اردو
Monday 25th of March 2019
  3229
  0
  0

جناب سیدہ کا خطبہ فدک غضب ہو نے کے بعد

 

روایت ہے جب ابو بکر، اور عمر نے فدک غصب کر لینے کا فیصلہ کیا، اور یہ خبر جناب زہرا کے پاس پہنچی، تو آپ نے برقعہ سر پر لیا اور اپنی رشتہ دار اور گھرمیں کام کرنے والی خواتین کے ہمراہ اس انداز میں مسجد نبوی کی جانب بڑھیں کہ آپ کا برقعہ زمین پر کھنچا جا رہا تھا اور پیغمبر اسلام(ص) کی طرح چلتی ہوئی ابو بکر کے پاس گئیں جو مہاجرین، و انصار اور بعض دوسرے لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے، اس دوران لوگوں اور آپ کے درمیان پردہ لگا دیا گیا، آپ نے دلخراش آہ بھری جس پر لوگ رونے لگے اور مسجد اور محفل میں ہیجان پیدا ہو گیا، کچھ دیر خاموش رہیں، یہاں تک کہ دوبارہ ولوگوں پر سکوت طاری ہوا، تو تب حمد باری تعالیٰ سے اپنے کلام کا آغاز ہو گیا، اور رسول خدا پر درود و سلام بھیجا، دوبارہ رونے کی آوازیں بلند ہوئیں، پھر جب سکوت طاری ہوا تو اپنی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا۔

نعمتیں عطا کرنے پر اس کی حمد وثنا کرتی ہوں، اور الہام کرنے پر اس کی شکر گذار ہوں، مخلوق پر نعمتوں کی کثرت اور وسیع و عریض عطاؤں پر اس کی ثنا گواہوں، ان گنت احسانات جن کو شمار کرنے سے عاجز ہیں اور اجر و ثواب دینے کی حد اور انتہا کہیں زیادہ ہے اور ہمیشہ کے لئے ادراک اور شعور سے وسیع تر ہے اس نے لوگوں کو دعوت دی کہ اس سے زیادہ شکر گذار کریں تاکہ وہ نعمتوں میں اضافہ فرمائے، اور اس طرح نعمتوں میں وسعت سے لوگوں کو اپنی شکر گذاری کی طرف متوجہ کیا اور شکر گذار ہونے پر ان نعمتوں میں دوگنا اضافہ فرمایا۔

اور میں گواہی دیتی ہوں کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور اس کا کوئی شریک نہیں، یہ بہت بڑی بات ہے کہ اخلاص کو لوگوں کی عاقبت بخیر ہونے اور دلوں کو اپنے سے ملنے کا ظرف قرار دیا ہے اور تفکر اور سوچنے کے لئے اپنی پہچان کو آسان بنایا، وہ ذات جسے آنکھیں دیکھنے سے قاصر ہیں، زبانیں اس کی توصیف کرنے سے ناتواں ہیں، خیالات اس کو درک کرنے سے عاجز ہیں۔

بغیر کسی پیشگی چیزوں کے موجودات کو خلق کیا، اور پہلے سے کسی سانچے کی اتباع کیے بغیر موجودات کو پیدا کیا، بلکہ انہیں اپنی قدرت اور ارادے سے وجود بخشا، ان کے بنانے اور پیدا کرنے میں اسے کوئی حاجت نہیں اور نہ ہی اس کیلئے تصویر کشی میں کوئی فائدہ ہے۔ سوائے اس کے کہ اس کی حکمت ثابت ہوجائے اور اس کی اطاعت پر آگاہی ہوجائے اور اپنی قدرت پر اظہار کے لئے اور اپنی عبودیت سے آگاہی اور اپنی دعوت کو گرامی بنانے کے لئے پھر اپنی اطاعت کرنے پر ثواب اور معصیت انجام دینے پر عذاب مقرر کیا تاکہ بندوں کو پستیوں سے محفوظ بنا کر بہشت کی جانب رہنمائی کرے۔

اور میں گواہی دیتی ہوں کہ میرے باپ حضرت محمد اس کے بندے اور رسول ہیں۔ ان کو بھیجنے سے پہلے منتخب کیا اور انتخاب سے پہلے نام پیغمبر ہی رکھا، اور مبعوث کرنے سے پہلے چن لیا، انہیں اس وقت چنا جب مخلوقات پردہ غیب میں تھیں، انتہائی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی تھیں، بلکہ عدم نیستی کی سرحد پر کھڑی تھیں، اس کے کاموں کے انجام سے آگاہی کی خاطر اور حادثات زمانہ پر محیط ہونے کی وجہ سے قضا و قدر کے واقع ہونے پر مکمل پہچان کیلئے حضرت محمد کوبھیجا تاکہ اس کا امر کامل، حکم قطعی اور فضا و قدر عملی صورت پیدا کریں، انہوں نے مختلف امتوں کو دیکھا جو ادیان کی پیروکار تھیں، کچھ آتش پرست تھیں اور کچھ تراشے گئے بتوں کی پرستش کرنے والی تھیں جبکہ خداوند قدوس کی طرف سے فطرت میں رکھی گئی شناخت کے باوجود اس کے منکر تھے۔

پس میرے باپ حضرت محمد کے وسیلے سے اللہ تعالیٰ نے تاریکیوں کوروشن کیا اور دلوں سے مشکلات کو برطرف کیا، اور دیدار کرنے والوں کی نگاہوں سے پردے اٹھادیئے، اور انہوں نے ہدایت کے لئے لوگوں میں قیام کیا، اور انہیں گمراہی سے رہائی عطا کی۔ اور لوگوں کوبینائی عطا کی، اور انہیں دین پر مضبوطی اور محکم انداز میں کھڑے رہنے کی راہنمائی کی اور راہ راست کی طرف دعوت دی۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں اپنی جانب بلا لیا۔ البتہ یہ بلانا ازروئے مہربانی آزادی اور ذاتی رغبت اور میلان سے تھا،پس حضرت محمد اس دنیا کے رنج والم سے نجات پا گئے جبکہ پاکیزہ فرشتوں نے اطراف سے انہیں گھیر رکھا ہے اور بخشش والے پروردگار کی خوشنودی ان کے شامل حال ہے اور جوار رحمت حق میں داخل ہوئے ہیں پس میرے باپ پر خدا کے درود و سلام ہوں۔ ان پر سلام، اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہوں۔

پھر حضرت زہرا لوگوں کی طرف متوجہ ہوئیں اور فرمایا۔

اے بندگان خدا ہم اس کے امر و نہی کے علمبردار ہیں اور اس کے دین اور وحی کے حامل اور ایک دوسرے پر خدا کے امین ہیں اور دوسری امتوں کے لئے اس کے مبلغ ہیں حق کا رہنما آپ کے درمیان تھا اور وہ عہد جو سب سے پہلے آپ نے باندھا تھا اس میں سے کچھ باقی ہے جو آپ نے انجام دینا ہے اور سچا قرآن جو کتاب ناطق خدا ہے، جو واضح نور اور روشن چراغ ہے، اس کا بیان اور اس کی دلیلیں روشن اور اس کے اسرار باطنی آشکار اور اسکے ظاہر بہت واضح ہیں۔ اس پر عمل کرنے والے دوسروں کے لئے قابل رشک اور حضرت محمد کا اتباع خوشنودی الہی کا سبب بنتا ہے اس کے فرامین کی سماعت راہ نجات ہے۔

اسی کے ذریعے سے اللہ کی نورانی دلیلوں کو، اور بیان کردہ واجبات کو ادا کیا اور محرمات سے بچا جا سکتا ہے اور مزید بڑی واضح گواہیوں اور کفالت کرنے والے براہین کو، اور پسندیدہ فضائل کو، بخشے گئے امور اور واجب قوانین کو پایا جاسکتا ہے۔

پس خدائے عزوجل نے ایمان کو شرک سے پاکیزگی کا سبب، اور تکبر سے بچنے کے لئے نماز، اور تزکیہ نفس اور فراوانی رزق کے لئے زکوٰة، تثبیت اخلاص کے لئے روزہ، اور دین حنیف اسلام کے استحکام کے لئے حج، اور دلوں کے مرہم کے لئے عدالت اور ملتوں کی تنظیم سازی کے لئے ہمارے خاندان کی اطاعت اور تفرقہ سے رہائی کے لئے ہماری امامت اور جہاد کو عزت اسلام کے لئے اور صبر کو اجر و ثواب کے لئے مدد کے طور پر قرار دیاہے۔

اور امر بالمعروف کو معاشرہ کی مصلحت کے لئے قرار دیا، اور والدین سے اچھے انداز میں پیش آنے کو غضب الہی سے نجات کا ذریعہ بنایا، صلہ رحمی، درازی عمر اور کثرت اولاد کا سبب ہے جبکہ قصاص سے زندگیوں کی حفاظت فرمائی، منت و نذر کی بجا آوری مغفرت الہی کا ذریعہ ہے، اور ناپ تول کے اوزاروں کو کم فروشی سے بچنے کے لئے قرار دیا ہے۔

شراب خوری سے بچنے کو پلیدی سے پاکیزگی کا ذریعہ قرار دیا اور کسی طرف ناروا نسبت نہ دینا تعصب سے بچنے کا سبب ہے، جبکہ چوری نہ کرنے کو پاک دامنی کا ذریعہ قرار دیا ہے اور شرک کو حرام قرار دیا تاکہ توحید پرستی خالص ہو۔

پس جس طرح ڈرنے کا حق ہے اللہ سے ڈرو، اور دنیا سے مسلمان ہو کر مرو اور خدائے کریم نے جن چیزوں کا حکم دیا اور جن چیزوں سے اللہ نے روکا ہے ایسے ہی اطاعت کرو، سوائے اس کے کہ فقط علماء ہی اس سے ڈرتے ہیں۔

پھر کہا۔ اے لوگو !جان لو کہ میں فاطمہ ہوں اور میرے باپ حضرت محمد ہیں۔ جو چیز ابتدا میں بیان کروں گی آخر میں بھی وہی کہوں گی۔ میں نے غلط نہیں کہا تھا میں نے کوئی ظلم نہیں کیا آپ کے درمیان سے پیغمبر مبعوث ہوئے۔ آپ کے رنج ان پر گراں ہوئے وہ آپ سے دلسوز تھے اور وہ مومنین پر مہربان اور لطف کرنے والے تھے۔

 

پس اگر ان کو جانتے ہو تو جان لو کہ وہ تمہاری عورتوں میں سے فقط میرے باپ ہیں اور اور تمہارے مردوں میں سے صرف میرے شوہر کے چچا زاد بھائی ہیں، یہ کتنی اچھی تکریم اور عزت ہے کہ میں ان سے نسبت رکھتی ہوں۔ انہوں نے اپنی رسالت کا آغاز ڈرانے سے کیا، اور مشرکین سے دوری اختیار کی اور ان کے سروں پر تلوار چلائی اور ان کو گردن سے پکڑا اور حکمت اور موعظ حسنہ سے اپنے پروردگار کی طرف دعوت دی۔ بتوں کو نابود کیا، کینہ سے کام لینے والوں کے سر کچل دیئے، یہاں تک کہ ان کی جمعیت پرگندہ ہو کر میدان سے فرار ہونے پر مجبور ہو گئی۔

پھر رات کے پردوں سے صبح کی روشنی نمودار ہوئی اور حق کے چہرے پر پڑی نقاب کھینچ لی گئی پھر حکومت اسلامی کے سربراہ سخن طراز ہوئے جبکہ شیاطین کی فریادیں دب کر رہ گئیں۔ منافقت کے کانٹے راست سے ہٹا دیئے گئے، کفر و الحاد کی گرہیں کھل گئیں، اور آپ کے منہ کلمہ اخلاص سے گنگنا اٹھے۔ ایسے گروہ کہ جن کے چہرے روشن اور شکم پشت کے ساتھ لگے تھے۔

آپ لوگ بڑھکتی ہوئی آگ کے گھڑے سے بہت قریب تھے اور تعداد میں ایک گھونٹ کی مانند تھے اور بیرونی خطروں کی زد میں تھے، آپ آگ کی اس چنگاری کی طرح تھے جو فوراً بجھ جاتی ہے، گذرنے والوں کے قدموں میں کچلے جارہے تھے، اونٹوں کے آلودہ کئے ہوئے پانی کو پیتے تھے، درختوں کے پتوں کو بطور غذا استعمال کرتے تھے تم ذلیل و خوار مسترد شدہ لوگ تھے تم ڈرتے تھے کہ اطراف کے لوگ تمہیں اپنا غلام نہ بنا لیں۔ جب تم بھیڑیا نما عربوں اور اہل کتاب کے سرکشوں سے حزیمت اٹھا چکے تو تب اللہ تعالیٰ نے ایسے حالات میں حضرت محمد کے ذریعے سے نجات دی۔

جب کبھی وہ جنگ کی آگ بھڑکاتے اللہ تعالیٰ خاموش کردیتا، یا جب بھی شیطان نے سر اٹھایا یا مشرکین کے اژدھاؤں نے منہ کھولے تو پیغمبر اسلام(ص) نے اپنے بھائی کو آگے کیا۔ اور وہ بھی جب تک ان کے سر زمین پر نہ پٹختے، اور اپنی تلوار سے ان کی آگ گل نہ کردیتے واپس نہ آتے، وہ راہ خدا میں ہمیشہ کام کرنے والے، اور اس کے امور میں کوشش کرنے والے، پیغمبر اسلام(ص) کے قریبی اولیاء کے سردار، ہمہ وقت آمادہ ، نصیحت کرنے والے، محنت کرنے والے، جدوجہد کرنے والے اور راہ خدامیں کسی ملامت گر کی ملامت سے نہ ڈرنے والے ہیں۔

یہ سب کچھ اس وقت ہوا جب تم پر سکون زندگی گذار رہے تھے، امن کے گہوارے میں نعمتوں سے محفوظ ہو رہے تھے، اس انتظار میں رہتے تھے کہ مشکلات تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے لیں، تم ہر روز نئی خبر سننے کے چکر میں رہتے تھے اور جنگ کے وقت منہ موڑ لیتے تھے، اور میدان جنگ سے فرار اختیار کر لیتے تھے، پھر جب اللہ نے اپنے پیغمبر کیلئے انبیاء کاگھر اور اوصیاء کی آرام گاہ منتخب کرلی، تو تم میں نفاق کی علامتیں ظاہر ہونا شروع ہو گئیں، اور دین کالباس کہنہ نظر آنے لگا، اور گمراہوں کی خاموشیاں ٹوٹ گئیں، کمینے لوگ عزت دار بنے اور اہل باطل کا نازوں پلا اونٹ تمہارے دروازں تک پہنچ گیا، اور شیطان نے کمین گاہ سے اپنا سر باہر نکال کر تمہیں دعوت دی جب اس نے دیکھا کہ اس کی دعوت پر مثبت جواب دینے والے ہو، اور دھوکہ کھانے کیلئے آمادہ ہو تو اس وقت اس نے آپ سے چاہا کہ قیام کرو، ور جب دیکھا کہ آپ آسانی سے یہ کام انجام دینگے، تو آپ کو غصے میں لے آیا، اور جب دیکھا کہ آپ غضبناک ہیں تو آپ نے غیروں کے اونٹوں پر پلان لگائے اور ایسے پانی میں داخل ہوئے جو آپ کا حصہ نہ تھا۔

یہ سب کچھ ماضی قریب کی باتیں ہیں، اور ابھی تک زخموں کے نشان واضح تھے اور زخم بھرے نہیں تھے اورپیغمبر اسلام(ص) دفن نہیں ہوئے تھے، تم نے بہانہ کیا کہ فتنہ سے ڈرتے ہو، آگاہ رہو کہ اب فتنہ میں پڑے ہو، حقیقت ہے کہ جہنم نے کافروں کا احاطہ کر رکھا ہے۔

تم سے یہ کام بعید تھا کس طرح یہ کام انجام دیا، کہاں جارہے ہو حالانکہ کتاب خدا تمہارے پاس ہے، جس کے امور روشن، اور احکام واضح، اور ہدایت کی علامتیں ظاہر اور محرمات ہویدا اور اس کے امور اظہر من الشمس ہیں، لیکن اس کو بھی پس پشت ڈال دیا گیا، بغیر توجہ کیے اس کو پڑھتے ہو، یا بغیر قرآن کے حکم کرتے ہو؟ اور یہ ظالموں کے لئے بہت برا بدلہ ہے، اور اگرکوئی اسلام کے علاوہ دین کو چاہتا ہو تو وہ اسے قابل قبول نہیں ہے، اور ایسے لوگ قیامت میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔

پھر تم نے اتنا بھی خیال نہیں کیا کہ یہ پریشان دل آرام پاجائے، تاکہ ان کا نکالنا آسان ہوجائے بلکہ تم نے بھی جلتی آگ پرتیل چھڑکا، آگ کے قریب ہو گئے تاکہ اس کو مزید بھڑکا سکو، اور شیطان کی آواز پر لبیک کہنے کیلئے تیار، اور خدا کے دین کے نور کو خاموش کرنے کے لئے اور برگزدیدہ پیغمبر کی سنتوں کو تباہ کرنے کیلئے آمادہ تھے، کف شیر پینے کے بہانے زیر لب چھپ کر پیتے ہو، اور پیغمبر اسلام(ص) کے خاندان اور بیٹوں کیلئے ٹیلے کے پیچھے اور درختوں میں کمین لگا کر راہ چل رہے تھے، اب ہمیں چاہیے کہ خنجر سے کٹے ہوئے کی طرح اورپیٹ میں لگے نیزے کے ساتھ، صبر کریں۔

اب تم گمان کرتے ہو کہ ہمارے لئے کوئی وراثت نہیں ہے کیا جاہلیت کے طریقوں کے خواہش مندہو؟ اہل یقین کے لئے خدا کے حکم سے بڑھ کر کیا حکم ہے، کیاتم نہیں جانتے؟ حالانکہ آپ کیلئے اظہر من الشمن ہے کہ میں ان کی بیٹی ہوں۔

اے مسلمانو!کیا یہ درست ہے کہ مجھ سے اپنے باپ کی میراث چھین لیں، اے ابی قحافہ کے بیٹے کیا کتاب خدا میں ہے کہ تم تو اپنے باپ سے وراثت لو لیکن میں اپنے باپ کی وراثت سے محروم کردی جاؤں؟ نئی بات اور بڑی گھٹیا چیز لائے ہو، کیا شعوری طور پر کتاب خدا کو ترک کرکے پس پشت نہیں ڈال رہے ہو، کیا قرآن نہیں کہتا کہ حضرت سلیمان نے حضرت داؤد سے وراثت پائی اور حضرت زکریا کے واقعہ میں جب انہوں نے کہا، پروردگار!مجھے فرزند عطا فرما جو مجھ سے اور خاندان یعقوب سے وراثت پائے، ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ قرابت دار اور دوسروں سے زیادہ حق دار ہیں اور اولیت رکھتے ہیں۔ (الاحزاب ۶)

 ارشاد خداوندی ہے اللہ آپ کو وصیت کرتا ہے کہ بیٹوں کو بیٹی سے دوگنا دو۔ (النساء:۱۱)

مزید ارشاد ہے اگر تم سے کوئی مال چھوڑ کر مرے تو تم پر لازم ہے کہ اپنے والدین اور رشتے داروں کیلئے وصیت کرو اور یہ حکم ہے پرہیزگاروں کیلئے۔ (البقرہ : ۱۸۰)

 اور آپ گمان کرتے ہیں کہ میرے لئے کوئی حصہ نہیں اور باپ کی میراث سے کوئی حق نہیں رکھتی، کیا خداوند عالم نے کوئی آیت نازل کی ہے جس سے میرے باپ کو خارج کردیا گیا ہے؟ تم یہ کہتے ہو کہ دو الگ الگ ادیان والے ایک دوسرے سے ارث نہیں لے سکتے؟ کیا مجھے اور میرے باپ کو ایک دین پر نہیں سمجھتے، یا میرے باپ اور میرے چچا کے بیٹے سے زیادہ قرآن کے عام و خاص سے واقف ہو؟ تم یہ مہار زدہ پلان والا اونٹ پکڑو اور لے چلو، روز حساب تم سے ملاقات کروں گی۔

 خداوند کریم کیا اچھا داورہے اور اچھے فریاد رس حضرت محمد ہیں اور قیامت کتنی اچھی وعدہ گاہ ہے، اس گھڑی میں اور اس دن میں اہل باطن ہی نقصان اٹھانے والے ہیں، تو اس وقت کی پشیمانی تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی، ہر بات کا اپنا محل ہوتا ہے، پس ضرور جان لو گے کہ ذلیل و خوار کرنے والا عذاب اور ہمیشہ رہنے والا عذاب کس کے شامل حال ہوتا ہے۔

پھر انصار کی طرف رخ کرکے یوں ارشاد فرمایا اے نقیبوں کے گروہ اور ملت کے دست و بازوو اے اسلام کے محافظو، میرے حق کے بارے میں یوں کمزوری اور غفلت اور میری داد رسی کرنے میں اس طرح سہل انگاری سے کیوں کام لے رہے ہو؟ کیا میرے باپ حضرت محمد نے فرمایا نہیں ہے کہ ہر ایک کا احترام اس کے فرزندوں سے محفوظ ہوتا ہے کتنی جلدی ان اعمال کے مرتکب ہوئے ہو، اور کتنی جلدی اس لاغر بکرے کے منہ اور دماغ سے پانی بہہ گیا، جبکہ تمہارے پاس میری مدد کرنے کی قوت اور طاقت ہے۔

 اب تم کہتے ہو کہ محمد وفات پا چکے ہیں، یہ بہت بڑی اور بہت زیادہ مصیبت ہے اس کا شگاف بہت گہرا ہے اور اس کے سلے ہوئے دھاگے پھٹ گئے ہیں اور زمین اس کی غیبت میں تاریک ہو گئی ہے سورج اور چاند گھنا گئے ہیں اور ستارے بکھر چکے ہیں اور آرزوئیں ناامیدی میں بدل گئی ہیں اور پہاڑوں نے اپنی جگہ چھوڑ دی ہے حرمتیں پائمال ہو گئی ہیں اور ان کی وفات کے بعد کسی کیلئے احترام باقی نہیں رہا۔

 خدا کی قسم یہ مصیبت بہت زیادہ اور بہت بڑی آفت ہے کہ آج تک اس جیسی مصیبت نہ تھی اوردنیا میں کوئی بھی آفت اس کے برابر نہیں ہے۔ کتاب خدا نے اس کو آشکار کیا ہے ، وہ کتاب خدا جسے اپنے گھروں میں اپنی شب و روز کی محفلوں میں آہستہ اور بلند آواز میں تلاوت اور ہمہمے کے ساتھ پڑھتے ہو۔ یہ ایسی بلا اور مصیبت ہے جو انبیاء ما سلف اور رسولوں پر گذر چکی ہے یہ ایک حتمی حکم ہے اور قضاء قطعی ہے، ارشاد خداوندی ہے۔

 اور محمد فقط رسول ہیں، ان سے پہلے بھی پیغمبر گذر چکے ہیں، پس اگر وہ وفات پاجائیں یا قتل ہوجائیں تو واپس پلٹ جاؤ گے اور جو واپس لوٹ جائے خدا کو کوئی نقصان نہیں پہنچائے گا اور خدا کا شکر کرنے والوں کو اجر اور صلہ دے گا۔ (آل عمران:۱۴۴)

 اے قبلہ کے فرزندو یعنی گروہ انصار، کیا میں اپنے والد کی میراث کے حوالے سے ظلم برداشت کروں جبکہ تم مجھے دیکھ رہے ہو او میری باتیں سن رہے ہو۔ تم ایک انجمن اور جماعت رکھتے ہو میری دعوت کی آواز سب نے سنی، اور میرے حالات سے آگاہی بھی رکھتے ہو اور پھر تمہاری افرادی قوت اور اجتماعی حیثیت بھی ہے، وسائل اور طاقت بھی رکھتے ہو۔ تمہارے پاس اسلحہ، ذرہ اور ڈھال بھی ہے، میری دعوت کی آواز تم تک پہنچ رہی ہے، لیکن تم جواب نہیں دے رہے، میری حق طلبی کی داد وفریاد کو سن رہے ہو، لیکن میری فریاد رسی نہیں کر رہے جبکہ تم شجاع اور معروف بہادر ہو اور اچھائی سے تمہیں یاد کیا جاتا ہے، تم برگزیدہ تھے جو انتخاب ہوئے اور تم ہمارے اہل بیت کیلئے منتخب ہوئے ہو۔

 عرب سے جنگ و جدال میں تم نے مصیبتیں اور سختیاں برداشت کی ہیں، امتوں سے جنگیں کی ہیں ،اور پہلوانوں سے مقابلہ کیلئے اٹھے ہو، ہم ہمیشہ فرماں روا تھے اور تم فرمانبردار، یہاں تک اسلام کی چکی گھومنے لگی اور روزمرہ کے حالات درست ہونا شروع ہوئے، اور شرک آمیز نعرے خاموش ہوئے، اور طمع اور تہمت کی دیگیں ٹھنڈی ہوئیں، اور ہرج و مرج اور بد نظمی کی دعوتیں آرام پا گئیں اور پھردین کانظام مکمل طور پر مربوط ہو گیا، پھر کیوں اپنے اقرار کے بعد اپنے ایمان میں حیران و پریشان ہوئے ہو، اور ظاہر ہونے کے بعد خود کو کیوں مخفی کرتے ہو، اور پیش قدمی کے بعد پیچھے کیوں ہٹتے ہو، اور ایمان کے بعد شرک کرتے ہو؟

 افسوس ایسے گروہ پر جو قول دینے کے بعد توڑ دیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ پیغمبر کو عملی میدان سے باہر کردیں، اسی لئے انہوں نے جنگ کا آغاز کیا، کیا تم ان سے ڈرتے ہو حالانکہ خدا سزاوار ہے کہ اس سے ڈرو اگر مومن ہو تو۔

 آگاہ رہو میں دیکھ رہی ہوں کہ ہمیشہ رہنے والی تن آسانی سے دل لگا رکھا ہے اورجو سربراہی کا حق دار تھا اس کو دور کر رکھا ہے، راحت طلبی کے عادی ہوگئے ہو۔ زندگی کی تلخیوں سے گذر کر آسائشوں تک پہنچ گئے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ جس کو یاد کیا تھا بھلا دیا ہے جن کو بھلا دیا ہے ان کو پھر سے یاد کیا ہے (یعنی ایمان کو بھلایا اور شرک کو یاد کیا ہے) پس جان لو کہ اگر تم اور تمام اہل زمین کافر بھی ہوجائیں تو پھر بھی خدائے بزرگ سب سے بے نیاز ہے۔

 آگاہ رہو جو کچھ کہا مکمل آگاہی سے کہا تمہارے اخلاق میں سستی پیدا ہو گئی ہے، تمہارے دلوں میں بے فائی اور دھوکہ پیدا ہو گیا ہے، لیکن یہ سب کچھ غمگین دل کا ابال اور غم و غصہ کا ہلکا کرتا ہے اور جو چیز میرے لئے قابل تحمل نہیں ہے، وہ میرے سینے کا ابال اور دلیل برہان کا بیان ہے، پس خلافت کو لے لو،لیکن جان لوکہ اس شتر خلافت کی پشت پر زخم ہے اور اس کے پاؤں میں سوراخ ہے، جلد آبلہ دار ہے، جس پر ننگ و عار کے نشان باقی ہیں اور غضب خدا اور ہمیشہ کی بدنامی نمایں ہیں۔ جہنم کی آگ کے شعلوں سے جو دلوں پر احاطہ کئے ہیں متصل ہے۔

 جو کچھ کرو گے وہ اللہ شان کے سامنے ہے اور جنہوں نے ستم کئے ہیں بہت جلد جان جائیں گے۔ کہ کس عدالت میں بلا لئے گئے ہیں اور میں اس کی بیٹی ہوں جس نے تمہیں دردناک عذاب کی خبر دی، پس اب جو چاہتے ہو انجام دو اور ہم بھی اپنا کام کرتے ہیں تم بھی منتظر رہو اور ہم بھی انتظار میں ہیں۔ پھر ابو بکر جواب دیتے ہیں۔

اے دختر رسول آپ کے باپ مومنین پر مہربان اورکرم کرنے والے شفیق اور رحیم تھے، اور کافروں کیلئے دردناک عذاب اور عقاب تھے، اگر نبی کو رشتوں کے حوالے سے دیکھیں تو وہ ہماری عورتوں میں آپ کے باپ، اور مردوں اور دوستوں میں آپ کے شوہر کے بھائی تھے، جس کی وجہ سے وہ ہم سب سے برتری رکھتے ہیں اور وہ بھی پیغمبر اسلام(ص) کے ساتھ ہر بڑے کام میں شریک رہے ہیں، آپ کو دوست نہیں رکھتے مگر نیک لوگ، اور دشمن نہیں رکھتے مگر بدکار لوگ۔

پس آپ خاندان پیغمبر ہیں پاک اور برگزیدہ ہیں اور ہمیں بھلائی کی طرف اور بہشت کی طرف راہنمائی فرماتی ہیں اور آپ تمام عورتوں سے اور تمام انبیاء کی بیٹیوں سے افضل ہیں پیغمبر اپنے کردار و گفتار میں سچے اور دانائی میں بہت آگے تھے اور آپ کو آپ کے حق سے محروم نہیں کیا جائے گا اور آپ کی سچی باتوں سے کوئی مانع نہیں ہے۔خدا کی قسم، ہم پیغمبر اسلام(ص) کی رائے سے ایک قدم بھی آگے نہیں گئے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی اقدام نہیں کیا، اور قوم کا حاکم ان سے جھوٹ نہیں بولتا اور میں خدا کوگواہ قرار دیتا ہوں اور جو بہترین گواہ ہے، میں نے پیغمبر اسلام(ص) سے سنا ہے جو فرما رہے تھے۔

 ہم گروہ پیغمبر دینار و درہم اورگھر اور زمین ارث کے طور پر نہیں چھوڑتے، فقط کتاب، حکمت، علم اور نبوت کو وراثت کے طور پر چھوڑتے ہیں اور جو چیز ہم سے باقی رہ جائے ہم سے بعد والے ولی امر کے اختیار میں ہے۔ جسے وہ جس طرح چاہے انجام دے۔

 اور ہم چاہتے ہیں کہ گھوڑے اور اسلحہ خریدیں تاکہ مسلمان خود کو آمادہ کرکے کفار سے جہاد کریں اور بدکار سرکشوں سے مقابلہ کریں اور یہ فیصلہ تمام مسلمانوں کی مرضی اور اتفاق رائے سے ہوا اور میں نے الگ سے یہ فیصلہ نہیں کیا اور اپنی شخصی رائے پر عمل نہیں کیا، اب یہ میرا حال ہے اور یہ میرا مال ہے، جو آپ کیلئے اور آپ کے اختیار میں ہے، آپ سے کسی چیز سے دریغ نہیں کیا، اور آپ کا حق کسی اور کو نہیں دیا گیا اور آپ اپنے باپ کی امت کی عورتوں کی سردار ہیں، اور اپنی اولاد کیلئے پاکیزہ ثمرآور درخت ہیں، آپ کے فضائل سے انکار نہیں کیا اور آپ کی بنیادوں اور شاخوں سے چشم پوشی نہیں برتی گئی، جو چیز میرے اختیار میں ہے اس میں آپ کا حکم نافذ ہے، کیا آپ پسند کرتی ہیں کہ آپ کے باپ کی فرمائش کے مطابق عمل نہ کروں؟

 جناب فاطمہ نے فرمایا۔

 اللہ تعالیٰ پاک ومنزہ ہے، میرے باپ نے کتاب خدا سے منہ نہیں موڑا اور اس کے احکام کی مخالفت نہیں کی، بلکہ وہ اس کے پیروکار اور اس کی آیات پر عمل کرتے تھے، کیا چاہتے ہو کہ دھوکہ اور مکرو فریب سے جبراً ان کو ان کی وفات کے بعد ایسے لگتا ہے کہ یہ چال ان کی زندگی میں ہی تیار کر لی گئی تھی، یہ کتاب خدا ہے جو ایک عادل حاکم ہے اور بولنے والا حق و باطل کے درمیان جدائی ڈالنے والا ہے، جو فرما رہا ہے۔

 ارشاد رب العزت ہے۔ پروردگار!مجھے فرزند دے جو مجھ سے اور یعقوب کے خاندان سے وارث قرار پائے۔ حضرت سلیمان نے حضرت داؤد سے وراثت پائی۔ خداوند کریم نے جو حصے مقرر کیے ہیں اور جو مقدار میراث میں معین فرمائی ہے اور مردوں اور عورتوں کے لئے حصے قرار دیئے ہیں سب کچھ واضح طور پر بیان فرمادیئے ہیں۔ لہذا اہل باطل کے بہانوں اور وہم و گمان کو روز قیامت تک زائل کردیا ہے، اس طرح نہیں ہے کہ بلکہ تمہاری خواہشات نفسانیہ نے تمہیں ایک راہ پر لگا دیا ہے اور مجھے صبر زیبا کے علاوہ چارہ بھی نہیں ہے، اور جو کچھ تم ہمارے ساتھ کر رہے ہو۔ اس میں خدا ہمارا مددگار ہے۔

 ابوبکرنے کہا، خدا اور اس کے رسول نے سچ کہاہے اور ان کی بیٹی بھی جو حکمت کی کان اور ہدایت و رحمت کی جگہ اور دین کا رکن اور حجت و دلیل کا سرچشمہ ہیں، سچ فرما رہی ہیں اور آپ کی حق بات کو دور نہیں پھینکا، اور آپ کے ارشادات سے انکار نہیں کیا، یہ مسلمان میرے اور آپ کے درمیان منصف ہیں، انہوں نے یہ حکومت اور خلافت مجھے دی ہے، ان کے فیصلے کے مطابق میں نے یہ منصب قبول کیا ہے ، میں نہ متکبر ہوں اور نہ ہی اپنی رائے ٹھونس رہا ہوں اور نہ کسی چیز کو اپنے لئے اٹھایا ہے، یہ سب لوگ گواہ ہیں۔

پھر جناب زہرا نے عورتوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا

 اے مسلمانو!بے ہودہ باتیں سننے کیلئے بڑے بے قرار ہو، جبکہ پست اور گھٹیا کردار سے چشم پوشی کر رہے ہو، کیا قرآن میں غور و خوض نہیں کرتے یا دلوں پر مہریں لگادی گئی ہیں، یہ ایسے نہیں ہے بلکہ تمہارے برے اعمال نے تمہارے دلوں پر پردہ ڈال رکھا ہے، جس نے تمہارے کانوں اور آنکھوں کو گھیر رکھا ہے، اور بہت برے انداز میں آیات قرآن کی تاویل کرتے ہو اس کو بری راہ دکھائی ہے اور بری چیز کا معاوضہ کیا ہے؟ خدا کی قسم اس کا وزن اٹھانا تمہارے لئے سنگین ہوگا اور اس کا انجام اور بوجھ تمہارے لئے وبال جان ہے۔ جب صحاب ہٹائے جائیں گے تو اس کے نقصانات واضح ہوں گے اور جس کی توقع نہیں رکھتے تمہارے لئے آشکار ہو گئی، وہ ایسی جگہ ہے جہاں اہل باطل نقصان اٹھانے والے ہیں۔

 پھر جناب سیدہ پیغمبر اسلام(ص) کی قبر کی طرف متوجہ ہوئیں اور چند اشعار فرمائے جن کا ترجمہ درج ذیل ہے۔

 آپ کے بعد ایسے ایسے مسائل پیدا ہوئے کہ اگر آپ ہوتے تو اتنے بڑے دکھائی نہ دیتے۔

 ہم آپ کے بعد گویا بارش سے محروم زمین کی طرح ہیں اور آپ کی امت متفرق ہو گئی ہے آئیں اور دیکھیں کہ کس طرح منحرف ہو گئی ہے۔

 ہر وہ خاندان جو بارگاہ احدیت میں عزیز و محترم ہو وہ دوسروں کے نزدیک بھی محترم و مکرم ہوتا ہے سوائے ہمارے۔

آپ کی امت سے چند لوگوں نے آپ کے جاتے ہی اور تدفین کے بعد سینے اندر چھپے رازوں کو آشکار کر دیا ہے۔

آپ کے جانے بعد مزید لوگوں نے ہم سے منہ موڑ لیا ہے، اور ہمیں اہمیت نہیں دی اور ہماری میراث چھین لی ہے۔

 آپ چودہویں کے چاند اور نور پھیلانے والے چراغ تھے، خدا کی جانب سے آپ پر کتاب نازل ہوتی تھی۔

 حضرت جبرئیل آیات الہی کے ساتھ ہمارے مونس تھے، اور آپ کے جانے کے بعد تمام اچھائیاں بھی پوشیدہ ہو گئیں۔

 اے کاش ہم آپ سے پہلے مر چکے ہوتے آپ کو تو مٹی نے اپنے اندر چھپا لیا ہے۔

 پھر حضرت زہرا اپنے گھر لوٹ آئیں، حضرت امام علی ان کے انتظار میں تھے جناب سیدہ جب گھر آکر ذرا پرسکون ہوئیں تو فرمانے لگیں۔ اے ابو طالب کے بیٹے، جس طرح جنین ماں کے پیٹ میں چھپ جاتا ہے چھپ گئے ہو اور تہمتوں کی کثرت کی وجہ سے زمین گیر ہوگئے ہو۔ ہاں! شاہیں کے پر ٹوٹ گئے جبکہ چھوٹے پر بھی آپ کے ساتھ پرواز کے دوران خیانت کریں گے۔ یہ پسرابی قصافہ ہے، جس نے میرے باپ کا ہدیہ اور میرے دو بچوں کی زندگی کا تمام سرمایہ مجھ سے چھین لیا ہے، واضح طور پر مجھ سے دشمنی کی ہے، گفتگو کے دوران میں اس کو بہت جھگڑالو پایاہے، انصار نے میری حمایت سے ہاتھ اٹھا لیا جبکہ مہاجرین نے بھی میری مدد نہیں کی اور لوگوں نے بھی میری مدد سے چشم پوشی کی ہے، نہ کوئی دفاع کرنے والا رکھتی ہوں اور نہ کوئی ایسا آدمی جوان کو یہ کام کرنے سے روکے، میں اس حال میں گھر سے نکلی کہ بہت پریشان تھی اور یونہی خالی ہاتھ واپس آگئی۔

 جس دن سے آپ نے اپنی تلوار زمین پر رکھی اس دن سے خود کو خانہ نشین کر لیا ہے، آپ وہ بہادر تھے جو گیدڑوں کو قتل کرتے تھے، لیکن آج زمین پر آرام کر رہے ہیں، مجھ سے بولنے والے کو کوئی جواب نہیں دیا اور باطل کو بھی مجھ سے دور نہیں کیا جبکہ میں خود سے اختیار نہیں رکھتی، کاش اس کام سے پہلے اور اس طرح ذلیل و خوار ہونے سے قبل ہی مر چکی ہوتی، یہ جو اس طرح گفتگو کر رہی ہوں۔ پروردگار مغفرت چاہتی ہوں جبکہ مدد اور کمک آپ کی جانب سے ہے۔

 اس کے بعد ہر صبح و شام میں مجھ پر افسوس ہو، میری پناہ دنیا سے چلی گئی ہے اور میرے بازو بے سکت ہوگئے ہیں، میری شکایت اپنے باپ سے تھی اور خدا سے مدد کی طلب گار ہوں۔

 اے پروردگار: تیری قدرت اور توانائی سب سے بڑھ کر تیرا عقاب اور عذاب دردناک ہے۔

 پھر حضرت امام علی نے فرمایا۔

 افسوس آپ کے لئے نہیں، بلک آپ کا سمتگار دشمن افسوس کا حقدار ہے اے خدا کی برگزیدہ اورنبوت کی نشانی، ظلم اور پریشانی سے چشم پوشی فرمائیں، میں اپنے دین میں سست نہیں ہوا، اور جو کچھ میری طاقت میں ہے اس میں دریغ نہیں برتوں گا، اگر آپ روزی اور رزق سے پریشان ہیں، تو جان لو کہ روزی خدا کے پاس محفوظ ہے اور وہ بہترین امین ہے، جو چیز آپ سے لی گئی ہے اس سے جو چیز آگے آپ کیلئے تیار ہے وہ اس سے بہتر ہے۔ پس خدا کیلئے صبر کریں۔

 پھر حضرت زہرا نے کہا ،میرے لئے خدا کافی ہے، پھر خاموش ہوگئیں۔

 


source : http://www.islaminurdu.com/chapter.php?chapterID=931
  3229
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
      شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
      دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
      کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
      امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
      کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
      عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...
      خداوند متعال نے کیوں پیغمبر اکرم (ص) کو عارضی ازدواج کا ...
      کیا "کل یوم عاشورا و کل ارض کربلا" کوئی روایت یا ...
      اھل سنت کے وضو کے طریقھ کے پیش نظر آیھ وضو میں لفظ " ...

 
user comment