اردو
Monday 18th of January 2021
529
0
0%

عصر حاضر ميں خواتين كي زندگي كي بنيادي ضروريات اور جناب زہرا(س) كي حيات طيبہ كے ساته اس كا رابطہ!

"يا ايّها الذين آمنوا عليكم انفسكم لايضرّكم من ضل اذا اهتديتم۔۔۔" يہ آيت انسان كو خودشناسي كي دعوت دے رہي ہےكيونكہ خودسازي كي بنياد خودشناسي ہے۔ اگر انسان اپنے آپ كو پہچان لے تو يقينا اس نے اپنے خدا كو بهي پہچان ليا ہے"مَن عَرف نَفسہ فقدعَرف ربّہ"اور انسان اسي كے سايہ ميں اس حيات حقيقي ميں قدم ركهتا ہے جسے پيغمبراسلام نے اس كے لئے پيش كيا ہے"ياايّهاالذين آمنوا استجيبواللہِ وللرّسولِ اذا دعاكم لمايُحييكم"جب انسان مكمل طور پر حيات حقيقي كا خوگر بن جائے تو اس كاكمال، كمال مطلق كي جانب طے ہو گا كيونكہ كمال كي آخري منزل "سير بالحق في الحق" ہے ۔جناب زہرا(س) انسانيت كا مكمل نمونہ تهيں آپ سلام اللہ عليها نے قناعت، حجاب، حياء ، عدالت اور ولايت كے دفاع جيسي صفات كے ذريعہ اسلام ، رسالت كي حمايت كرتے ہوئے دشمنوں كا مقابلہ كيا۔ جناب زہرا(س)كو معلوم تها كہ آج بشريت كي نجات رسول خدا كے ہاتهوں ميں ہے اور آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم كے احباب وانصار بهي قلت ميں ہيں لہذاجہالت وناانصافي كے موج زن دريا ميں كشتي اسلام كے ناخداكي مددكرنا ضروري ہے۔كبهي شعب ابي طالب ميں راتيں گزاريں اور بچگانہ كهيل كود كے بجائے محرومين كي فريادرس بن گئيں، شعب ابي طالب كے بعد كوچوں اور گليوں ميں اپنے پدر گرامي كے ہمراہ راستے طے كئے اورمشركين كے آزارواذيت كا مقابلہ كرتے ہوئے اپنے والد محترم كي حمايت كي اور اپنے ننهے ننهے ہاتهوں سے رسول اسلام كا چہرہ مبارك صاف كيا اور ہر ممكنہ صورت ميں خود پسندوں كا مقابلہ كيا۔ہميں مال وشہوت كے جال سے انسان كي آزادي كي فكر ہونا چاہئے اور اسے بلند مقصد كي جانب ہدايت كرناچاہئے جناب زہرا(س) كا كردارہردور كے لئے ہديہ ہے آج ہميں بهي آپ سلام اللہ عليها كے كرداركو نمونہ عمل بنانا چاہئے ، ہمت وپائداري كے ساته اسلام كي حمايت كرناچاہئے ،ہميں اپنے قلم كو اسلحہ بناناہوگا اور دشمنوں كي ثقافت كا جواب دينا ہوگا،ہميں رہبر سے الہام ليتے ہوئے ان كے الہامات پہ عمل پيرا ہوناچاہئے اور ہم مفيد مطالعہ كو اپنا لذيذ كهانا بناڈاليں، اپني عقلي توانائي سے مستفيد ہوتے ہوئے تقويٰ الہي كو زادسفر بناناچاہئے اور معرفت كے دريا ميں غوطہ ور ہوجائيں تاكہ ساحل نجات تك پہونچ پائيں۔حضرت فاطمہ سلام اللہ عليها كو عبادت كاكتنا شوق تها،آپ سلام اللہ عليها نے اپني خلقت كے مقصد كو پہچان لياتها ،اپنے معبودكي حقيقت اپنے وجود ميں پالي اور آپ سلام اللہ عليها نے يہ پاليا كہ ميري حقيقت كچه بهي نہيں اور وہ سب كچه ہے۔"يااَيّهاالذين آمنوا انتُم الفُقَراء الي اللہ واللہ هو الغني الحميد" آپ سلام اللہ عليها كئي گهنٹے اپنے پروردگاركي محبت ميں نماز ميں مشغول رہتي تهيں، پاؤں كي سوزش فراموش كرديتي تهيں اور نور كي جانب اپني روح كے پرواز كے نتيجہ ميں اپنے دردوں كا علاج كرتي تهيں اور سكون حاصل كرتي تهيں۔آپ مكمل طور پر خدا خواہ بن گئيں اور خود خواہي كو فراموش كرديا۔ جب آپ سلام اللہ عليها سے سوال كياگيا كہ آپ اپنے لئے دعا كيوں نہيں كرتيں ؟توآپ سلام اللہ عليها نے جواب ديا كہ "الجار ثم الدار"۔آپ سلام اللہ عليها نے عبادت كے نتيجہ ميں اپنے لئے رحمت الٰہي كے دروازے كهولے اور سعادتوں كي عظيم منزلوں كو طے كرتے ہوئے قرب الي اللہ كي منزل پہ فائز ہوئيں اور عرش والے بهي آپ سلام اللہ عليها كے نور سے فيضياب ہوئے ۔آپ سلام اللہ عليها بارگاہ خدا وندي ميں كيسے مقرب بن گئيں ؟ كيونكہ نماز ايك ايسا عامل ہے جس كے ذريعہ انسان نظم وترتيب كاسليقہ سيكهتا ہے ، فخر وغرور كے بت ٹوٹ جاتے ہيں اور اضطراب دور ہوجاتا ہے ۔نماز انسان كے وجودكي گہرائيوں ميں اس قدر نفوذ كرتي ہے كہ نہ صرف اس كي روح بلكہ اس كي پوري زندگي كو معنوي جلوؤں سے لبريز كر ديتي ہے جناب زہراسلام اللہ عليها كي نماز نے انہيں "زہرا" بناياتهااور نماز ہي اسلام كي محكم بنياد ہے ۔

۱۔حضرت زہرا سلام اللہ عليها كاحجاب:اسلام كا بچپنا ہے اور ابهي اس نے زمانے كي سرد وگرم فضا كو محسوس نہيں كيا ہے اور اپنے رشد كے لئے اسے علي كے صبر اور زہراسلام اللہ عليها كي تدبير كي ضرورت ہے۔زہرا سلام اللہ عليها نے اسلام كي حمايت كي خاطر مكہ مكرمہ ميں ايك روش سے كام ليا اور پهر مدينہ ميں جاكر انسان سازي كے پہلو پہ زور دياآپ سلام اللہ عليها كو معلوم تها كہ معاشرہ انسان ساز ہے اور معاشرہ كي بنياد گهر ہے۔ آپ سلام اللہ عليها اپني پاك سيرت كے ذريعہ تمام اسوہ تلاش كرنے والوں كے لئے حقيقي اسوۂ حسنہ بن گئي، علي عليہ السلام جب سفر سے لوٹتے ہيں تو آپ سلام اللہ عليها خوبصورت لباس ميں معطر ہوكر زينت كے ساته ان كے استقبال كے لئے جاتي ہيں ليكن وہي زہراسلام اللہ عليهانابينا كے سامنے حجاب اوڑه كرتشريف لے جاتي ہيں، خطبہ فدك پڑهنے كي غرض سے حيا وشرم كے پيكر ميں مسجد ميں حاضر ہوئيں اور اپني عفت وپاكدامني كو محفوظ ركها، عرب كے رواج كے برخلاف موت كے بعد آپ سلام اللہ عليها كي چاہت كے مطابق آپ كو ايسے تابوت ميں ركها جو مكمل طور پر جسم كو ڈهانپے ہوئے تهااور موت كے بعد بهي آپ سلام اللہ عليها نے اپنے گوہر وجود كو حجاب اور عفت كے پردے ميں ركها۔وہ لوگ جنہوں نے ايسے اسوۂ حسنہ كو فراموشي كے حوالے كرديا اور آپ سلام اللہ عليها كي سيرت كو ترك كرديا،انہوں نے جس چيز كوقيمتي شمار كيا وہ بے قيمت نكلي اور جس چيز كي انہيں آرزو تهي وہ بهي نہيں ملي۔وہ منحوس قلعہ ميں بند ہوكر رہ گئے ،ان كي توہين كي گئي اور ان سے غلط فائدہ اٹهايا گياليكن جناب زہرا سلام اللہ عليها نے تمام ذلتوں سے جنگ كي اور عورت كو سكها ديا كہ حجاب ميں عورت محفوظ ہے اور حجاب ممانعت ايجاد نہيں كرتا۔آپ سلام اللہ عليها نے عورت كي شخصيت كو سربلند كيا اوراپني عزت كے نتيجہ ميں پورے معاشرے كو عزت بخشي۔

۲۔حضرت زہراسلام اللہ عليها كي قناعت اور دنياوي زرق وبرق سے پرہيز:آپ سلام اللہ عليها قناعت كا محور تهيں اور گهر ميں كبهي بهي فضول زيور وزينت كو سہارا نہ بنايا،آپ سلام اللہ عليها نے مسلمانوں كے امور كا اہتمام كيا اور اپنے والد محترم كي رفتار سے سمجه گئيں كہ دروازے پہ لٹكے ہوئے نئے پردے اور چاندي كے دستبند سے پرہيز كريں اور انہيں مسلمانوں كي راہ ميں خرچ كريں۔آپ سلام اللہ عليها نے اپنے اس عمل كے نتيجہ ميں حكومت اسلامي كے اقتصاد كو مضبوط كيا اور باارزش آثار كا منشاء قرار پائيں۔اولاً:اس روش كے نتيجہ ميں تمام مسلمانوں كو برابر حصہ ملے گا۔ثانياً:اگر قناعت سے كام لياجائے توظالمين بهي استقلال وخود كفائي كا راستہ اختيار كرنے پہ مجبور ہوجائيں گے اور جب وابستگي كا خاتمہ ہوجائے گا تو اس كا ايك پہلو جسے ثقافتي وابستگي كہاجاتاہے وہ بهي ختم ہوجائےگا ليكن اگر اس كے برخلاف ہوا تو وہ دن اسلام كو سلام كہہ دينے كا دن ہوگا اور عورت كے حقوق واقدار كو بهي سلام كہنا ہوگاكيونكہ معاشرے ميں بے انصافي ،حيوانيت ، عورت كي توہين وغيرہ حاكم ہے البتہ يہ تمام امور بيروني افراط طلبي كا نتيجہ ہيں ليكن اس كے داخلي اثرات كيا ہيں ان كا اندازہ نہيں لگايا جاسكتا۔اگر انسان كے اندر افراط طلبي كي روح پهونك دي جائے تو طمع كا بازار گرم ہوجاتا ہے اور حسد كا بول بالا ہوتا ہے لہذا انسان كو جس چيز كي چاہت ہوتي ہے اسے فراہم كرنا ضروري ہے ورنہ اس كي زندگي مشكلات كا شكار ہوجاتي ہے ، افراط طلبي آتش حسد كو شعلہ وركرتي ہے وہ افرادجو افراط طلبي كے پيچهے ہوتے ہيں ان كاكوئي حقيقي دوست نہيں ہوتااور بعض اوقات انہيں اس مسئلہ كا دكه بهي ہوتا ہے گزشتہ مطالب ميں جو كچه بيان كيا گيا ہے وہ افراط طلبي كے باواسطہ وبلاواسطہ اثرات ہيں اور انسان كے عقيدہ كا منبع قرارپاتے ہيں، عورت نے خود بهي كافي مقدار ميں ان مشكلات كو ايجاد كرنے ميں اہم كردار ادا كيا ہے۔

۳۔حضرت زہراسلام اللہ عليها اور ولايت كي حمايت:وہ چيز جو انسان كو جستجو كي جانب لے جاتي ہے وہ اس كي آرزو ہوا كرتي ہے اور اميدوں سے لبريز معاشرے پہ مبني عقيدہ، انسان كا مددگار ثابت ہوتا ہے كہ جس كے بلند مقاصد كي خاطر حتي اپنے عزيزوں كو بهي قربان كرديتا ہے، اس اہم امر ميں مرد وعورت دونوں اہم كردار پيش كرتے ہيں۔جناب زہرا سلام اللہ عليها ان مثالي خواتين ميں سے ہيں كہ اگر وہ معركہ ميں حاضر نہيں تو پشت معركہ علي كے زخموں كا مرحم ہيں اور آپ سلام اللہ عليها ان كي شمشيركو معرفت كے شفاف پاني سے دهلتي ہيں جناب زہرا سلام اللہ عليها كي اپني شوہر كي حمايت ايك طويل داستان ہے جو مدينہ كي خاك ميں سمائي ہوئي ہے اور اس شہر كے ہر درخت كے ميوؤں ميں اسے پايا جاسكتا ہے۔ولايت كے سلسلے ميں آپ سلام اللہ عليها كا عقيدہ اتنامحكم تها كہ آپ سلام اللہ عليها نے ايك لمحہ كے لئے بهي ولايت كي حفاظت وحمايت كو ترك نہ كياآپ سلام اللہ عليها كو معلوم تها كہ ذلت كے بهنور سے انسانيت كي منجي ولايت ہي ہے ،اسي وجہ سے آپ سلام اللہ عليها نے ولي كے حق كو برملا كرنے كے لئے مسجد ميں خطبے پڑهے اور راتوں كواہل مدينہ كے گهروں ميں تشريف لے گئيں ،غاصبين فدك سے فدك واپس لينے كي خاطر معاذ بن جبل سے مدد طلب كي ليكن كسي نے بهي آپ سلام اللہ عليها كي مدد نہ كي اور اس دلنشين كلام كي گونج اب بهي آپ سلام اللہ عليها كے گوش مبارك سے ٹكرا رہي ہے كہ "قل اِنّما اعظكم بواحدۃ ان تقوموا للہ مثنيٰ وفراديٰ "اسي وجہ سے آپ سلام اللہ عليها نے اپني جان قربان كرتے ہوئے اپنے رہبر كے لئے آساني سے جان دے دي ،دروديوار كے درميان دب كر جانباز بن گئيں اور مظلوميت كے عالم ميں طمانچہ كهايا، علي كے ساته غاصبين حكومت كي بيعت كے وقت اپنے شوہر كي اطاعت كرتے ہوئے مخالفين كے حق ميں بددعا نہ كي ، گهر لوٹ آئيں اور فرمايا:" اِذاً ارجع واصبر واسمع لہ واطيع" گويا زمانے كے لوگ علي اور زہرا(س) كو پہچانتے ہي نہيں تهے اس بنا پر آپ سلام اللہ عليها نے خاموش جنگ (گريہ )"بيت الاحزان" كا پہلو اختيار كرتے ہوئے بقيع كے دروازہ كا انتخاب كيااور گريہ كے اسلحہ كے ذريعہ اپني مظلوميت كو ثابت كيااور بيماري كے عالم ميں اپنے حق پہ جفا كاروں كو ملاقات كي اجازت نہ دي ليكن علي نے جب شفاعت كي تو قبول كرليا، تغسيل وتدفين اور نماز ميں، حقو ق پامال كرنے والوں كو شركت كي اجازت نہ دي ۔غاصبين كے سامنے اس طرح كا شديدرد عمل ذہن انسانيت ميں اس مقدر سوال كا جواب ہے كہ "ولي" كسے كہتے ہيں اور ولايت كيا چيزہے كہ جناب زہرا(س) نے اپنے پورے وجود كے ساته اس كي حمايت كي "ولي" يعني معاشرے كا باپ۔ بچوں كي خوراك ، پوشاك،سكونت، اور تعليمي ذرائع كا ذمہ دار باپ ہوتا ہے اور بيٹے كا فرض ہے وہ صالح باپ كے فرامين پہ عمل پيرا ہو اور اس راستہ ميں اپني خوراك ، سونے اور جاگنے سے صرف نظر كردے۔ جناب زہرا(س) كو معلو م تها كہ علي، ولي اور اسلامي معاشرے كے باپ كي حيثيت سے ہيں اور اسلامي معاشرہ دينداري اور سعادت كا محتاج ہےاور علي معاشرے كے افراد كي روحي اور مادي ضروريات كو پورا كرناچاہتے ہيں حتيٰ ان كي مصلحت كو مد نظر ركهتے ہوئے تلخ سكوت كو اختيار كر ليتے ہيں اور انگشت شمار حاميوں ميں صرف زہرا(س)آپ كي حقيقي حامي ہيں۔ جناب زہرا(س) رہبر كي مطيع ہيں اگر رہبر كہے كہ لوٹ جاؤ تو لوٹ جاتي ہيں اگر كہے صبر كرو تو صبر كرتي ہيں جب تك طاقت نے ساته ديا تو ہر جگہ علي كے ساته رہتي ہيں اور جب بيماري كے عالم ميں زندگي بسر كررہي ہوتي ہيں تواپني روحي طاقت كا استعمال كرتي ہيں، حتيٰ آپ كي شہادت بهي ہلچل مچاديتي ہے۔


source : http://www.ahlulbaytportal.com
529
0
0%
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

حضرت امام مہدی علیہ السلام کے نسب کے بارے میں احادیث
معصومین علیہم السلام کی چالیس حدیثیں والدین کے ساتھ ...
امام مھدی عج کےظھور کی علامات
اهل بيت عليهم السلام کے کلام ميں بي بي معصومہ س
فاطمہ زہرا (س) عالم کے لئے نمونہ عمل
کیا 27 رجب کی رات رسول اللہ(ص) کی معراج کی رات تھی یا ان ...
قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ...
فضائل حسین اور عظمت کربلا
قرآن مجید میں علی (ع) کے فضائل
چهارده معصومین (ع) کی امامت

 
user comment