بیعت کرتے هیں اور ان کے هاتھوں کے اوپر الله هی کا هاتھ هے٬ اب اس کے بعد جو بیعت کو توڑ دیتا هے  وه اپنے هی خلاف اقدام کرتاهے" اور هم یه بھی جانتے هیں که بیعت اخوان کے تمام افراد اپنے عهدو پیمان پر باقی نهیں هیں بلکه جنگ حنین میں میدان کار زار سے بھاگ کر٬ پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم کے ساتھ پیمان شکنی کی هے اور اس قسم کا ایک قضیه بنی اسرایئل کے ایک پیغمبر طالوت کے صحابیوں کے ساتھ پیش آیا هے اور بعید نهیں هے که جو کچھ اس امت میں واقع هوا ہے٬ هماری امت میں بھی واقع هوا هو-

قرآن مجید کی آیه شریفه پر مبنی آپ کے اس سوال کی هم تین ابعار سے حسب ذیل تحقیق کررهے هیں

1- کیا شیعه بهت سے صحابیوں٬ من جمله پیش نظر افراد کی اجتماعی  بیعت کے منکر هیں٬ جنھوں نے بیعت رضوان میں حاضر هوکر خدا کی رضا مندی حاصل کی هے؟

2- کیا ایک خاص واقعه پر ایک گروه اور جماعت کے بارے میں خداوندمتعال کی رضامندی٬ اس امر کی دلیل هے که اس گروه سے متعلق تمام افراد٬ ابدتک خطا اور غلطی کے مرتکب نهیں هوںگے ؟

3- کیا بیعت رضوان میں حاضر تمام افراد٬ اپنی زندگی کے آخری لمحه تک یا پیغمبر اسلام (ص) کی رحلت تک اپنے عهد و پیمان پر ثابت قدم اور باقی رهے هیں؟

اس امر کو مدنظر رکھیئے که جس آیه شریفه سے آپ نے استدلال کیا هے٬ وه سوره فتح کی اٹھارویں آیت هے- اپنے سوال کے جواب کے سلسله میں آپ اسی سوره کی دسویں آیت کا غور سے مطالعه فرمایئے جس میں بیعت توڑنے یا عهد شکنی کے بارے میں بیان کیا گیا هے- کیا آپ نے کبھی اپنے آپ سے پوچھا هے که٬ اگر سوره فتح میں بیان کی گئی خدا کی رضامندی دائمی

اور ناقابل تغیر هو تو اس کے کیا معنی هیں خداوند متعال نے عهد شکنی کا ذکر کیا هے؟!

اس بنا پر هم اعتقاد رکھتے هیں که حدیبیه کے علاقه میں اسلامی فوج کے پهنچنے اور مسلمانوں کے درمیان تشویشناک خبروں کے پھیلنے کے بعد پیغمبر اسلام (ص) نے انھیں ایک درخت  کے نیچے جمع کیا اور ان کے ساتھ عهد و پیمان باندھا که جنگ چھڑنے کی صورت میں دشمن کی طرف پیٹھ نه کریں گے اور فرار نهیں ہوں گے – اس واقعے میں ایک فرد کے علاوه ٬ تمام مسلمانوں نے بیعت کی-[i][1] اس کے نتیجه

میں خداوند متعال نے ان سے راضی هونے کا اعلان کیا اور ان پر آرام و سکون نازل فرمایا. اس بنا پر هم اس بیعت میں بهت سے صحابیوں کی حاضری سے منکر  نهیں هیں٬ اور٬ کسی قسم کے کفر اور خلاف ورزی کی بحث نهیں هے اور هم نے قرآن مجید کی کسی آیت کا انکار نهیں کیا هے! لیکن آپ کو سوال کے دوسرے حصه کا جواب دینا چاهئے اور بتانا چاهئے که کیا آپ کے عقیده کے مطابق صحابیوں کے بارے میں خدا کی رضامندی اور ان پر آرام و سکون نازل هونا٬ ان کے لئے ایک ایدی ضمانت هے اور یه ضمانت اس چیز کا سبب هے که ان صحابیوں کی بعد والی کار کردگی  پر کسی قسم کی تنقید نهیں کی جانی چاهئے؟!

هم اس قسم کاعقیده نهیں رکھتے هیں اور خیال کرتے هیں که همارا نظریه قرآن مجید کی تعلیمات کےعین مطابق هے-

هم آپ کے لئےاپنے دلائل پیش کرتے هیں تاکه اس واقعے میں صحابه کے بارے میں خداوند متعال کیرضامندی اور ان کی کار کردگیوں کے بارے میں هماری تنقید میں فرق کیجئے! اس سلسله

میں٬ سوره فتح کی مذکوره دسویں آیت کے علاوه بنی اسرایئل کے ایک ایسے هی مشابهواقعے کا ذکر دلچسپی سے خالی نهیں هے٬ جس کا آپ اعتقاد رکھتے هیں که جو کچھ اس قوم

میں واقع هوا هے٬ وه هماری قوم میں بھی دهرایا جائے گا-[ii][2]

قرآن مجید کیصراحت کے مطابق٬ خداوند متعال نے بنی اسرایئل پر احسان رکھا هے اور انھیں دنیا والوں پر برتری عطا کی-[iii][3] کیا ان کے صبر

و تحمل کی وجه سے٬ خداوند متعال نے نهیں فرمایا هے که ان کے بارے میں اس کا نیکیکا وعده مکمل هوگیا هے؟ کیا وه بلندترین مقام پرقرار نهیں پائے هیں اور اس کے بعد

که وه علم و دانش کے بلند مراحل پر پهنچے٬ کیا وه پهر اختلافات اور افتراق سےدوچار نهیں هوئے هیں[iv][4]؟!

کیا آپ کو بنیاسرایئل کے بارے میں ایک اور واقعه یاد نهیں هے که اس قوم کے ایک گروه نے اپنےپیغمبر سے درخواست کی که همارے لئے ایک سپاه سالار معین فرمائیں تاکه هم اس کے

پرچم تلے دشمنوں کے ساتھ جنگ کریں اور اس پیغمبر نے جواب دیا که ممکن هے جنگ کافرمان جاری هو نے کے بعد آپ نا فرمانی کر کے جنگ کر نے سے منه موڑ لیں! انهوں نے

کها که باوجودیکه همیں گهر اور اهل وعیال سے دور کیاگیا هے٬ یه احتمال کیسے ممکنهے که هم جنگ نهیں کریں گے! اس اصرار کے نتیجه میں جنگ کا فرمان جاری هوا لیکن اس

کے آغاز میں هی ٬ ان میں سے ایک مختصر تعداد کے سوا ٬دوسروں نے نافر مانی کی! لیکن اس کے باوجود ٬ طالوت بنی اسرائیل کی فوج کے سپاه سالار منتخب هوئے ، اس انتخاب پر

بهی ان کی طرف سے اعتراض کیاگیا! اس کے بعد وهی مختصر تعداد باقی رهی٬ اور طالوت کے همراه میدان جنگ کی طرف روانه هوئی اور حضرت موسی(ع) کا تابوت٬جس میں خدا کی

طرف سے سکون اور ان کے اسلاف کے کچھ آثار تهے اور الهی فرشتے اسے اٹھاتے تهے٬ان کیدل جوئی کے لئے انهیں حواله کیاگیا- ان الهی نشانیوں کے ظهور کے بعد٬طالوت نےانهیں

پانی کی ایک نهر کے ذریعه آزمایا مگر اس دوران بهی ان کے ساتھ آئے هوئے لوگوں میںسے ایک مختصر تعداد کے علاوه باقی سب ان سے جدا هوئے!لیکن خداوند

متعال نے ان چند افراد کو اپنی مهر بانیوں سے نوازا اور طالوت کے توسط سے جالوت کےقتل هو نے کے بعد اس نے اپنے دشمنوں پر فتح پائی-[v][5]

کیا اب هم یهکهه سکتے هیں که چونکه خداوند متعال کا سکون ٬اس کی رضا مندی کی عدالت هے ٬ بنیاسرائیل پر میدان کارزار کی طرف روانه هونے سے پهلے نازل هوا هے ٬همیں دو مرحلوں پر جنگ سے فرار کر نے والوں کے بارے میں کوئی تنقید نهیں کرنی چاهئے؟! کیا یه طرزفکر ٬قرآن مجید کی منطق کے ساتھ ساز گار هے اور کیا آپ کا سوال بهی اسی سلسله کیایک کڑی نهیں هے؟!

شائد آپ یه کهیںگے که یه دو جدا جدا موضوعات هیں اور طالوت کے ساتهیوں نے فرار ہوکر ٬ اپنے ماضیکو خراب کر دیا هے ٬لیکن پیغمبراکرم(ص)کے صحابیوں کے بارے میں یه واقعه نهیں هواهے٬ اس سلسله میں کهنا چاهئے که :

اولا": اس صورت میں بهی آپ نے اجمالی طور پر قبول کیا هے که ممکن هے انسان کے بعد والے اعمال ماضی کی قابل فخر کار کردگی کو نابود کر کے رکھ دیں!

ثانیا": هم بخوبی جانتے هیں که بیعت رضوان میں قید وشرط لگائی گئی تهی که مسلمانوں کو فرارنهیں کر نا چاهئے ٬ لیکن اس وقت کوئی جنگ واقع نهیں هوئی که بیعت کرنے والوں کا

امتحان لیا جاتا٬ لیکن هم مشاهده کر رهے هیں که بعد والے برسوں کے دوران جنگ حنینمیں بهت سے ایسے افراد٬ جو بیعت رضوان میں موجود تهے اور اس جنگ میں شریک هو نے کے

باوجود دشمن کے سپاهیوں کے حمله کے بعد فرار هوئے اور پیغمبر(ص) کو مٹهی بهر افرادکے ساتھ تنها چهوڑ دیا٬یهاں تک که پیغمبر اسلام نے فریاد بلند کی که : کهاں هیں وه

لوگ جنهوں نے درخت کے نیچے میری بیعت کی تهی[vi][6]؟! اور اس کےبعد صرف خدا کی طرف سے دوباره سکون نازل هو نے اور غیبی فوج اتر نے کے نتیجه میں

جنگ٬ مسلمانوں کے حق میں ختم هوئی![vii][7]

ان افراد کے باےمیں صرف نظر کرتے هوئے جو پیغمبر (ص) کے ساتھ رهے اور جنهوں نے فرار اختیار کیا ٬کیا یه بذات خود بهت سے مسلمانوں کے توسط سے بیعت رضوان کو توڑ نے کی علامت نهیںهے؟ اور یه که صرف بیعت کر نا اور اس پر عمل کئے بغیر خدا کی رضامندی کو حاصل کیا جاسکتا هے؟ ! لیکن خلیفه اول اور خلیفه دوم کے بارے میں ٬اگر ان کے جنگ حنین میںفرار کر نے کے سلسله میں اختلاف نظر پائے جانے کے پیش نظر اس سے چشم پوشی کر کے ان کے فرار کو شمار نه کریں٬لیکن همیں جاننا چاهئے که وه بهی بیعت رضوان کے بعد پیغمبر اکرم صلی الله علیه وآله وسلم  کے فیصلوں کے مقابلے میں مکمل طور پر راضی ومطیع نهیں تهے اور آنحضرت(ص) کی شدید تنقید کرتے تهے٬ چنانچہ هم ان میں سے ایکنمونه کی طرف ذیل میں اشاره کر نے پر اکتفا کرتے هیں:جب صلح حدیبیهکے منعقد هو نے کے بعد ٬جنگ کے احتمالات ختم هوئے اور اسلام کے سپاهیوں نے مدینهکی طرف واپس لوٹنے کا فیصله کیا٬ تو عمر ٬ پیغمبر(ص) کے نزدیک آئے اور سوال کیا کهاے پیغمبر (ص)! کیا هم حق پر نهیں تهے اور وه باطل پر نهیں تهے؟ کیا همارے مقتولین بهشت میں نهیں هوں گے اور ان کے مقتولین جهنم میں نهیں هوںگے؟ پیغمبر(ص) نے فرمایا: بیشک ایساهی هے! عمر نے پوچها: پس هم نے کیوں اپنے دین کے بارے میں سستیکا مظاهره کیا اور همارے اور مشرکین کے درمیان خدا کے فیصله کے بغیر هم مدینه کیطرف پلٹ رهے هیں؟! پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا: اے ابن خطاب !میں خدا کا پیغمبرهوں اور خداوند همیں هرگز ضایع اور رسوا نهیں کرے گا- اس گفتگو کے بعد عمر مطمئننهیں هوئے اور غیض وغضب کی حالت مین پیغمبر اسلام (ص) کے هاں سے اٹھ کر ابو بکر کےپاس گئے اور ان کے پاس بهی ان هی باتوں کو دهرایا تب ابو بکر نے ان سے کها٬کهخداوند متعال اپنے پیغمبر کو ضایع نهیں کرے گا٬ اس کے بعد سوره فتح کی آیتیں نازلهوئیں اور پیغمبر اسلام (ص) نے عمر کے لئے ان کی تلاوت کی– عمر نے تعجب سے پوچها:که کیا هم نے اس قسم کی صلح سے فتحیابی حاصل کی هے؟!

پیغمبر اکرم (ص) نے جواب دیا: جی هاں- [viii][8]انصاف سے بتائیے که کیا محترم صحابی یه حق رکهتے هیں که پیغمبر اکرم (ص) کی کار کردگی کی اس طرح تنقید کریں٬جبکه قرآن مجید کے صریح حکم کے مطابق پیغمبر (ص) کبهی اپنینفسانی خواهشات کے مطابق زبان پر کوئی بات جاری نهیں کرسکتے هیں[ix][9]٬ لیکن کسی کو ان کے بارے میں کسی قسم کی کمزوری پیدا کر نے کا حق نه هو اور خلافت کے مسئله پران کے کردار سے صرف اس لئے چشم پوشی کی جائے٬که وه بیعت رضوان میں حاضر تهے؟!

هم شیعیان ٬خدا کی طرف سے صحابیوں کی رضامندی سے انکار نهیں کرتے هیں٬بلکه یه کهتے هیں که: خداوندا! تو ان چیزوں سے آگاه ہے جوظاهر نهیں هیں اور تو نے عهد شکنوں کو دهمکی دی هے! ورنه هم خیال کرتے که اس قسم کی بیعت کے پیش نظر اب کوئیاپنے خدا سے عهد و پیمان کو نهیں توڑے گا! اور اس بیعت میں حاضر تمام افراد ان کے بعد والے اعمال کو مدنظر رکهے بغیر بهشت میں داخل هوں گے! یه هم شیعوں کا عقیدههے٬ لیکن جیسا که همارے بعض برادران آیه شریفه بیعت و رضایت پر ایمان لائے ہیں٬

لیکن عهد شکنوں کی دهمکی والی آیت کو جهٹلاتے هیں اور کهتے هیں بیعت میں حاضرافراد کے بارے مین خداکی رضامندی کے اعلان کے بعد٬دهمکی کی کوئی وجه نهیں بن سکتیتهی اور خداوند متعال نے فضول میں ایسا اقدام کیا هے٬ نعوذ با الله٬

[i][1] طبری، ابو جعفر،جامع البیان فی تفسیر القرآن، ج 26، ص 56-54، دار المعرفه، بیروت، 1412 هـ ق

[i][2] صحیح ترمذی، ج 4، ص 135، دار الفکر، بیروت، 1403هـ ق

[i][3] بقره، 47.

[i][4] یونس، 93

[i][5] صراحت کے ساتھ یه سارا ماجرا سوره بقره کی آیت نمبر 246 سے 253 تک بیانکیا گیا هے

[i][6] طبری، ابو جعفر، جامع البیان، ج 10، ص 71 پهغمبر اکرم (ص) کی عبارت یوں تھی:أین الذین بایعوا تحت الشجره.

[i][7] توبه، 27- 25.

[i][8] طبری، ابو جعفر، جامع البیان ، ج 26، ص 45

[i][9] . نجم، 4-


source : http://www.wilayatfoundation.com
302
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

توحید صفاتی
اللہ کي صفات سلبيہ
پھل اور فروٹ کی خصوصیات(حصہ پنجم)
انسان کی انفردی اور اجتماعی زندگی پر ایمان کا اثر
اہداف بعثت انبیاء
خدا شناسی کے راستے
عدل الہٰی اور مسئلہ ”خلود“
شیعہ اور بیعت رضوان
اہل تشیع کے اصول عقائد
اخلاق کى قدر و قيمت

 
user comment