اردو
Tuesday 11th of May 2021
1113
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اہلبیت اطہار (ع)علم کا معدن ہیں

رسول اکرم ! ہم اہلبیت(ع) رحمت کی کلید، رسالت کا محل ، ملائکہ کے نزول کی منزل اور علم کے معدن ہیں۔( فرائد السمطین 1 ص 44 /9 از ابن عباس)۔
اہلبیت اطہار (ع)علم کا معدن ہیں

71۔ رسول اکرم ! ہم اہلبیت(ع) رحمت کی کلید، رسالت کا محل ، ملائکہ کے نزول کی منزل اور علم کے معدن ہیں۔( فرائد السمطین 1 ص 44 /9 از ابن عباس)۔

 

72۔حمید بن عبداللہ بن یزید المدنی ناقل ہے کہ رسول اکرم کے سامنے ایک فیصلہ کا ذکر کیا گیا جو علی (ع) بن ابی طالب (ع) نے صادر کیا تھا تو آپ نے فرمایا کہ خدا کا شکر ہے کہ اس نے ہم اہلبیت(ع) کے گھر میں حکمت قرار دی ہے۔(فضائل الصحابہ ابن حنبل 2 ص 654/ 1113، شرح الاخبار 2 ص 309 / 631)۔

 

73۔ امام علی (ع) ! ہم شجرہٴ نبوت ، محل رسالت ، منزل ملائکہ ، معدن علم چشمہ حکمت ہیں ، ہمارا دوست اور مددگار ہمیشہ منتظر رحمت رہتاہے اور ہمارا دشمن اور بغض رکھنے والا ہمیشہ عذاب کے انتظار میں رہتاہے۔( نہج البلاغہ خطبہ ص 109 ، غرر الحکم 10005)۔

 

74۔ امام علی (ع) نے مدینہ میں ایک خطبہ کے دوران فرمایا، آگاہ ہوجاؤ ! قسم اس پروردگار کی جس نے دانہ کو شگافتہ کیا ہے اور ذی روح کو پیدا کیا ہے اگر تم لوگ علم کو اس کے معدن سے حاصل کرتے اور پانی کو اس کی شیرنی کے ساتھ پیتے اور خیر کا ذخیرہ اس کے مرکز سے حاصل کرتے اور واضح راستہ کو اختیار کرتے اور حق کے منہاج پر گامزن ہوتے تو تمھیں صحیح راستہ مل جاتا اور نشانیاں واضح ہوجاتیں اور اسلام روشن ہوجاتا۔( کافی 8 ص 32 / 5 )۔

75۔امام حسین (ع) ! میں نہیں جانتا کہ لوگ ہم سے کس بات پر عداوت رکھتے ہیں جبکہ ہم رحمت کے گھر ، نبوت کے شجر اور علم کے معدن ہیں۔( نزہة الناظرہ85 / 21)۔

 

76۔ امام زین العابدین (ع) ! لوگ ہم سے کسی بات پر بیزار ہیں ، ہم تو خدا کی قسم کے شجرہ میں ہیں، رحمت کے گھر ، حلم کے معدن اور ملائکہ کی آمد و رفت کے مرکز ہیں۔( کافی 1 ص 221 /1 روایت ابوالجاروڈ، نزہة الناظر 85 / 21)۔

77۔ امام باقر (ع)(ع) ! کتاب خدا اور سنت پیغمبر کا علم ہمارے مہدی کے دل میں اسی طرح ظاہر ہوگا، جس طرح بہترین زمین پر زراعت کا ظہور ہوتاہے لہذا شخص بھی اس وقت تک باقی رہ جائے اور ان سے ملاقات کرے وہ سلام کرے، سلام ہو تو پر اے اہلبیت (ع) رحمت و نبوت و معدن علم و مرکز رسالت ! ( کمال الدین ص 603 /18 روایت جابر ، بحار الانوار 52 / 307 / 16 نقل از العدد القویہ)۔

 

78۔ امام باقر (ع) ! وہ درخت جس کی اصل رسول اللہ ہیں اور فرع امیر المومنین (ع) ڈالی جناب فاطمہ (ع) ہیں اور پھل حسن (ع) و حسین (ع) … یہ نبوت کا شجر اور رحمت کی پیداوار ہے، یہ سب حکمت کی کلید، علم کا معدن، رسالت کا محل، ملائکہ کی منزل، اسرار الہیہ کے امانتدار ، امانت پروردگار کے حامل، خدا کے حرم اکبر اور اس کے بیت العتیق اور حرم ہیں۔(الیقین ص 79 ، تفسیر فرات 395 / 527 ) اس میں نبت الرحمہ کے بجائے بیت الرحمہ ہے اور حرم کے بجائے ذمہ کی لفظ ہے اور روایت زیاد بن المنذر سے ہے)۔

 

80۔ امام صادق (ع) ! امام علی (ع) بن الحسین (ع) زوال آفتاب کے بعد نماز ادا کرکے یہ دعا پڑھا کرتے تھے ” خدایا محمد و آل محمد پر رحمت نازل فرما جو نبوت کے شجر رسالت کامحل ، ملائکہ کی منزل، علم کا معدن اور وحی کے اہلبیت (ع) ہیں (جمال الاسبوع ص 250 ، مصباح المتہجد ص 361)۔ نوٹ! اس موضوع کے ذیل میں احقاق الحق 10 ص 409 کا مطالعہ بھی کیا جاسکتاہے جہاں امام صادق (ع) ، امام کاظم (ع) اور امام رضا (ع) کے حوالہ سے اس تعبیر کا ذکر کیا گیاہے۔


source : tebyan
1113
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

عید الفطر مبارک
شیخ مفید کی تین سچی حکایتیں
بنی اسرائیل اور اسرائیل کی تاریخ
بعثت سے غدیر تک
جوانوں کوامام علي عليہ السلام کي وصيتيں
عملی زندگی میں تصور خدا اور اس کے اثرات قرآن کی روشنی ...
اسلامی جہاد کا مقصد
ولادت باسعادت حضرت فاطمہ معصومہ (سلام اللہ علیہا) ...
امانت اور امانت داری
جاہلوں کی نشانیاں

 
user comment