اردو
Tuesday 22nd of September 2020
  1501
  0
  0

الٰهی محبت

خلاصہ :

اگر عبادت شوق یا جہنم كے خوف سے كی جائے تو یہ عبادت تاجروں اور غلاموں كی ہے كیا قرآن نے ان چیزوں كی طرف ترغیب نہیں دلائی ہے ؟

جواب: قرآن كا اصل ہدف انسانوں كو خدا كا محبوب بناكر اس كی بارگاہ میں لے جانا ہے جس كو " عبادت آزاد" سے تعبیر كیاگیا ہے ۔سب سے پہلے جو سورہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) كے قلب نازنین پر نازل كیا گیا ہے وہ سورہ "علق"ہے اس كی آیت نمبر ۱۴ میں خداوندعالم فرماتا ہے ۔

متن:

{الم یعلم بان اللہ یری} یعنی تو كیا تمہیں نہیں معلوم كہ اللہ دیكھ رہا ہے ۔

اس كے باوجود بہت سے سارے لوگ خدا كی عبادت شوق جنت میں كرتے ہیں یا جہنم كے خوف سے اگر ان دونوں كا وجود نہ ہوتا تو كتنے انسان عبادت ہی نہیں كرتے لہذا بہشت و دوزخ خدا كی دو بڑی نعمتیں ہیں ، جو انسان كے ہاتھ آئی ہیں خواہ وہ شوق جنت میں عبادت ہو یا جہنم كے خوف سے ۔ یہی عبادت رفتہ رفتہ محبوب كے سمت لے جاتی ہے ۔ اور چونكہ قرآن كے مخاطب تین ہی قسم كے لوگ ہیں لہذا اس نے غلاموں ، تاجروں ، آزاد لوگوں كی عبادت كی طرف اشارہ كیا ہے ۔ ہاں شیطان اور ہواوہوس كی پیروی كرنے سے بہتر ، انسان جنت كے شوق یا جہنم كے خوف سے عبادت كرے ۔ یہاں پر بعض آیات و روایات كو اختصار كے ساتھ پیش كرتے ہیں ۔

{لعلكم بلقاء ربكم توقنون } 1 شاید تم لوگ پروردگار كی ملاقات كایقین پیدا كرلو ۔

{لعلكم بلقاء ربھم یومنون } 2 شاید لوگ لقائے الہی پر ایمان لے آئیں ۔

{من كان یرجو القاء ربہ فلیعمل عملا صالحا }جو بھی خدا كی ملاقات كا امیدوار ہے اسے چاہیئے كہ عمل صالح كرے اور كسی كو اپنے پروردگار كی عبادت میں ۔

شریك نہ بنائے ۔

مذكورہ آیات خدائے سبحان كی ذات سے ملاقات اور اس كے دیدار كو بیان كرتی ہیں جس كو " شوق جنت" سے تعبیر كیاگیا ہے ۔

{ھوالاول والآخروالظاہر والباطن } خداہی اول وآخر ہے وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ۔

جو خدا ان كمالات كا مالك ہے اور ساری چیزوں كا مبداء اور غایت ہے كیا وہ عبودیت كے مقابل نہیں ہے ؟ ہم انسانوں كی غایت جنت نہیں ہے بلكہ خداسے ملاقات اور اس كا دیدار ہے لہذاخدا غایة الغایات ہے ۔

{ارجعی الی ربك راضیة مرضیة } 3

ترجمہ: اپنے رب كی طرف پلٹ آ اس عالم میں كہ تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی ہے ۔

لفظ " الی ربك" كی لطیف تعبیر پر غور كرنے سے معلوم ہوتا ہے كہ اس سے مراد قرب الہی اور اس كے جوار میں سكون پانا ہے جو بہشت اور اس كی نعمتوں سے كہیں بلند و اعلی ہے ۔

{وعد اللہ المومنین والمومنات جنات تجری من تحتھا الانھار خالدین و مساكین طیبہ فی جنات عدن ورضوان من اللہ اكبر ذالك ھو الغفور العظیم } 4

ترجمہ: اللہ نے مومن مرد اور مومن عورت سے ان باغات كا وعدہ كیا ہے جن كے نیچے نہریں جاری ہوں گی یہ ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں ان جنات عدن میں پاكیزہ مكانات ہیں اور اللہ كی مرضی تو سب سے بڑی چیز ہے اور یہی عظیم كامیابی ہے ۔

اس آیت پر اگر غور كیا جائے تو خدا نے سب سے پہلے مومن مرد اور مومن عورت سے بہشت بریں كا وعدہ كیاپھر فرمایا" اللہ كی مرضی سب سے بڑی چیز ہے )اور یہی عظیم كامیابی ہے ۔ یعنی انسان كو آہستہ آہستہ بلند كیا جو اس كے مزاج كے موافق باتیں تھیں پہلے اس كو گوش گذار كیا پھر اس كو منزل كمال كی بشارت دی یعنی رضائے الہی كو بتایا كہ یہی سب سے بڑی كامیابی ہے ۔

{وفی الآخرة عذاب شدیدہ ومغفرت من اللہ ورضوان } 5

ترجمہ: اور آخرت میںشدید عذاب بھی ہے اور مغفرت اور رضاء الہی بھی ہے ۔

آیہ مذكور ان تینوں موارد دوزخ ،بہشت (مغفرت الہی) اور رضائے الہی (یہی آزاد بندوں كا مقام ہے ) كی طرف اشارہ كررہی ہے یعنی بعض جنت كی تلاش میں ہیں ۔ تو بعض جہنم سے خوف كھارہے ہیں صرف ایك گروہ ہے جو آزاد اور رضائیے الہی اور اس كی خوشنودی كا طلبگار ہے اور اب ۔ اس گروہ كے افراد نے ہم لوگوں كو مخاطب بھی كیا ہے كہ ۔

ُاپنے فكر كی بلندیوں كو اس مقام تك لے جاوٴ كہ خدا كی عبادت آزاد بندوں كی طرح كرو۔

حضرت علی علیہ السلام نے كتنی پیاری بات كہی ہے ۔

{ماعبدتك خوفا من ربك ولاطمعا فی جنتك بلوجدتك اھلا للعبادة فعبدتك }

ترجمہ: اے میرے پروردگار ہم نے تیری عبادت نہ جہنم كے خوف سے كی ہے اورنہ ہی جنت كے شوق میں، بلكہ تجھے لائق عبادت پایا ہے اس لئے تیری عبادت كرتے ہیں ۔

امام زین العابدین علیہ السلام نے مناجات بریدن كے خاتمہ پر عجب جملہ فرمایا ہے كہ ۔

{الایمان حالات ودرجات وطبقات ومنازل} 6

لوگ ایمان كے اعتبار سے مختلف درجات ومراتب كے حامل ہیں ۔

لہذا سب سے ایك طرح كی امید نہیں ركھنا چاہیے مكتب كے بچے سے تحصیل علم كے فواعد اور اس كے آئندہ كے اثرات كوبتانے علم كا قدرداں نہیںبنے گا ۔ ممكن ہے آگے چل كر علم فلكیات میں ماہر ہوجائے اور چاند و سیارے كو تسخیر كرلے لیكن یہ اسی وقت ممكن ہے جب

بچے كو درس ومدرسہ سے آشنائی اور كبھی كبھی تنبیہ كی جائے قرآن كے مخاطب زیادہ تر تیسرے درجہ كے لوگ ہیں اگر چہ اس قرآن كے بطون ، ظریف ، نكات ، تمثیل اور اشارات كو ماہرین اور صاحب علم ہی سمجھتے ہیں ۔ لیكن اس كی زیادہ ترآیتیں عام انسان كے لئے ہیں جن كو ہاتھ پكڑ كر عبادت كرائی جاتی ہے اور اگر سمجھ گئے تو صرف خداہی عبادت كریں گے ۔ <ایاك نعبد> قیامت میںصالح و نیك افراد كے عمل كا صلہ ایك طرح سے بہشت ہے اور گناہكار و سیارہكار كی سزا دوزخ ہے ۔ تمام مومنین وصالحین حتی اولیاء الہی كی ابدی منزل جنت تو ہے لیكن وہ ہدف نہائی كے عنوان سے نہیں ہے بلكہ منزل كمال كو حاصل كرنے كے لئے ہے ۔ رہ گئی یہ بات كہ قرآن كیا ہے تو یہ ایسی كتاب ہے جو انسان كو پاك وپاكیزہ اور اس كو مقصود نہائی تك پہونچاتی ہے اور انسان كی تربیت اور برانگیختیہ كرنے ، نیز حوصلہ افزائی اور تہدید میںاہم كردار اد كرتی ہے ۔ لہذا جنت و جہنم دونوں ركن كو اس نے انسان كو متنبہ فرمایا۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں ۔

انبیاء (علیھم السلام) لوگوں كے درمیان اس لئے بھیجے گئے تا كہ انسان كو قیامت ،حشر اور جوكچھ اطاعت و معصیت كرنے سے جنت و جہنم درپیش ہے اس سے تمہیں آگاہ كریں ۔ 7

_______________________________

1. رعد آیہ ۲۔

2. انعام آیہ ۱۵۴۔

3. فجر آیہ ۲۸۔

4. توبہ آیہ ۷۲۔

5. حدید آیہ ۲۰۔

6. اصول كافی ج۲ ص۳۸۔

7. نھج البلاغہ خطبہ ۱۸۳۔


source : http://shiastudies.net/article/urdu/Article.php?id=92
  1501
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

علی(ع) نے نواصب کے آباء و اجداد کو قتل کیا صرف اسی وجہ سے ...
امّ البنين مادر ابوالفضل (ع)
حاسد نا کامی کی آگ میں جلتا ھے!!!
قرآن مجید میں حوادث کے جزئیات کیوں ذکر هوئے هیں اور ...
امام مھدی عج اوریوسف نبی ع میں شباھتیں
ابتدائے اسلام میں خواتین کا کردار
ہر چیز کے سرچشمہ کو تلاش کرنا چاہئے
تربیت اولاد
جناب سیدہ کا خطبہ فدک غضب ہو نے کے بعد
حضرت امام علی علیہ السلام کے حالات کا مختصر جائزہ

 
user comment