اردو
Monday 14th of October 2019
  2004
  0
  0

حدیث ثقلین سے استدلال

حدیث ثقلین سے استدلال

تعیین خلیفہ کے لئے تشکیل دی گئی شوایٰ میں مولائے متقیان نے اپنے آپ کو خلافت کے لئے دوسروں سے زیادہ حقد ارثابت کرنے کے لئے حدیث ثقلین سے استدلال فرمایا تھا۔

ابن مغازلی نے اپنی تمام اسناد کے ساتھ عامر بن واثلہ سے روایت کی ہے وہ کہتا ہے: شوریٰ کے دن علی عليه السلام کے ساتھ حجرہ میں تھا میں نے خود علی (ع) کو یہ کھتے سنا ہے انھوں نے اھل شوریٰ سے مخاطب ہو کر کھا: میں تمہارے درمیان ایک ایسی چیز سے استدلال کروں گا کہ عرب و عجم میں سے کوئی بھی اس کو بدلنے کی طاقت نھیں رکھتا۔ اس کے بعد فرمایا: اے لوگو! میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تم لوگوں میں سے کوئی ہے جو مجھ سے پہلے وحدانیت خدا پر ایمان لایا ہو۔؟

لوگوں نے یک زبان ہو کر کھا: نھیں۔ ( ھم آپ پر سبقت نھیں رکھتے) یھاں تک کہ آپ نے فرمایا: میں تم لوگوں کو خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تم لوگ جانتے ہو کہ رسول اسلام نے فرمایا: تمہارے درمیان دو گر انقدر چیزیں چھوڑ کر جا رہا ہوں ایک قرآن دوسرے میری عترت جب تک اس سے متمسک رہو گے ھرگز گمراہ نھیں ہوگے یہ دونوں ایک دوسرے سے ھرگز جدا نہیں ہوں گے یھاں تک کہ کوثر پر ہم سے ملاقات کریں گے۔

لوگوں نے کھا: ہاں۔ ایسا ہی ہے۔ (1)

اسی طرح سے حضرت عثمان کے دور خلافت میں مسجد نبوی میں اصحاب کے درمیان آپ نے اس حدیث سے استدلال فرمایا:

لوگوں نے یک زبان ہو کر کھا کہ ہم اس بات کی گواھی دیتے ہیں کہ رسول اسلام نے وہی کچھ فرمایا ہے جو کہ آپ نے کھا ہے۔ (2)

امام حسن بن علی علیہ  السلام نے بھی اپنے آپ کو امامت کا حقدار ثابت کرتے ہوئے اس حدیث کو بطور استدلال پیش کیا ہے۔

شیخ سلیمان قندوزی نے ینابیع المودة میں مناقب ھشام بن حسان سے روایت کی ہے۔ جب لوگوں نے امام حسن عليہ السلام کی بیعت کرلی توآپ نے فرمایا: ھم خدا کی فوج ہیں جو کہ غالب و فاتح ہیں۔ ہم عترت رسول ہیں جو کہ ان کے نزدیک ترین افراد ہیں ہم ہی رسول کے طیب و طاھر اھل بیت ہیں ہم دو  گرانقدر چیزوں میں ایک ہیں جس کے بارے میں ہمارے جد محترم نے امت کے درمیان جانشینی کا اعلان کیا تھا ہم خدا کی کتاب ثانی ہیں جس میں تمام چیزیں تفصیل کے ساتھ بیان کی گئی ہیں باطل کسی بھی راستے سے ان میں نفوذ نھیں کر سکتا۔ (3)

حوالہ جات:

1- المناقب لابن مغازلی صفحہ ۱۱۲۔ ۱۱۵

2-  امیر المومنین (ع) نے عترت نبی اکرم کے بارے میں فرمایا۔ تم لوگ کہا جا رہے ہو۔ تمہارا رخ کس جانب ہے۔ پرچم حق لہرا رہا ہے اس کی علامتیں آشکار ہیں۔ جبکہ ھدایت کے چراغ روشن ہیں لوگ بھیک کر کہاں جار ہے ہو۔ کیوں سرگردان ہو۔ در آں حالیکہ عترت رسول تمہارے درمیان وہ ہے (عترت رسول) زمام حق، پرچم دین، اور زبان صدق ہیں۔ اور وہ بھترین منزل، (پاک و پاکیزہ دل ) جھاں قرآن کو محفوظ رکھتے ہیں ان کو وہیں محفوظ کر لو۔ پیاسوں کی مانند اس کے شفاف چشمے پر ٹوٹے پڑو۔ اے لوگو! اس حقیقت کو پیغمبر اسلام سے سیکھو کہ (جو کوئی ہم سے مرتا ہے وہ در حقیقت مرتا نہیں۔) اور ہم میں سے کوئی چیز پورانی نہیں ہوتی۔ پس جس چیز کا علم نہیں رکھتے اس کے بارے میں کچھ نہ کہو کیونکہ بھت سارے حقایق ایسے میں ہوتے ہیں جن کا تم انکار کرتے ہو اور جس کے خلاف کوئی دلیل نھیں رکھتے ہو اس سے عذر خواھی کرو اور وہی ہوں ۔ کیا میں نے تمھارے درمیان ثقل اکبر (قرآن) پر عمل نھیں کیا اور ثقل اصغر (عترت رسول) کو تمہارے درمیان زندہ نھیں رکھا؟ کیا پرچم ایمان کو تمہارے درمیان نصب نھیں کیا ؟ کیا حلال و حرام سے تم کو آگاہ نھیں کیا؟ کیا ایسا نھیں ہے کہ لباس عافیت کو (عدل) کے ساتھ تمھارے زین تن نہیں کیا؟ اور نیکوں کو اپنے قول و فعل سے تمہارے درمیان پھلایا اور انسانی اخلاقی ملکہ سے تمھیں روشناس کرایا۔ لھٰذا اپنے وھم و گمان کو ایسی جگہ استعمال نہ کرو جس کی گھرائی تمھاری آنکھیں دیکھ نہیں سکتی۔ اور پرواز فکر پہنچ نہیں سکتی۔ ینابیع المودة صفحہ ۱۱۴۔ ۱۱۶ باب ۱۳۸ لمعحم المفھرس الفاظ نھج البلاغہ ،صفحہ۔ ۳۷ حصہ خطبات۔ خطبہ ۸۷

3- ینابیع المودة صفحہ


source : tebyan
  2004
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      نماز میں تجوید کی رعایت کرنا کس قدر واجب هے؟
      کیا ائمه کی قبروں پر اس حالت میں نماز پڑھنا صحیح ھے که ...
      اسلامی قوانین اور کتاب خدامعصوم کی تفسیر سے
      افسانہ آیات شیطانی یا افسانہ ”غرانیق“ کیا ھے؟
      تعدّد ازواج
      امامت قرآن و حدیث کی روشنی میں
      حدیث ثقلین اہلِ سنت کی نظر میں
      چالیس حدیثیں
      چالیس حدیث والدین کےبارے میں
      راویان حدیث

 
user comment