اردو
Sunday 2nd of October 2022
0
نفر 0

کیا آزر حضرت ابرہیم (علیه السلام) کا باپ تھا

 

لفظ ”اب“ عربی زبان میں عام طور پر باپ کے لئے بولا جاتا ہے، اور جیسا کہ ہم دیکھے گے کہ بعض اوقات چچا ، نانا،مربی ومعلم اور اسی طرح وہ افراد کہ جو انسان کی تربیت میں کچھ نہ کچھ زحمت ومشقت اٹھاتے ہیں ان پر بھی بولا جاتا ہے ، لیکن اس میں شک نہیں کہ جب یہ لفظ بولا جائے اور کوئی قرینہ موجود نہ ہو تو پھر معنی کے لئے پہلے باپ ہی ذہن میں آجاتا ہے ۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا سچ مچ اوپر والی آیت یہ کہتی ہے کہ وہ بت پرست شخص(آزر) حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ تھا تو کیا ایک بت پرست اور بت ساز شخص ایک اولوالعزم کا پیغمبر کا باپ ہوسکتا ہے، اس صورت میں کیا انسان کی نفسیات و صفات کی وراثت اس کے بیٹے میں غیر مطلوب اثرات پیدا نہیں کردے گی۔

اہل سنت مفسرین کی ایک جماعت نے پہلے سوال کا مثبت جواب دیا ہے اور آزر کا حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا حقیقی باپ سمجھا ہے، جب کہ تمام مفسرین وعلماء شیعہ کا عقیدہ یہ ہے کہ آزر حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ نہیں تھا، بعض اسے آپ کا نانا اور بہت سے حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا چچا سمجھتے ہیں ۔

وہ قرائن جو شیعہ علماء کے نقطہ نظر کی تائید کرتے ہیں حسب ذیل ہے:

۱۔ کسی تاریخی منبع ومصدر اور کتاب میں حضرت ابراہیم (علیه السلام) کے والد کا نام آزر شمار نہیں کیا گیا بلکہ سب نے ”تارخ“ لکھا کتب عھدین میں بھی یہی نام آیا ہے، قابل توجہ بات یہ ہے کہ جو لوگ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ آزر تھا، یہاں انھوں نے ایسی توجیہات کی ہے جو کسی طرح قابل قبول نہیں ہیں، منجملہ ان کے یہ ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) کے باپ کا نام تارخ اور اس کا لقب آزر تھا، حالانکہ یہ لقب بھی منابع تاریخ میں ذکر نہیں ہوا، یا یہ کہ آزر ایک بت تھا کہ جس کی حضرت ابراہیم (علیه السلام) کا باپ پوجا کرتا تھا حالانکہ یہ احتمال اوپر والی آیت کے ظاہر کے ساتھ جویہ کہتی ہے کہ آزر ان کا باپ تھا کسی طرح بھی مطابقت نہیں رکھتی، مگر یہ کہ کوئی جملہ یا لفظ مقدر مانیں جو کہ خلاف ظاہر ہو ۔

۲۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ مسلمان یہ حق نہیںرکھتے کہ مشرکین کے لئے استغفار کریں اگرچہ وہ ان کے عزیز وقریب ہی ہوں، اس کے بعد اس غرض سے کہ کوئی آزر کے بارے میں ابراہیم (علیه السلام) کے استغفار کو دستاویز قرار نہ دے اس طرح کہتا ہے:

وماکان استغفار ابراھیم لابیہ الا عن موعدة وعدھافلما تبین لہ انہ عدو للّٰہ تبرا منہ (سورہ توبہ: ۱۱۴) ۔

ابراہیم (علیه السلام) کی اپنے باپ آزر کے لئے استغفار صرف اس وعدہ کی بنا پر تھے جو انھوں نے اس سے کیا تھا، چونکہ آپ نے یہ کہا تھا کہ : 

ساٴستغفرلک ربی(مریم :۴۷) ۔

یعنی میں عنقریب تیرے لئے استغفار کروں گا ۔

یہ اس امید پر تھا کہ شایدوہ اس وعدہ کی وجہ سے خوش ہوجائے اور بت پرستی سے بعض آجائے لیکن جب اسی بت پرستی کی راہ میں پختہ اور ہٹ دھرم پایا تو اس کے لئے استغفار سے دستبردار ہوگئے ۔

اس آیت سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے آزر سے مایوس ہوجانے کے بعد پھر کبھی اس کے لئے طلب مغفرت نہیں کی، اور ایسا کرنا مناسب بھی نہیں تھا، تمام قرائن اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت ابراہیم(علیه السلام) کی جوانی کے زمانے کا ہے جب کہ آپ شہر بابل میں رہائش پذیر تھے اور بت پرستوں کے ساتھ مبارزہ اور مقابلہ کررہے تھے ۔

لیکن قرآن کی دوسری آیات نشاندہی کرتی ہے کہ ابراہیم (علیه السلام) نے اپنی آخری عمر میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے بعد اپنے باپ کے لئے طلب مغفرت کی ہے (البتہ ان آیات میں جیسا کہ آئندہ بیان ہوگا، نشان باپ سے ”اب“ کو تعبیر نہیں کیا بلکہ ”والد“ سے تعبیر کیا ہے جو صراحت کے ساتھ باپ کے مفہوم کو ادا کرتا ہے ) ۔

جیسا کہ قرآن میں ہے:

<اٴَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِی وَھَبَ لِی عَلَی الْکِبَرِ إِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِنَّ رَبِّی لَسَمِیعُ الدُّعَاءِ--- رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِینَ یَوْمَ یَقُومُ الْحِسَابُ>-

”حمد ثنا اس خدا کے لئے ہے کہ جس نے مجھے بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق عطا کئے، میرا پروردگار دعاؤں کا قبول کرنے والا ہے، اے پروردگار مجھے، میرے ماں باپ اور مومنین کو قیامت کے دن بخش دے“۔(۱)

اس آیت کو سورہٴ توبہ کی آیت کے ساتھ ملانے سے جو مسلمانوں کو مشرکین کے لئے استغفار کرنے سے منع کرتی ہے اور ابراہیم - کو بھی ایسے کام سے، سوائے ایک مدت محدود کے وہ بھی صرف ایک مقدس مقصد وہدف کے لئے، روکتی ہے، اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ زیر بحث آیت میں ”اب“ سے مراد باپ نہیں ہے بلکہ چچا یا نانا یا کوئی اور اسی قسم کا رشتہ ہے۔دوسرے لفظوں میں” والد“ باپ کے معنی میں صریح ہے جب کہ”اب“ میں صراحت نہیں پائی جاتی ۔

قرآن کی آیات میں لفظ ”اٴب“ ایک مقام پر چچا کی لئے بھی استعمال ہوا ہے مثلا سورہٴ بقرہ آیہ ۱۳۳:

<قَالُوا نَعْبُدُ إِلَھَکَ وَإِلَہَ آبَائِکَ إِبْرَاھِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ إِلَھًا>

”یعقوب کے بیٹوں نے اس سے کہا ہم تیرے خدا اور تیرے آباء ابراہیم واسماعیل واسحاق کے خدائے یکتا کی پرستش کرتے ہیں“۔

ہم یہ بات اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ اسماعیل - ،یعقوب- کے چچا تھے باپ نہیں تھے۔

۳۔مختلف اسلامی روایات سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے ، پیغمبر اکرم صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی ایک مشہور حدیث میں آنحضرت سے منقول ہے:

”لم یزل ینقلنی اللّٰہ من اصلاب الطاھرین الی ارحام المطھرات حتی اخرجنی فی عالمکم ھذا لم یدنسنی بدنس الجاھلیہ“۔

”خدا وند تعالی مجھے ہمیشہ پاک آباء واجداد کے صلب سے پاک ماؤں کے رحم میں منتقل کرتا رہا اور اس نے مجھے کبھی زمانہ ٴ جاہلیت کی آلودگیوں اور گندگیوں میں آلودہ نہیں کیا“۔(۲)

اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ زمانہ جاہلیت کی واضح ترین آلودگی شرک وبت پرستی ہے اور جنھوں نے اسے آلودگیٴ زنا میں منحصر سمجھا ہے ان کے پاس اپنے قول پر کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔ خصوصاً جبکہ قرآن کہتا ہے کہ :

”نَّمَا الْمُشْرِکُونَ نَجَسٌ“

”مشرکین گندگی میں آلودہ اور ناپاک ہیں“۔(3)

طبری جو علمائے اہلِ سنت میں سے ہے اپنی تفسیر ”جامع البیان“ میں مشہور مفسر مجاہد سے نقل کرتا ہے کہ وہ صراحت کے ساتھ یہ کہتا ہے کہ آزر ابراہیم کا باپ نہیں تھا۔(4)

اہلِ سنت کا ایک دوسرا مفسر آلوسی اپنی تفسیر روح المعانی میں اسی آیت کے ذیل میں کہتا ہے کہ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ عقیدہ کہ آزر ابرہیم کا باپ نہیں تھا شیعوں سے مخصوص ہے ان کی کم اطلاعی کی وجہ سے ہے کیونکہ بہت سے علماء (اہلِ سنت) بھی اسی بات کا قیدہ رکھتے ہیں کہ آزر ابرہیم - کا چچا تھا۔(5) 

”سیوطی“ مشہور سنی عالم کتاب ”مسالک الحنفاء“ میں فخر الدین رازی کی کتاب ”اسرار التنزیل“ سے نقل کرتا ہے کہ پیغمبر اسلام - کے ماں باپ اور اجداد کبھی بھی مشرک نہیں تھے اور اس حدیث سے جو ہم اُوپر پیغمبر اکرم سے نقل کرچکے ہیں استدلال کیا ہے۔ اس کے بعد سیوطی خود اضافہ کرتے ہوئے کہتا ہے:

ہم اس حقیقت کو دو طرح کی اسلامی روایات سے ثابت کرسکتے ہیں۔ پہلی قسم کی روایات تو وہ ہیں کہ جو یہ کہتی ہیں کہ پیغمبر کے آباؤ اجداد حضرت آدم- تک ہر ایک اپنے زمانے کا بہترین فرد تھا (ان احادیث کو ”صحیح بخاری“اور ”دلائل النبوة“سے بیہقی وغیرہ نے نقل کیا ہے)۔

اور دوسروں قسم کی روایات وہ ہیں جو یہ کہتی ہیں کہ ہر زمانے میں موحد و خدا پرست افراد موجود رہے ہیں، ان دونوں قسم کی روایات کو باہم ملانے سے ثابت ہوجاتا ہے کہ اجداد پیغمبر کہ جن میں سے ایک ابرہیم کے باپ بھی ہیں یقینا موحد تھے۔(6)

جو کچھ کہا جا چکا ہے اس طرف توجہ کرتے ہوئے معلوم ہوتا ہے کہ زیر بحث آیت کی مذکورہ بالا تفسیر ایک ایسی تفسیر ہے جو خود قرآن اور مختلف اسلامی روایات کے واضح قرائن کی بنیاد پر بیان ہوئی ہے نہ کہ تفسیر بالرائے ہے جیسا کہ بعض متعصب اہلِ سنت مثلاً موٴلفِ المنار نے کہا ہے۔

۷۵وَکَذٰلِکَ نُرِی إِبْرَاہِیمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنْ الْمُوقِنِینَ-

۷۶ فَلَمَّا جَنَّ عَلَیْہِ اللَّیْلُ رَاٴَی کَوْکَبًا قَالَ ہٰذَا رَبِّی فَلَمَّا اٴَفَلَ قَالَ لاَاٴُحِبُّ الْآفِلِینَ-

۷۷ فَلَمَّا رَاٴَی الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّی فَلَمَّا اٴَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ یَہْدِنِی رَبِّی لَاٴَکُونَنَّ مِنْ الْقَوْمِ الضَّالِّینَ-

۷۸ فَلَمَّا رَاٴَی الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ ہٰذَا رَبِّی ہٰذَا اٴَکْبَرُ فَلَمَّا اٴَفَلَتْ قَالَ یَاقَوْمِ إِنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ-

۷۹ إِنِّی وَجَّہْتُ وَجْہِی لِلَّذِی فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْاٴَرْضَ حَنِیفًا وَمَا اٴَنَا مِنْ الْمُشْرِکِینَ-

ترجمہ

۷۵۔اس طرح ہم نے آسمانوں اور زمین کے ملکوت ابراہیم کو دکھائے تاکہ وہ اہلِ یقین میں سے ہوجائے۔

۷۶۔جب رات (کی تاریکی) نے اُسے ڈھانپ لیا تو اُس نے ایک ستارے کو دیکھا تو کہا۔ کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ غروب ہوگیا تو کہا کہ میں غروب ہوجانے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

۷۷۔اور جب اُس نے چاند کو دیکھا کہ وہ (سینہ افق کو چیر کر) نکلا ہے تو اُس نے کہا کیا یہ میرا خدا ہے؟ لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اگر میرا پروردگار میری رہنمائی نہ کرے تو میں یقینی طور پر گمراہ جماعت میں سے ہوجاؤں گا۔

۷۸۔اور جب اُس نے سورج کو دیکھا کہ وہ (سینہٴ افق کو چیر کر) نکل رہا ہے تو کہا کہ کیا یہ میرا خدا ہے؟ یہ تو (سب سے) بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا اے قوم میں اُن شریکوں سے جنھیں تم (خدا کے لیے) قرار دیتے ہو بیزار ہوں۔

۷۹۔میں نے تو اپنا رُخ اس ہستی کی طرف کرلیا ہے کہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے۔ میں اپنے ایمان میں مخلص ہوں اور میں مشرکین میں سے نہیں ہوں۔  

۱۔ سورہٴ ابراہیم ، آیہ۳۹،۴۱۔

۲۔ اس روایت کو بہت سے شیعہ وسنی مفسرین مثلا طبرسی نے مجمع البیان میں، نیشاپوری نے تفسیر غرائب القرآن میں، فخر رازی نے تفسیر کبیر میں اور آلوسی نے تفسیر روح المعانی میں نقل کیا ہے۔

3۔ سورئہ توبہ آیہ ۲۸-

4۔ جامع البیان جلد ۷ صفحہ ۱۵۸-

5۔ تفسیر روح المعانی جلد ۷ صفحہ ۱۶۹-

6۔ مسالک الحنقاء صفحہ ۷ امطابقِ نقل حاشیہ بحار الانوار طبع جدید جلد ۱۵ صفحہ ۱۱۸ اور بعد۔

 


source : http://www.makaremshirazi.org
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

کیا جس کا رابطہ خدا سے زیادہ ہو وہ زیادہ بلا و ...
گھریلو کتے پالنے کے بارے میں آیت اللہ العظمی ...
اہل تشیع (دو)نمازوں کو ایک کے بعد ایک ملا کر کیوں ...
حلالہ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
کیا اسلام میں گالی دینا، برا بھلا کہنا، دشنام ...
کیا خدا ایسا پتھر بنا سکتا ہے جسے خود بھی نہ اٹھا ...
فاطمہ معصومہ سلام اللہ علیہا کون ہیں؟
کیا ان لڑکوں اور لڑکیوں پر بھی خمس و زکوٰة واجب ھے ...
کون لوگ عورت کے محرم ہیں؟
دعاء مانگنے کے طریقے

 
user comment