اردو
Thursday 1st of October 2020
  418
  0
  0

کیا قرآن اور حدیث میں لفظ ”شیعہ“ استعمال ہوا ہے؟

قرآن کریم میں لفظ ”شیعہ “ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور بڑی شخصیتوں کی پیروی کرنے والوں کے معنی میں استعمال ہوا ہے ۔ خداوندعالم (حضرت موسی (علیہ السلام) کے واقعہ میں)فرماتا ہے : ” وَ دَخَلَ الْمَدینَةَ عَلی حینِ غَفْلَةٍ مِنْ اٴَہْلِہا فَوَجَدَ فیہا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلانِ ہذا مِنْ شیعَتِہِ وَ ہذا مِنْ عَدُوِّہِ فَاسْتَغاثَہُ الَّذی مِنْ شیعَتِہِ عَلَی الَّذی مِنْ عَدُوِّہِ “(۱) ۔ اور موسٰی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی ۔

دوسری جگہ فرماتا ہے : ” وَ إِنَّ مِنْ شیعَتِہِ لَإِبْراہیمَ ، إِذْ جاء َ رَبَّہُ بِقَلْبٍ سَلیم“ (۲) ۔ اور یقینا نوح علیہ السّلام ہی کے پیروکاروں میں سے ابراہیم علیہ السّلام بھی تھے ، جب اللہ کی بارگاہ میں قلب سلیم کے ساتھ حاضر ہوئے ۔

اختلاف اور تفرقہ کے معنی میں بھی استعمال ہوا ہے : ”مِنَ الَّذینَ فَرَّقُوا دینَہُمْ وَ کانُوا شِیَعاً کُلُّ حِزْبٍ بِما لَدَیْہِمْ فَرِحُونَ “ (۳) ۔ ن لوگوں میں سے جنہوں نے دین میں تفرقہ پیدا کیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں پھر ہر گروہ جو کچھ اس کے پاس ہے اسی پر مست اور مگن ہے ۔

جب بھی پیروی کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو یہ مثبت اور ایجابی پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے (۴) اور جب تفرقہ اور اختلاف کے معنی میں استعمال ہوتا ہے تو اس وقت منفی معنی کی طرف اشارہ کرتا ہے (۵) ۔

لیکن حدیث میں چونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) اصلی عرب تھے لہذا انہوں نے اس لفظ کو اس کے حقیقی معنی (پیروی کرنے والے )میں استعمال کیا ہے ۔ جس وقت یہ آیت ” إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ اٴُولئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ “ (اور بے شک جو لوگ ایمان لائے ہیں اور انہوں نے نیک اعمال کئے ہیں وہ بہترین خلائق ہیں )(۶) ۔نازل ہوئی تو آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اس سے حضرت علی (علیہ السلام) کی پیروی کرنے والوں (شیعوں) کی تعریف کی ۔ محدثین اور مفسرین نے متعدد روایات میں نقل کیا ہے کہ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (علیہ السلام) کی پیروی کرنے والے گروہ کو خیر البریة (بہترین انسان) کے نام سے یاد کیا ہے ۔

ان میں سے بعض احادیث یہ ہیں :

۱۔ ابن مردویہ نے عایشہ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ عایشہ نے کہا : یا رسول اللہ (ص) خدا کے نزدیک بہترین افراد کون لوگ ہیں؟ آپ نے فرمایا : ائے عایشہ ! کیا تم اس آیت ” ان الذین آمنوا و عملوا الصالحات اولئک ھم خیر البریہ ) کی تلاوت نہیں کرتی ہو؟(۷) ۔

۲۔ ابن عساکر نے جابر بن عبداللہ انصاری سے نقل کیا ہے کہ ہم لوگ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) کے پاس موجود تھے کہ حضرت علی (علیہ السلام) تشریف لائے ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آ لہ وسلم) نے فرمایا : اس خدا کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے یہ اور ان کی پیروی کرنے والے قیامت کے روز کامیاب ہیں، اور یہ آیت ” إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ اٴُولئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ “ نازل ہوئی ۔ اس کے بعد سے جب بھی حضرت علی (علیہ السلام) آتے تھے تو اصحاب کہتے تھے ”خیر البریہ“ (بہترین انسان) آگئے (۸) ۔

۳۔ ابن عدی اور ابن عساکر نے ابوسعید سے نقل روایت کی ہے کہ ” علی“ (علیہ السلام) خیر البریہ ہیں(۹) ۔

۴۔ ابن عدی نے ابن عباس سے نقل کیاہے : جب یہ آیت ” إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ اٴُولئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ “ نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علی (علیہ السلام) سے فرمایا : قیامت کے روز آپ اور آپ کی پیروی کرنے والے”خیر البریة“ (بہترین انسان) ہیں، آپ لوگ بھی اللہ سے راضی ہو اور اللہ بھی تم لوگوں سے راضی ہے (۱۰) ۔

۵۔ ابن مردویہ نے حضرت علی (علیہ السلام) سے نقل کیا ہے کہ حضرت علی (علیہ السلام)نے فرمایا کہ مجھے سے پیغمبر خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا: کیا تم نے خداوند عالم کے اس کلام کو نہیں سنا ہے ” إِنَّ الَّذینَ آمَنُوا وَ عَمِلُوا الصَّالِحاتِ اٴُولئِکَ ہُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ “ ؟ خیر البریہ آپ اور آپ کے چاہنے والے ہیں ،میں تم سے حوض کوثر کے پاس ملنے کا وعدہ کرتا ہوں، جس وقت امتوں کو حساب و کتاب کے لئے بلایا جائے گا، تو تم کو بھی بلایا جائے گا (۱۱) ۔ (۱۲) ۔

۱۔ سورہ قصص، آیت ۱۵۔

۲۔ سورہ صافات، آیت ۸۳۔۸۴۔

۳۔ سورہ روم، آیت ۳۲۔

۴۔ جیسے : ” وَ دَخَلَ الْمَدینَةَ عَلی حینِ غَفْلَةٍ مِنْ اٴَہْلِہا فَوَجَدَ فیہا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلانِ ہذا مِنْ شیعَتِہِ وَ ہذا مِنْ عَدُوِّہِ فَاسْتَغاثَہُ الَّذی مِنْ شیعَتِہِ عَلَی الَّذی مِنْ عَدُوِّہِ “(۱) ۔ اور موسٰی شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب لوگ غفلت کی نیند میں تھے تو انہوں نے دو آدمیوں کو لڑتے ہوئے دیکھا ایک ان کے شیعوں میں سے تھا اور ایک دشمنوں میں سے تو جو ان کے شیعوں میں سے تھا اس نے دشمن کے ظلم کی فریاد کی ۔

۵۔ ” اٴَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعاً وَ یُذیقَ بَعْضَکُمْ بَاٴْسَ “ ۔(سورہ انعام ، آیت ۶۵) ۔

۶۔ سورہ بینہ ، آیت ۷۔

۷۔ الدر المنثور ، ج ۶، ص ۵۸۹، سورہ بینہ کی ساتویں آیت کی تفسیر۔

۸۔ گذشتہ حوالہ، ج ۶،ص ۵۸۹۔

۹۔ گذشتہ حوالہ۔

۱۰۔ الدر المنثور ، ج ۶، ص ۵۸۹۔

۱۱۔ گذشتہ حوالہ۔

۱۲۔ سیمای عقاید شیعہ، ص ۲۵۔


source : http://www.amiralmomenin.org
  418
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

کیا دنیا کا ظلم سے بھر جانا امام مہدی عجل اللہ کے ظہور ...
دعا كی حقیقت كیا ہے اور یہ اسلام میں مرتبہ كیا ركھتی ہے ...
مومن کون‘ مہاجر کون اور مسلم کون ہے؟
كتاب آسمانی سے مراد کیا ہے؟
کیسے اور کس پر انفاق کریں؟
کس طرح بغیر دیکھے خدا پر ایمان لائیں ؟
اگر مہدى عج مشہور ہوتے؟
روز قیامت کیا ہوگا؟
ہم کیسے معلوم کر سکتے ہیں کہ کون سی چیز حلال ہے اور ...
شفاعت کے سلسلہ میں اہل سنت اور وہابیوں کا کیا نظریہ ہے؟

 
user comment