اردو
Sunday 21st of October 2018

''حجابِ اسلامی'' ہر حال میں ہر عورت کے لئے پردے کی حفاظت لازم ہے.

عصرِحاضر میںلا دینیت کے متلاطم سیلاب میں نیم برہنگی ، بے پردگی اور عریانیت کی بڑھتی ہو ئی وباء نے ہمارے پورے سماج  و کلچرکو فاسد بنا کر رکھ دیا ہے! لہذا اگر اس مہلک بیماری کا مُعالجہ نہ کیا گیا تو آئندہ ہم ، ہمارا پورا معاشرہ ،ہمارا گھرا ور ہمارا خاندان بھی اس کی لپیٹ میں آسکتا ہے !

''ہمارا سلام ہو!ان ماں بہنوں ، بیٹیوں اور محترم خواتین پر ''

کہ جو خود کو ذلیل اور پست نگاہوں کا نشانہ بننے سے محفوظ رکھتی ہیں ۔

میری پیاری بَہْنو !کیا آپ جانتی ہیں ؟!

عورت :کا محافظ اس کا پردہ ہے ۔

پردہ (حجاب ):عورتوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے ۔

پردہ (حجاب ):عورت کے وقار میں اضافہ کرتا ہے ۔

عورت :کی دولت اس کی حیاء  و عفت ہے ۔

عورت :کا حُسن اس کی عفت و پاکدامنی ہے ۔

اسلام نے حجاب کو عورت کے لئے لازم قرار دیا ہے؟!

اس لئے کہ عورت مبارک ہے کیونکہ برکتیں اس کے دم سے ہیں ۔

عورت :آسمانی نور ہے جس کی وجہ سے کائنات روشن ہے ۔

پردہ (حجاب ):نہ ہی عورتوں کی ترقی میں رکاوٹ بنتا ہے اور نہ ہی انہیں گھر کی چار دیواریوں میں مقید بلکہ اس کی عصمت و پاکدامنی کی محافظت کے ساتھ ساتھ اسے تکامل بخشتا ہے ۔آج کی عریانیت ہمارے سماج و معاشرہ کا ایک ایسا مہلک مرض ہے جس کی زد میں ہمارے سماج و معاشرہ کی اکثر و بیشتر خواتین آچکی ہیں. 

لہذا ا ے خَواہران ِ اسلام! میں آپ سے مخاطب ہوں،آپ سے ،کہ آپ! جو حجاب اسلامی سے غافل ہیں ،فرمانِ خدا و رسول ۖ کو نظر انداز کی ہو ئی ہیں ! آپ، جو اپنے پردہ پر کو ئی توجہ نہیں دیتیں ! آپ جو اسلامی لباس کو بے اہمیت جانتے ہو ئے اپنے دو پٹہ کو بجائے سر پر ڈالنے کے گلوبند کی طرح اسے اپنی گردن میں ڈالی ہو ئی ہیں !اور اپنے'' کاکلی'' بالوں کو کھولی ہو ئی ہیں ! چہرہ پر'' میک اپMakeup و لپسٹکLipstic'' کی برہنہ نمائش ،لباس ایسا جس پر جن و انس(شیطان و ابلیس ) کی نگاہیں منجمد ہیں !سینڈل ایسی جس کی آواز سے اسکول و کالج ، شہر و محلوں میں ہنگامہ و...!کیا آپ نے اس بات پر توجہ کی ہے کہ آپ ایک مسلم خاتون ہیں اور ہر مسلم خاتون پر حجاب اسلامی فرض ہے ؟!کیا آپ یہ جانتی ہیں کہ ہمارے دین ِ اسلام میں بے غیرت،بے حیاء ،بے کردار اور بد چلن مرد و عورت کی کو ئی اہمیت نہیں ہے ؟!کیا آپ نے کبھی یہ سوچا بھی ہے کہ آپ کسی کی بہن ،بیٹی ، بہو اور ماں بھی ہیں ،آپ کا ایک قدم جو دین و ایمان کے منشاء کے خلاف ہو اس سے نہ فقط آپ !بلکہ ان سارے مقدس رشتوں کی بنیادیں متزلزل ہو سکتی ہیں ؟!کیا آپ نے کبھی اس بات پر توجہ کی ہے کہ آپ نے اپنی بے پردگی سے فطرت ِخدا وندی کو سرکوب کر دیا ہے ؟!کیا آپ یہ جانتی ہیں کہ آپ نے اپنے خالق ِ حقیقی کے حکم و دستور کوپس پشت ڈال کر اس کے قوانین کو اپنے پیروں تلے روند رہی ہیں !؟ 

کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ آپ اپنے اس عمل سے اسلامی اقدار اور اس کی تعلیمات کا مذاق اُڑا رہی ہیں ؟ کیا کبھی آپ نے اس بات پر توجہ کی ہے کہ آپ اپنی نیم برہنگی سے پرچم ِ اسلام کو سرنگو ںکر رہی ہیں اور اس کے ابدی دشمن کو اس کے مذاق اُڑانے کا موقع فراہم کر رہی ہیں ؟!

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ آپ خدا و رسول ۖ کو غضبناک کرر ہی ہیں ! کیا آپ نے اس بات پر غور و فکر بھی کیا ہے کہ آپ کی بے پردگی سے صرف آپ ہی نہیں بلکہ آپ کا پورا خاندان عتاب ا لہی کے زد میں آسکتا ہے ! کیا آپ جانتی ہیں کہ آپ کے اس عمل سے آپ کے حسن و خوبصورتی میں بجائے چار چاند لگنے کے آپ کا حُسن افسردہ وپژمردہ ہوتا جا رہا ہے !؟کیا ہمیں یہ زیب دیتا ہے کہ ہم محافل و مجالس ،امام بارگاہوں اور مسجدوں کے تقدس کو اپنی نیم برہنگی اور عریانیت سے پائمال کریں اور اپنے ابدی دشمنوں کو ہنسنے کا موقع فراہم کریں !؟ کیا یہ بات ہماری قوم اور بانیانِ قوم کے منشاء کے مطابق ہے کہ مجالس و جلوس ہائے عزاء میں عریانیت اور مرد و عورت کا اختلاط روز افزون اضافہ ہو اور ہم خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہیں ؟!کیا آپ نے یہ محسوس نہیں کیا !!کہ اب ہماری مجالس و محافل میں ائمہ اطہارعلیہم السلام کے فضائل و مصائب اور ان کے مناقب کا پرچار نہیں بلکہ عریانیت ،نیم برہنگی اور بے حیائی کا مظاہرہ کیا جا رہا ہے ؟!!

کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ آپ کی بے پردگی سے گھر ،خاندان ،محلہ ،شہر و ملک میں جسمی ، روحی اور روحانی بیماریاں ایجاد ہو رہی ہیں ؟!کیا آپ نے اس امر پر غور کیا ہے کہ آپ جس Modernتہذیب کی پیروی کر رہی ہیں وہ آپ کی شخصیت کو مجروح کر رہی ہے ؟!کیا آپ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ بے پردگی اور نیم برہنگی سے لڑکیاں ہوس آلود نگاہوں کا شکار بن جاتی ہیں ؟! 

کیا آپ نے اس بات پر توجہ کی ہے کہ آپ نے اگر ماڈرن( Modern)تہذیب کے فیشن(Fashion )کو اپنایا ہے تو آپ نے در اصل پوری تاریخِ نسوانیت کی خصوصاًان مثالی خواتین کی ہتک ِ حرمت کی ہے جنہوں نے نسوانیت کو معراج عطا کی ہے . . . ۔ اگر ہماری یہ باتیں آپ کو اچھی لگیں تو ان پر توجہ کرتے ہو ئے خود بھی اور دوسروں کو بھی حجابِ اسلامی کی دعوت دیں تا کہ اوباش  لچّے ، لفنگے اور ہوس ران افراد کے مرض میں اضافہ نہ ہو سکے اور اس طرح ہمارا کلچرCultural ایک مثالی اور صحیح اسلامی کلچر بن سکے ۔

ہمیں امید ہے کہ ہمارے سماج و معاشرہ کی عورتیں خصوصاً کنیزان ِ حضرت زہرا سلام اللہ علیہا اپنی زندگی کے ہر شعبہ بالخصوص طرزِ معاشرت میں کائناتِ انسانیت اور عالم اسلام کی ان مثالی خواتین کو اپنا آئیڈیل اور نمونہ بنائیں گی جن پر دنیا فخر و مباہات کرتی ہے یعنی ! جناب خدیجہ  ،جناب فاطمہ زہرا اور جناب زینب سلام اللہ علیہا و...اس لئے کہ اگرکائنات میں یہ مقدس خواتین نہ ہو تیں تو صنف نسواں کے چہرہ پر نکھار نہ آتااور وہ ہمیشہ پژمردگی کا شکار ہوتی ، اگریہ نہ ہوتیں تو پھر انسانیت معرفتِ حجاب سے محروم ہوجاتی انہوں نے انسانیت کو حجاب سے آشنا کروایا ہے ۔لہذا World Modernاور اس کی گندی تہذیب و ثقافت سے چشم ہوشی کرتے ہو ئے اسلامی تہذیب و ثقافت کو اپنا حرزِ جاں بنا لیجیئے اور دین اسلام کی تعلیمات کے مطالعہ کے ساتھ ساتھ اس پر غور و فکر کیجئے تا کہ آپ کو اپنے معاشرتی مسائل سے آشنائی ضاصل ہو سکے اور آپ کو اپنی اہمیت کا اندازہ ہو سکے کہ کائنات انسانیت میں صنف نسواں کی خلقت کے اسرار و رموز کیا ہیں اور صنف نازک عالم بشریت میں کس قدر اہمیت اور عزت و شرف کی حامل ہے ؟!

عورت :پورے معاشرے کی تربیت کرنے والی ہو تی ہے ۔

عورت :کی آغوش میں انسان بنتا اور سنورتا ہے ۔

عورت :انسان ساز ہے ۔

عورت :مہربانی و عطوفت کا پیکر ہے ۔

عورت :تمام بھلائیوں کا سر چشمہ ہے ۔

عورت :تمام نیکیوں کا منبع ہے ۔

ایک اچھے مرد اور ایک اچھی عورت کی ابتدائی زندگی کا آغاز عورت ہی کی آغوش سے شروع ہو تا ہے ۔

گھر ،خاندان ،شہر و ملک کی بہتری اور بد بختی عورت سے ہی وابستہ ہے ۔

عورت اپنی صحیح تربیت کے ذریعہ کسی کو واقعی انسان بناتی ہے اور صحیح تریبت کے ساتھ گھر ،خاندان ،شہر و ں اور ملکوں کو آباد و خوش حال بنا تی ہے ۔

عورت کی عفت و پاکدامنی اور اس کا پردہ باطل اور شیطان پرست افراد کے مشن کو ختم کرنے کے لئے ایک کاری ضرب ہے ۔

مسائل :

دین اسلام عورتوں کو اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ وہ نامحرم افراد سے ناز و نخرے سے گفتگو نہ کریں کہیں ایسا نہ ہو کہ ذہنی مریض اور ہوس پرست مرد ان کے بارے میں بد گمانی کر بیٹھیں ۔(جس کی تفصیل سورۂ احزاب کی ٣٢نمبر آیت میں دیکھ سکتی ہیں )

١۔عورت کا نا محرم مرد سے ہنس کریا نرم لب و لہجہ میں گفتگو کرنا ناجائز ہے ۔

٢۔عورت کا گھر سے بغیر پردہ نکلنا حرام ،حرام ،حرام ہے ۔

٣۔اگر عورت کو معلوم ہو کہ کو ئی نا محرم مرد اسے دیکھ کر گناہ میں مبتلا ہو جا ئے گا تو اس پر واجب ہے کہ جسم کے ہمراہ  اپنے چہرے اور ہاتھوں کو بھی چھاپئے ۔

٤۔بدن اور ہاتھ کا نامحرم کے بدن اور ہاتھ سے مس کرنا حرام ہے ۔اسی طرح اجنبی اور نا محرم افراد سے ہاتھ ملانا بھی حرام ہے ۔

٥۔مرد کا نامحرم عورت کے بدن پر نگاہ کرنا اور بالوں کو دیکھنا جائز نہیں ہے ...۔

٦۔عورت کا گھر سے شوہر کی اجازت کے بغیر نکلنا حرام ہے ۔

٧۔عورت کو چاہیئے کہ نماز میں اپنا پورا بدن نامحرم سے چھپائے ۔

٨۔عورت و مرد کاا ختلاط ناجائز ہے ۔اور جہاں مرد و عورت کی باہمی اختلاط اور بے پردگی کی محفل جمی ہو وہاں شریف زادیوں کا شرکت کر نا جائز نہیں ہے ۔

٩۔بے پردگی اور بے راہ روی کے خلاف آواز بلند کر نا ہر مؤمن و مؤمنہ کا شرعی فریضہ ہے ۔

١٠۔عورتوں کی محفل و مجلس میں نا محرم مرد کا داخل ہو نا یا نا محرموں کا مدعو کرنا کہ جہاں پردہ دار بی بیوں کی خاص نشست ہو ناجائز ہے ۔

مرد اور عورت کی درمیانی حد پر اسلام کی تاکید:

یہاں ایک بنیادی نکتہ ہے کہ جس پر اسلام نے بہت زیادہ تاکید کی ہے اور وہ یہ ہے کہ تاریخ میں مردوں کے مزاج ،عورتوں کی بہ نسبت سخت اور اِن کے ارادے مشکلات کا مقابلہ کرنے کی وجہ سے قوی اور جسم مضبوط رہے ہیں۔ اِسی وجہ سے انہوں نے اہم ترین کاموں اور مختلف قسم کی ذمہ داریوں کو اپنے عہدے لیے ہوا تھا اور یہی وہ چیز ہے کہ جس نے مردوں کیلئے اپنی جنس مخالف سے اپنے فائدے کیلئے سوء استفادہ کرنے کے امکانات فراہم کیے ہیں۔ آپ دیکھئے کہ بادشاہوں، ثروت مند، صاحب مقام و صاحب قدرت افراد میں سے کون نہیں ہے کہ جس نے اپنے اپنے درباروں اور اپنے اپنے دارئرہ کار میں اپنے مال و دولت اور مقام قدرت وغیرہ کے بل بوتے صنف نازک سے سوء استفادہ ،دست درازی اور بے آبروئی کیلئے اقدامات نہ کیے ہوں؟!

یہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلام اپنی پوری قوت و قدرت کے ساتھ احکامات جاری کرتا ہے اور معاشرے میں مرد وعورت کے درمیان حد اور فاصلے کو قرار دیتا ہے اور ان کے درمیان تعلقات میں سختی و پابندی کرتا ہے۔

اسلام کی رو سے کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اِس حد کو پائمال کرے اور اس قانون کی بے احترامی کر ے ، کیونکہ اسلام نے خاندان اور گھرانے کو بہت زیادہ اہمیت دی ہے۔گھر کے گلشن میں مرد و عورت کا باہمی رابطہ کسی اور قسم کا ہے اور معاشرے میں کسی اور قانون کے تابع۔ اگر معاشرے میں مردو عورت کے درمیان حائل فاصلوں کے قانون کا خیال نہ رکھا جائے تو نتیجے میں خاندان اور گھرانہ خراب ہوجائے گا۔گھرانے میں عورت پر اکثر اوقات اورمرد پر کبھی کبھار ممکن ہے ظلم ہو۔

اسلامی ثقافت ، مرد وعورت کے درمیان عدم اختلاط کی ثقافت ہے۔ ایسی زندگی، خوشبختی سے آگے بڑھ سکتی ہے اورعقلی معیار ومیزان کی رعایت کرتے ہوئے صحیح طریقے سے حرکت کرسکتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے کہ جہاں اسلام نے سختی کی ہے۔

اسلام کی رو سے اگر معاشرے میں (نامحرم)مرد اور عورت کے درمیان فاصلے اور حد کو عبور کیا جائے،خواہ یہ خلاف ورزی مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے تو اسلام نے اِس معاملے میں سخت گیری سے کام لیا ہے۔ اسی نکتے کے بالکل مقابل وہ چیز ہے کہ جسے ہمیشہ دنیا کے شہوت پرستوں نے چاہا اور اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔صاحبان زر وزمین اور قدرت وطاقت رکھنے والے مرد،خواتین ، ان کے ماتحت افراد اور ان افراد نے کہ جنہوں نے اِن افراد کے ساتھ اور اِن کیلئے زندگی بسر کی، یہی چاہا ہے کہ مردو عورت کادرمیانی فاصلہ اور حجاب ختم ہوجائے? البتہ خود یہ امر معاشرتی زندگی اورمعاشرتی اخلاق کیلئے بہت برا اور مضر ہے۔یہ فکر و خیال اورعمل معاشرتی حیا و عفت کیلئے باعث زیاں اور گھر و گھرانے کیلئے بہت نقصان دہ اور برا ہے اور یہ وہ چیز ہے کہ جو خاندان اورگھرانے کی بنیادوں کو متزلزل کرتی ہے۔

حجاب و پردے میں اسلام کی سنجیدگی:

اسلام، خاندان اورگھرانے کیلئے بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے۔مسلمانوں سے مغرب کی تمام پروپیگنڈا مشینریوں کا اختلاف اورجرح و بحث اِسی مسئلے پر ہے۔ آپ دیکھئے کہ اہل مغرب حجاب و پردے کے مسئلے پرکتنی حساسیت ظاہر کرتے ہیں! اگر یہ حجاب ، اسلامی جمہوریہ میں ہو اسے برا شمار کرتے ہیں، اگرعرب ممالک کی یونیورسٹیز و جامعات میں ہو کہ جہاں جوان لڑکیاں اپنی معرفت، آگاہی اور اپنے تمام میل و اختیار سے حجاب کا انتخاب کرتی ہیں ،تو اپنی حساسیت ظاہر کرتے ہیں اور اگر سیاسی پارٹیوں اور جماعتوں میں حجاب ہو تو بھی ان کی بھنویں چڑھ جاتی ہیں?حتی اگرخود ان کے اسکولوں میں لڑکیاں باحجاب ہوں تو باوجود یہ کہ یہ لڑکیاں ان کے ملک کی باشندہ ہیں لیکن پھر بھی یہ لوگ حجاب کی نسبت حسا س ہوجاتے ہیں۔ پس اختلاف کی جڑ یہیں ہے۔

البتہ خود یہ لوگ اپنی پروپیگنڈا مشینری کے ذریعے ہر وقت فریاد بلند کرتے رہتے ہیں کہ اسلام میں یا اسلامی جمہوریہ میں خواتین کے حقوق کو پائمال کیا جارہا ہے ۔حقیقت تو یہ ہے کہ خود ان کو اس مسئلے کا یقین نہیں ہے اور وہ جانتے ہیں کہ اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کے حقوق کمزور اور پائمال ہونے کے بجائے ان کا بہت زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔

اسلامی انقلاب اورحقوق نسواں!

آپ توجہ کیجئے کہ آج ایران کے اعلیٰ تعلیمی اداروں اور جامعات میں خواتین طالب علموں اور تحصیل علم میں مصروف لڑکیوں کی تعداد زیادہ ہے یا زمانہ طاغوت میں؟ توآپ دیکھیں گے کہ تعداد آج زیادہ ہے ۔حصول تعلیم کے میدان میں اچھی پوزیشن اور اچھے نمبر (درجات)لانے والی لڑکیوں کی تعداد آج زیادہ ہے یا شاہی حکومت کے زمانے میں تھی۔وہ خواتین جو ہسپتالوں ، صحت کے مراکز اورمختلف علمی اداروں میں کام اور تحقیق میں مصروف عمل ہیں آج ان کی تعداد زیادہ ہے یا گزشتہ زمانے میںزیادہ تھی؟ وہ خواتین جو ملکی سیاست اور بین الاقوامی اداروں میں اپنی شجاعت و دلیری کے ذریعے اپنے ملک و قوم کے حقوق اور موقف کا دفاع کرتی ہیں، ان کی تعداد آج زیادہ ہے یا انقلاب سے قبل ان کی تعداد زیادہ تھی؟ آپ دیکھیں گے کہ ان کی تعداد آج پہلے کی نسبت زیادہ ہے۔شاہی حکومت کے زمانے میں خواتین مختلف گروپوں کی شکل میں سیاحت اور سفر کیلئے جاتی تھیں اور یہ سفر بہت اعلی پیمانے پر ہوتے تھے لیکن ہوس رانی، شہوت پرستی اور اپنی وضع قطع اورزینت و آرائش کو دوسروں کو دکھانے کیلئے،لیکن آج کی مسلمان عورت بین الاقوامی اداروں ، بین الاقوامی کانفرنسوں، علمی مراکز اور جامعات میں علمی ،سیاسی اور دیگر قسم کی فعالیت انجام دے رہی ہے اور انہی چیزوں کی قدرو قیمت ہے،

مغربی اور مغرب زدہ معاشرے میں خواتین کی صورتحال:

طاغوتی ایام میں ہماری لڑکیوں کو آئیڈیل لڑکیاور بہترین مثال کے نام سے خاندان اور گھرانوں کے پاکیزہ اور پیار ومحبت سے لبریز ماحول سے باہر کھینچ کر برائیوں کی کیچڑ میں ڈال دیتے تھے لیکن آج ایسی کوئی بات نہیں،حقوق نسواں کہاں ضایع ہوتے ہیں؟ جہاں خواتین سے تحصیل علم، مناسب ملازمت ، ان کی فعالیت اور خواتین کی خدمت کرنے جیسے اہم امور کے دروازے خواتین پر بند کردیے جاتے ہیں اور جہاں انہیں تحقیر و تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔جائیے اور امریکی معاشرے کو دیکھئے! 

آپ مشاہدہ کریں گے کہ اس معاشرے میں عورت کی کتنی تحقیر کی جاتی ہے! گھر کی عورت ، شوہر کی طرف سے اہانت کا نشانہ بنتی ہے اورماں اپنے بچوں کی طرف سے تحقیر کا، ماں کے حقوق کہ جس طرح اسلامی مراکز اور معاشروں میںموجود ہیں، اس معاشرے میں ان کا تصور بھی ممکن نہیں۔

اِس حد اورفاصلے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مرد وعورت ایک جگہ علم حاصل نہیں کریں،ایک جگہ عبادت انجام نہ دیں اور ایک جگہ کاروبار اورتجارت نہ کریں، اس کی مثالیں ہمارے یہاں زیادہ موجود ہیں ، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی معاشرتی زندگی میں اپنے اخلاق و کردار کیلئے اپنے درمیان حد اور فاصلے کو قرار دیں اوریہ بہت اچھی چیز ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین(مردوں کے ساتھ معاشرتی تعلقات کے باوجود)اپنے حجاب کی حفاظت کرتی ہیں۔ہماری عوام نے حجاب کیلئے چادر کو منتخب کیا ہے۔

البتہ ہم نے کبھی یہ نہیں کہا کہ حجاب و پردے کیلئے صرف چادرکو ہی ہونا چاہیے اورچادر کے علاوہ کوئی اور چیز قابل قبول نہیں ہے، ہاں ہم نے یہ کہا ہے کہ چادر دوسری چیزوں سے زیادہ حجاب کیلئے موزوں اور بہترین ہے? ہماری خواتین اِس بات کی خواہاں ہیں کہ وہ اپنے پردے کی حفاظت کریں۔ا وہ چادر کو پسند کرتی ہیں۔ چادر ہماری خواتین کا قومی لبا س ہے۔چادر قبل اس کے کہ اسلامی حجاب ہو، ایک ایرانی حجاب ہے۔چادر ہماری عوام کا منتخب کیا ہوا حجاب اور خواتین کا قومی لباس ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران میں خواتین کی ترقی:

ہمارے معاشرے میں تعلیم یافتہ،مسلمان اورباایمان خواتین کی تعدادبہت زیادہ ہے جو یا تحصیل علم میں مصروف ہیں یا ملکی جامعات میں اعلی درجے کے علوم و فنون کو بڑے پیمانے پر تدریس کررہی ہیں اوریہ بات ہمارے اسلامی نظام کیلئے باعث افتخار ہے۔

الحمد للہ ہمارے یہاں ایسی خواتین کی تعدادبہت زیادہ ہے کہ جو طب اور دیگر علوم میں ماہرانہ اورپیشہ وارانہ صلاحیتوں کی مالک ہیں بلکہ ایسی بھی خواتین ہیں کہ جنہوں نے دینی علوم میں بہت ترقی کی ہے اور بہت بلند مراتب ودرجات عالیہ تک پہنچی ہیں? اصفہان میں ایک بہت ہی عظیم القدرخاتون گزری ہیں اصفہانی بانو کے نام کی کہ جو مجتہدہ ، عارف و فقیہ تھیں? اس زمانے میں صرف وہ تنِ تنہا تھیں لیکن آج بہت سی ایسی جوان لڑکیاں ہیں جو مستقبل قریب میں علمی، فلسفی اور فقہی اعلی? مقامات تک رسائی حاصل کرنے والی ہیں اور ایسی خواتین کی تعداد بہت زیادہ ہے? یہ خواتین ہمارے اسلامی نظام کیلئے باعث افتخار ہیں? اِسے کہتے ہیں پیشرفت زن اور خواتین کی ترقی

عورت، عالم ہستی کا اہم ترین عنصر:

عورت ، عالمِ خلقت کے اہم ترین امور کی ذمہ دار:میری بہنو! خواتین کا موضوع اورمعاشرے کا اس سے برتاو اور رویہ ایسا مسئلہ ہے جو ہمیشہ سے مختلف معاشروں اورمختلف تہذیب وتمدن میں زیر گفتگو رہا ہے? اس دنیا کی نصف آبادی ہمیشہ خواتین پر مشتمل رہی ہے? دنیا میں زندگی کا قیام جس تناسب سے مردوں سے وابستہ ہے،اسی طرح خواتین سے بھی مربوط ہے?خواتین نے عالم خلقت کے بڑے بڑے کاموں کو فطری طور پر اپنے ذمے لیا ہوا ہے اور تخلیق کے بنیادی کام مثلابچے کی پیدائش اورتربیت اولاد ، خواتین کے ہاتھوں میں ہیں? پس خواتین کا مسئلہ بہت اہم مسئلہ ہے اور مختلف معاشروں میں مختلف مفکرین اورمختلف اقوام وملل کے اخلاق وعادات میں ہمیشہ سے موضوع بحث رہا ہے? اسلام نے اِن اہم موضوعات میں سے ایک اہم موضوع کو منتخب کرکے اسے افراط و تفریط سے بچاتے ہوئے دنیا کے تمام لوگوں کو خبردارکیا ہے۔

خواتین مرد کے شانہ بشانہ بلکہ ان سے بھی آگے!

اسلام نے ان مردوں کو جو اپنے قدرت مند جسم یا مالی توانائی کی وجہ سے مردوں اور خواتین کو اپنا نوکر بناتے ، ان سے خدمت لیتے اور خواتین کو اذیت وآزار اور کبھی کبھی تحقیر کا نشانہ بناتے تھے، مکمل طور پر خاموش کردیا ہے اور خواتین کو ان کے حقیقی اور مناسب مقام تک پہنچایا ہے بلکہ خواتین کو بعض جہات سے مردوں کے شانہ بشانہ لاکھڑا کیا ہے? اِن المومِنِین والمومِناتِ والمسلِمِین والمسلِماتِ? (قرآن بیان کررہا ہے کہ ) مسلمان مرد اورمسلمان عورت، عابد مرد اور عابدعورت اور نماز شب پڑنے والا مرد اور نماز شب ادا کرنے والی عورت ۔

پس اسلام نے انسانی درجات اور روحانی مقامات کو مرد وعورت کے دمیان برابر برابر تقسیم کیا ہے۔(یعنی ان مقامات تک رسائی ان دونوں میں سے کسی ایک سے مخصوص نہیں ہے بلکہ دونوں میں سے کوئی بھی یہ مقام حاصل کرسکتا ہے۔) اس زاویے سے مرد وعورت ایک دوسرے کے مساوی اور برابر ہیں? جو بھی خدا کیلئے نیک عمل انجام دے گا مِن ذکر او انثی?، خواہ مرد ہو یا عورت، فلنحیِینہ حیاء طیِب، ہم اسے حیات طیبہ عطا کریں گے۔

اسلام نے کچھ مقامات پر عورت کو مرد پر ترجیح دی ہے? مثلا جہاں مرد و عورت ،ماں وباپ کی صورت میں صاحب اولاد ہیں? ان کی یہ اولاد اگرچہ کہ دونوں کی مشترکہ اولاد ہے لیکن اولاد کی اپنی ماں کیلئے خدمت و ذمے داری باپ کی بہ نسبت زیادہ اور لازمی ہے? اولاد پر ماں کا حق باپ کی بہ نسبت زیادہ ہے اورماں کی نسبت اولاد کا وظیفہ بھی سنگین ہے?

خاندان میں عورت کا حق!

اس سلسلے میں بہت زیادہ روایات نقل کی گئی ہیں۔پیغمبر اکرم ۖ  سے کسی نے سوال کیا: میں کس سے نیکی کروں؟ آپنے جواب میں فرمایا :امّک! یعنی: اپنی ماں سے!آپۖ نے اس کے دوسرے سوال کے جواب میں بھی یہ فرمایا اوراس کے تیسرے سوال کا یہی جواب دیا لیکن چوتھی مرتبہ جواب میں فرمایا: اباک اپنے باپ سے نیکی کرو۔پس خاندان کی چار دیواری میں عورت کا اولاد پر حق بہت سنگین ہے۔

البتہ اِس وجہ سے نہیں ہے کہ خداوند عالم یہ چاہتا ہے کہ ایک طبقے کو اکثریت پر ترجیح دے بلکہ یہ اِس جہت سے ہے کہ خواتین زیادہ زحمتیں برداشت کرتی ہیں۔

یہ بھی عدل الھی ہے کہ خواتین کی زحمتیں زیادہ ہیں تو ان کا حق بھی زیادہ ہے اور خواتین زیادہ مشکلات کا سامنا کرتی ہیںلہذا ان کی قدر و قیمت بھی زیادہ ہے۔یہ سب عدالتِ الہی کی وجہ سے ہے۔ مالی مسائل میںمثلا خاندان اور اس کی سرپرستی کا حق اوراس کے مقابل خاندان کو چلانے کی ذمہ داری میں اسلامی روش ایک متوازن متعادل روش ہے۔ اسلامی قانون نے اِس بارے میں اتنی سی بھی اجازت نہیں دی ہے کہ مرد یا عورت پر ذرہ برابر ظلم ہو۔اسلام نے مرد وعورت دونوں کا حق الگ الگ بیان کیاہے اور اس نے مرد کے پلڑے میں ایک وزن اور عورت کے پلڑے میں دوسرا وزن رکھا ہے۔ اگر اِن موارد میں اہل فکر توجہ کریں تو وہ ان چیزوں کو ملاحظہ کریں گے۔یہ وہ چیزیں ہیں کہ جنہیں کتابوں میں بھی لکھا گیا ہے۔آج ہماری فاضل اور مفکر خواتین الحمدللہ ان تمام مسائل کو دوسروں اور مردوں سے بہتر طور پر جانتی ہیں اوران کی تبلیغ بھی کرتی ہیں?یہ تھا مرد و عورت کے حقوق کا بیان۔

مغرب اورخواتین:

مغرب اپنی تاریخ کے مختلف ادوار میں خواتین کے بارے میں شدید قسم کے افراط کا شکار رہا ہے اور اب اِس مسئلے میں تفریط کی سیاہ گھٹاوں نے اسے آگھیرا ہے ? ہم بہت دورکی بات نہیں کررہے ہیں ۔ اقتصادی ، اجتماعی اور تحصیل علم کے مسائل میں حقوقِ نسواں کو کبھی رسمی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا اور وہ ظلم و ستم کا نشانہ بنتے رہے اورآج جبکہ مغربی تمدن کی اوج کا زمانہ ہے تو خواتین اورنوجوان لڑکیوں پر جنسی تشدد کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات، گھرانے ( میں عدم تربیت و عدم محبت) کے بحران اور فیمین ازم (حقوق نسواں) کے کھوکھلے نعروں نے مغربی معاشرے کا جنازہ نکال دیا ہے۔

مرد و خواتین کے باہمی تعلقات میں آزادانہ میل ملاپ اور لا ابالی پن ، مردوں کی لذت و شہوت کی تکمیل کیلئے خواتین کا وسیلہ بننا، خواتین کا فضول خرچی، عیش پرستی اور زینت پرستی کی دوڑ میں شریک ہونا، عریانی، بے پردگی اور برائیوں کا عام ہونا، مردوں کی جنسی آزادی اور حقوقِ نسواں کے بارے میں مرد اورخواتین کے درمیان اختلافات ان جملہ اجتماعی اور ثقافتی اختلافات میں سے ہیں کہ جس نے مغرب کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا ہے۔دنیا کے انسان اور مسلمان ، اِن ظلم وستم کی وجہ سے مغربی ثقافت کو عدالت کے کٹہرے میں لے آئے ہیں اور مغرب کو اب ملامت و سرزنش کا نشانہ بننا چاہیے۔ 

خواتین اور گھرانے کے بارے میں مغرب کا افراط و تفریط :

مغربی ادب میں عورت کی مظلومیت:سب سے پہلے مغربی معاشرے کی مشکلات اورمغربی ثقافت کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتا ہوں، اس کے بعد اسلام کی نظر بیان کروں گا۔ اہل مغرب ، عورت کے مزاج کی شناخت اور صنفِ نازک سے برتاو میں افراط و تفریط کا شکار رہے ہیں ? بنیادی طور پر عورت کے بارے میں مغرب کی نگاہ دراصل غیر متوازن اورعدم برابری کی نگاہ ہے۔آپ مغرب میں لگائے جانے والے نعروں کو ملاحظہ کیجئے، یہ کھوکھلے نعرے ہیں اور حقیقت سے کوسوں دور ہیں۔ ان نعروں سے مغربی ثقافت کی شناخت ممکن نہیں بلکہ مغربی ثقافت کو ان کے ادب میں تلاش کرنا چاہیے جو لوگ مغربی ادب ، یورپی معاشرے کے اشعار، ادبیات،ناول، کہانیوں اور اسکرپٹ سے واقف ہیں ، وہ جانتے ہیں کہ مغربی ثقافت میں قبل از قرون وسطی۔کے زمانے سے لے کر اس صدی کے آخر تک عورت کو دوسرا درجہ دیا گیا ہے۔ جو فرد بھی اس حقیقت کے خلاف دعوتکرتا ہے وہ حقیقت کے خلاف بولتا ہے۔آپ شیکسپیئر کے ناول کو دیکھئے،آپ ملاحظہ کریں گے کہ اس ناول میں اور بقیہ مغربی ادب میں صنف نازک کو کن خیالات ، کس زبان اور کس نگاہ سے دیکھا جاتا ہے? مغربی ادب میں مرد،عورت کا سرادر،مالک اورصاحب اختیار ہے اور اس ثقافت کی بعض مثالیں اور آثار آج بھی باقی ہیں۔

آج بھی جب ایک عورت ، مرد سے شادی کرتی ہے اور اپنے شوہر کے گھر میں قدم رکھتی ہے تو حتی اس کا خاندانی نام (یا اس کے اصلی نام کے ساتھ اس کا دوسرا نام )تبدیل ہوجاتا ہے اور اب اس کے نام کے ساتھ شوہر کا نام لیا جاتا ہے۔ عورت جب تک شادی نہیں کرتی وہ اپنے خاندانی نام کو اپنے نام کے ساتھ استعمال کرتی ہے لیکن جب وہ شوہر دار ہوجاتی ہے تو عورت کا خاندانی نام، مرد کے خاندانی نام میں تبدیل ہوجاتا ہے، یہ ہے اہل مغرب کی رسم! لیکن ہمارے ملک میں نہ تو یہ رسم کبھی تھی اور نہ آج ہے۔(ہمارے معاشرے میں ) عورت اپنے خاندان (میکے)کے تشخص کو اپنے ساتھ شادی کے بعد بھی محفوظ رکھتی ہے۔ یہ مغرب کی قدیم ثقافت کی نشانی ہے کہ مرد، عورت کا آقا اور مالک ہے۔

یورپی ثقافت میں جب ایک عورت اپنے تمام مال و منال کے ساتھ شادی کرتی تھی اور شوہر کے گھر میں قدم رکھتی تھی تو نہ صرف یہ کہ اس کا جسم ، مرد کے اختیار میں ہوتا تھا بلکہ اس کی تمام ثروت و دولت جو اس کے باپ اور خاندان (میکے)کی طرف سے اسے ملتی تھی، شوہر کے اختیار میں چلی جاتی تھی۔ یہ وہ چیز ہے کہ جس کا انکار خود اہلِ مغرب بھی نہیں کرسکتے کیونکہ یہ مغربی ثقافت کا حصہ ہے۔

مغربی ثقافت میں جب عورت اپنے خاوند کے گھر میں قدم رکھتی تھی تو در حقیقت اس کے شوہر کو اس کی جان کا بھی اختیار ہوتا تھا! چنانچہ آپ مغربی کہانیوں ، ناولوں اور یورپی معاشرے کے اشعار میں ملاحظہ کریں گے کہ شوہر ایک اخلاقی مسئلے میں اختلاف کی وجہ سے اپنی بیوی کو قتل کردیتا ہے اورکوئی بھی اسے سرزنش نہیں کرتا! اسی طرح ایک بیٹی کو بھی اپنے باپ کے گھر میں کسی قسم کے انتخاب کا کوئی حق حاصل نہیں تھا۔

البتہ یہ بات ضرور ہے کہ اسی زمانے میں مغربی معاشرے میں مرد و خواتین کاطرززندگی ایک حد تک آزادتھا لیکن اِس کے باوجود شادی کااختیار اورشوہر کا انتخاب صرف باپ کے ہاتھ میں تھا۔ شیکسپیئر کے اِسی ناول میں جو کچھ آپ دیکھیںگے وہ یہی کچھ ہے کہ ایک لڑکی کو شادی پر مجبور کیا جاتا ہے، ایک عورت اپنے شوہر کے ہاتھوں قتل ہوتی ہے اور آپ کو ایک ایسا گھر نظر آئے گا کہ جس میں عورت سخت دباو میں گھری ہوئی ہے، غرض جو کچھ بھی ہے وہ اِسی قسم کا ہے۔یہ ہے مغربی ادب وثقافت !موجودہ نصف صدی تک مغرب کی یہی ثقافت رہی ہے۔البتہ انیسویں صدی کے اواخر میں وہاں آزادی نسواں کی تحریکیں چلنی شروع ہوئی ہیں۔

یورپی عورت کی آزادی کے مغرضانہ مادی عوامل:

محترم خواتین اور خصوصا جوان لڑکیاں کہ جو اِس مسئلے میں فکر کرنا چاہتی ہیں ، انہیں چاہیے کہ وہ بھرپور توجہ کریں۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جب یورپ میں خواتین کا حق ِ مالکیت معین کیا گیا جیسا کہ یورپی معاشرتی ماہرین کی تحقیقاتی سروے رپورٹ سے پتہ چلتا ہے ، اس لیے تھا کہ مغرب میں صنعت و جدید ٹیکنالوجی کی آمد کے زمانے میں کارخانوں اور ملوں نے رونق حاصل کی تھی اور انہیں مزدوروں کی سخت ضرورت تھی مگر مزدور کم تھے اور کارخانوں کو مزدوروں کی ایک بڑی تعدار درکار تھی۔اِسی لیے انہوں نے خواتین کو کارخانوں کی طرف کھینچا اور ان کی طاقت و توانائی سے استفادہ کیا۔البتہ خواتین مزدوروں کو دوسروں کی بہ نسبت کم تنخواہ دی جاتی تھی ، اس وقت اعلان کیا گیا کہ عورت کو مالکیت کا حق حاصل ہے ! بیسویں صدی کے اوائل میں یورپ نے خواتین کو حق مالکیت دیا۔ یہ ہے خواتین کے بارے میں مغرب کا افراطی، غلط اور ظالمانہ رویہ!

جلتا ہوا مغربی معاشرہ!

اس قسم کے افراط کے مقابلے میں تفریط بھی موجود ہے ? جب اس گھٹن کے ماحول میں خواتین کے حق میں اس قسم کی (ظاہرا )پرسود تحریک شروع ہوتی ہے تو ظاہری سی بات ہے کہ دوسری طرف سے خواتین تفریط کا شکار ہوتی ہیں ? لہ?ذا آپ ملاحظہ کریں گے کہ ان چند دہائیوں میں خود آزادی نسواں کے نام پر مغرب میں کئی قسم کی برائیوں ، فحاشی و عریانی اور بے حیائی نے جنم لیا اور یہ سب برائیاں بتدریج رواج پیدا کرتی گئیں کہ جن سے خود مغربی مفکرین بھی حیران و پریشان ہیں? آج مغربی ممالک کے سنجیدہ ، مصلح،خردمند اور سینے میں دل و تڑپ رکھنے والے افراد اِس جنم لینے والی موجودہ صورتحال سے حیران و پریشان اور ناراض ہیں لیکن وہ اِس سیلاب کا راستہ روکنے سے قاصر ہیں ? انہوں نے خواتین کی خدمت کرنے کے نام پر ان کی زندگی پر ایک بہت کاری ضرب لگائی ہے ، آخر کیوں؟ صرف اِس لئے کہ مرد و عورت کے درمیان تعلقات میں اس لا ابالی پن، برائیوں اور فحاشی و عریانی کو فروغ دینے اور ہر قسم کی قید وشرط سے دور مرد وخواتین کی آزادی اور طرز معاشرت نے گھرانے کی بنیادوں کو تباہ و برباد کردیا ہے? وہ مرد جو معاشرے میں آزادانہ طور پر اپنی شہوت کی 

تشنگی کو بجھا سکے اور وہ عورت جو سماج میں بغیر کسی مشکل اور اعتراض کے مردوں سے مختلف قسم کے روابط برقرار کرسکے، گھر کی چاردیواری میں یہ مرد نہ ایک اچھا شوہر ثابت ہوگا اور نہ ہی یہ عورت ایک اچھی اور بہترین و وفادار بیوی بن سکے گی? یہی وجہ ہے کہ وہاںگھرانے کی بنیادیں مکمل طور پر تباہ ہوگئیں ہیں? 

موجودہ زمانے کی سب سے بڑی بلاوں میں سے ایک بلا وآفت  گھرانے کے مسائل ہیں کہ جس نے مغربی ممالک کو اپنے پنجوں میں جکڑا ہوا ہے اور انہیں ایک بدترین قسم کی نامطلوب حالت سے دچار کردیا ہے? لہ?ذا ایسے ماحول و معاشرے میں اگر کوئی خاندان اور گھرانے کے بارے میں نعرہ لگائے (اور اپنی منصوبہ بندی کا اعلان کرے) تو وہ اہل مغرب خصوصا مغربی خواتین کی نگاہوں میں وہ ایک مطلوب ومحبوب شخص ہے ، لیکن کیوں؟ اس لئے کہ یہ لوگ مغربی معاشرے میں خاندان اور گھرانے کی بنیادوں کے تزلزل سے سخت نالاں اور پریشان ہیں اور افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں کے عائلی نظام نے وہ چیز جو مرد و خواتین بالخصوص خواتین کیلئے امن و سکون کاماحول فراہم کرتی ہے ، اپنے ہاتھوں سے کھودی ہے ? بہت سے گھرانے اور خاندان تباہ و برباد ہوگئے ہیں ، بہت سی ایسی خواتین ہیں جو زندگی کے آخری لمحات تک تنہا زندگی بسر کرتی ہیں، بہت سے مرد ایسے ہیں جو اپنی پسند کے مطابق خواتین حاصل نہیں کر پاتے اور بہت سی ایسی شادیاں ہیں کہ جو اپنے نئے سفر کے ابتدائی چند سالوں میں ہی جدائیوں اور طلاق کا شکار ہوجاتی ہیں۔

ہمارے ملک میں موجود خاندان اور گھرانے کی جڑیں اور محکم بنیادیں ، آج مغرب میں بہت کم مشاہدہ کی جاتی ہیں? مغربی معاشرے میں ایسے خاندان بہت کم ہیں کہ جہاں دادا، دادی ، نانا ، نانی ،نواسے ، نواسیاں ، پوتے، پوتیاں،چچا زاد بہن بھائی اور خاندان کے دیگر افراد ایک دوسرے سے واقف ہوں ، ایک دوسرے کو پہچانتے ہوں اور آپس میں تعلقات رکھتے ہوں۔ وہاں ایسے خاندان بہت کمیاب ہیں اور وہ ایسا معاشرہ ہے کہ جہاں میاں بیوی بھی ایک گھر کیلئے لازمی و ضروری پیار ومحبت سے عاری ہیں۔ یہ وہ بلا ہے جو غلط کاموں کو انجام دینے اور ایک طرف سے افراط اور دوسری طرف سے اس کے مقابل سراٹھانے والی تفریط کے نتیجے میں اس معاشرے پر مسلط ہوئی ہے اور اِس کا سب سے زیادہ نقصان مغربی خواتین کو ہوا ہے!؟(بحوالہ از انجمن خواتین )

حجاب(پردہ) قرآن و روایات کے آئینہ میں 

خدا وند عالم کا ارشاد گرامی ہے :

'' قُلْ لِلْمُؤْمِنِینَ یَغُضُّوا مِنْ َبْصَارِہِمْ وَیَحْفَظُوا فُرُوجَہُمْ ذَالِکَ َزْکَی لَہُمْ ِنَّ اﷲَ خَبِیر بِمَا یَصْنَعُونَ ۔''

ترجمہ : (اے )پیغمبر !آپ مؤمنین سے کہہ دیجئیے کہ اپنی نگاہوں کو نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں کہ یہی زیادہ پاکیزہ بات ہے اور بیشک اللہ ان کے کاروبار سے خوب با خبر ہے ۔(سورۂ نور ٣٠)

'' وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ یَغْضُضْنَ مِنْ َبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوجَہُنَّ وَلاَیُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ ِلاَّ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلَی جُیُوبِہِنَّ وَلاَیُبْدِینَ زِینَتَہُنَّ ِلاَّ لِبُعُولَتِہِنَّ َوْ آبَائِہِنَّ َوْ آبَائِ بُعُولَتِہِنَّ َوْ َبْنَائِہِنَّ َوْ َبْنَائِ بُعُولَتِہِنَّ َوْ ِخْوَانِہِنَّ َوْ بَنِی ِخْوَانِہِنَّ َوْ بَنِی َخَوَاتِہِنَّ َوْ نِسَائِہِنَّ َوْ مَا مَلَکَتْ َیْمَانُہُنَّ َوْ التَّابِعِینَ غَیْرِ ُوْلِی الِْرْبَةِ مِنْ الرِّجَالِ َوْ الطِّفْلِ الَّذِینَ لَمْ یَظْہَرُوا عَلَی عَوْرَاتِ النِّسَائِ وَلاَیَضْرِبْنَ بَِرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِینَ مِنْ زِینَتِہِنَّ وَتُوبُوا ِلَی اﷲِ جَمِیعًا َیُّہَا الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُون۔''َ(سورۂ نور ٣١)

ترجمہ :اور مؤمنہ عورتوں سے بھی کہہ دیجئیے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عفت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت (و آرائیش ) کا اظہار نہ کریں علاوہ اس کے جو جو از خود ظاہر ہے اور اپنے دوپٹہ کو اپنے گریبان پر رکھیں اور اپنی زینت کو اپنے باپ دادا ،شوہر ، شوہر کے باپ دادا ،اپنی اولاد اور اپنے شوہر کی اولاد اپنے بھائی اور بھائیوں کی اولاد اور بہنوں کی اولاد اور اپنی عورتوں اور اپنے غلاموں اور کنیزوں اور ایسے تابع افراد جن میں عورت کی طرف سے کو ئی خواہش نہیں رہ گئی ہے اور وہ بچے جوعورتوں کے پردہ کی بات سے کو ئی سرکار نہیں رکھتے ہیں ان سب کے علاوہ کسی پر ظاہر نہ کریں اور خبر دار ! اپنے پاؤں پٹک کر نہ چلیں کہ جس زینت کو چھپائے  ہو ئے ہیں اس کا اظہار ہو جا ئے اور صاحبان ایمان تم سب اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرتے رہو کہ شاید اسی طرح تمہیں فلاح اور نجات حاصل ہو جا ئے ۔ 

قرآن کریم نے جہاں مسلمان عورتوں کو گھر سے باہر جاتے وقت اپنی چادر وں کو اپنے اوپر اوڑھ لینے کا حکم دیا ہے وہاں اس حقیقت کی طرف واضح طور پر اشارہ کر دیا ہے ،فرمایا :'' یَاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لَِزْوَاجِکَ وَبَنَاتِکَ وَنِسَائِ الْمُؤْمِنِینَ یُدْنِینَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیبِہِنَّ ذَالِکَ َدْنَی َنْ یُعْرَفْنَ فَلاَیُؤْذَیْنَ وَکَانَ اﷲُ غَفُورًا رَحِیمًا ۔''

ترجمہ:اے پیغمبر !اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور ایمان والوں کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اور اپنی چادروں کے پلو لٹکا لیا کریں اس سے وہ جلد پہچان لی جا ئیں گی (کہ نیک بخت ہیں )اس لئے انہیں ستایا نہ جا ئے گا اور اللہ غفور رحیم ہے ۔(سورۂ احزاب ٥٩)

رسول اکرم ۖ فرماتے ہیں :اہل جہنم کی دو قسمیں ہیں جن میں دوسری قسم وہ عورتیں جو لباس پہننے کے باوجود برہنہ ہو تی ہیں دوسروں کو (اپنی طرف )مائل کرتی ہیں اور خود (دوسروں کی طرف )مائل ہو تی ہیں ۔ان کے سر اونٹوں کی جھکی ہو ئی کو ہانوں کی مانند ہو تے ہیں ۔اس قسم کی عورتیں نہ تو بہشت میں جا ئیں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو سونگھیں گی ....!(صحیح مسلم جلد٣ صفحہ ١٦٨٠، میزان الحکمة جلد٢ فصل حجاب)

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے فرمایا :....پردہ کی سختی خواتین کی عزت و آبرو کو برقرار رکھنے والی ہے ...۔(نہج البلاغہ مکتوب ٣١)

نیز ایک مقام پرآپ نے اپنے فرزند حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے فرمایا :''خواتین کو پردہ میں بٹھا کر ان کی آنکھوں کو تاک جھانک سے روکو ،کیونکہ پردہ کی سختی تمہارے حق میں بھی بہتر ہے اور شک و شبہ کے اعتبار سے ان کے حق میں بھی بہتر ہے ۔ان کا گھروں سے نکلنا اس سے زیادہ خطر ناک نہیں ہے جتنا کسی ناقابل اعتماد شخص کا گھر میں آنا ۔اگر بن پڑے تو ایسا کرو کہ تمہارے علاوہ کسی غیر مرد کو وہ پہچانتی ہی نہ ہوں ....(بحار الانوار جلد٧٧ صفحہ ٢١٤)

صادق آل محمد حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام اپنے اصحاب سے فرماتے ہیں :تمہیں چاہیئے کہ حیاء و شرم کو اپناؤ اور ایسی چیزوں سے دور رہو جن سے تمہارے سلف ِ صالحین دور رہے ہیں ۔(میزان الحکمة جلد٢ صفحہ ٨٦٠،بحار الانوار جلد ٧٨ صفحہ ٢١١)

بے حیائی ہر شئے کو داغدار بنادیتی ہے اور حیاء و شرم اسے زینت عطا کرتی ہے ،اگر حیاء انسان کی شکل میں مجسم ہو تی تو وہ فردِ صالح کی شکل اختیار کرتی ۔حضرت رسول اکرم ۖ فرماتے ہیں :خدا وند عالم صاحب حیاء اور پاکدامن شخص کو دوست رکھتا ہے ...۔(بحار الانوار جلد٧١ صفحہ ٣٣٤)

اس میں کو ئی شک نہیں کہ حیاء اسلام کی شریعت ہے ،جسے حیاء کی چادر ڈھانپ لے لوگوں پر اس کے عیب مخفی ہو جاتے ہیں ، حیاء بُرے کاموں سے روک دیتی ہے ،حیاء پاکدامنی کا سبب ہے ،حیاء آنکھوں کو بند کرنا ہے ،حیاء ایمان کا جزو ہے اور ایمان (کا مقام) بہشت میں ہے ،بے حیائی ظلم و جفا کا حصہ اور ظلم و جفا (کامقام ) جہنم ہے ۔جس کے پاس حیاء نہیں اس کا کو ئی دین نہیں ،جس کے پاس حیاء نہیں اس کا کو ئی ایمان نہیں ،انسان میںحیاء کی کثرت ،اس کے ایمان کی دلیل ہے ،ہر دین کا ایک اخلاق ہے اور دین اسلام کا اخلاق حیاء ہے ،حیاء نور ہے جس کی اصلیت صدر ایمان ہے جس کی تفسیر ہر موقع پر نرمی پر ہے توحید اور معرفت جسے جلا بخشتی ہے ،حیاء ہر اچھی بات کا سبب ہے ،حیاء صرف بہتری لاتی ہے ،دنیا کے خوبصورت لباسوں سے حیاء و شرم (ایک بہترین لباس ) ہے ،حیاء مکمل کرم اور بہترین عادت ہے ، حیاء تمام اچھائیوں کی کنجی ہے ۔(حدیث معصومین علیہم السلام میزان الحکمةمترجم جلد ٢ صفحہ فصل حیاء ٨٥٩)

رسول خدا  ۖ نے جناب فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا سے پو چھا :عورت کے لئے سب سے بہتر کیا ہے ؟! صدیقۂ طاہر  نے فرمایا :نہ وہ کسی نامحرم کو دیکھے اور نہ کو ئی نامحرم مرد اس کو دیکھے۔ (بیت الاحزان ص٢٢)

امام المتتقین حضرت امیر المؤمنین علی بن ابی طالب علیہ السلام فرماتے ہیں :خدا کی قسم !میرا شیعہ وہی ہو گا جو خالص النسل و شریفُ الاصل ہو گا۔ (صفات الشیعہ )


source : http://www.ahlebait.in

latest article

      حضرت ام البنین (ع)کی وفات
      مختصر حالات زندگی حضرت امام حسن علیہ السلام
      مصائب امام حسن مجتبی علیہ السلام
      عباس بن علی
      روزِ عاشوره
      امام سجادعلیہ السلام کے صدقات
      اسوہ سید الساجدین حضرت امام زین العابدین علیہ السلام
      امام سجاد کا کردار اور انقلابی حکمت عملی
      سفیر حسینی
      حضرت زینب سلام اللہ علیہا ؛ شکوہ صبر و استقامت

user comment