اردو
Tuesday 21st of May 2019
  3348
  0
  0

حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا )

حضرت فاطمہ (سلام اللہ علیہا )

تالیف : شعبہ تحقیقات مسجد مقدس جمکران

مترجم : سید بہادر علی زید ی قمی

نقوش حضرت فاطمہ

نام :فاطمہ

معروف القاب : زہرا ،صدیقہ کبریٰ، طاہرہ ،راضیہ ، انسیہ ، بتول و ․․․

کنیت : ام ابیہا

 والد : محمد مصطفی  )

والدہ : بی بی خدیجہ الکبریٰ

تاریخ ولادت : ۲۰ / جمادی الثانی ، بعثت کے ۵ سال بعد

جائے ولادت :مکہ مکرمہ

عمر مبارک : ۳۱۸سال

تاریخ شہادت : ۱۳/ جمادی الاول یا ۳ / جمادی الثانی ، ۱۱ ہجری

مرقد مطہر : قبر حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کی مندرجہ مقامات میں کسی ایک مقام پر زیارت کی جاتی ہے (۱) قبر پیغمبر کے برا بر (۲) جنت البقیع (۳) مسجد النبوی

ماں کی مونس وغمخوار

 جب  جناب خدیجہ کی پیغمبر اکرم  سے شادی کے بعد مکہ کی عورتوں نے ترک تعلق کر لیا اور آپ کو تنہا چھوڑ دیا تو پرور دگار عالم نے آپ کو نہایت بابرکت اولاد سے نواز تاکہ یہ بیٹی آپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور افتخار بشریت قرار پائے ۔

اسی زمانے میں پیغمبر اکرم  نے بی بھی خدیجہ کو یہ خوشخبری سنائی کہ ” اے خدیجہ ! مجھے جبرئیل نے یہ خبر دی ہے کہ یہ بچی پاک ومبارک ہے اور اس کے بیٹے لوگوں پیشوا اور امام ہوں گے اور میرے بعد روئے زمین پر خلیفہ خدا ہوں گے “۔

بی بی خدیجہ نے جب حضرت فاطمہ زہرا ولادت پر مکہ کی عورتوں کو بلایا تو انھوںنے آنے سے انکار کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ نے چار نورانی خواتین کو آپ کی حدمت کے لئے بھیج دیا یہ چاروں خواتین بی بی خدیجہ کے پاس آئیں اور کہا: اے بی بی اللہ نے ہمیں آپ کی مدد کے لئے بھیجا ہے ، میں مریم بنت عمران ة حضرت عیسیٰ کی والدہ) ہوں یہ سارہ زوجہ ابراہیم ہیں ،یہ آسیہ زوجہ فرعون ہیں اور یہ کلثوم حضرت موسی کی بہن ہیں ۔

جب حضرت فاطمہ زہرا کی ولادت ہوئی تو سارا گھر آپ کے نور سے منور ہوگیا اور دس حوران بہشت آب کوثر سے بھرا تشت لے کر حاضر ہوئیں ، ایک حور نے آپ کو غسل دیا اور سفید ومعطر کپڑے میں لپٹا اور آپ سے بات کرنا چاہی ۔حضرت فاطمہ نے بھی بولنا شروع کیا اور فرمایا: میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں ہے اور میرے والد اللہ کے رسول وسید المرسلین ہیں میرا شوہر جانشین انبیاء اور میرے بیٹے جوانان جنت کے سردار ہیں ۔

حضرت فاطمہ شریکت رسالت

 ابھی حضرت فاطمہ زہرا کا بچپن ہی تھا لیکن اس کے باوجود آپ اپنے والد کی مددگار ، غمخوار اور ان کے ساتھ بڑی مہربان تھیں اپنے والد کے رنج وغم کا بڑی قریب سے مشاہدہ فرماتی تھیں اور ان کی دعائیں فرماتی تھیں ۔

حضرت فاطمہ زہرا   بھی زاپنے والد اور مالدہ کے ساتھ تقریباً تین سال شعب ابو طابل میں مشرکین کے محاصرہ میں تھیں آپ نے ان تین سالوں میں سختی ، بھوک اور رنج و غم کا بڑی قریب سے مشاہدہ کیا اور اپنی سختیوں میں پروان چڑھی تھیں -

ابھی آپ کی عمر صرف پانچ سال تھی کہ والدہ کا انتقال ہوگیا اور والدہ کے انتقال نے آپ کے رنج و غم میں بیحد اضافہ کردیا ۔

ایک دن حضرت فاطمہ زہرا کعبہ کے پاس موجود تھیں کہ آپ نے چند مشرکین کو دیکھا کہ وہ پیغمبر اکرم پر حملہ کرنے کے لئے تین بتوں ( لات۔ عزّی اور منات) کی قسم کھا رہے ہیں - یہ سن کر حضرت زہرا جلدی سے اپنے والد کے پاس آئیں اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، آپ نے آکر اپنے والد کو مشرکین کی سازش سے آگاہ کیا ۔

پیغمبر اسلام نے فرمایا : اے میری پیاری بیٹی ! تم گھبراوٴ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے ،جاوٴ میرے لئے وضو کے لئے پانی لے آوٴ۔

پیغمبر اکرم  وضو کرکے کعبہ کی طرف چلے ۔ ادھر مشرکین پیغمبر اکرم  کے آنے کا انتظار کررہے تھے آنحضرت کو آتے ہوئے دیکھا تو ان کے اوپر پیغمبر اکرم  کے نورانی چہرے کی ایسی ہیبت طاری ہوئی کہ ان کی ساری سازشیں خاک میں کل کر رہ گئیں اور وہ آنحضرت  کو ذرہ برابر نقصان بھی نہیں پہنچا سکے ۔

حضرت فاطمہٴ نمونہ انفاق

جب حضرت فا طمہ زہرا بڑی ہوئیںاور آپ کی عم مبارک ۹/سال کی ہوئی تو اپ کے بہت سے رشتہ آئے لیکن پیغمبر اکرم  ہر بار یہی فرمایا کرتے تھے کہ میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کا منتظر ہوں جو للہ کو منظور ہوگا وہ وہی انجام دوں گا لیکن تقدیر الٰہی نے تو یہ لکھ دیا تھا کہ حضرت فاطمہ زہرا کی شادی حضرت علی سے ہوگی ۔

پیغمبر اکرم  نے اپنی پیاری بیٹی کو شادی کے لئے نیا لباس لاکردیا مگر شادی کے دن آپ کے دروازے پر ایک غریب عورت نے آکر اس طرح آوازدی : اے خانہٴ نبوت مجھے ایک پرانا لبا س چاہئے حضرت فاطمہ زہرا کے پاس اس نیا لباس موجود تھا اور پرانا لباس بھی ا بھی آپ اس عورت کے مطالبہ کے مطابق اسے پرانا لباس دینا چاہتی تھیں کہ آپ کو فوراً قرآن کریم کی یہ آیت کریمہ یا د آگئی :” تم نیکی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتے جب تکہ کہ اپنی محبوب چیزوں میں سے راہ خدا میں انفاق نہ کرو“۔

حضرت فاطمہ زہرا کو اگرچہ نیا لباس بہت پسند تھا لیکن آپ  نے ا س آیت کریمہ پرعمل کرتے ہوئے اپنا نیا لباس اس عورت کو دیدیا ۔

جب شادی کے دوسرے دن پیغمبر اکرم  ، حضرت زہرا کے گھر تشریف لائے توآپ نے حضرت زہرا کو پرانا لباس پہنے ہوئے دیکھ کر سوال کیا : اے میری لخت جگر ! پرانا لبا س کیوں پہنا ہوا ہے ، نیا لباس کیوں نہیں پہنا ؟ حضرت زہرا نے فرمایا : وہ لباس میں نے فقیر کو دیدیا ہے آنحضرت نے فرمایا : بیٹی تم اپنا پرانا لباس فقیر کو دے دیدتیں اورنیالباس خوچ پہن لیا ہوتا کیونکہ تمہاری نئی شادی ہوئی ہے حضرت فاطمہ زہرا نے جواب دیا : با با ! یہ سیرت اور سلیقہ میں نے آپ سے سیکھا ہے میری والدہ کی آپ سے شادی ہوئی تھی تو انھوں نے بھی سارا مال غریب اور ضر ورت مند لوگوں کو بخش دیاتھا یہاں آپ نے اپنا لباس تک راہ خدا میں دیدیاتھا پیغمبر اسلام اپنی بیٹی کی یہ پر خلوص باتیں سن کر بیحد متاثر ہوئے ، آنکھوں سے جاری ہوگئے اور محبت سے حضرت زہرا کو اپنے گلے لگا لیا ۔

گھریلو کام میں فضہ کے ساتھ ساتھ

 جناب فاطمہ زہرا نے گھریلو کاموںکو اپنے اور اپنی کنیز ” فضہ“ کے درمیان عادلانہ طور پرتقسم کیا تھا ۔ ایک دن حضرت فاطمہ زہرا خود گھر کا سارا کام انجام دیتی تھیں اور دن فضہ گھر کاکام کیا کرتی تھیں۔

ایک دن جنا ب سلمان فارسی نے حضرت فاطمہ زہرا کو چکی میں جو آٹا تیار کرتے ہوئے دیکھا اور امام حسین بھی آپ کی آغوش میں موجود ہیں اور گریہ کررہے ہیںجناب سلمان نے عرض کیا : اے دختر رسول خدا ! آپ کی کنیز اور خدمت گذار فضہ جب گھر میں تو آپ کام کیوں کررہی ہیں ؟ حضرت فاطمہ نے ان کے جواب میں فرمایا : رسول خدا نے مجھ سے فرمایا ہے کہ ایک دن میں کام کروں اور ایک روز فضہکل فضہ نے کام کیا تھا اور آج میری نوبت ہے۔

میدان جنگ میں حضرت فاطمہ زہر ا کا کردار

 جنگ کے موقع پر خواتین کو سپاہیوں کی پشت پناہی کرنا چاہئے ان کی مرہم پٹی اور دیگر ضروری امور سنبھال لینے چاہیں ۔

حضرت فاطمہ زہرا   بھی جنگ کے موقع پر بہترین پشت پناہ تھیں اور خاص مدد کرتی تھیں مثلاً جب تیسری ہجری میں جنگ احد پیش آئی ، حالانکہ ا بھی آپ صرف ۱۰/سال ہی کی تھیں،جنگ کے بعد آپ مدینہ سے باہر آئیں اور میدان جنگ میں پہنچ گئیں حالانکہ میدان جنگ مدینہ کے کافی دور تھا وہاں پہنچ کر آپ حضرت علی کو پیغمبر اکرم کا خون آلودہ چہرہ دھوتے ہوئے دیکھا پیغمبر اکرم  کو اس حالت میں میں دیکھ کر حضرت زہرا کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے آپ نے اپنے والد کا بوسہ لیا جب آپ نے دیکھا کہ خون بند نہیں ہو رہا ہے تو آپ نے چٹائی جلا کر اس کی راکھ زخم میں بھردی اس طرح آنحضرت کا خون بند ہو گیا ۔

پانچ ہجری میں دوسرا واقعہ پیش آیا دشمنا ن اسلام نے تین گنا لشکر لے کر مسلمانوں کو ختم کرنے کے لئے حملے کا ارادہ کیا پیغمبر اکرم  نے یہ دیکھ کر دشمنوںسے مقابلے کے لئے اپنے اصحاب سے مشورہ کیا جنا  سلمان فارسی نے شہر کے چاروں طرف ”خندق “ کھودنے کا مشورہ دیا ۔

پیغمبر اسلام  نے جنا ب سلمان کے مشورے پر عمل فرمایا اور مسلمانوں کو شہر کے گرد خندق کھودنے حکم دیدیا اور آنحضرت  خود مسلمانوں کے ساتھ مل کر اس کام میں مصروف ہو گئے ۔

کچھ ہی دن گذرے تھے کہ شہر میں غذ ا کی قلت ہونا شروع کوگئی اور مسلمانوں کو فاقہ کرنا پڑگیا یہاں تکہ کہ مسلمانوں کو اور پیغمبر اکرم کو بھی تین دن بھوکے رہنا پڑگیا ۔

ایک دن حضرت فا طمہ زہرا کے ٹھوڑی سی روٹی تیارکر کے آنحضرت کے پاس لائیںاور فرمایا : با با جان میں نے اپنے اپنے بچوں کے لئے ٹھوڑی سی روٹی تیار کی تھی، کچھ آپ کے لئے بھی لے آئی ہوں آنحضرت نے روٹی لے کر فرمایا : بیٹی فاطمہ ! تین دن کے بعد یہ پہلا لقمہ جو میں نے تناول کیا ہے ۔

بابرکت گلو بند

اہک دم پیغمبر اکرم  مسجد میں تشریف فرما تھے اور چاروں طرف اصحاب بھی موجود تھے اتنے میں ایک بوڑھا شخص آیا جس کے کپڑوں میں پیوند لگے ہوئے تھے جب آنحضرت نے اسے دیکھا تو آپ  اپنی جگہ سے اٹھے اور اس کے پاس آئے اور پوچھا تمہاری کیا حاجت ہے ؟

بوڑھے شخص نے آہستہ سے کہا : اے رسول خدا ! میں ایک پریشان حال فقیر ہوں اور بھوکا ہوں برائے مہربانی مجھے کچھ کھانے کے لئے دیدیجئے ، میرے پاس کپڑے نہیں ہیں کچھ پہننے کے لئے دید یجئے ،خدا رامیری کچھ مدد کیجئے۔

پیغمبر اکرم  نے فرمایا: میرے پاس تو کچھ نہیں ہے لیکن میں تمہاری رہنمائی کئے دیتاہوں وہاں سے تم خالی ہاتھ نہ پلٹوگے جاوٴ در فاطمہ زہرا پر وہاں تمہیں کچھ مل جائے گا۔

وہ بوڑھا شخص حضرت فاطمہ زہرا کے دروازے پر آیااور آکر اپنی حاجت بیان کی حضرت فاطمہ زہرا نے فرمایا : ہمارے گھر میں بھی اس وقت اس گلو بند کے علاوہ کچھ نہیں ہے اور پھر آپ نے اسے وہ گلو بند دیتے ہوئے فرمایا : اسے بیچ ڈالو انشا اللہ تمہاری مشکل دور ہوجائے گی فقیر گلوبند لے کر مسجد آیا اور دیکھا پیغمبر ابھی اپنے اصحاب کے پاس تشریف فرمائیں ، اس نے آکر کہا : یا رسول اللہ ! آپ کی پیاری بیٹی نے مجھے یہ ہار عنایت فرمایا ہے تاکہ میں اس کے ذریعے اپنی مشکل دور کر سکوں یہ دیکھا کر پیغمبر کی آنکھوں میں خو شی سے آنسو نکل آئے ۔

جناب عمار یاسر نے کہا: یا رسول اللہ ! اگرآپ مجھے اجازت دیں تو میں یہ گلو بند خرید لوں ؟ جو بھی اسے خرید ے خدا اس سے راضی ہے عمار یاسر نے اس بوڑھے سے کہا یہ ہار کتنے کادوگے ؟ اس نے کہا اتنا کھا نا دیدو جس سے میرا پیٹ بھر جائے ایک مناسب پہننے کے لئے لناس دیدو اور مجھے گھر پہننے تک کے لئے دینار دیدو تویہ ہار لے لو عمار یاسر نے کہا : ٹھیک ہے میں تمہیں غذا ، لباس سواری اور بیس کے دینار دیتا ہوں -یہ کہہ کر جنا ب عمار نے اس بوڑھے کو غذا ، لباس ، سواری اور بیس دینار دیدیجئے انھوں نے وہ ہار لے کر اپنے غلام کو دیا اور کہا :جاوٴ یہ ہار رسول خدا کی خدمت میں پیش کرو اور میں نے تمہیں بھی رسول خدا کو بخش دیا ۔

پیغمبر اکرم  نے غلام اور ہار لے کر دونوں کو حضرت فاطمہ زہرا کو بخش دیا غلام فاطمہ زہرا کی خدمت  میں پہنچا تو آپ نے اس سے گلو بند لے کر فرمایا : جاوٴ میں میں بھی تمہیں راہ خدا میں آزاد کرتی ہوں غلام یہ سن کر بہت خوش ہوا ا ور ہنسنے لگا حضرت فاطمہ نے اس سے پوچھا تم کیوں ہنس رہے ہو ؟ اس نے جواب دیا : اے دختر پیغمبر ! میں اس ہار کی برکت پراخوش ہو رہا ہوں ، یہ کتنا با برکت ہار ہے ، اس بھوکے کو کھانا کھلا یا ، ضرورت مند کو لباس پہنایا ، فقیر کو مالدار بنا دیا ، پیادہ کو سواری عطا کردی ، ایک غلام کو آزاد کردیا اور پھر آخر کار اپنے مالک کے پاس واپس پہنچ گیا ۔

حضرت فاطمہ زہرا کی پردے پرتوجہ

 پردہ ، خواتین کی سعادت کے اسبا ب میں ایک سبب ہے ، پردہ ایک حکم الٰہی ہے جس کی وجہ سے گھر اورمعاشرے کا ماحول پر امن اور اطمینان بخش رہتا ہے ، اور سب لو گ بہت سی برائیوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

حضرت فاطمہ زہرا بیحد پردے کی پابندی کیا کرتی تھیں کبھی کسی نا محرم کی نگاہ آپ کے بالوں یا چہرے پر نہیں پڑی حالانکہ آپ لوگوں کے درمیان زندگی گذار رہی تھیں لیکن اس کے باجود آپ ہمیشہ اسلامی پردے کا کوخیال رکھتی تھیں۔

ایک دن پیغمبر اکر م   نے آپ سے سوال کیا : ایک خاتون کے لئے سب سے بہترین چیز کیا ہے ؟ آپ نے جواب دیا : نہ اس کی نگاہ کسی نا محرم پر پڑے اور نہ ہی کوئی نامحرم اسے دیکھ پائے پیغمبر اکرم  نے آپ کا جواب سن کر فرمایا: تم نے بالکل صحیح فرمایا ہے اے میری جان ۔

ایک دن ایک نا بینا شخص نے آپ کے گھر میں داخل ہونے کی اجازت چاہی حضرت فاطمہ زہرا نے فوراً اس سے پردہ کیا ، پیغمبر اکرم  نے ان سے فرمایا : مگر بیٹی یہ مرد نابینا ہے تو تم اس سے پردہ کیوں کر رہی ہو ؟ حضرت زہرا نے جواب دیا : بابا جان اگروہ مجھے نہیں دیکھ سکتا میں اسے نہیں دیکھ سکتی لیکن وہ میری خوشبو تو محسوس کرسکتا ہے ۔

پیغمبر اکرم  نے حضرت فاطمہ زہرا کے جوا ب کو بہت پسند فرمایا اور آپ کی تصدیق کرتے ہوئے فرمایا : میں گواہی دیتا ہوں بیشک فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ۔

  3348
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام کاظم علیہ السلام کی مجاہدانہ زندگی کے واقعات کا ...
      امام جواد علیہ السلام اور شیعت کی موجودہ شناخت اور ...
      حدیث "قلم و قرطاس" میں جو آنحضرت{ص} نے فرمایا هے: ...
      حضرت علی (ع ) خلفاء کے ساتھ کیوں تعاون فر ماتے تھے ؟
      شیعه فاطمه کے علاوه پیغمبر کی بیٹیوں سے اس قدر نفرت ...
      کیا عباس بن عبدالمطلب اور ان کے فرزند شیعوں کے عقیده کے ...
      امام محمد باقر علیہ السلام کی حیات طیبہ کے دلنشین گوشے ...
      اگر کسی دن کو یوم مادر کہا جا سکتا ہے تو وہ شہزادی کونین ...
      قرآن مجید کی مثال پیش کرنے کا دعوی کرنے والوں کی حکمیت ...
      فاطمہ، ماں کی خالی جگہ

 
user comment