اردو
Thursday 17th of June 2021
534
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے

معنویت کی طرف رجحان پیدا کرنے اور اسے عروج بخشنے کے لئے میدان ہموار ہے، بس کام اتنا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی طرح ہمیں خود لوگوں کی تلاش میں جانا ہوگا۔ آنحضرت (ص) کی ایک صفت اس طرح بیان کی گئی ہے: ''طبیب دوّار بطبہ قد احکم مراھمہ و احمیٰ مواسمہ۔''
طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے

معنویت کی طرف رجحان پیدا کرنے اور اسے عروج بخشنے کے لئے میدان ہموار ہے، بس کام اتنا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی طرح ہمیں خود لوگوں کی تلاش میں جانا ہوگا۔ آنحضرت (ص) کی ایک صفت اس طرح بیان کی گئی ہے: ''طبیب دوّار بطبہ قد احکم مراھمہ و احمیٰ مواسمہ۔''

 (نہج البلاغہ، خطبہ107)

 رسول اکرم (ص) گھوم گھوم کر طبابت کرنے والے طبیب کی مانند تھے۔ عام طور سے طبیب اپنے مطب میں بیٹھے رہتے ہیں اور مریض ان کے قریب جاتے ہیں لیکن انبیاء اس انتظار میں گھر نہیں بیٹھے رہتے تھے کہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں بلکہ وہ خود لوگوں کی طرف جاتے تھے۔ وہ اپنے بستہ طبابت میں مرہم بھی رکھتے تھے، نشتر بھی رکھتے تھے اور زخم کو داغنے کا وسیلہ بھی ساتھ رکہتے تھے۔


source : tebyan
534
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

موت کے بعد کی زندگی
عدم عصمت انبیا پر وہابیت کی دلیل
صفات ثبوتی و صفات سلبی
صحابہ اور تابعين كى سيرت اور سجدہ
توحید افعالی
عقیدہ ختم نبوت
انسان کے ليۓ خدا کي شناخت
معرفت الٰہی کا ذریعہ خدا شناس فطرت
موت کيوں پسند نہيں ہے ؟
عثمانیوں كی آل سعود سے جنگیں

 
user comment