اردو
Monday 24th of January 2022
534
0
نفر 0

امیرالمومنین (ع) کی وصیتیں اور ہدایات

امیرالمومنین علیہ السلام کے کلام کا آغاز واختتام تقوی کی وصیت پر مبنی ہے ۔ آپ فرماتے ہيں ؛ میرے بچو: اللہ کی راہ میں الہی معیارات پر قا ئم و دائم رہو۔ ہوشیار رہو؛"تقوی اللہ یعنی " یعنی یہ ۔ اللہ سے ڈرنےکی بحث نہيں ہے ،جو بعض لوگ تقوی کے معنی اللہ سے ڈرنے کے کرتے ہيں ۔ خشیت اللہ اور خوف اللہ کی بھی اپنی قدرو منزلت ہے ۔ لیکن یہ تقوی ہے۔ ۔تقوی یعنی ہوشیار اور متوجہ رہوکہ جو بھی عمل آپ سے سرزد ہووہ اس مصلحت کے مطابق ہو جو اللہ تعالی نے آپ کیلۓ مد نظر رکھی ہے تقوی کوئی ایسی چیز نہیں ہے جسے کوئی ایک لمحے کیلۓ چھوڑ دے۔اگر رہا کر دیا تو جان لو کہ راستہ پھسلنے والا ہے ، کھائياں گہری ہیں ،پھسل جائيں گے اور گر جائيں گے۔ یہاں تک کہ ہمیں کوئی سہاراملے کو ئی پتھر ، درخت اور کوئي جڑ ہمارے ہاتھ لگے، اور ہم خود کو اوپر اٹھا سکیں۔" ان الذین اتقوا اذا مسھم طائف من الشیطان تذکروا فاذاھم مبصرون۔"(اعراف آیت ( 201) جو لوگ متقی ہیں جب شیطان کی طرف سے کوئی خیال چھونا بھی چاہتا ہے توخدا کو یاد کرتے ہیں اور حقا ئق کو یاد کرتے ہیں ۔شیطان تو ہمارا پیچھا چھوڑنے والا نہیں ہے لہذا پہلی وصیت تقوی ہے ۔

تقوی کیلۓ کی ضروری ہے کہ دنیا کے پیچھے نہ بھاگا جاۓ ۔ تقوی اور ہی چیز ہے ؛ وان لا تبغیا الدنیا و ان بغتکما"دنیا کے پیچھے نہ بھاگو اگر چہ دنیا تمھارے پیچھے پیچھے لگی ہو ۔ یہ دوسرا نکتہ ہے ۔یہ بھی تقوی کےلوازمات ہیں ۔ البتہ تمام نیک کام تقوی کے لوازمات میں ہیں۔ان میں سے ایک بلاشبہ دنیا کے پیچھے نہ دوڑنا ہے ،یہ نہیں کہا ہے کہ ترک دنیا کرلو ۔ ارشاد ہوا ہے ، لا تبغیا ۔دنیا کے پیچھے پیچھے نہ چلو ۔ طلب دنیا میں نہ رہو،ہماری فارسی تعبیر میں یہ معنی ہوتے ہیں کہ دنیاکے پیچھے نہ دوڑو۔ دنیا طلبی کا مطلب ، روۓ زمین کو آباد کرنا ،اور الہی ذخائرو ثروت کوزندہ کرنا نہیں ہے دنیا طلبی کا مطلب یہ نہیں ہے، اس کیلۓ نہیں روکا گیا ہے ۔ دنیا یعنی جو آپ اپنے لیۓ اپنی خواہشات نفس کیلۓ اپنی ہوا و ہوس کیلۓ چاہتے ہیں ۔ اسے دنیا کہتے ہیں ۔ورنہ روۓ زمین کو نیک مقصد کے تحت اور انسانیت کی فلاح کیلۓ آباد کیا جائے تو یہ عین آخرت ہے ، یہ بلاشبہ اچھی دنیا ہے ۔جس دنیا کی مذمت کی گئ ہے اور جس سے روکا گيا ہے وہ ، وہ دنیا ہے جو ہماری توانائیوں کو، ہماری کوششوں کو، ہماری ہمت کو اپنی طرف متوجہ کرلیتی ہے اور ہمیں راستے سے بھٹکا دیتی ہے ۔ہماری خود پسندی ،ہماری خود پرستی ، دولت کو صرف اپنے لیۓ چاہنا اور اپنے لیۓ لذتوں کا حصول ایسی دنیا قابل مذمت ہے ۔البتہ اس دنیا میں کچھ چیزیں حرام ہیں اور کچہ چیزیں حلال ہیں ایسا نہیں ہےکہ ہر چیز کی اپنے لیۓ طلب حرام ہے ۔ نہیں: حلال بھی ہیں ۔لیکن تمام حلال چیزوں کی طرف جانے سے بھی روکا گيا ہے۔ اگر دنیا کے معنی یہ ہیں تو حلال بھی بہتر نہیں ہے۔ مادی زندگی کے مظاہر کو اللہ کیلۓ قرار دو ، اسی میں نفع اور فائدہ ہے ۔اور یہی آخرت کے معنی ہیں۔تجارت بھی اگر عوام کی زندگی کو بہتر بنانےکیلۓ ہو ،اپنےلیۓدولت و ثروت اکٹھاکرنےکیلۓ نہ ہو،تو عین آخرت ہے ۔ دنیا کے دوسر تمام کام بھی اسی طرح ہیں ۔

چنانچہ دوسرا نکتہ یہ ہے کہ دنیا کے پیچھے نہ دوڑواور طلب دنیا میں ہی نہ پڑے رہوامیرالمومنین نے اس وصیت میں جو فرمایا ہے وہ اس کیلۓآینۂ تمام نما ہے ۔آپ اگر حضرت علی علیہ السلام کی زندگی پر ایک نگاہ ڈالیں گے تو وہ انھیں جملوں کا خلاصہ ہے جو آپ کی مختصر سے وصیت میں آيا ہے ۔"ولاتاسف شيءمنہا زوی عنکما"اگراس دنیاء مذموم سے تمھیں کچہ نہ ملا ہو اور تم سے دریغ کیا گیا ہو،تو افسوس نہ کرو۔ اگرکوئی عہدہ ، کوئی دولت ،کوئی اسباب فلاح تمھیں حاصل نہ ہوا ہو تو افسوس نہ کرو،یہ تیسرا جملہ۔اور اس کے بعد کا جملہ ہے ،"قولا بالحق" یا اصلی نسخے کے مطابق "وقول الحق " کوئی فرق نہیں پڑتا ،معنی یہ ہیں کہ حق کہو ، حق کہو اور اسے نہ چھپاؤ،اگر آپ کی نظرمیں کوئی چیز آپ کی نظرمیں حق ہے تو اسے جہاں بیان کرنا چاہۓ بیان کیجۓ، حق کو چھپاۓ نہ رہۓ،اس وقت جب زبانیں حق کو چھپائیں اور باطل کو آشکار کریں ، یا حق کی جگہ باطل کو قرار دیں،اگر حق دیکھنےوالے یا حق جاننے والے حق بولیں ، تو حق مظلوم نہیں رہے گا ،حق اکیلا نہیں پڑے گا ۔اوراہل باطل حق کو مٹانے کی ہمت نہیں کریں گے۔اور بعد کا جملہ ہے "و اعملا للآجر "جزا کیلۓ - یعنی الہی وحقیقی جزا و پاداش۔ کام کیجۓ۔اے انسان عبس اور بیہودہ کام نہ کر ،یہ تیرا کا م یہ تیری عمر یہ تیرا سانس لینا ، صرف تیرا سرمایہ ہے ۔

 اسے بلاسبب برباد نہ ہونے دے۔اگر عمر بسر کر رہے ہو ، اگر کوئی کام کر رہے ہو ، اگر سانس لے رہے ہو، اوراگر طاقت و توانائی خرچ کر رہے ہو ،تو یہ سب جزاء کیلۓ کرو ،جزاء و پاداش کیا ہے ؟کیا چند تومان انسان کے وجود کی جزاء وپاداش ہے؟کیا یہ اس زندگی کی پاداش ہے جو ہم خرچ کر رہے ہیں ؟ ہمارا کسی کو اچھا لگنا ،ایک انسان کی جزاء و پاداش ہے ؟جی نہیں ؛"فلیس لانفسکم ثمن الاالجنہ علی فلا تبیعوھا بھ غیرھا" ( نہج البلاغہ 456حکمت )یہ ،امام علی (ع) کا جملہ ہے جو آپ فرماتے ہیں کہ "الا حر یدع ھذاہ اللماظۂ لاھلھا؟ انھ لیس لانفسکم الا الجنہ فلا تبیعوھا الا بھا" کونا لظآلم خصما وللمظلوم عوناامام علی علیہ السلام فرماتے ہیں : وکونا لظالم خصماوللمظلوم عونا"ظالم کے خصم رہو ۔ خصم اور دشمن میں فرق ہے کبھی کوئي ظالم کا دشمن ہوتا ہے یعنی ظالم اسے برا لگتا ہے اور اس کا دشمن ہے ، یہ کافی نہیں ہے ۔"اس کے خصم رہو "یعنی "اس کے مد عی رہو"خصم یعنی ایسا دشمن جو مدعی ودعویدار ہے" ایسا دشمن جو ظالم کے گریبان کا پکڑے ہوۓ ہے اور اسے چھوڑ نہیں رہا ہے ۔

 امیرالمومنین علیہ السلام کے بعد سے آج تک انسانیت ظالموں کا گریبان نہ پکڑنے کی وجہ سے ، بدنصیب اور روسیاہ ہے۔ اگر ایماندار اور مومن افراد ظالموں اور ستمگاروں کا گریبان پکڑے ہوتے تو دنیا میں ظلم اس قدر آگے نہ بڑھتا، بلکہ وہ جڑ سے ختم ہوجاتا۔ امیرالمومنین(ع) یہ چاہتے ہیں ۔ کونا للظالم خشما"ظالم کے خشم میں رہودنیا میں چاہے جہاں بھی ظلم و ظالم ہو آپ یہیں سے اس کے دشمن رہیں اور خود کو اس کا دشمن سمجھیں۔ " میں یہ نہیں کہتا کہ ابھی اٹھ کھڑے ہو اور دنیا کے اس کنارے سے اس کنارے تک جاؤ اور ظالم کا گریبان پکڑ لو " میں کہتا ہوں " اپنی دشمنی و خصومت کا ضرور اظہار کردو۔جہاں بھی جس وقت بھی موقع ملے اس کے دشمن رہو اور اس کا گریبان پکڑ لو ، ایک وقت ایسا ہوتا ہے جب انسان ظالم کے پاس جاکر اظہا ر دشمنی بھی نہیں کر پاتا لہذا دور سے ہی اظہار دشمنی کرتا ہے آپ دیکھیں کہ آج امیرالمومنین علیہ السلام کی وصیت کے اسی ایک جملے پر عمل نہ کرپانے کی وجہ سے دنیا میں کس قدر مسائل پیدا ہوگۓ ہیں اور انسانیت کتنی بد نصیبی و تباہی کا شکار ہے۔ آپ دیکھیں قومیں بالخصوص مسلمان کتنا مظلوم ہے ،اگر امیرالمومنین (ع) کی اسی ایک وصیت پر عمل ہوا ہوتا تو ظلم کے نتیجے میں پیداہونے والی بہت سی مصیبتیں اورظلم کا وجود نہ ہوتا ،" وللمظلوم عونا " جہاں کہیں بھی مظلوم ہے اس کی مدد کرو ۔ یہ نہیں فرماتے کہ " اس کے حامی بنو " نہيں اس کی مددکرنی چاہۓ ،جتنی بھی اور جس طرح سے بھی مدد ہوسکتی ہے ۔ یہاں تک امیرالمومنین(ع) کی وصیت میں امام حسن اور امام حسین (علیھماالسلام )کو مخاطب کیا گیا ہے ۔

 البتہ یہ باتیں امام حسن اور امام حسین (علیھماالسلام) سے مخصوص نہیں ہیں ۔ انھیں مخاطب قرار دیا گیا ہے ۔لیکن سب کیلۓ ہے ۔امیرالمومنین علیہ الصلوت والسلام بعد کے جملوں میں عمومی وصیت فرماتے ہیں ۔" اوصیکما و جمیع ولدی" تم دونوں بیٹو اور اپنے تمام بچوں کو وصیت کرتاہوں "واھلی "اور تمام اہل و عیال کو " ومن بلغھ کتابی "اور ہر اس شخص کو جس تک میرا یہ خط پہنـچے۔ اس لحاظ سے آپ حضرات جو یہاں بیٹھے ہیں اور میں جو یہ وصیت آپ لوگوں کیلۓ پڑھ رہا ہوں ، ہم سب سےامیرالمومنین (علیہ السلام )کا خطاب ہے ۔" فرماتے ہیں تم سب کو وصیت کرتا ہوں " کس چیز کی ؟ پھر "بتقوی اللہ " ایک بار پھر " تقوی" امیرالمومنین علیہ الصلات و السلام کا پہلا اور آخری کلمہ تقوی ہے ۔"ونظم امرکم "یعنی زندگی میں جتنے بھی کام کرتے ہو اس ميں منظم رہو ، یعنی کیا؟یعنی زندگي میں جتنے بھی کام کرتے ہو، اس کو منظم طریقے سے کرو۔اس کے معنی یہ ہیں ؟

ممکن ہے یہی معنی ہوں۔ یہ نہیں فرمایا کہ "نظم امورکم" اپنے کاموں کو منظم کرو۔ فرمایا ہے " نظم امرکم وہ چیز جسے منظم ہونا چاہۓ " ایک چیز ہے " "نظم امور نہیں فرمایا ہے " فرمایا ہے "ونظم امرکم " انسان سمجھتاہے کہ یہ نظم کام ، تمام افراد کے درمیان ایک مشترکہ امر ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ " نظم امرکم " سے مراد اسلامی ولایت وحکومت اورنظام ہوگا۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ حکومت ونظام کے امور میں نظم و ضبط سے کام لو،۔۔۔۔۔وصیت کے دوسرے حصے کی بنیاد عوام کے درمیان خلوص و یکجہتی پراستوار ہے ۔ فرماتے ہیں " صلاح ذات بین " یعنی ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہو ۔ دل ایک دوسرے سے صاف ہوں ، سب کے درمیان یکجہتی ہو اور تمھارے درمیان اختلاف و جدائی نہ ہو ۔آپ یہ جملہ جو ارشاد فرما رہے ہیں اس کےلۓ قول پیغمبر(ص) سےایک دلیل بھی لا رہے ہیں ۔ واضح ہے کہ اس پر بہت بھروسہ کرتےہیں اور اس سلسلے میں احتیاط سے کام لیتے ہیں ۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ "صلاح ذات بین " کی اہمیت نظم امر سے زیادہ ہے ؛ چونکہ صلاح ذات بین زیادہ نازک معاملہ ہے اس لۓ یہ عبارت پیغمبر (ص ) کی جانب سے بیان کرتے ہیں "فانی سمعت جدکما صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، یقول ؛تمھارے نانا کو یہ فرماتے ہوۓ سنا کہ " صلاح ذات البین افضل من عامۂالصلاۂ والصیام" عوام کے درمیان صلح اور میل جول کرانا تمام نماز و روزہ سے بہتر ہے ؛ فرماتے ہيں ہر نماز وروزہ سے بہتر ہے ؛ آپ نماز و روزہ کی فکر میں ہيں لیکن ایسا بھی کام ہے جو ان دونوں سے بھی بہتر ہے ، اس کی فضیلت زیادہ ہے ۔ وہ کیا ہے ؟وہ " اصلاح ذات البین ہے " اگر آپ نے دیکھا کہ امت مسلمہ میں کہیں اختلاف و تفرقہ ہے تو جايۓ اور جاکر اسے حل کیجۓ ،اس کی فضیلت نمازو روزہ سے زیادہ ہے ۔

یتیموں کی خبرگیری : یہ جملہ ارشاد فرمانےکےبعد مختصر فکرانگیز دلسوزجملے ارشاد فرما رہے ہیں " وا للہ اللہ فی الایتام"یعنی اے میرے مخاطبین : اللہ اللہ یتیموں کے بارے میں " اللہ اللہ کا فارسی میں ترجمہ نہیں کیا جا سکتا ہمارے پاس فارسی زبان میں اس کا کوئی متبادل ہے ہی نہیں ،اگر اس کا ترجمہ کرنا چاہیں تو کہیں گے کہ " تمھاری قسم اور خدا کی قسم یتیموں کے بارے میں" یعنی یتیموں کیلۓ جو کچھ بھی کر سکتے ہو کروکہیں ایسا نہ ہوکہ انھیں فراموش کر دو،بہت اہم ہے ۔آپ دیکھیں کہ یہ ہمدرد ماہرنفسیات خداشناس انسان شناس ،کس قدر باریک نکا ت کی طرف اشارہ کر رہا ہے ؛ جی ہاں ؛ یتیموں کا خیال رکھنا صرف ایک ذاتی رحم و کرم اور معمولی جذبہ نہیں ہے ۔ ایسا بچہ جس کا باپ مر چکا ہے ایسا انسان ہے جس کی ایک بنیادی ضرورت پوری نہیں ہو رہی ہے ، اور اسے باپ کی ضرورت ہے ،اس کی کسی نہ کسی طرح تلافی کیجۓ ۔ اگر چہ اس کی تلافی نہیں کی جاسکتی ،لیکن ہوشیار رہنا چاہۓ کہ یتیم جوان نوجوان یا بچہ کہیں تباہ نہ ہو جاۓ۔" واللہ اللہ فی الایتام ۔ فلا تغبو افواھھم " کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ بھوکے رہ جائيں ؛ ایسا نہ ہوکہ کبھی انھیں کچھ مل جاۓ اور کبھی خالی ہاتھ رہ جائيں، "لاتغبو " کے معنی یہ ہیں۔ ضروریات زندگی کے لحاظ سے ان کا خیال رکھۓ۔ " ولا یضیعو بحضرتکم " کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ لوگ تنہا رہ جائيں اور تمھارے ہوتے ہوۓ ان پر کوئی توجہ نہ دی جاۓ، اگر موجود نہی ہو ، تو بے خبر ہو؛ لیکن ایسا نہ ہو کہ تم موجود ہو اورایک یتیم - کوئی بھی یتیم - بے توجہی و لاپرواہی کاشکار ہو جاۓ ۔ایسا نہ ہو کہ ہر شخص صرف اپنے کام میں لگ جاۓ اور یتیم بچہ تنہا رہ جاۓ۔

پڑوسیوں کے حقوق کاخیال " اللہ اللہ فی جیرانکم " اللہ اللہ تمھارے پڑوسی ؛پڑوسی کے مسئلے کو معمولی نہ سمجھۓ۔بہت اہم معاملہ ہے ۔ ایک عظیم سماجی رابطہ ہے جس پر اسلام نے توجہ دی ہے اور انسانی فطرت کے مطابق ہے ۔لیکن فطرت انسانی سے دور تہذیبوں کے پیچ و خم میں یہ قدریں گم ہوکر رہ گئي ہیں ۔ آپ کو اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنا چاہۓ ، نہ صرف مالی و معاشی لحاظ سے، البتہ وہ بھی اہم ہے -بلکہ تمام انسانی پہلؤوں سے ۔اس وقت آپ دیکھیں گے کہ سماج میں کیسی الفت و محبت پیدا ہوتی ہے ، اور کس طرح لاینحل مسائل حل ہوتے ہیں،" فانھم وصیھ نبیکم " یہ پیغمبر(ص) کی وصیت ہے کہ " مازال یوصی بہم حتی ظنا انھ سیورثھم" پیغمبر نے پڑوسیوں کیلۓ اتنی زيادہ تاکید کی کہ ہم نے سمجھا کہ ان کیلۓ میراث معین ہوجاۓ گی ۔

اللہ اللہ فی القرآن اللہ اللہ قرآن میں ۔ " لا یسبقکم بالعمل بہ غیرکم"ایسا نہ ہو کہ جو قرآن پر ایمان نہیں رکھتے قرآن پر عمل کرکے آگے بڑہ جائيں اور تم جو ایمان رکھتے ہو عمل نہ کرو اور پیچھے رہ جاؤ۔ یعنی یہی جو ہوا ہے ،وہ لوگ جو دنیا میں آگے بڑھے اور ترقی کی ، وہ مسلسل کام کرکے ، پے درپے کاموں میں مصروف رہ کرکے ، اچھی طرح سے کام انجام دے کر کے ، ان صفات کو اختیار کرکے جو خدا پسند کرتاہے آگے بڑھے ہیں ، اپنی برائيوں سے نہیں ،اپنی شراب خوری سے نہیں یا اپنے مظالم کے ذریعے نہيں۔۔۔۔

مسجد کے خالی نہ رہنےکے بارے میں ۔ واللہ اللہ فی بیت ربکم " لاتخلوہ مابقیتم "مسجد ویران نہ رہنے پاۓ " فانہ ان ترک لم تناظروا" اگر مسجد چھوٹے گی تو تمھیں مہلت نہیں دی جاۓ گی ( یا زندگی کا امکان نہیں ملے گا) اس عبارت کے مختلف معنی کۓ گۓ ہیں۔

جہاد فی سبیل اللہ کو نہ چھوڑنا ۔ " و اللہ اللہ فی الجہاد باموالکم و انفسکم والسنتکم فی سبیل اللہ "یعنی اللہ جہاد کے بارے میں ۔ ایسا نہ ہوکہ تم راہ خدا میں جان مال اور زبان سے جہاد ترک کردو۔یہ جہاد وہی جہاد ہے جو جب تک امت مسلمہ میں موجود تھا وہ دنیا کی مثالی قوم تھی اور جب اسے چھوڑ دیا ، ذلیل و خوار ہوگئي۔۔۔۔جہاد اپنی اسی اسلامی شکل میں - کہ جس کے کـچھ حدود و شرائط ہیں - ظلم نہیں ہے ۔ جہاد میں انسانوں کے حقوق کوپامال نہیں کیا جاسکتا جہاد بہانہ بازی اور اسے اُسے قتل کرنا نہيں ہے ۔ جہاد میں کہیں یہ نظر نہیں آتا کہ جو مسلمان نہ ہو اسے ختم کردو ۔جہاد ایک الہی حکم ہے جس کی بہت عظمت ہے ۔ اگر جہاد ہوگا تو قومیں سربلند ہوں گی ۔اس کےبعد ارشاد فرماتے ہیں "و علیکم التواصل والتباذل " ایک دوسرے سے رابطہ رکھو ۔ ایک دوسرے کی مدد کرو ۔ عطا بخشش کرو ۔ " وایاکم بالتدابر والتقاطع" ایک دوسرے کا ساتھ دینا نہ چھوڑو۔ قطع رحم نہ کرو ۔ " لا تترکوا الا مر بالمعروف والنھی عن المنکر " امر بالمعروف و نہی عن المنکر ہرگز ترک نہ کرو کیونکہ اگر ترک کردوگے " فیولی علیکم شرارکم " جہاں نیکیوں کی طرف بلانےوالا اور برائیوں سے روکنے والا نہیں ہوتا وہاں اشرار اور برے افراد برسر اقتدار آجاتے ہيں اور حکومت کی باگ ڈور اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں ۔ " ثم تدعون " پھر تم نیک لوگ دعا کروگے کہ خدایا ، ہمیں ان برے لوگوں سے نجات دے ،" فلا یستجاب لکم "پھر خدا تمھاری دعا پوری نہیں کرے گا


source : http://rizvia.net
534
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

تربیت اولاد اور فاطمہ
امّ البنین مادر ابوالفضل (ع)
شب قدر کا امام زمانہ (عج) سے رابطہ
امام حسین علیہ السلام اور تقیہ
حضرت امام باقر (ع) کے دور میں علوم اھلبیت علیھم ...
حضرت محمد (ص) پر صلوات پڑھتے وقت کيوں آل کا اضافہ ...
جناب سیدہ (س) تمام فضائل کا مجموعہ
امام حسین علیہ السلام صفات الہیہ کا مظہر
امام جعفر صادق عليہ السلام کا دور
عزاداری کیوں؟

 
user comment