اردو
Monday 6th of July 2020
  1196
  0
  0

عاشورا اور عصر حاضر میں اسلامی معاشرہ کی ترقی میں قیادت کا کردار

 ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای دام ظلہ عاشورا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوتے فرماتے ہیں : " حسین ابن علی علیہما السلام کی زندگي اور میدان کربلا میں آپ کا چند روزہ واقعہ ہماری تاریخ کا ایک عظیم باب ہے اس کی ضخامت کم لیکن مطالب و مفاہیم کی وسعت و گہرائی بہت زیادہ ہے ۔ دنیا کے تمام حریت نواز ، راہ خدا میں جہاد کرنے والے تمام مجاہد اور ہر وہ شخص جو کسی خطرے کے میدان میں اترتا ہے اس واقعہ سے فائدہ اٹھاتا اور اس کو روحانی اور معنوی پشتپناہ قرار دیتا ہے ہمارے انقلاب میں یہ مفہوم پوری طرح نمایاں رہا ہے کوئی نہیں کہہ سکتا اگر ہمارا دامن اس واقعہ سے خالی ہوتا تو ہم کس طرح اس معرکہ کو طے کرپاتے یہ خود اپنی جگہ ایک ایسا باب ہے جو غور و فکر کا مستحق ہے کہ عاشورا کے واقعات اور سید الشہداء کی جہادی راہ و روش سے تمسک نے کیا اثرات ہمارے انقلاب کی کیفیت پر مرتب کئے ہیں ۔ در اصل عالم ہستی میں امام معصوم کے مقام و منزلت کے پیش نظر ، دیندار مسلمانوں کی نگاہ میں امام (ع) کی ذات معاشرے کی سب سے محترم اور برگزيدہ ترین شخصیت اور " الہی حجت " شمار ہوتی ہے اور دین و مذہب پر یقین رکھنے والے ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اپنے امام وقت کی رضا و خوشنودی کے لئے ہی اپنی زندگی کے شب و روز وقف کردیں اور اپنے تمام اعمال و رفتار خدا و رسول (ص) اور ان کے حقیقی جانشینوں کی اطاعت و پیروی میں انجام دیں چنانچہ عشق و اطاعت کا یہ جذبہ جس قوم میں جس قدر قوی و عمیق ہوتا ہے مقام عمل میں اتنی ہی شدت کے ساتھ اس کے جلوے نمایاں ہوتے ہیں امام حسین علیہ السلام کے جان نثاروں کی نظر میں خاندانی رشتے اور قرابت ، امامت و ولایت کے ایمانی رشتے کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتے تھے اس لئے مقام ایثار و قربانی میں آپ کے اصحاب و اعزہ چاہے وہ حضرت ابوذر کا غلام جون ہو یا حر کے ساتھ امام کے لشکر میں شامل ہونے والا حر کا غلام ہو ، اپنا عیسائي مذہب چھوڑ کر امام کی رکاب میں آنے والا چند روزہ مسلمان وہب کلبی ہو یا کربلا سے قریب پہنچکر حسینی قافلے میں ملحق ہونے والا شیعۂ عثمان ، زہیر ابن قین ہو ، بچپن کے ساتھی اور دوست حبیب ابن مظاہر ہو یا شب عاشورامام سے وابستہ ہونے والے حر دلاور ہوں ، برابر کے بھائی عباس (ع) ہوں یا برابر کا بیٹا علی اکبر (ع) ، بہن کے گلعذار عون و محمد ہوں یا بھائي کی یادگار قاسم و عبداللہ ۔جذبوں اور حوصلوں کے اعتبار سے سب برابر تھے اور اس حقیقت کو امام (ع) کے بہتر جاں بازوں نے عملی طور پر ثابت کیا ہے مثال کے طور پر عابس ابن شبیب شاکری جو اپنے غلام شوذب کے ساتھ کربلا میں امام (ع) کی نصرت کے لئے آئے تھے عاشور کے دن امام علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوکر فرماتے ہیں : " میرے آقا! خدا کی قسم ، زير آسمان پورے روئے زمین پر میرا کوئی بھی آشنا اور بیگانہ یا عزیز و رشتہ دار ایسا نہیں ہے کہ جس کو میں جانتا ہوں اور وہ مجھے آپ سے زيادہ عزیز یا محترم ہو خدا گواہ ہے اگر مجھ سے ممکن ہوتا اور جان سے بھی زیادہ عزیز کسی چیز کی قیمت پر آپ کا اور آپ کے خاندان کا دفاع کرسکتا تو ہرگز ایک لمحے کے لئے بھی درنگ نہ کرتا اور اپنی جان اور خون سے بھی زیادہ عزیز و برتر شے آپ کی جان اور آزادی پر نثار کردیتا مگر افسوس اپنی جان سے بڑھ کر کوئی چیز میرے پاس نہیں ہے۔"عشق و ایمان کا یہی مظاہرہ تمام اصحاب و اعزہ نے کیا ہے ان میں سب کے سب ، محبت و اخلاص کے پیکر تھے جناب زينب سلام اللہ علیہا کا بیان ہے" شب عاشور خیمے سے نکلی تو میں نے دیکھا عباس (ع ) کے خیمے کے گرد تمام جوانان بنی ہاشم جمع ہیں اور عباس (ع) ان کو سمجھا رہے ہیں کہ دیکھو کل کوئی دوسرا ہم بنی ہاشم پر سبقت اختیار نہ کرنے پائے اور سب نے بیک زبان کہا : کل ہم ، سب سے پہلے امام (ع) پر اپنی جانیں قربان کردیں گے وہاں سے آگے بڑھیں تو دیکھا حبیب (ع) کے خیمے کے گرد تمام اصحاب حسینی جمع تھے اور حبیب کہہ رہے تھے ؛ خبردار جب تک ہم زندہ ہیں بنی ہاشم کی کسی ایک فرد پر کوئی آنچ آنے نہ پائے جس پر سب نے وعدہ کیا : ہم ان سے پہلے اپنی جانیں نثار کردیں گے ۔اعزہ و اصحاب کا یہ عزم دیکھ کر میں خوش ہوگئی۔" چنانچہ کربلا کے میدان میں برابری اور مساوات کی ایسی فضا حکمراں تھی کہ پوری تاریخ بشریت میں اس کی مثال ملنا مشکل ہے کالے گورے آقا ، غلام بوڑھے جوان ، امام وقت پر جان نثاری کے میدان میں ، سب ایک ہی جذبہ رکھتے تھے اور امام حسین (ع) بھی سب کو ایک ہی نگاہ سے دیکھتے تھے مولانا تقی الحیدری نے کیا خوب کہاہے :اکبر کا جہاں سر ہے وہیں جون کا سربھی شبیر کا زانو ہے مساوات کی دنیا اپنے امام (ع) و قائد پر اعتماد اور یقین اور اطاعت و خود سپردگی کا جو نظارہ کربلا میں نظر آتا ہے حتی بزم پیغمبر (ص) اور بزم امیر المومنین (ع) میں بھی وہ صورت نظر نہیں آتی اسی لئے امام حسین علیہ السلام مقام افتخار میں اعلان کرتے ہیں " لااعلم اصحابا اوفی ولا خیرا من اصحابی " میرے اصحاب سے زیادہ وفادار اور نیکوکار اصحاب کسی کو ملے ہوں میرے علم میں نہیں ہے ۔چنانچہ شب عاشور پشت خیمہ جس وقت امام حسین علیہ السلام کے حکم سے خندق کھودکر آگ روشن کی جارہی تھی شمر نے نہایت ہی بے شرمی کے ساتھ امام (ع) کو طعنہ دیا " اے حسین تم نے آخرت کی آگ سے پہلے ہی آتش دنیا کی طرف بڑھنے میں جلدی دکھائی ہے " یہ سن کر پاس کھڑے مسلم ابن عوسجہ کو جلال آگیا اور انہوں نے کہا :" فرزند رسول ! شمر اس وقت میرے تیر کے کشانے پر ہے اگر اجازت دیں تو اس بد اعمال کو اس کی گستاخی کا مزہ چکھا دوں " امام (ع) نے فرمایا : نہیں ، تیر نہ چلانا میں جنگ کا آغاز کرنا نہیں چاہتا " اور جناب مسلم ابن عوسجہ نے امام (ع) کی اطاعت میں سرجھکادیا قیادت کی یہ شان اور تسلیم و خود سپردگي کی ایسی مثال کہاں ملے گي ۔شاید اسی بنیاد پر " عاشورا " سے برسوں پہلے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے شہدائے کربلا کی تعریف میں فرمایا ہے " وہ تمام شہداء عاشقین خدا ہیں نہ تو ماضی میں اور نہ ہی مستقبل میں ، کوئی ان کے مقام و مرتبے تک نہیں پہنچ سکتا ۔" آج بھی ہم کربلا کے واقعہ سے ایثار و وفاداری کا سبق حاصل کرتے ہوئے اگر امام زمانہ (ع) اور ان کے نائب بر حق ولی امر مسلمین حضرت آيت اللہ العظمیٰ خامنہ ای اور دیگر زعمائے دین کی اطاعت و پیروی کریں اور دشمنان اسلام کے خلاف ایک صف میں کھڑے ہوجائیں تو اسلام اور مسلمانوں کا دفاع کرتے ہوئے اسلامی معاشروں کو ترقی و کمال کی بلندیوں پر سرافراز کرسکتے ہیں ۔ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ العظمیٰ خامنہ ای دام ظلہ عاشورا کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوتے فرماتے ہیں : " حسین ابن علی علیہما السلام کی زندگي اور میدان کربلا میں آپ کا چند روزہ واقعہ ہماری تاریخ کا ایک عظیم باب ہے اس کی ضخامت کم لیکن مطالب و مفاہیم کی وسعت و گہرائی بہت زیادہ ہے ۔ دنیا کے تمام حریت نواز ، راہ خدا میں جہاد کرنے والے تمام مجاہد اور ہر وہ شخص جو کسی خطرے کے میدان میں اترتا ہے اس واقعہ سے فائدہ اٹھاتا اور اس کو روحانی اور معنوی پشتپناہ قرار دیتا ہے ہمارے انقلاب میں یہ مفہوم پوری طرح نمایاں رہا ہے کوئی نہیں کہہ سکتا اگر ہمارا دامن اس واقعہ سے خالی ہوتا تو ہم کس طرح اس معرکہ کو طے کرپاتے یہ خود اپنی جگہ ایک ایسا باب ہے جو غور و فکر کا مستحق ہے کہ عاشورا کے واقعات اور سید الشہداء کی جہادی راہ و روش سے تمسک نے کیا اثرات ہمارے انقلاب کی کیفیت پر مرتب کئے ہیں ۔ در اصل عالم ہستی میں امام معصوم کے مقام و منزلت کے پیش نظر ، دیندار مسلمانوں کی نگاہ میں امام (ع) کی ذات معاشرے کی سب سے محترم اور برگزيدہ ترین شخصیت اور " الہی حجت " شمار ہوتی ہے اور دین و مذہب پر یقین رکھنے والے ہمیشہ اس کوشش میں رہتے ہیں کہ اپنے امام وقت کی رضا و خوشنودی کے لئے ہی اپنی زندگی کے شب و روز وقف کردیں اور اپنے تمام اعمال و رفتار خدا و رسول (ص) اور ان کے حقیقی جانشینوں کی اطاعت و پیروی میں انجام دیں چنانچہ عشق و اطاعت کا یہ جذبہ جس قوم میں جس قدر قوی و عمیق ہوتا ہے 

 بشکریہ تہران ریڈیو


source : www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&file=print&sid=640
  1196
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    اخلاق کی لغوی اور اصطلاحی تعریف
    اولاد کی تربیت میں محبت کا کردار
    ہندو مذہب میں خدا کا تصور و اجتماعی طبقہ بندی
    نعت رسول پاک
    معاشرہ کی تربیت کا نبوی (ص) طریقہ کار
    تشیع کے اندر مختلف فرقے
    قصيدہ بردہ شريف کے خالق امام بوصيري رحمة اللہ عليہ
    اخلاق اور مکارمِ اخلاق
    طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے
    دفاعی نظریات پر مشتمل رہبر انقلاب کی ۱۲ کتابوں کی ...

 
user comment