اردو
Wednesday 26th of January 2022
331
0
نفر 0

امت مسلمہ کے خلاف ایک اور عالمی سازش

معروف ویب سائیٹ ”وکی لیکس(wikileaks)“ کے مبینہ انکشافات نے دنیا میں ہلچل مچا دی ہے جن کے ذریعے  28 دسمبر1966ء سے 28 فروری2010ء تک کے 2لاکھ51ہزار287 امریکی خفیہ راز افشاء کیے ہیں ۔ جن کے الفاظ کی مجموعی تعداد 26کروڈ12لاکھ76ہزار536ہے جن میں سے امریکا اور مختلف حکومتوں کے بیرونی سیاسی تعلقات کے سے متعلق145451،داخلی حکومتی معاملات پر 122896،انسانی حقوق کے امور پر55211،اقتصادی معاملات پر49044،دہشت گردوں اور دہشت گردی سے متعلق 28801 اوراقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے بارے میں 6532 خفیہ دستاویزات ہیں ۔’ وکی لیکس“ کے مطابق یہ تمام دستاویزات دنیا بھر میں قائم 274 امریکی سفارت خانوں اور امریکی دفتر خارجہ کی وہ خفیہ معلومات ہیں جوامریکی سفار ت کاروں نے اپنی حکومت کو تار کے ذریعے بھیجے تھے جن میں سے 15652 انہائی خفیہ، 101748خفیہ اور 133887 عام دستاویزات ہیں ۔امریکی سفارتی خانوں کی ان معلومات میں سے سے 5 ہزار سے زائد صفحات پاکستان اور افغانستان،36515عراق7918,انقرہ ، ترکی اور8017 امریکی دفترخارجہ کے متعلق ہیں۔

مجموعی طور پر اگر” وکی ولیگس“ کے مبینہ انکشافات کو مدنظر رکھا جائے تو اب تک شائع ہونے والی دستاویزات کے اکثر حصے کا تعلق مسلم ممالک کے امور سے متعلق ہے۔ ”وکی لیکس“ کے سربراہ 39 سالہ جولین آسانچ ان دستاویزات کے اجراء سے قبل ہی رپووش ہوئے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ اس وقت بھی برطانیہ میں موجود ہیں اور وہیں بیٹھ کر اپنی ویب سائٹس کو اپ ڈیٹ کرتے ہیں۔ دستاویزات کے اجراء کے بعد ابتدائی چند دنوں تک امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے اس ویب سائٹ کو بند یا ہیک کرنے کی کوشش نہیں کی تاہم جب دنیا کے مختلف ممالک کی جانب سے امریکی رویے پر حیرت کا اظہار کیا گیا تو پھر امریکہ کے مختلف اداروں نے اس ویب سائٹ کو ہیک کرلیا لیکن اب ایک مرتبہ پھر چند گھنٹوں کے تعطل کے بعد (www.wikileaks.ch)  نئے ایڈریس کے ساتھ دوبارہ فعال ہو چکی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک طرف امریکی حکام کا یہ کہنا ہے کہ ان دستاویزات کے اجراء کے بعد امریکہ کو شدید نقصان پہنچا ہے لیکن دوسری طرف آج تک وہ اس بات سے انکاری نہیں ہیں کہ” وکی لیکس“ میں جاری ہونے والی دستاویزات اصلی ہیں بلکہ امریکی حکام اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جاری کردہ دستاویزات اصل ہیں لیکن بقول ان کے انہیں جاری نہیں ہونا چاہیے تھا، اس طرح امریکی حکام نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ انہوں نے مسلم ممالک ،مسلم حکمرانوں اور سیاستدانوں سے متعلق انتہائی غلط اور منفی سوچ پر مشتمل گفتگو کی ہے ۔یہ الگ بات ہے کہ اب یہ گفتگو منظر عام پر آئی ہے۔اس پر بھی مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے یہ ہے کہ جولین آسانج ایک جنونی شخص ہے جس نے اپنے طور پر امریکہ کے اصل چہرے کو بے نقاب کیا ہے، لیکن دوسری طرف اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ ان دستاویزات کے اجراءکے پس پردہ امریکی اداروں کا ہاتھ ہے وہ ان دستاویزات کے اجراءکے ذریعے جہاں ایک طرف دنیا کے مختلف حکمرانوں بالخصوص مسلم حکمرانوں کو عوام اور دنیا میں بدنام کرنا چاہتے ہیں وہاں یہ پیغام بھی دینا چاہتے ہیں کہ ہم جو چاہیں کرسکتے ہیں اور دنیا کے سپر پاور ہونے کے ناطے ہمیں ہر اقدام کا حق حاصل ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ” وکی لیکس “کے انکشافات کے پیچھے ان کا کوئی ہاتھ نہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر2 لاکھ سے زائد دستاویزات کا حصول ایک ویب سائٹ کے چند افراد کیلئے کیسے ممکن ہوا۔ اگر یہ دستاویزات کسی ایک ملک ، شعبے یا شخصیت سے متعلق ہوتے تو شاید یہ خیال ہوتا کہ یہ کچھ افراد کی انفرادی کارروائی ہے لیکن جس وسیع بنیاد پر” وکی لیگس“ نے دستاویزات کا اجراء کیا ہے اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے بہت ہی بڑے منظم خفیہ ادارے ہیں۔ یقینا وہ امریکی سی آئی اے، ایف بی آئی ، اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد ،بھارتی خفیہ اینجسی ”را“اور دیگر ایجنسیاں ہی ہیں جو اپنے ان اقدامات کے ذریعے مسلم ممالک کو بدنام کرنا چاہتی ہیں اگرچہ ابھی تک مختلف ممالک کے سربراہان نے” وکی لیکس “میں جاری ہونے والی دستاویزات میں موجود گفتگو اور الفاظ کی تردید کی ہے ۔ میڈیا کے مطابق جاری کردہ ان دستاویزات کا اصل مرکز امریکی دفاعی مرکز پنٹاگون ہے۔ جس انداز میں ”وکی لیکس “نے ان دستاویزات کو شائع کیا ہے اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ اگر اس میں امریکی ادارے ملوث نہیں تو پھر یہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ امریکی حکومت ، اہلکار اور ادارے انتہائی نااہل اور غافل ہیں، وہ اپنے رازوں کی حفاظت نہیں کرسکتے ہیں ۔بعید نہیں کہ ان کا ایٹم اور مہلک ہتھیار ان رازوں کی طرح غیر محفوظ ہوں۔ اگر امریکی حکام یہ کہتے ہیں کہ یہ ان کی بے وقوفی یا نااہلی نہیں ہے بلکہ یہ راز افشاءہوئے ہیں تو ا سکا مطلب یہ ہے کہ یہ کام کسی فرد واحد یا چند افراد کا نہیں بلکہ حکومتوں اوراداروں کا ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر ان دستاویزات میں ”وکی لیکس نے صرف مسلم ممالک ‘ان کے سربراہان‘ سماجی اور سیاسی شخصیات اور تنظیموں کو ہی نشانہ کیوں بنایا اور انہی سے متعلق دستاویزات ہی کا اجراء کیوں کیا گیا دیگر غیر مسلم ممالک کے حوالے سے دستاویزات ”وکی لیکس“ نے کیوں نہیں شائع کیں۔ وکی لیکس کے مطابق اسرائیل کے غزہ پر حملے سے قبل ہی مصر اور الفتح کو اسرائیلی حملے کا علم تھا لیکن ”وکی لیکس “نے یہ کیوں نہیں بتایا کہ عالمی دہشت گرد اور انسانیت کے دشمن اسرائیل کو پروان چڑھانے، فلسطینیوں کی نسل کشی اور انسانیت پر مظالم ڈھانے کیلئے اسرائیل کی مدد کب اور کس نے کی اور امریکہ کا فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے پیچھے کتنا ہاتھ ہے، امریکہ اعلانیہ یا غیر اعلانیہ اسرائیل کی کتنی امداد کرتا ہے۔” وکی لیکس“ نے یہ انکشاف تو کیا کہ شاہ عبداللہ ایران کے متعلق اچھے خیالات نہیں رکھتے ہیں لیکن اس نے یہ انکشاف کیوں نہیں کیا کہ دنیا کے اکثر لوگ امریکہ اور اس کے حواریوں سے شدید نفرت کرتے ہیں اور دنیا میں ہونے والی تباہی کا اصل ذمہ دارامریکہ ہے۔ وکی لیگس نے یہ انکشاف تو کیا کہ شہباز شریف نے لشکر طیبہ پر پابندی سے قبل ہی اس تنظیم کو آگاہ کیا تھا لیکن وکی لیکس اس پر خاموش کیوں ہے کہ کشمیریوں کے قتل عام میں بھارت کے علاوہ اور کون کون ملوث ہے۔ وادی میں ہونے والے ریاستی دہشت گردی میں بھارت کی اسرائیل امریکہ اور دیگر ممالک کتنی مدد کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کی نسل کشی میں کون کون ملوث ہے اور بھارت کو ہر سطح پر مدد کون فراہم کرتا ہے۔ کشمیریوں کی آزادی کی راہ میں رکاوٹ کون ہے۔ اور بھارتی ہندو انتہا پسند تنظیمیں کہاں کہا ں کیا کیا کر رہی ہیں، دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے خلاف ان کے کیا کیا منصوبے ہیں ۔

وکی لیکس نے ان دستاویزات کے ذریعے پاکستانی سیاست میں بھی تہلکہ سا مچا دیا ہے۔ حالانکہ جو باتیں منظر عام پر لائی گئی ہیں ان تمام باتوں سے پاکستانی پہلے سے ہی باخبر ہیں اور یہ پاکستانی میڈیا میں پہلے ہی آ چکی ہیں۔

صدر آصف علی زرداری کے حوالے سے کئے گئے انکشافات کے مطابق ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پاکستانی صدر کسی ملک کا سربراہ نہیں بلکہ امریکی چپڑاسی ہے اور امریکی سفیر پاکستان میں وائسرائے کی حیثیت رکھتا ہے۔ حالانکہ وکی لیکس کا یہ بھی کہنا ہے کہ 2009ءمیں امریکہ پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرناچاہتا تھا لیکن ایسا نہیں کرسکا۔ اگر دیگر کمزوریوں کا ہم ذمہ دار آصف علی زرداری کو ٹھراتے ہیں تو پھر امریکہ کی اس ناکامی کو بھی یقینا پیپلزپارٹی کے کھاتے میں ڈالنا پڑے گا۔ اسی طرح امریکی دستاویزات کے مطابق نواز شریف کے حوالے سے بھی مختلف انکشافات کیے گئے ہیں لیکن اگر ان کو دیکھا جائے تو یہ انکشافات نہیں کیونکہ ان میں سے بہت ساری چیزوں پاکستانی میڈیا کے عام ورکروں کو بھی علم ہے اور کئی چیزیں میڈیا میں پہلے ہی آ چکی ہیں لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ ان انکشافات کے ذریعے پاکستانی فوج کے سربراہ اشفاق پرویز کیانی کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان انکشافات کا مقصد فوج اور سیاستدانوں کے مابین قربتوں کو کم کرکے خلیج پیدا کرنا ہے اور ایک دوسرے سے ڈرا کر رکھنا ہے۔

وکی لیکس کے مطابق 2007ءمیں مولانا فضل الرحمن نے امریکی سفیر سے وزیر اعظم بنانے کی درخواست کی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر وکی لیگس کی یہی بات 2002ءکے متعلق ہوتی تو شاید دنیا مان لیتی، اس لئے کہ اس وقت مولانا فضل الرحمن کے پاس نہ صرف اچھے خاصے ووٹ تھے بلکہ انہوں نے وزیر اعظم کے امیدوار کی حیثیت سے الیکشن میں حصہ بھی لیا اور مسلم لیگ (ق) کے میر ظفراللہ خان جمالی ان کے مقابلے میں صرف ایک ووٹ کی سادہ اکثریت حاصل کر کے وزیر اعظم منتخب ہونے میں کامیاب ہوئے ،وہ ووٹ بھی مولانا اعظم طارق کا تھا۔ 2006ءکے بعد متحدہ مجلس عمل میں اختلافات پیدا ہونے کے باعث مولانا فضل الرحمن کی پوزیشن انتہائی کمزور ہوگئی تھی اگر انہوں نے 2002ءمیں بہترین پوزیشن کے باوجود امریکہ سے مدد طلب نہیں کی تو 2007ءمیں جب ایم ایم اے ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھی تو مولانا فضل الرحمن نے342 رکنی قومی اسمبلی کے ایوان میں صرف 40 ارکان کے ساتھ وزیر اعظم بننے کی خواہش یا تمنا کا اظہار کیسے کیا۔ یہ صرف اور صرف ایک مذاق ہی لگتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ مولانا کو بدنام کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے کیونکہ لاکھ تحفظات اور شکایات کے باوجود مولانا فضل الرحمن پاکستانی سیاست میں واحد مذہبی رہنما ہیں جو اس وقت پارلیمنٹ میں موجود ہیں اور اچھی سیاسی سوج بوجھ رکھتے ہیں جس کو دنیا تسلیم کرتی ہے۔وکی لیکس کی دستاویزات کے مطابق قبائل میں لگی آگ کو ختم کرنے ہونے والے امن معاہدات میں بھی مولانا فضل الرحمان اور ان کی جماعت کا بنیادی کردار رہا ہے ،جولوگ مولانا کی کردار کشی کے لئے وکی لیکس کی ان دستاویزات کو استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں مولانا کا ملک اور دینی قوتوں کو تباہی سے بچانے والا کردار کیوں نہیں نظر آتا ۔ بعض خود ساختہ دانشور مولانا پر تنقید کے لئے گواہ کے طور پر ایسے افراد کے نام پیش کر رہے ہیں جو اب اس دینا میں موجود ہی نہیں ہیں ۔دراصل مولانا فضل الرحمن کو نشانہ بنانے کا مقصد دینی قوتوں کو نشانہ بنانا ہے کیوں اس وقت دینی قوتوں کی جانب سے پارلیمانی سیاسی میدان میں مولانا فضل الرحمن ہی صفِ اول میں ہیں ،مولانا کا یہی کردار مذہب مخالف قوتوں کو پریشان کر رہا ہے ۔

وکی لیکس نے یہ انکشاف بھی کیا ہے کہ مارچ 2009ءصدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین کو چیئرمین سینیٹ بننے کی پیشکش کی تھی لیکن بوجوہ اس پر عمل نہیں ہوسکا۔ اسی طرح پنجاب میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد مسلم لیگ (ق) کو پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر پنجاب میں حکومت بنانے کی دعوت دی تھی حالانکہ یہ دونوں باتیں گذشتہ ڈیڑھ سال سے پاکستانی میڈیا میں آ رہی ہیں اور اس میں انکشاف والی کوئی بات ہی نہیں۔ اس وقت یہ طے ہوا تھا کہ پیپلز پارٹی نے پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کو آﺅٹ کرنے کی کوشش کی تاہم وہ ناکام ہوگئی کیونکہ مسلم لیگ (ق) کے ناراض ارکان نے پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے سے انکار کردیا تھا جس کے باعث پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مابین اتحاد نہیں ہو سکا اور یہ کوشش آج بھی جاری ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر وکی لیکس کو پاکستانی سیاست کا اتنا ہی علم ہے تو وہ پاکستان کے ان لوگوں اور جماعتوں کے نام منظر عام پر کیوں نہیں لاتی جو یہاں پر امریکی ایجنسی بلیک واٹر کیلئے شخصی یا تنظیمی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔ وکی لیکس اس پر خاموش کیوں ہے کہ بلیک واٹر نے گزشتہ چند سالوں کے دوران پاکستان اور افغانستان میں کہاں کہاں اور کس کس حد تک دہشت گردی کی ہے اور اس کے پے رول پر کون کون کام کر رہا ہے۔

وکی لیکس اس پر خاموش کیوں ہے کہ پاکستانی صوبے بلوچستان میں ہونے والی دہشت گردی میں کون ملوث ہے۔ بھارت کا کردار کتنا ہے اور افغانستان میں بھارت کے سفارتخانوں کے نام پر دہشتگردوں کو کہاں کہاں تربیت دی جاتی ہے اور اس میں امریکہ کا کتنا کردار ہے۔

دراصل اگر یہ ساری باتیں منظر عام پر لائی جائیں تو اس کا نقصان امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ہوگا لیکن جو چیزیں اب تک لائی گئی ہیں وہ تو صرف اور صرف امت مسلمہ اور پاکستان سمیت بعض دیگر ممالک کو نقصان پہنچانے کے لیے نفسیاتی جنگ کا حربہ ہے اور اس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ سارا کام منصوبہ بندی کے تحت حکومتوں کی سطح پر کیا گیا ہے اور وہ حکومت امریکہ ، اسرائیل اور بھارت کی ہی ہوسکتی ہے۔ مجموعی طور پر وکی لیکس پر آنے والی دستاویزات کا فائدہ امریکہ ، اسرائیل، بھارت اور بعض دیگر اسلام دشمن ممالک کو ہو رہا ہے ،جس سے یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ امت مسلمہ کے خلاف ایک اور عالمی سازش ہے۔ تاہم وکی لیکس کے یہ انکشافات امت مسلمہ بالخصوص مسلم حکمرانوں اور قیادت کے منہ پر ایک طمانچہ ہے اور اب انہیں سبق حاصل کرتے ہوئے امریکی غلامی سے باہر نکل کر امت مسلمہ کی سطح پر سوچنا ہوگا ورنہ پھر ہمیشہ کے لیے غلام رہیں گے اور پھر اغیار فائدہ اٹھانے کے بعد اسی طرح امت مسلمہ کی قیادت کی تذلیل کرتے رہیں گے۔


source : http://www.tebyan.net
331
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

حجابِ حضرت فاطمہ زھرا (س) اور عصر حاضر کی خواتین
امام خميني(رح) کے مختصر حالات زندگی
تلمود ( یہودیوں کی وحشتناک کتاب)
ہندو مذہب میں خدا کا تصور و اجتماعی طبقہ بندی
۔باپ سے لڑائی
تمام وسائل کو بروی کار لاکر امت مسلمہ کو طاقتور ...
ڈنمارک ؛ ڈینش نوجوانوں میں دین اسلام کی مقبولیت
"کامیاب عورت" کا مغربی اور اسلامی نقطہ نظر
والدین کی نافرمانی کےدنیامیں منفی اثرات
شیعہ ہی وحدت اسلامی کے داعی

 
user comment