اردو
Sunday 26th of June 2022
708
0
نفر 0

اہانتِ رسول (ص) کی حقیقت

لمحۀ موجود تک دنیا بھر میں اس قبیح فعل کے خلاف احتجاج جاری ہے جو شیطانِ بزرگ کی جانب سے چلی جانیوالی ایک اور مکروہ چال کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوا۔سلمان رشدی کی شیطانی آیات ہوں، توہین آمیز خاکے ہوں، فیس بک پر منعقدہ مقابلے ہوں، قرآنِ کریم کی بے حرمتی کا معاملہ ہو یا اب بننے والی توہین آمیز فلم ۔۔۔ مسلمانانِ جہان کے جذبات سے کھیلنا، انہی کے ہاتھوں انہی کی املاک کا نقصان کروانا ، انکی بے بسی اور جہالت کا تمسخر اڑانا اور کچھ عرصے بعد ایسی ہی کوئی اور قبیح حرکت کرنا ان نمائیندگانِ شیطان کے لئے ذرا بھی مشکل نہیں کیونکہ خدا کی طرف سے عنایت کردہ مہلت اور اس مہلت کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے عدم ایمان، غفلت ، کاہلی اور زعمِ مسلمانی کے باعث تمام دنیاوی وسائل پر انکا اجارہ جاری ہے۔ معاملہ چاہے دولت کا ہو یا اختیار کا، اب اس شیطان کے ہاتھ اس حد تک مضبوط ہو چکے ہیں کہ چاہے تو قطبِ شمالی سے ایک شوشہ چھوڑ تمام دنیا کو آگ میں جھلسا دےاور چاہے تو القاعدہ، طالبان، بلیک واٹر یا لشکر جھنگوی جیسی چڑیلیں آپکے گھر میں چھوڑ کر آپکی بے بسی کا تماشا دیکھے۔ ابہام اور کسی بھی شک و شبہ سے مبرا یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ اس وقت امریکہ اور اسکے چیلے اپنی طاقت کے نشے میں اس قدر بد مست ہیں کہ کھلے عام اپنی اصلیت کا پرچار کرنے میں ذرا بھی دقت محسوس نہیں کرتے۔
دوسری جانب جس الہٰی قوت کے سامنے شیطان سینہ آور ہوا تھا اسکا کرم اور فیض ایک لمحہ کے لئے بھی منقطع نہ ہوا ۔ خدائے عادل نے جہاں شیطان کو آگ بھڑکانے کی مہلت اور قوت عطا کی تھی، وہیں اس آگ کے مقابلے میں نبوت، رسالت اور امامت جیسے گلزار اور جھرنے تاقیامت جاری کئے تاکہ نظامِ عدل بھی قائم رہے اور انسان کی انسانیت کا شرف بھی ۔ لیکن بصد افسوس کہنا پڑتا ہے کہ شیطان نے تو اپنے کئے گئے پیمان میں ذرا بھی لغزش کا مظاہرہ نہیں کیا۔ وہ معدودے چند مصطفیٰ بندوں کے ، سب پر ہی اپنا جال پھینکتا رہا اور اپنے دام میں گرفتار کرکے اپنی کامیابی کے گن گاتا رہا۔مگر وہ انسان، جو ملائکہ کے لئے ایک سوالیہ نشان تھا اس قدر گراوٹ کا شکار ہوا کہ خودشیطان کے لئے باعثِ فخر اور انسانیت کے لئے ایک معمہ بن گیا۔ 
خدا نے کسی کو اپنے تخلیق کردہ کسی بھی انسان کی توہین کی اجازت نہیں دی چہ جائیکہ افضل البشر انبیاء ومرسلین اور پھر سردارالانبیاء حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اہانت کا تصور بھی کیا جائے!!! یہ وہ شرر ہے جو کسی بدعمل یا نام ہی کے مسلمان تک کا خون کھولا دینے کو کافی ہے لیکن مشاہدہ یہ کہتا ہے کہ شیطانِ مغرب نے جتنا سبک ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذاتِ اقدس کو لیا شاید ہی کسی اورہستی کی شان میں گستاخی کے لئے اتنا ہلکا محسوس کیا ہو۔ اس ذلت و رسوائی کے ذیل میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر کیوں؟
اس سوال کے جواب کی کھوج میں ہم اگر تاریخ کا مطالعہ کریں تو اپنا ہی سر شرم سے جھک جائے۔ مسلمانوں کی تاریخ (تاریخِ اسلام نہیں) توہینِ رسالت کے عملی مظاہروں سے لدی ہوئی نظر آتی ہے۔ چودہ سو سال کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ کس طرح منافقین نے مسلمانوں کے بھیس میں اسلام اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شخصیت کو نقصان پہنچایا۔ یہی کلمہ گو افراد تھے جنہوں نے بعد از رسول آپکی صاحبزادی، آپکے عم زاد اور آپکے نواسے نواسیوں، آپکی آل اور آپکے حقیقی غلامان پر ظلم و بربریت کے ایسے پہاڑ توڑے کہ جنکی مثال تاریخِ انسانیت میں نہیں ملتی۔ جبکہ عام مسلمان کا کردار اس ظلم کے ردِ عمل میں معنی خیز خاموشی کی صورت میں سامنے آیا۔خدا کے پسندیدہ دین کی دھجیاں بکھیرنے کی کوششیں کی جاتی رہیں اور اس دین کے محافظین کو اسلام مخالف گردان کر دنیا کے سامنے پیش کیا جاتا رہا اور مسلمان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ نام نہاد امتِ مسلمہ آج ہر اس برائی میں مبتلا ہے جسکی بیخ کنی کے لئے خدا نے حضرت ختمی مرتبت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مبعوث فرمایا ۔ جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ناپسند رہی، وہی اس مظلوم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نام لیواؤں کر مرغوب رہی۔ آج جہاں کہیں جھوٹ، فریب، بداخلاقی، ملاوٹ، قتل و غارت گری، عدمِ برداشت، جہالت، غربت، اقربا پروری، ناانصافی، جنگ و جدال، جھگڑا، غلاظت(ذہنی، جسمانی اور معاشرتی)، غرور وتکبر، نقب زنی، چوری، ڈاکہ، آبروریزی ، بدعنوانی ، حرام خوری اور انہی جیسی دورِ جاہلیت کی یادگاریں موجود ہوں گی، وہ مسلمان معاشرہ ہی ہوگا۔
اس حقیقت کے تناظر میں اگر مغربی قوتیں جب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے نام لیواؤں کو اپنے ہی پیشوا کی عملی اہانت کرتے دیکھتی ہیں تو ان کے لئے آپکی ذاتِ اقدس پر کیچڑ اچھالنا کوئی بڑا عمل نہیں رہتا۔ کیونکہ انکی نظر میں جیسا مسلمان ہے، ویسا ہی انکا رسول! جبکہ انہی نام نہاد مسلمانوں کا احتجاج بھی انوکھا ہی ہوتا ہے۔ جلاؤ، گھیراؤ، پتھراؤ، امریکہ کا پرچم نذرِ آتش کرنا، اپنی ہی املاک کو نقصان پہنچانا اور اپنے ہی جیسے دوسرے مسلمانوں کے لئے مشکلات کھڑی کرنا ، مردہ باد امریکہ کے نعرے لگانا اور ساتھ ہی دل میں امریکہ کے ویزے کی خواہش رکھنا۔
جبکہ صحیح مسلمان کا طرزِ عمل ایسا ہونا چاہیے تھا کہ کسی ملعون کو اتنی جرأت نہ ہو سکے کہ کسی مسلمان کی اہانت کرسکے چہ جائیکہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کر گزرے۔ اس گستاخی پر میرا دل خون کے آنسو رو رہا ہے اور اپنی بے بسی پر نالاں بھی ہے۔ لیکن آج بھی میرے گرد ایسے افراد موجود ہیں جو میرے آقا کی سنت کا احیا اور اسکا تحفظ کئے ہوئے ہیں۔ میرا دل یہ دیکھ کر مطمئن ہو جاتا ہے کہ فی الحال ہم کمزور سہی لیکن ہماری قوت کا سرچشمہ پردۀ غیبت میں ہے اور اس سرچشمے سے جاری ہونے والا فیض سید علی خامنہ ای، سید علی سیستانی، نوری ہمٰدانی، صافی گلپائیگانی، مصباح یزدی، وحید خراسانی، الحیدری، النمر، مکارم شیزازی، جعفر سبحانی تبریزی، جواد آملی، حسن نصر اللہ اور ان ہی جیسے ہزاروں پیروکارانِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صورت میں جاری ہے۔ انشاءاللہ یہی وہ سرچشمۀ حقیقت ہے جو حکمِ خدا سے جلوہ افروز ہو کر باطل اور پوری دنیا کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کردار اور شخصیت کا اصلی رخِ زیبا دکھا کر آج کے اور ہمیشہ کے شیطان کو نابود کردے گا۔ 


source : http://www.abna.ir
708
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

حضرت فاطمہ زہرا(ع) عظیم نعمت الٰہی
حضرت فاطمہ زہراء، اسوہ کامل
امّ البنین مادر ابوالفضل (ع)
شہادت امام جعفر صادق(ع)
امام سجاد(ع) واقعہ کربلا ميں
بیعت عقبہ اولی
حضرت امام زین العابدین (ع)کے سیاسی افکار و کردار
امام کی معرفت سے کیا مراد ہے؟
امام سجاد(ع) کا کردار اور انقلابی حکمت عملی
امام جواد علیہ السلام کے اقوال زریں

 
user comment