اردو
Wednesday 22nd of September 2021
157
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

کچھ انوکھا سا گفٹ

کچھ انوکھا سا گفٹ

زہرا اور مہدی کافی پریشان نظر آرہے تھے، کیونکہ آج بی بی فاطمہ زہرا کی ولادت کی تاریخ تھی اور مدرز ڈے بھی تھا۔ جبکہ دونوں ابھی تک فیصلہ نہیں کر سکے تھے کہ امی جان کو کونسا گفٹ دیا جائے ؟
مہدی: ’’زہرا! ہم ہمیشہ امی کو کوئی نہ کوئی گفٹ ضرور دیتے ہیں؛ کبھی کپڑے‘ کبھی اسکارف‘ کبھی شوپیس‘ وغیرہ مگر ہر چیز استعمال کے بعد پرانی لگنے لگتی ہے اور انسان دیکھ دیکھ کر اُکتا جاتا ہے۔ اب ہمیں ایسا گفٹ دینا چاہئے جو امی جان کو اور جناب سیدہ دونوں کو بھلا لگے اور انوکھا بھی ہو۔۔۔!‘‘
زہرا: ’’ہاں تم بالکل ٹھیک کہہ رہے ہو۔ چلو ہم دونوں مل کر کوئی ایسا ہی منفرد گفٹ سوچتے ہیں۔ ‘‘
’’آئیڈیا!‘‘ کچھ لمحوں بعد مہدی کے زور سے چیخنے کی آواز آئی۔ ’’زہرا! ایسا کرتے ہیں کہ ہوم ورک مکمل کر لیتے ہیں۔‘‘
زہرا: ’’ہاں یہ آئیڈیا اچھا ہے! اور آج کے بعد ہم امی کا کہنا بھی مانیں گے۔ وہ جو بھی کہیں گی اس پر عمل کریں گے۔ ٹھیک ہے ناں۔۔؟!‘‘
مہدی: ’’ہاں ہاں کیوں نہیں! اور امی کے کہنے سے پہلے ہی نماز بھی پابندی سے پڑھیں گے ۔‘‘
زہرا: ’’اور ہم جو چھوٹی چھوٹی باتوں پر لڑتے ہیں وہ بھی آہستہ آہستہ کر کے چھوڑ دیں گے ۔‘‘
’’انشائ اللہ !‘‘ مہدی نے جوشیلے لہجے میں کہا اور پھر دونوں بچے بھاگتے ہوئے خالہ کے پاس پہنچ گئے اور انھیں اپنا منصوبہ بتایا۔ وہ فوراً مان گئیں اور بولیں۔
خالہ: ’’بالکل ٹھیک سوچا تم نے! لیکن میرا خیال ہے کہ ہمیں ایک اور کام بھی کرنا چاہئے۔‘‘
’’وہ کیا؟‘‘ دونوں بچوں نے حیرت سے پوچھا۔
خالہ: ’’رسول خدا نے فرمایا ہے کہ ’’صفائی نصف ایمان ہے‘‘، ابھی امی باہر گئی ہیں، آو، ہم ان کے آنے سے پہلے گھر کی صفائی بھی کر لیں اور کچھ کھانا بھی ان کے لئے پکا لیتے ہیں۔ اس سے ہمارا ایمان بھی بڑھتا رہے گا اور امی کو بھی ذرا آرام ملے گا اور یہی امی کے لئے سب سے بڑا گفٹ ہوگا ۔‘‘
زہرا: ’’یہ سب ہونے کے علاوہ اللہ بھی ہم سے خوش ہوگا اور جناب سیدہ بھی ہمارا یہ گفٹ ضرور قبول کر لیں گی ۔‘‘
------
’’بچو! شاید میں کسی اور کے گھر میں آگئی ہوں۔ اتنا بدلا بدلا سا اور خوبصورت گھر ۔۔‘‘ امی نے گھر میں داخل ہوتے ہی گھر کا حلیہ صاف ستھرا دیکھا تو مسکرا کر بولیں۔
’’Happy Mother`s day dear Ammi!‘‘ دونوں بچے ایک زبان ہو کر بولے۔
’’بیٹا تم سب کو بھی جناب سیدہٴ کی ولادت مبارک ہو!‘‘ امی نے دونوں بچوں کو اپنے سینے سے لگا کر کہا۔
جب امی نے بچوں کا پلان سنا تو بہت خوش ہوئیں اور بچوں کے لئے دعا کی کہ اے پروردگار سب بچوں کے والدین کو ایسا ہی اچھا سا گفٹ ملے۔ اٰمین!
آپ سب بچوں کو بھی زینب کاظمی اور ہالانی کے تمام بچوں کی طرف سے ’’ماں کاعالمی دن ‘‘مبارک ہو ۔

157
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اجتھاد اور تقلید؛ (2) مصنف: شھید آیت اللہ مرتضی مطھری (رح)
متعہ
فطرہ کے احکام
کیا خمس ادا نہ کرنے والے کی نماز صحیح ہے؟
چارلی ایبڈو نے ایک بار پھر اسلام اور مسلمانوں کی توہین ...
زکوٰة نہ دینے کا بیان
قم کی دینی درسگاہ کو ہمیشہ ایک انقلابی درسگاہ اور ...
نبی شناسی
دنیا کی حقیقت
اصول فقہ کا مختصر تعارف

 
user comment