اردو
Monday 20th of November 2017
code: 19922
استاد کا تعارف


کئی صدیوں سے خوانسار کے قصبے نے بڑی علمی اور ادبی شخصیتوں کو معاشرے کے لئےمہیا کیا ہے۔

مرحوم آیت اللہ آقا جمال خوانساری (رحمۃ اللہ)،  مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید محمد تقی خوانساری (رحمۃ اللہ)، مرحوم آیت اللہ العظمیٰ سید احمد خوانساری (رحمۃ اللہ علیہ) اور کئی ہزاردیگر عالم دین جوایران اسلامی کے اس منطقے سے تھے۔

استاد حسین انصاریان بھی اسی شہر میں سن ۱۳۲۳ش، ۱۸ آبان کو پیدا ہوئے۔ ان کے والد گرامی  حاج شیخ کے خاندان میں سے تھے۔ یہ خاندان ایک مشہور اور دین کے خادموں میں سے ہیں اور بڑے باعظمت عالم دین اسی خاندان میں سی دکہائی دیتے ہیں۔ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ شیخ موسیٰ انصاریان (خوانساری) (رحمۃ اللہ علیہ ) بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جن کا علم اور مذہبی شخصیت ہو نا کسی سے بھی چھوپا ہوا نہیں ہے۔

مرحوم آیت اللہ امام خمینی (رضوان اللہ تعالیٰ علیہ) فرمایا کرتے تھے: بہترین كتاب نماز شیعہ فقہ میں (کتاب صلاۃ در فقہ شیعہہے، جس کو مرحوم آیت اللہ انصاریان نے لکہا ہے۔ انہوں نےکئی دسوں اور کتابیں بھی لکھی تھی ان میں سے ایک کتاب منیۃ الطالب کہ جو مرحوم نائینی کے تقریروں کا مجموعہ ہے۔ نجف قاطبہ میں آیت اللہ العظمیٰ اصفہانی کی رحلت کے بعد علماء  کا اعتقاد تھا کے ان کی تقلید کی جائے، مگر زندگی نے ان کا ساتھ نہیں دیا اور وہ آیت اللہ اصفہا نی سے پہلے ہی وفات کرگئے۔

استاد والدہ کی طرف سے اسی شہر کے  مصطفوی سادات خاندان سے تھے ۔ استاد کے نانا شہر کے مشہور اور امانتدار اشخاص میں سے تھے اور جب بھی کوئی بھی عالم دین نجف یا قم سے خوانسار آیا کرتے تھے تو ان کے گھر تشریف لایا کرتے تھے۔

استاد اپنی ۳ سال کی عمر کا خاطرہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ' ایک دن آیت اللہ العظمیٰ محمد تقی خوانساری (رحمت اللہ علیہ) ہمارے نا نا کے گھر تشریف لائے تھے۔ میں کمرے میں داخل ہوا اور داخل ہو تے ہی سیدہا آیت اللہ خوانساری کی گود میں جا پیٹھا، اسی  وقت میرے نانا آگے بڑے تا کے مجھے اندر (خواتین کے سائڈ) میں لے جائیں۔ آیت اللہ خوانساری نے انہیں روک لیا اور مجھے اپنی گود میں لے لیا اور پیار کرنے لگے اور انہوں نے میرے سے سوال کیابڑے ہو کر کیا بنو گے؟

میں نے جواب میں کہا: میں چاہتاہوں آپ کی طرح ہو جاؤں، انہوں نے اسی وقت میرے حق میں دعاء فرمائی۔

جب بھی وہ خاطرہ میرے ذہن میں آتا ہے تو ان کا نورانی چہرہ اور ان کی دعاء میرے ذہن میں آجاتی ہے تو میرے زندگی کے بہترین لمحات واپس آجاتے ہیں۔

استاد انصاریان جب تین سال کے تھے کے ان کے والدین تہران منتقل ہوئے، اور وہ تہران کے ایک مذہبی محلوں میں سے ایک محلہ جس کا نام خیابان خراسان تھا رہنے لگے۔

اس زمانے میں وہاں کی علمی شخصیت مرحوم آیت اللہ حاج شیخ علی اکبر برہانی (رحمۃ اللہ علیہہواکر تے تھے۔ استاد بچپن سے ہی ان کے علم سے استفادہ کیا ۔استاد کئی بار اسی بارے میں فرمایا ہے کے:" مولویوں کے درمیاں میں نے ابھی تک ان کی مانند کسی کو بھی نہیں دیکھا ہے۔"

آیت اللہ برہان کے جو ایک پڑہے لکھے عالم اور مجتہد تھے، اس زمانے میں وہ مسجد لُر کے امام جماعت ہوا کر تے تھے وہ مسجد کو اس طرح سے تنظیم کیا تھا کے بوڑے جوان سب کے سب مسجد میں آنے کا شوق رکھتے تھے اور انہوں نے اسی قصبے میں ایک مدرسہ کہولا  کے شاگرد پہلی کلاس سے ہی ان کے زیر نظر تربیت پا رہے تھے۔

 استاد انصاریان مرحوم برہان کے بارے میں اس طرح سے فرماتے ہیں کے میں  نے کئی بار کلاس اور ممبر کے ضریعے سے ان سے یہ سنا تھا کہ وہ ہر گز پسند نہیں کرتے تھے کے تہران میں انتقال کریں اور تہران میں دفن ہوں، اور یہ مسئلہ ان کے لئے دعاء کی طور پر بن چکا تھا کے وہ مرحوم شب قدر کی راتوں میں بھی خالق کی بارگاہ میں دعاء کیا کرتے تھے۔ سن ۱۳۳۸ش جب میں چودہ برس کا تھا وہ بزرگوار حج پر گءے جدہ کے راستے میں انتقال پا گئے اور انہیں حضرت حوا کی مزار کے نزدیک دفن کیا۔ ان بزرگوار کا ملکوتی چہرہ اور ان کی زندگی کا طور طریقہ استاد کی زندگی پر بڑا اثر کیا کہ ابھی تک استاد ان بزرگوار معلم الہی کے نہ ہونے کی کمی اپنی اندر محسوس کرتے ہیں۔

بچپن ہی سےاستاد انصاریان بزرگوار شخصیتوں کے ساتھ مأنوس ہوا کرتے تھے، جس طرح مرحوم آیت اللہ سید محمد تقی غضنفری کہ جو مسجد دوارہ خوانسار کے امام جماعت ہوا کرتے تھے

ایک اور خاطرہ جس سے یہ معلوم ہوتاہے کہ استاد اپنے بچپن ہی سے دینی بزرگ شخصیتوں کے ساتھ مانوس ہوا کرتے تھےاور یہ واقعہ استاد کے بچپن کے محلے کے بارے میں ہے کہ جو پھر اسی مرحوم سید محمد تقی غضنفری کہ بارے میں ہے جو خود استاد بیان فرماتے ہیں : جب میرا تعلیمات دینی حاصل کرنے کا پہلا ہی سال تھا  اور یہ خبر جب مرحوم غضنفری کو پہنچی تو انہوں نے محلے کے لوگوں کواور میرے والد کی طرفکے رشتے داروں کو دعوت دی۔ ان کا یہ دعوت کا انتظام کرنا کہ میں نے اسی ابتداء جوانی میں وادی علم میں قدم اٹھا یا ہے۔ مرحومغضنفری عظیم شخصیت اور سادہ رہنے والے تھے اور شاه کے میں کئی سالوں تک شہر خوانسار کے امام جمعہ ہوا کرتے تھے۔

ایک اور بزرگ شخصیت آیت اللہ سید حسین علوی خوانساری (رحمت اللہ علیہتھے، مرحوم علوی خوانسار کے ایک مشہور مجتہد تھے اور وہ استاد کی والدہ کے محلے میں رہا کرتے تھے، وہ وہاں کے امام جماعت اور استاد ہوا کرتے تھے کئی سو لوگوں نے ان سے استفادہ کیا ۔ جب وہ نجف اشرف کو چھوڑ کر اپنے شہر خوانسار واپس آرہے تھے تو ان کے اساتید نے لکھ کر دیا کے  ان کا مجتہد ہو نا ان کو قبول ہے۔

استاد ان بزرگوار کے بارے میں فرماتے ہیںپہلا ہی سال تھا کے میں روحانیت کا لباس (یعنی عماما،عبا اور قبا) پہنا شروع کیا تو اپنے نانا مرحوم سید محمد باقر مصطفوی اور نانی اور دوسرے رشتے داروں سے ملنے کے لئے خوانسار گیا تھا، میرے ایک جانے والے نے مجھے سڑک پر دیکھا اور کہا کہ کیا تم چاہتے ہو کے دس دن کے لئے آقا اسد اللہ کی مسجد میں تقریر کرو؟

میں نے کہا:حاضر ہوں۔

پہلے دن جب میں مسجد میں گیا تو میں نے دیکھا کہ مرحوم آیت اللہ علوی بھی وہاں تشریف فرما ہیںمیں بڑا حیرت زدہ ہو گیا کہ ایک بزرگ عالم اور مجتہد کس وجہ سے یہاں مجھے سنے کےلئے بیٹھے ہیںمیں نے خود سے کہا کے شاید بانی مجلس سے کوئی رابطہ وغیرہ ہوگا، مگر میں انہیں ہر روز دس دن تک دیکھا کر تا تھا اور ان کا وہاں آنا اصل میں اس وجہ سے تھا تا کے ميري حوصله افزائي کریں۔

ایک دوسری شخصیت  آیت اللہ  سید محمد علی ابن الرضا جن کا استاد کے ساتھ رشتے داری تعلق تھا  اسی وجہ سے بچپن ہی سے استاد ان کے ہاں آنا جا نا کرتے تھے۔ استاد اس عالم دین کے بارے میں اس طرح سے فرماتے ہیں: بچپن ہی سے میرے ذہن میں آقا ابن الرضا کے بارے میں میرے ذہن میں ہے کہ وہ ہر وقت شب جمعہ نماز عشاء کے بعد زیارت وارثہ کو کھڑے ہو کر تمام لوگوں کے لئے پڑہا کرتے تھےاس بزرگوار کا رابطہ امام حسین (ع) سے ایسا تھا کے میرے وجود میں مثبت اثرپڑہا۔

وہ تمام افراد جن سے استاد کا رابطہ تھا ان میں سے ایک مرحوم الہی قمشہ ای بھی تھے۔ ان مرحوم کے اخلاقی دروس سے استاد نے بڑا استفادہ کیا ہے۔ یہ تمام عوامل جیسے گھر والے اور درس اخلاق کے استاد سے رابطا، یہ سب  سبب بنےتا کے استاد دسویں جماعت ختم کرنے کے بعد دروس  طلبگی شروع کریں۔

استاد نے دو ديني مركزوں يعني قم اور تہران میں اپنے دروس کو حاصل کیا، ابتدائی دروس کو تہران میں شروع کیا اورپھر ادبیات کو ختم کرنے کے بعد حضرت آیت اللہ میرزا علی فلسفی کےہاں تشریف لاتے ہیں کے وہ اس زمانے میں مرحوم برہان کے بعد مسجد لُر کے امام جماعت تھے، اور ان سے تقاضا کرتے ہیں کے انہیں کتاب معالم الاصول کی خصوصی طور پر تدریس کریں۔ یہ وہ عالم دین ہیں کہ جن کے بارے میں مرحوم آیت اللہ خوئی نے لکھ کر کہا کے ان کے مجتہد ہو نے کو مانتے ہیںاستاد ان کے ہاں لمعتین کو اتمام کر کے ان سے اجازت مانگتے ہیں تا کہ وہقم کے حوزہ میں جا کر تعلیم حاصل کریں۔ آیت اللہ فلسفی نے استاد کے تقاضے کو قبول کیا اور انہیں گلے سے لگایا اور جانے سے پہلے استاد ان سے خواہش کرتے ہیں کے انہیں نصیحت کریں تو آیت اللہ فلسفی حدیث رسول اکرم (ص) کو تحفے کے طور پر فرماتے ہیں: (من کان للہِ کان اللہُ لہُ۔

استاد انصاریان فرماتے ہیں: اس دن کے بعد میں ہمیشہ کوشش کرتا ہوں خدا کے ساتھ رہوں اور خدا بھی ہمیشہ میرے ساتھ رہے، جو کوئی خدا کے ساتھ ہوگا خدا بھی اسی کے ساتھ رہے گا۔

استاد قم کے حوزہ میں تہران کے حوزہ کی مانند الہی چہروں کے ساتھ مأنوس رہے ہیں۔ اسی وجہ سے مرحوم آیت اللہ حاج عباس طھرانی (رحکی حضور میں شرف یاب ہوئے اور ان سے استفادہ کیا۔ اسی طرح سے مرحوم حاج آقا حسین فاطمی (رحکے اخلاقی جلسوں میں حاضر ہو تے ہیں اور اسی بارے میں فرماتے ہیں: آیت اللہ فاطمی اکثر اپنے اخلاقی دروس میں خود بھی آنسوں بھایا کرتے تھے اور ان کے شاگرد بھی آنسوں بھایا کرتے تھے۔

آخر کار مرحوم آیت اللہ حاج شیخ عباس طھرانی (رحکے ہاتھوں سے روحانیت کے لباس میں ملبس ہو تے ہیں اور اپنی تعلیمات کو اس طرح سے آگے بڑہا تے ہیں ۔

رسائل ومکاسب اور کفایہ کو آیت اللہ اعتمادی، آیت اللہ فاضل لنکرانی، آیت اللہ صالحی  نجف آبادی اور آیت صانعی کے ہاں حاصل کرتے ہیں۔

سطوح عالیہ کو ختم کر نے کے بعد مرحلہ استنباطی فقہ و اصول  اور در س خارج میں داخل ہوئے۔ دروس کے اس حصہ میں فقھای عظام کے محضر میں جس طرح سے مرحوم آیت اللہ سید محمد محقق داماد (رحآیت اللہ منتظری، مرحوم آیت اللہ حاج شیخ ابوالفضل نجفی خوانساری (رح)، اور مخصوصاً کئی سالوں تک مرحوم آیت اللہ العظمیٰ حاج میرزا ہاشم آملی (رحسے فیض حاصل کرتے ہیں۔ ان تمام علوم کو حاصل کرنے کا نتیجہ یہ کہ  انہوں نے مرحوم آیت اللہ حاج میرزا ہاشم آملی (رحکے باارزش تقاریر کو کتاب کی صورت میں پيش کیا ہےانہوں نے مباحث حکمت کو آیت اللہ گیلانی کے محضر میں  اور معانی بیان اور بدیع کو حجۃ الاسلام و المسلمین جوادی کے محضر میں کسب فیض کیا۔ معظمہ لہ بزرگ مراجع تقلید، مرحوم آیت اللہ العظمیٰمیلانی (رح)، مرحوم آیت اللہ العظمیٰ آخوند ہمدانی (رح)، مرحوم آیت اللہ کمرہ ای (رح)، مرحوم آیت اللہ العظمیٰ گلپایگانی (رح)، مرحوم آیت اللہ العظمیٰ حاج سید احمد خوانساری (رح)،مرحوم آیت اللہ العظمیٰ مرعشی نجفی (رحاور مرحوم آیت اللہ العظمیٰ امام خمینی (رحان تمام مراجع تقلید کے ضریعے سے علم حاصل کیا ۔

استاد تمام علوم دینی و حوزوی اور تمام بزرگ اساتید حوزہ سے علم حاصل کرکے اپنے اصلی ہدف جو ہر علوم دینی حاصل کرنے والے پر لازم و ضروری ہے یعنی اسلام کی تبليغ كو شروع کرتے ہیں، بڑے مشکلات کے ساتھ قم کے حوزہ سے تہران آتے ہیں اور ابھی تک تیس سال  سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے کہ وہ تبلیغ میں مشغول ہیں کے جو الہی وظائف میں سے ایک وظیفہ ہے۔

چار ہزار مجالس کی کسٹس تکرار کے بغیر اور چالیس سے زیادہ کتابیں  جو تقریباً اسی جلدیں ہیں۔

کتابوں کی فہرست

فارسی کتابیں1.ترجمہ قرآن

2.ترجمہ نہج البلاغہ

3.ترجمہ صحیفہ سجادیہ

4.مفاتیح الجنان ترجمہ کے

5.شرح دعای کمیل۔ نئی پرنٹ

6.اهل البیت عرشیان فرش نشین

7.معاشرت

8.اللہ کی رحمت کے جلوہ

9.فرہنگ مہرورزی

10.عبرت آموز

11.اخلاق کی خوبصورتیاں

12.توبہ رحمت کی آغوش

13. فکر کے بال پر  جلد ۱

15.فکر کے بال پر   جلد۲ ابہی چاپ نہں ہوئی

16.سیمای نماز

17.لقمان حکیم

18.تربیت اسلامی کی روشنایی

19. رسائل حج

20. اشعار (غزلیات کا مجموعہ)

21. سوال و جوابات۔ ۵ جلد (چاپ ہوناہے)

22. گہرکا نظام اسلام میں. 23. مونس جان

24۔ عرفان اسلامی (شرح مصباح الشریعہ) ۱۵جلد۔، نئی پرنٹ

25۔ دیار عاشقان(شرح صحیفہ سجادیہ) ۱۵ جلد، پرنٹ ہونا ہے

26۔اسلامی معارف میں سیر کرنا جلد۱(عقل خوشبختی کے خزانے کی چابی)

27 اسلامی معارف میں سیر کرنا جلد۲(عقل محرم راز ملکوت)

28 معارف اسلامی میں سیر کرنا جلد۳ (حدیث عقل و نفس)

29 اسلام، کام اور محنت

30اسلام، علم اور دانش

31 امام حسن (ع) کو بہتر طور پر پہچانیں.

32 موضوعی مجالسوں کا مجموعہ (۲۰ عنوان) جیبی سائز

33۔ معنویت، بنیادی ضرورت ہمارے زمانے کی۔

34۔ قرآن اور اسلام کی طرف۔

35۔روشنائی کی حد (دیوان اشعار)

36۔ مناجات عارفان (دیوان اشعار )

37۔ چشمہ سار عشق (دیوان اشعار)

.38 گلزار محبت (دیوان اشعار)

39۔ زمانے کے عبرتیں

40۔ نسیم رحمت

41۔ اخلاق خوبان

42۔ نورکی بارگاہ میں

43۔ حج کی چالیس احادیث

44۔ حج امن کی وادی

45۔ قرآن کے محبوب اور منفور چہرے46۔ زائر کے ادب اور آداب

47۔ اخلاق اسلامی کا راستہ

48۔ ولایت اور رہبری نہج البلاغہ کی روشنی میں

49۔ مقالات کا مجموعہ

50۔ عبودیت

51۔ قرآن میں شفا

52۔ مرحوم آیت اللہ العظمیٰ حاج میرزا ہاشم آملی کے دروس کی مجالسیں (لکھی ہوئی)

53۔مرحوم آیت اللہ العظمیٰ حاج شیخ ابو الفظل نجفی خوانساری کے دروس خارج کی تقاریر کا مجموعہ (لکھی ہوئی)

استاد کی تمام وہ کتابیں جو دوسری زبانوں میں ترجمہ شدہ ہیں۔

۱۔ کاروان نور کے ساتھ (انگلش میں)

۲۔گہریلو نظام اسلام میں (انگلش میں)

۳۔گہریلو نظام اسلام میں (اردو میں)

۴۔ گہریلو نظام اسلام میں(روسی میں)

۵۔ گہریلو نظام اسلام میں(ترکی استانبولی میں)

۶۔گہریلو نظام اسلام میں(عربی میں)

۷۔شرح دعاء کمیل (عربی میں)

۸۔شرح دعاء کمیل (اردو میں)

۹۔شرح دعاء کمیل (انگلش میں)

۱۰۔توبہ رحمت کی آغوش (عربی میں)

۱۱۔ توبہ رحمت کی آغوش (انگلش میں)

۱۲۔ توبہ رحمت کی آغوش (اردومین)

۱۳۔ لقمان حکیم (اردو میں)

۱۴۔ دیار عاشقان( دو جلدی انگلش میں)

۱۵۔اہل بیت(ع) (اردو میں)

۱۶۔اہل بیت(ع)  (عربی میں)

۱۷۔ اہل بیت(ع)  (انگلش میں)

۱۸۔ اہل بیت(ع)  (روسی میں)

 

user comment
mohammad.Ahmed
very good
پاسخ
1     0
23 خرداد 1390 ساعت 1:47 بعد از ظهر
 

latest article

  استاد کا تعارف