اردو
Wednesday 22nd of September 2021
302
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اکثر بڑے انقلابات صاحبان علم کی فکروں کا نتیجہ

حوزہ علمیہ اوریونیورسٹی کے درمیان ارتباط ایک مبارک شئے ہے جسکے نتیجے بہت ہی اچھے سامنے آرہے ہیں اسکے بر خلاف معاشرہ پراثرانداز ہونے والے ان دو رکنوں میں جدائی بہت ہی بڑے نقصان کا سبب بنتی ہے ۔

اس طرف توّجہ دینے اور اس نیک ارتباط کو بر قرار رکھنے کے لئے انقلاب اسلامی سے پہلے حوزئہ علمیہ اور یونیورسٹی دونوں طرف کے بہت سے لوگ اس کام میں فعّال تھے اور اس مسئلہ کی اہمیت کو محسوس کرتے تھے اور اسکی اسٹراٹجی اہمیت کی وجہ سے ہمیشہ یہ کوشش کرتے تھے کہ یہ وسیع اور مستحکم رابطہ برقرار رہے ۔

مختلف بے نظیر شخصیات جیسے شہید بہشتی؛شہید مطّہری؛شہید مفتّح؛ڈاکٹر باہنر اور دوسرے دور اندیش عالموں کا یونیورسٹی میں آنا انکی روشن بینی اور تیز نظری کی علامت اوراس ارتباط کو بڑھانے میں اہم قدم تھا،یونیورسٹیوں کے ایسے متعدداساتید کی بھی نشان دہی کی جاسکتی ہے جن لوگوں نے اس ارتباط کی ضرورت اور اہمیت پر اعتقاد رکھتے ہوئے اس ضمن میں بہت کوشش کی ہے یہ کوششیں انقلاب اسلامی کی کامیابی اوریونیورسٹی اور حوزہ کے درمیان اتحادکے نعرے کے بعدجوکہ انقلاب اسلامی کے معمار بزرگ حضرت امام خمینی کی طرف سے دیا گیا تھا بہت وسیع ہو گئیں، اگر چہ اس وقت بھی اس راستے میں بہت سی رکاوٹیں اور مشکلات ہیں نیز منزل مقصود تک پہونچنے کے لئے راستے میں بہت سے مشکلات پائے جاتے ہیںلہٰذا پہلے ان کو دور کیا جائے لیکن پھر بھی چشم دید تجربے اس بات کو بتاتے ہیں کہ ان دونوں صنفوںیعنی حوزہ اور یونیورسٹی کے درمیان نزدیکی اور رابطہ جتنا زیادہ ہوگا]کیونکہ یہ دونوں محکم قلعے ہیں[ اور جس قدر دونوں صنف کے افراد کے خیال اور تفکّر نتیجے تک پہونچانے والے ہونگے وہ قوم کے لئے مفید ہوگا اور معاشرہ انکے فوائدسے مستفید ہوگا اسکے بر خلاف ان کے درمیان جدائی خود انکے اور معاشرہ دونوں کیلئے نقصان دہ ہوگی ۔

منجملہ ان لوگوں کے جنھوں نے برسوں پہلے سے اس رابطہ کی ضرورت اور اہمیت پر بہت زور دیا ہے مفکّر یگانہ، فقیہ بزرگ ،حضرت آیت.. مصباح یزدی دام ظّلہ ہیں، ثقافتی انقلاب کے سلسلے میں جو کہ انقلاب کے شروع ہی میں امام خمینی کے حکم سے انجام پایا تھا خود آقائے مصباح یزدی امام خمینی کے خاص معتمدین میں سے تھے اور اس تحریک اورپروگرام کو بنانے نیز اسے آگے بڑھانے کے لئے امام کی طرف سے آپ معےّن تھے ،یہ خود اس بات کی گواہی ہے کہ جناب استاد مصباح یزدی مختلف سالوں سے اس ارتباط پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں ۔اسی رابطہ کے ذیل میں ایک سال یا کچھ زیادہ وقت سے یونیورسٹی کے بعض متعہّد اور متفکّراساتیدنے ایک شعبہ اسی مقصدسے قائم کیا ہے منجملہ اور کاموں کے ایک ماہانہ نششت بھی آقائے مصباح یزدی کی موجودگی میں منعقد ہوتی ہے ان نششتوں میں اساتید جوعنوان پیش کرتے ہیں، استادمحترم انھیں عنوان پربحث اورگفتگوکرتے ہیں نششتوں کو منعقد کرنے والی تنظیم]شعبہ اساتید دانشگاہ علم وصنعت[کی یہ خوا ہش تھی کہ چونکہ یہ تقریریں علمی لحاظ سے بہت عمدہ ہیں نیز اس وقت معاشرہ کو اس کی ضرورت بھی ہے لہٰذا ن کو با الترتیب چھاپ کر لوگوں تک پہونچایا جائے خدا کا شکر ہے کہ اس وقت محمد مہدی نادری قمی ( جوکہ موسّسہ آموزشی اورپژوہشی امام خمینی کے رکن اور جناب استاد کے شاگرد بھی ہیں) کی کوششوں سے نو(٩)تقریروں کو کتاب حاضر کی شکل میں پیش کیا جارہا ہے امّیدہے کہ آئندہ بھی اس سلسلہ کوجاری رکھتے ہوئے ملک کے علمی ،ادبی ،اور ،وہ تمام افراد جو علم سے شغف رکھنے والے ہیں انکی خدمت میں یہ مطالب پیش کرتے رہیں گے ۔

ہماری بحث ذمہ داری اور مسئولیت کے بارے میں تھی جو مطالب میں نے پیش کئے اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو اور زیادہ محسوس کریں، اگر آپ توّجہ کریں تو دیکھں گے کہ جولوگ مختلف شعبوں میں کامیاب ہوئے ہیں اور دنیا کے مختلف حصّوں میں انقلاب لانے کا سبب واقع ہوئے ہیں نوے فیصد سے زیادہ افراد صاحبان علم ہیں یہ الگ بات ہے کہ وہ یونیورسٹی سے تعلّق رکھتے ہوں یادینی مدارس سے، اقتصادی،اجتماعی،سیاسی اوردینی نیزاسی طرح کے اور دوسرے شعبوں میں آپ اکثر دیکھں گے کہ شروع میں ایک شخص کی کوشش اورپلاننگ ہوتی ہے پھردھیرے دھیرے اس میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور آخر میں وہ بڑے انقلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہے ۔

ایسا نہیں ہے کہ یہ انقلاب اور تحوّل ہمیشہ مثبت اور مفید ہی رہا ہو ان میںمنفی اور مضر تحوّلات بھی پائے جاتے ہیں بہت سے ایسے تحوّلات بھی ہیں جو کہ اپنے اندر بہت ہی وسیع پیمانے پر فکری اوراخلاقی انحرافات کے حامل ہیں اور وہ انحرافات بہت ہی خطرناک حد تک پہونچے ہوئے ہیں، انھیں میں سے ایک انحراف جس کی طرف اشارہ کیا جا سکتاہے مغرب کاجنسی اور اخلاقی انحراف ہے جس کے قائل خود مغربی ممالک کے افراد ہیں کہ اس انحراف کا سبب جرمنی کا مشہور ماہر نفسیات ]زیگمونڈ فرویڈ[نے نفسیاتی بیماریوں کے اسباب و علل کو دیکھ کر نتیجہ نکالا کہ اس جنسی اور اخلاقی انحراف کا سبب جنسی خواہش کا کچلا جانا اور غریزئہ جنسی کا دبایا جانا ہے اور اس پر پہرے کے سبب یہ انحراف ہو رہا ہے اس نے تحلیل و تجزیہ کیا اور اس بیماری کی وسعت کو کم کرنے اور اس سے بچنے کے لئے یہ رائے پیش کی کہ سماج اور معاشرے میں پوری طرح سے جنسی آزادی ہونی چاہئے ۔

اگر چہ خود (فرویڈ) اس نظریہ کو ظاہر کرنے میں کوئی قصد و غرض نہیں رکھتا تھا لیکن پھر بھی بہر حال یہ نظریہ اس جنسی اور اخلاقی تنزّلی اورپستی کا باعث بنا جسکا ہم مغربی ممالک میں مشاہدہ کر رہے ہیں البتہ شہوت پرستی اور لوگوں کی ہوس رانی نیزغلط فائدہ اٹھانے والوں کی منفعت طلبی اور وقت سے فائدہ اٹھانے والوں کی کار فرمائیاں بھی اس چیز کے پھیلائو کا سبب بنی ہیں لیکن بہر حال پہلا قدم اسکے پھیلانے میں '' فرویڈ'' کا تھا، آج کل دنیا میں سب سے زیادہ فائدہ مند صنعت سیکس اور جنسی مسائل سے متعلّق ہے دنیا کی سب سے زیادہ بکنے والی فلمیں سیکسی فلمیں ہیں اور ٹی وی پر جو چینل سیکسی فلمیں نشر کرتے ہیں وہی چینل دنیا میں سب سے زیادہ دیکھے جاتے ہیں ان تمام انحرافات کی جڑ اسی ایک ماہر نفسیات کی فکر تھی۔

 

فکری فسادو انحطاط کے متعلق بھی مارکس ازم کے تفکرّات اور اسکے غم انگیز نتیجوں کی طرف اشارہ کیا جا سکتا ہے ستّر سال سے جو فلسفہ نصف کرئہ زمین پر حاکم تھا خود انھیں ملکوں اور جو لوگ ان ملکوں میں انکے پیرو تھے خود انھیں لوگوں کے اعتراف کے مطابق اسکے خطرناک نتائج سامنے آئے ،یہی مارکس ازم کانظریہ تھا جس نے لاکھوں بے دین اورر منکرین خدا کو پیدا کیا جو خدا اور دین سے شدّت جنگ کی ،نیز یہ نظریہ بھی ایک دوسرے جرمنی دانشور'' مارکس ''کا تھا یہ تو چند مضر اور نقصان دہ تحوّلات تھے،البتہ کچھہ مثبت اور فائدہ مند تحولات بھی علماء اور دانشوروں نے ایجاد کئے ہیں جن سے ہم کو غافل نہیں ہونا چاہئے انقلاب جمہوری اسلامی ایران بیسویں صدی کا مہم ترین تحوّل و انقلاب ہے جس کا دوست اور دشمن سبھی نے اعتراف کیا ہے یہ ایک مذہبی عالم آیت...امام خمینی کی فکروں کا نتیجہ تھا امام خمینیکی شخصیت ایک سے زیادہ نہیں تھی اور اسلحہ ،پیسہ وغیرہ کچھ بھی نہیں رکھتے تھے ان کے پاس صرف ایک بلند فکر تھی ایسی فکر کہ شروع میں تقریباً٩٩ فیصد خاص دوست ا ور احباب بھی یقین نہیں رکھتے تھے کہ یہ فکر عملی ہوجائے گی لیکن سبھی لوگ گواہ ہیں کہ اس شخص نے دنیا سے الگ ایک چھوٹے اور معمولی مکان میں بیٹھ کر مشرق و مغرب کی دو بڑی طاقتوں کو مبہوت کر دیا یہ ایسے عالم میں ہوا کہ امام نہ شہرت کے طالب تھے اور نہ ہی حکومت کے خواہاں، جبکہ یہ عام بات ہے کہ کوئی استاد درس پڑھا کر نکلتا ہے تو تمام شاگرد اسکے پیچھے پیچھے چلتے ہیں لیکن امام اس بات کی بھی اجازت نہیں دیتے تھے کہ کوئی انکے پیچھے چلے امام خمینی اگر کسی کو دیکھتے تھے تو اسکو منع کرتے تھے کہ وہ راستے میں انکے پیچھے پیچھے چلے، امام خمینی ایسے مرجع تھے کہ جنھوں نے بہت زمانے تک اپنے رسالہ عملیہ کو چھاپنے کی بھی اجازت نہیں دی اور جب اجازت دی تو اس شرط کے ساتھ کہ ایک پیسہ بھی سہم امام علیہم السلام کا اس میں خرچ نہ ہو میں خود اس بات کو جانتا ہوں کہ آپ کا رسالہ عملیہ کن لوگوں کے تعاون سے چھپا تھاآپ ایسی شخصیت تھے جو نہ قدرت کے طالب تھے اور نہ ہی شہرت کے خواہاں ،بلکہ ان دونوں چیز سے گریزاں تھے ۔

آپ کے اندر ایک فکر تھی کہ جس پر بھروسہ کرکے آپ نے ایک بہت بڑا انقلاب برپا کر دیا ایسا تحوّل جس نے دنیا کے سیاسی حالات کو درہم برہم کر دیا یہ سب ایک مثبت فکر کا نتیجہ ہے ۔

بہر حال میں اس بات کی تاکید کرنا چاہتا ہوں ایک آدمی،ایک استادخواہ وہ دینی مدرسے کا ہو یا یو نیورسٹی کا(چاہے وہ مثبت ہو یا منفی) عالمی انقلاب برپا کر سکتا ہے ۔ اگر ہم اس مسئلہ کی کی طرف توجّہ کریں تو ان ذمہ داریوں کے بوجھ اور اسکی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں پھر اس بات کے لئے آمادہ ہونگے کہ اس کے لئے وقت صرف کریں درس اور کلاس کو تعطیل کریں اور بیٹھ کر اس اہم مسئلہ کے بارے میں بحث اور گفتگو کریں اور ملک کے نوجوانوں کے بارے میں فکر کریں، اسلام اور اسلامی معاشرہ سے متعلّق جو کام انجام دینا ہے اسکو پہچانیں اور ان کے متعلق اپنا فریضہ انجام دیں ان تمام مطالب کی طرف توجّہ کرتے ہوئے بنیادی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس فریضہ اور ذمہ داری کو ادا کرنے کے لئے ہم کو کیا کرنا چاہئے اس کے جواب سے قبل ایک مقدمّہ بیان کرتا ہوں ۔

تہذیبی انقلاب کی اہمیت

میں نہیں جانتا کہ آپ لوگوں کو کتنا یاد ہے لیکن انقلاب اسلامی کے شروع ہی میں مرحوم امام خمینی نے ثقافتی اورتہذیبی انقلاب کے مسئلہ کو پیش کیا اور بہت سے ملک کے تعلیمی ادارے بند ہوگئے تو مختلف ممالک سے لوگ آئے تاکہ اس بات کوملاحظہ کریں کہ امام خمینی نے جو ثقافتی انقلاب کی بات کو کہی ہے آخراس کاراز کیا ہے؟ کیونکہ اس سے پہلے بھی ثقافتی انقلاب فرہنگی کی بات آئی تھی جو کہ چین کے ثقافتی انقلاب سے متعلّق تھی جسکی بنیاد''مائو''نے رکھی تھی بہر حال ساری دنیا سے اہل فکر و نظر اور سیاسی لوگ ایران آئے تاکہ دیکھیں امام خمینی کیا کرنا چاہتے ہیں مجھکو خود یاد ہے کہ ایک یہودی استاد بھی آسٹریلیا سے قم آیا تھا میں نے خود جلسہ میں بیٹھ کر اس سے بحث و گفتگو کی وہ جاننا چاہتا تھا کہ آخر امام خمینی کا تہذیبی انقلاب کیا ہے؟ میں نے اس کو وضاحت کے ساتھ بتایا ۔

لیکن افسوس کہ ایسے حالات سامنے آئے کہ امام خمینی اپنے ارمان کو صحیح طریقے سے بیان نہ کر سکے اور اس کو عملی جامہ نہ پہنا سکے چونکہ نیا نیا انقلاب آیا تھا مختلف مسائل اور مشکلات سامنے تھے ابھی کچھ ہی دن گذرے تھے کہ آٹھ سالہ جنگ ہم پر مسلّط کر دی گئی جو کہ ملک کا سب سے اہم مسئلہ بن گئی ہم کو اس پر بہت ہی امکانات اور قوت و طاقت صرف کرنی پڑی ،بہر حال ملک کے اندر اور باہر شیطان صفت افرادمتحد ہو گئے یہ بھی ایک سبب بنا کہ جو ثقافتی انقلاب امام خمینی کے ذہن میں تھا وہ حقیقی اور عملی صورت اختیار نہیں کر سکا لہٰذا اگر کوئی یہ نتیجہ نکالے کہ بیرونی دبائو اورفوجی محاصرہ اور اقتصادی پابندی اور طرح طرح کی مشکلات ہمارے لئے کھڑی کی گئیں وہ سب صرف اس لئے کیا گیاکہ امام خمینی کا ثقافتی انقلاب کامیاب نہ ہو سکے اس جملہ میں کچھ نہ کچھ ربط ضرور ہے اور اس کو بعید از امکان نہیں سمجھنا چاہیئے، آپ خود بو سینا میں دیکھیں کہ وہاں اتنے ظلم کیوں کئے گئے ؟اور بہت ہی بے رحمی اور پوری دشمنی کے ساتھ ہزاروں مردوں، عورتوں ،بوڑھوں جوانوںحتیّٰ بچوّں کو قتل کر کے انکے سر کیوں جدا کئے گئے؟اور جو لوگ حیوانات کی حفاظت کے لئے انجمن بناتے ہیں اور چند حیوانات کے لئے مظاہرہ کرتے ہیں وہ لوگ بھی انسانوں پر اتنے ظلم و ستم کے بعد بیٹھے دیکھتے رہے اور انکی زبان پر ذلّت و رسوائی کا تالا پڑا رہا اور ان سے کچھ نہ بولا گیا بلکہ اس کے بر خلاف ظالموں کی مالی اور جنگی مدد بھی کرتے رہے، کیا اس کا سبب ثقافتی اور تہذیبی مسئلہ کے علاوہ کچھ اور تھا ؟ کیا ان مسلمانوں کی تعداد دو تین ملین سے زیادہ تھی ؟ یہ نہ زمین رکھتے تھے اور نہ مکان نہ انکی تعداد زیادہ تھی نہ ہی انکے پاس دولت، ہتھیار ،ٹکنالوجی اور کوئی اہم چیز تھی تو ان لوگوں پر اتنا بھیانک حملہ اور ظلم و ستم کیوں ہوا ؟اس کا جواب صرف ایک چیز ہے وہ یہ کہ ان کے پاس صر ف ثقافت اور اسلام کا کلچر تھا وہ لوگ دیکھ رہے تھے کہ بیسویں صدی کے آخر میں یورپ کے مرکز میں ایک اسلامی ملک ظاہر ہو رہا ہے اور اپنے وجود کا بر ملااعلان کر رہاہے اس سے وہ لوگ خوف زدہ تھے کہ اسلامی فرہنگ اور کلچر دھیرے دھیرے پڑوسی ممالک اور پورے یورپ میں پھیل جائے گااور آگے چل کر پورے یورپ میں ہر چیز کو بدل دے گا لہٰذا ان لوگوں نے ارادہ کیا کہ آغاز میں ہی اس تحریک کو ختم کر دیا جائے اور یہی کام الجزائر، ترکیہ اور دوسرے اسلامی ممالک میں انجام دیا گیا، آخر کیوں ؟ یہ لوگ اسلام سے خوف زدہ ہیں اسلام کیا ہے؟ اسلام ایک فکر اور فرہنگ ثقافت کا نام ہے تو گویا یہ لوگ ایک فکر اور فرہنگ سے ڈرتے ہیں

 

اس طولانی مقدّمہ کا نتیجہ یہ ہے کہ ہم کو اس سوال کے جواب میں کہ کیا کرنا چاہئے؟ صرف یہی ہے کہ ہم کو ثقافتی کام کرنا ہے یہ ساری بحثیں اس بات کا سبب بنتی ہیں کہ ہم زیادہ سے زیادہ اپنی ذمہ داری کو انجام دیں اور اس بات کو اپنے ذہن سے نکال دیں کہ یہ فکری اور فرہنگی بحثیں بے فائدہ ہیں اور ملک میں جو کچھ بھی مشکل ہے اسکا تعلّق صرف اقتصاد اور خارجی سیاست وغیرہ جیسے مسائل سے ہے ۔

انقلاب کے ارتقاء میں ثقافتی تحریکوں کا کردار

اسلامی تہذیب وتمدن کو فروغ دینے کے لئے ہم کو اصول اور نظام کی ضرورت ہے ہم کو چاہئے کہ ہم اپنی تحریک کی راہ و روش کو معین کریں جو حالات ہمارے سامنے ہیں ان کو محسوس کریں اپنے طریقہ کار کو پہچانیں اسی طرح اس تحریک سے متعلّق راستے میں آنے والی رکاوٹوں کو دیکھیں اور ان سے متعلّق جو لازمی تدابیر ہیں انکو اختیار کریں، اس راستے میں سب سے پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہم فکروں کو نئے انداز سے پیش کریں، اپنے مطالعہ کو وسیع اور مضبوط کریں ،فکروں کے اصول کو قائم کریں اصولی اور بنیادی طور پر محکم انداز سے اپنے کام کو شروع کریں ۔

انقلاب کے شروع میں ہم لوگ ایک مختصر شناخت رکھتے تھے ہم کو ظالموں اور انکے پٹھّوئوں کے مقابلے میں پوری طاقت کے ساتھ کھڑا ہونا چاہئے اسی مختصرشناخت پر ہم نے حرکت کی اور انقلاب اسلامی کامیاب ہوا اور یہاں تک پہونچا ہے آج بھی لوگوں کی اکثریت اسی اصول اور قانون کی پابند ہے لیکن ہم کو اس بات پر توّجہ دینی ہوگی کہ اس انقلاب کو باقی رکھنے اور اس کے تحفظ کے لئے یہ تھوڑی سی شناخت کافی نہیں ہے اس حرکت کے آغاز اور انقلاب کی کامیابی کے لئے زیادہ تر احساسات اورجذبات پر بھروسہ تھا جو کہ اسی مختصر شناخت کے ساتھ تھا جس سے کچھ نتیجہ حاصل ہوا لیکن اس راستے کو جاری رکھنے کے لئے صرف اس پر عمل کرنا کافی نہیں ہے بلکہ ہم کو اب اصل میں احساس و عواطف سے ہٹ کر شناخت اوربصیرت کے اسباب پر زیادہ توجّہ دینی ہوگی۔ اب آج نوحہ و ماتم اور نعروں سے لوگوں کو جمع نہیں کیا جا سکتا البتہ یہ سب چیزیں اپنی جگہ پر باقی رہیں اور محفوظ رکھی جائیں ،لیکن گفتگو اس بات میں ہے کہ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ثقافتی اموراور تہذیبی مراکز میں کوئی رخنہ وارد نہ ہو اور ہم دشمن کے نفوذ سے محفوظ رہیں تو ہمیں چاہئے کہ ہم غورو فکر کے ساتھ فرہنگ و ثقافت کی طرف خاص توجّہ دیں ۔آج دشمن بھی چالاکی کے ساتھ اس نکتے کو پہچان گیا ہے اس نے اپنی قوی اور مستحکم حرکت کو اقتصادی اور فوج میدان سے ہٹاکر سارے امکانات کو ثقافتی مسائل میں صرف کر رہا ہے اور دشمن اس کوشش میں ہے کہ اس طرح سے انقلاب کے ثقافتی مراکز کو آلودہ اور خراب کرکے دھیرے دھیرے تمام میدان کو اپنے قبضہ و اختیار میں کر لے ،اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ثقافتی شگاف کو روکیں اور دشمن کو اس طرف سے داخل نہ ہونے دیں تو ہمیں چاہئے کہ اس پرا گندگی اور بے نظمی سے اپنے کو نکالیں، اگر ہم یونیورسٹی کے استاد کی حیثیت سے چاہتے ہیں کہ ثقافتی کاموں کو انجام دیں اور اسلام کی قدرو قیمت اور اسکی اہمیت کو نو جوانوں کے ذہن تک پہونچائیں تو سب سے پہلے ہم اپنے کو فکری اور ثقافتی اسلحہ سے لیس کریں اور اسلامی فکر و ثقافت اور اسکے مبانی و اصول نیز مغربی فکر وثقافت اور وہ شبہات جو کہ وہ لوگ پیش کرتے ہیں اس کو جانیں اور پہچانیں تاکہ معاشرہ خاص طور سے نوجوان نسلوں کے مسائل اور مشکلات اور انکے فکری اور ثقافتی شبہات ومشکلات کو حل کر سکیں اور انکے سوالات کے جوابات دے سکیں ا لبتہ خدا وند عالم خود اپنے دین کا محافظ ہے قرآن کریم میں ارشاد ہو رہا ہے: ''انّانحن نزّلناالذکر واناّ لہ لحافظون''(١)بیشک ہم نے قران کریم کو نازل کیا اور ہم ہی اسکے محافظ ہیں ۔ اور بیشک خدا وند عالم ان تمام ظلمتوں اور تاریکیوں کے باوجود اسلام اور دین کی کشتی کو ساحل نجات تک پہو نچائے گا ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے '' ہوالذی ارسل رسولہ بالہدیٰ ودین الحق۔۔.'' (٢)وہ خدا ہے جس نے پیغمبر کو ہدایت اور د ین حق کے ساتھ بھتجا تاکہ اسکو تمام ادیان پرغالب کر دے ہر چند کہ مشرکین اس بات کو نا پسند کریں ۔لیکن اس دین کی حفاظت کیوں نہ ہمارے ذریعہ ہو اور کیوں نہ ہم اس گروہ سے ہوں جن کو خدا وندعالم نے کلمہ حق کی بلندی کے لئے اور اپنے دین کی حفاظت کے لئے چنا ہے ۔ ؟

امید کرتا ہوں کہ خدا وند عالم ہم سبھی لوگوں کو یہ توفیق عنایت فرمائے اورآخر میں اس بات کی تاکید کرتا ہوں کہ آج ہم لوگ اپنی حسّاس اور تا ریخی ذمہ داری کو محسوس کریں اور اس ذمہ داری کو انجام دینے اور اپنی فکری اور فلسفی خامیوں کو دور کرنے کے لئے ضروری تےّاریاں کریں اور اس بات پر توّجہ دیں کہ اگر خدا نخواستہ اس عظیم کام اور اس ذمہ داری کو انجام دینے میں کوئی کمی یا کوتاہی کی تو خدا وند عالم ، پیغمبر اکر م ۖ، ائمہ معصومین علیہم السلام اور ان شہداء کی بارگاہ میںجنھوں نے اپنا خون نچھاور کر کے اس پاک و پاکیزہ شجر کو محفوظ رکھا ہم لوگ اس کے جواب دہ ہونگے اور آسانی سے اس سے بچ نہیں سکتے ۔

..............

(١)سورہ حجر : آیہ ٩۔

(٢) سورہ صف : آیہ ٩۔


source : http://www.taghrib.ir
302
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

ابتلاء و آزما‏ئش اور اس کی حکمتیں
ماہ مبارک رمضان کی خصوصیات
زندگي کي کڑي دھوپ ميں ايک ٹھنڈي چھاوں
عظمت کعبہ قرآن کے آئینہ میں
امام جعفر صادق علیہ السلام کی چالیس منتخب حدیثیں
احادیث حضرت علی (ع) کی اطاعت کو واجب بتاتی ہیں
حضرت علی علیه السلام کے چند منتخب خطبے
انبیا اور صالحین کی قرآنی دعائیں
قرآن کی نظر میں حضرت علی(علیہ السّلام) کا مقام
حضرت زینب (س) کی سیرت حریت پسند مسلمانوں کی روش ہے

 
user comment