اردو
Saturday 18th of September 2021
302
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

فطرت کے تقاضے

فطرت کے تقاضے

 

ایک سوال انسان کے ذھن میں  بارھا اٹھتا ھے کہ دین اور احکام دین اگر فطرت انسانی کے مطابق ھیں  جیسا کہ منابع دینی اس بات کا دعویٰ کرتے ھیں  تو پھر انسان کو دینداری اور احکام دین پر عمل کرنے میں  تکلیف اور بعض اوقات ناگواری کا احساس کیوں  ھوتا ھے خاص کر روزہ میں  یہ احساس مزید بڑھ جاتا ھے ۔ شریعت نے بھی ان احکام کو تکلیف سے تعبیر کیا ھے جبکہ فطری چیزیں  انسان کو ناگوار نھیں  گزرتیں ۔ اس سوال کے جواب میں  دوباتیں قابل توجہ ھیں  :

 

۱۔ فطری چیزیں  انسان کو اس وقت تک عزیز ھوتی ھیں  جب تک اس نے اپنی فطرت پر غیر فطری چیزیں  تحمیل نہ کی ھوں  یعنی فطرت جب تک سالم ھوتی ھے وہ مسلسل اپنے فطری تقاضے جاری رکھتی ھے لیکن اگر فطرت پرمسلسل غیر فطری چیزیں  تحمیل کی جائیں  تو وہ اپنے تقاضے ترک کر دیتی ھے مثلا خدا پرستی انسان کی فطرت میں  داخل ھے لیکن مسلسل غیر خدا سے وابستگی کے نتیجے میں  انسان کی فطرت ضعیف ھو جاتی ھے بلکہ ایک منزل وہ آتی ھے جب فطرت کی موت ھو جاتی ھے اوراس حالت میں  آنے کے بعد پھر اسے دوبارہ فطرت تک پلٹانا تقریبا نا ممکن ھو جاتا ھے لھذا قرآن نے رسول(ص)  کو منع کیا کہ اس گروہ کے لئے اپنے دل کو رنجیدہ نہ کریں  کیونکہ یہ ایمان لانے والے نھیں  ھےں  ۔ ” سَوَاءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُوٴمِنُون “ (۱۹)۔

جس طرح طبیعت پر جب غیر طبیعی چیزیں  تحمیل کی جانے لگیں  تو طبیعت اپنی طرف سے مزاحمت کرنا ترک کر دیتی ھے اور اسی غیر طبیعی چیز کو نہ صرف قبول کرلیتی ھے بلکہ اسکو پسند بھی کرنے لگتی ھے اور اسی میں  لذت محسوس کرتی ھے مثلاً سگریٹ ، شراب و دیگر نشہ آور اشیاء یا بھت سی غذائیں  ،جنکے غیر طبیعی ھونے کی دلیل یہ ھے کہ انسان جب انھیں  پھلی مرتبہ استعمال کرتا ھے تو سخت ناگواری کا احساس کرتا ھے لیکن کچھ دنوں  بعد انھیں  چیزوں  میں لذت محسوس کرنے لگتا ھے۔

 

۲۔ دوسری بات یہ ھے کہ دین مطابق فطرت ھے، نہ مطابق طبیعت ، لیکن چونکہ ھمارے اذھان میں  طبیعت و فطرت کے مفھوم میں  خلط واقع ھو گیا ھے اور ھم نے فطرت و طبیعت میں  تمیز نھیں  کی ھے لھذا فطری تقاضوں  کو طبیعی تقاضوں  کے تناظر میں  دیکھتے ھیں  جبکہ فطری تقاضے طبیعی تقاضوں  کی بالکل ضد ھیں  طبیعی تقاضے یعنی انسان کے جسم اور مادی وجود کے تقاضے اور فطری تقاضے یعنی انسان کی روح اور معنوی وجود کے تقاضے ۔ چونکہ انسانی جسم کے اندرجمادی ، نباتی اور حیوانی پھلو پایا جاتا ھے لھذا اسکے اندر جمادی ،نباتی اور حیوانی تقاضے بھی پائے جاتے ھیں  مثلا انسانی جسم کے جمادی پھلوکا تقاضا یہ ھے کہ انسان اپنی جگہ پڑا رھے، کوئی حرکت نہ کرے ، رات دن صبح و شام ھر وقت صرف آرام اور استراحت کی فکر میں  ھو۔ جسم کے نباتی پھلوکا تقاضا یہ ھے کہ انسان اپنے جسم میں  اضافہ کرتا رھے ،وہ خود اپنی جگہ قائم ھو اور دوسرے اسکے لئے مناسب غذا ئیں  فراھم کرتے رھیں ۔ جسم کے حیوانی پھلوکا تقاضا یہ ھے کہ وہ اپنے لئے پسندیدہ غذائیں  فراھم کرے، اپنی محبوب غذا کے سراغ میں  وہ مسلسل حرکت کرتا رھے ، غذا ملنے پر کھائے اور اسے ھضم کرنے کے بعد مزید غذا کی تلاش میں  نکل پڑے ۔ یہ تمام تقاضے انسان کے جسمانی اور طبیعی تقاضے ھیں  اور ممکن ھے ان میں  سے اکثر تقاضوں  کو پورا کرتے وقت انسان کی فطرت اور روح کو سخت کوفت اور اذیت کی منزل سے گذرنا پڑتا ھو ۔

اسکے بر خلاف انسان جب اپنے روحانی تقاضوں  کو پورا کرتا ھے مثلاً علم حاصل کرتا ھے، بلند اھداف کے لئے سخت محنت کرتا ھے ،کمالات کو حاصل کرنے کے لئے جسم سے مستقل استفادہ کرتا ھے یااپنے خالق اور پروردگار کہ جس نے اسکو خلق کیا اور لمحہ بہ لمحہ اسکی پرورش کر رھا ھے ، کی اطاعت و عبادت کرتا ھے تو جسم کو سخت اذیت ھوتی ھے لیکن انسان کی روح اس میں  لذت محسوس کرتی ھے اور یہ لذت ان جسمانی لذتوں  سے کھیں  زیادہ نشاط آور ھوتی ھے۔ مثلا علم کی لذت ، کمالات کی لذت ، یا اطاعت و عبادت کی لذت کا لذیذ ترین کھانوں  کی لذت سے قیاس بھی نھیں  کیا جا سکتا ۔

اس کا مطلب یہ نھیں  ھے کہ انسان جسمانی تقاضوں  کو بالکل ترک کر دے اور خود کو موت کی آغوش میں  ڈال دے ۔ اھم یہ ھے کہ ایک انسان اپنے اندر کے حالات سے آگاہ ھو اور وہ سمجھ سکے کہ اس پر غلبہ کس کا ھے ؟ جسمانی و طبیعی تقاضوں  کا یا روحانی و فطری تقاضوں  کا ۔

روزہ در حقیقت انسان کے اندر طبیعی و مادی تقاضوں  کو ضعیف اور روحانی و معنوی تقاضوں  کو قوی کرنے کی ایک مشق ھے ۔ بلندھمت اور صاحب عزم انسان اپنے حقیقی انسانی اور معنوی تقاضوں  پر طبیعی و جسمانی تقاضوں  کو غالب نھیں  آنے دیتا کیوں  کہ جسمانی اور طبیعی تقاضوں  میں  اسیر انسان اپنی زندگی میں  کوئی بڑا اقدام یا کسی بلندھدف کا تعاقب نھیں  کر سکتا ۔

 

 

آخری سوال

 

 سابقہ بحث کے بعد آخری سوال کہ روزہ نہ رکھنے کی صورت میں  انسان کے اندر کون سا نقص پیدا ھوتا ھے ؟ کا جواب بھت آسان ھو گیا ۔ یہ سوال ایسے ھی ھے جیسے کوئی کھے کہ کھانا نہ کھانے سے انسان کے اندر کون سا نقص پیدا ھوتا ھے، پانی نہ پینے ، سانس نہ لینے یا حرکت نہ کرنے سے انسان کو کیا مشکل پیش آتی ھے ؟

روزہ نہ رکھنے سے انسان در حقیقت ان تمام اسرار سے محروم ھو جاتا ھے جو روزہ کے اندر قرار دئے گئے ھیں  اور ساتھ ھی ساتھ روزہ کے فوائد سے بھی محروم ھو جاتا ھے ،جس طرح سے کھانا پانی اور حرکت کے بغیر انسان زندگی سے محروم ھو جاتا ھے اسی طرح دین اور احکام دین کو ترک کر دینے سے انسان کی معنوی و حقیقی موت واقع ھو جاتی ھے اگر چہ ظاھر ًا وہ زندہ اور حرکت کر رھا ھوتا ھے”سواء محیاھم و مماتھم “ (۲۰)کچھ لوگ ایسے ھیں  جن کی موت اور حیات خدا کے نزدیک برابر ھے ۔

سابقہ ابحاث کے ضمن میں  روزہ کے کچھ فلسفے و اسرار بیان ھوئے لیکن روزہ کے اسراراتنے زیادہ ھیں  کہ انھیں اس مختصر مقالے میں  جمع نھیں  کیا جا سکتا،دوسرے یہ کہ تمام اسرار سے ھرشخص واقف بھی نھیں  ھے۔ لھٰذا یھاں  پر بعض اھم اسرار کو چند فصلوں  میں  بیان کیا جارھا ھے ۔

 

 

302
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
[ فطرت ]    

latest article

جاہلانہ افکار کے ساتھ جوانوں کا مقابلہ
رمضان المبارک کے سترہویں دن کی دعا
روزہ احادیث کے آئینے میں - 2
سستی و جمود یا نشاط وارتقاء؟
چارلي ايبڈو ،جاہليت کا عکاسي
ایک سنجیدہ مسئلہ
عورت کی حیثیت
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی
آداب نشست
بچہ اور دينى تعليم

latest article

جاہلانہ افکار کے ساتھ جوانوں کا مقابلہ
رمضان المبارک کے سترہویں دن کی دعا
روزہ احادیث کے آئینے میں - 2
سستی و جمود یا نشاط وارتقاء؟
چارلي ايبڈو ،جاہليت کا عکاسي
ایک سنجیدہ مسئلہ
عورت کی حیثیت
شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کی برسی
آداب نشست
بچہ اور دينى تعليم

 
user comment