اردو
Monday 21st of September 2020
  12
  0
  0

اسلام داعی اعتدال و توازن ہے

اُمتِ مسلمہ ميں باہمي مذہبي اور اعتقادي اختلاف، بے اعتدالي کے باعث پيدا ہوا۔ ايک طرف بندگانِ خدا اور مقبولانِ بارگاہ کي محبت و عقيدت ميں بربنائے جہالت غلو اس حد تک بڑھا کہ بات افراط تک جا پہنچي اور دوسري طرف ردِ عمل ميں تخفيف و تنقيص کے باعث معاملہ تفريط تک پہنچ گيا۔ افراط نے جہاں خرافات و بدعات کا دروازہ کھولا وہاں تفريط گستاخي و اہانت کا رنگ اختيار کر گئي۔ پس محبتوں اور عقيدتوں کي حدود اور ان کے مراتب و مدارج کا تعين کرنا لازمي و لابدي امر ہے۔ اہلِ حق ہميشہ سے حضرات انبيائے کرام عليہم السلام سے لے کر اولياءے عظام تک فرقِ مراتب کو ملحوظ رکھتے چلے آئے ہيں لہٰذا افرادِ ملت کے درميان توازن و اعتدال قائم رکھنا ہي صراطِ مستقيم ہے۔

اسي اعتدال و توازن کي بناء پر امتِ مسلمہ کو ’’امتِ وسط‘‘ کہا گيا ہے۔ اللہ تعاليٰ نے ارشاد فرمايا :

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا.

’’اور (اے مسلمانو!) اسي طرح ہم نے تمہيں (اعتدال والي) بہتر امت بنايا۔‘‘

البقرة، 2 : 143

امتِ مسلمہ کو امتِ وسط کے خطاب سے اس لئے نوازا گيا کہ وہ حدِ افراط کو نہيں پھلانگتي اور يہود ونصاريٰ اور ديگر کفار و مشرکين کي طرح ہاتھوں سے تراشيدہ بتوں کو نہيں پوجتي، انبياء کو خدا نہيں مانتي اور نہ ہي ان کي طرح انتہائي تفريط کا شکار ہوتے ہوئے انبياء اور اولياء کو قتل کرتي اور ہتک آميز سلوک کرتي ہے۔ يہي بنيادي فلسفہ ’’امتِ وسط‘‘ کے عنوان ميں کارفرما ہے۔ لہذا عقائد ميں حزم و احتياط کا پہلا تقاضا اعتدال و توازن، رواداري اور تحمل و بردباري ہے ورنہ افتراق و انتشار کسي مسئلے کا حل نہيں۔ ذيل ميں ہم اسي نوعيت کے مسائل پر بالترتيب بحث کر رہے ہيں۔

اسلام اعتدال و توازن کي دعوت ديتا ہے ۔

شيخ الاسلام محمد طاہرالقادري ۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحيم

اُمتِ مسلمہ ميں باہمي مذہبي اور اعتقادي اختلاف، بے اعتدالي کے باعث پيدا ہوا۔ ايک طرف بندگانِ خدا اور مقبولانِ بارگاہ کي محبت و عقيدت ميں بربنائے جہالت غلو اس حد تک بڑھا کہ بات افراط تک جا پہنچي اور دوسري طرف ردِ عمل ميں تخفيف و تنقيص کے باعث معاملہ تفريط تک پہنچ گيا۔ افراط نے جہاں خرافات و بدعات کا دروازہ کھولا وہاں تفريط گستاخي و اہانت کا رنگ اختيار کر گئي۔ پس محبتوں اور عقيدتوں کي حدود اور ان کے مراتب و مدارج کا تعين کرنا لازمي و لابدي امر ہے۔ اہلِ حق ہميشہ سے حضرات انبيائے کرام عليہم السلام سے لے کر اولياءے عظام تک فرقِ مراتب کو ملحوظ رکھتے چلے آئے ہيں لہٰذا افرادِ ملت کے درميان توازن و اعتدال قائم رکھنا ہي صراطِ مستقيم ہے۔

اسي اعتدال و توازن کي بناء پر امتِ مسلمہ کو ’’امتِ وسط‘‘ کہا گيا ہے۔ اللہ تعاليٰ نے ارشاد فرمايا :

وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا.

’’اور (اے مسلمانو!) اسي طرح ہم نے تمہيں (اعتدال والي) بہتر امت بنايا۔‘‘

البقرة، 2 : 143

امتِ مسلمہ کو امتِ وسط کے خطاب سے اس لئے نوازا گيا کہ وہ حدِ افراط کو نہيں پھلانگتي اور يہود ونصاريٰ اور ديگر کفار و مشرکين کي طرح ہاتھوں سے تراشيدہ بتوں کو نہيں پوجتي، انبياء کو خدا نہيں مانتي اور نہ ہي ان کي طرح انتہائي تفريط کا شکار ہوتے ہوئے انبياء اور اولياء کو قتل کرتي اور ہتک آميز سلوک کرتي ہے۔ يہي بنيادي فلسفہ ’’امتِ وسط‘‘ کے عنوان ميں کارفرما ہے۔ لہذا عقائد ميں حزم و احتياط کا پہلا تقاضا اعتدال و توازن، رواداري اور تحمل و بردباري ہے ورنہ افتراق و انتشار کسي مسئلے کا حل نہيں۔ ذيل ميں ہم اسي نوعيت کے مسائل پر بالترتيب بحث کر رہے ہيں۔

اِعتدال و توازن : اہلِ حق کا امتياز

يہ بات ذہن ميں رہے کہ اعتدال و توازن کي روش پر قائم رہنا زندگي کے دائرہ کار ميں صرف ايک دو شعبوں تک موقوف نہيں بلکہ اس کا تعلق ہر شعبۂ حيات اور زندگي کے ہر پہلو کے ساتھ ہے۔ اسي لئے حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم نے مطلقاً ارشاد فرمايا :

خَيْرُ الْأَعْمَالِ أَوْسَطُهَا.

’’اعمال ميں ميانہ روي اختيار کرنا سب سے بہترين عمل ہے۔‘‘

----------

1. بيهقي، شعب الإيمان، 3 : 402، رقم : 3887

2. ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب، 2 : 212، رقم : 3036

لہٰذا عقائد ميں بھي اسي اعتدال و توازن کي کيفيت برقرار رکھنا ضروري ہے اور يہ ہميشہ سے اہلِ حق کا امتياز رہا ہے۔ ہر زمانے ميں اہلِ حق انبيائے کرام، اولياءے عظام اور خصوصاً امتِ مسلمہ ميں مجددين و مصلحين عقائد ميں بے اعتدالي کو ختم کرنے ميں اہم کردار ادا کرتے رہے ہيں اور ان شاء اﷲ تاقيامت کرتے رہيں گے۔ زيرِنظر باب ميں عقيدۂ توحيد کے افراط و تفريط پر مبني مختلف پہلوؤں کي نشان دہي کرتے ہوئے انہيں اعتدال و توازن ميں لانے کي سعي کي جائے گي۔

 

تين اعتقادي گروہوں کي موجودگي

عدمِ توازن اور بے اعتدالي سے جہاں بہت سي الجھنيں اور شکوک و شبہات جنم ليتے ہيں وہاں طبقاتي تقسيم اور اعتقادي تفريق بھي ايک فطري امر بن جاتا ہے۔ يہي وجہ ہے کہ دنيا ميں ہميشہ تين گروہ موجود رہے ہيں :

1۔ مفرطين

2۔ مقصّرين

3۔ معتدلين

پہلا گروہ۔ ۔ ۔ مفرطين

يہ وہ گروہ ہے جس نے مقبولانِ بارگاہِ الٰہي کي عقيدت و احترام ميں غلو اور افراط کي روش اپنا لي اور حد سے بڑھ گئے۔ اس گروہ کے افراد کا يہ شيوہ رہا کہ فرقِ مراتب کو ملحوظ رکھے بغير اپني خواہش سے خود ہي درجات و مراتب مقرر کر لئے اور جہالت کي بنا پر کسي کو مقام اُلوہيت پر فائز کر ديا اور بعض اولياء اﷲ کو مقامِ نبوت تک لے گئے اور انہيں معصوم عن الخطاء کے زمرے ميں شريک کر ديا۔ يہود و نصاريٰ کي تاريخ اِس سلسلے ميں ہمارے سامنے ہے، ارشادِ باري تعاليٰ ہے :

مَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُؤْتِيَهُ اللّهُ الْكِتَابَ وَالْحُكْمَ وَالنُّبُوَّةَ ثُمَّ يَقُولَ لِلنَّاسِ كُونُواْ عِبَادًا لِّي مِن دُونِ اللّهِ وَلَـكِن كُونُواْ رَبَّانِيِّينَ بِمَا كُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْكِتَابَ وَبِمَا كُنتُمْ تَدْرُسُونَO

’’کسي بشر کو يہ حق نہيں کہ اﷲ اسے کتاب اور حکمت اور نبوت عطا فرمائے پھر وہ لوگوں سے يہ کہنے لگے کہ تم اﷲ کو چھوڑ کر ميرے بندے بن جاؤ بلکہ (وہ تو يہ کہے گا) تم اﷲ والے بن جاؤ اس سبب سے کہ تم کتاب سکھاتے ہو اور اس وجہ سے کہ تم خود اسے پڑھتے بھي ہوo‘‘

آل عمران، 3 : 79

اہلِ کتاب نے اپنے احبار و رُھبان کو وہ حقوق دئيے جو صرف اللہ و رسول کے لئے خاص تھے اِن کي يہ گمراہي اِس طرح ظاہر کي گئي ہے :

اتَّخَذُواْ أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُواْ إِلاَّ لِيَعْبُدُواْ إِلَـهًا وَاحِدًا لاَّ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَO

’’انہوں نے اللہ کے سوا اپنے عالموں اور زاہدوں کو رب بنا ليا تھا اور مريم کے بيٹے مسيح (عليہ السلام) کو (بھي) حالانکہ انہيں بجز اس کے (کوئي) حکم نہيں ديا گيا تھا کہ وہ اکيلے ايک (ہي) معبود کي عبادت کريں جس کے سوا کوئي معبود نہيں وہ ان سے پاک ہے جنہيں يہ شريک ٹھہراتے ہيںo‘‘

التوبة، 9 : 31

يہ احبار و رُہبان جس چيز کو حلال قرار ديتے ان کے پيروکار اُسے حلال سمجھتے اور جس چيز کو وہ حرام قرار ديتے اُسے حرام سمجھتے تھے۔ کسي اِنسان کو رب بنانے کا مطلب اُسے معبود قرار دينا اور اُس کے سامنے مراسمِ عبوديت ادا کرنا ہي نہيں۔ اِس کا مطلب يہ بھي ہے کہ اسے اللہ و رسول کے کسي ايسے حق ميں شريک کر ليا جائے جو صرف ان کے لئے خاص ہے۔ تحليل و تحريم اللہ کا وہ حق ہے جو انبياء و رُسل کو بھي اُس کي اجازت سے ملتا ہے انبياء و رسلِ عظام جس شے کو بھي حلال يا حرام قرار ديں وہ اللہ تعاليٰ کے حکم اور مرضي کے مظہر اور نمائندے ہونے کے ناطے اسي کي منشاء کے مطابق قرار ديتے ہيں۔ کسي غير نبي کو يہ حق دينے کے معني يہي ہوئے کہ اُسے اللہ و رسول کے حق ميں شريک کر ليا گيا۔ نصاريٰ اس غلو کي علامت بن کر راہِ حق سے بھٹک گئے تھے۔ تمام اہلِ حق کا اس پر اجماع ہے کہ شرفِ عصمت صرف انبيائے کرام عليہم السلام کو حاصل ہے۔ انبيائے کرام کے سوا کوئي معصوم نہيں ہے لہٰذا فقہاء و محدثين کے اقوال اور اولياء و صلحاء کے ملفوظات اور افعال کو خطا سے پاک اور مبرا تصور کرنا قطعاً درست نہيں۔ ان کي ہر بات کو قطعي اور حجت ماننا اوران کے اقوال کے ہوتے ہوئے قرآن و سنت سے استنباط و استدلال کو ممنوع قرار دينا ايسا طرزِ عمل ہے جس کے ڈانڈے يہود و نصاريٰ کے عالموں کے ساتھ جا ملتے ہيں۔ اِس لئے اِس طرزِ عمل کي اصلاح کي جاني چاہيے۔

دوسرا گروہ۔ ۔ ۔ مقصّرين

يہ وہ گروہ ہے جو عدمِ توازن اور انتہا پسندي کے دوسرے کنارے پر رہتا ہے۔ يہ طبقہ نہ تو اللہ و رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي محبت و عظمت کا حق بجا لاتا ہے اور نہ بندگانِ خدا کے احترام و عقيدت کا پاس و لحاظ کرتا ہے۔ تقصير و تفريط اِس طبقہ کا شعار ہے۔ يہودي اِس تقصير ميں سب سے آگے بڑھ گئے۔ يہ وہ طبقہ ہے جنہوں نے اللہ تعاليٰ کي شان ميں يَدُاﷲِ مَغْلُوْلَة جيسے گستاخانہ جملے کہے اور انبياء و رُسل عظام عليہم السلام کي شان ميں گستاخياں کيں۔

اُمتِ مسلمہ ميں جس طرح افراط اور غلو کي بيماري روافض ميں پائي جاتي ہے اِسي طرح تفريط و تنقيص کي بيماري ميں خوارج و نواصب بھي مبتلا ہيں۔ بعد ميں افراط و تفريط کي شاخيں نکلنے سے تنقيص و تقصير کي مختلف شکليں سامنے آتي گئيں۔ موجودہ دور ميں ايسے لوگ بھي ہيں جو حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو منصبِ نبوت و رسالت سے نيچے اُتار کر محض ايک مصلح اور قومي رہنما کي سطح پر لانے کي کوشش کرتے ہيں۔ ايسے بھي ہيں جو حضور صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي معجزانہ شان و کمالات اور عظيم خصائص و مقامات کا انکار اور مثليت پر اصرار کر کے آپ صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کو عام انسان کي طرح ديکھتے ہيں يا حضور اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کي عظمت اور قدر و منزلت اور محبت و مودّت کے آداب اور مظاہر کو شخصيت پرستي سے تعبير کرتے ہوئے حضور نبي اکرم صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم اور اولياء و صالحين کے توسل و شفاعت کو ناجائز تصور کرتے ہيں۔ يہ گروہ اسلام کے روحاني آثار و روايات اور سلف صالحين کے اطوار و تعليمات کو خرافات قرار ديتا ہے۔

يہ خود راہ گم کردہ لوگ صوفياء عظام اور ائمہ و فقہاءِ امت کو العياذ باللہ بدعتي يا سازشي گروہ قرار ديتے ہيں۔ يہي لوگ ہيں جو تفريط اور تقصير کے انتہائي خطرناک کنارے پر پہنچ کر خود بھي گمراہ ہوئے اور دوسروں کو بھي گمراہ کر رہے ہيں۔ ايسے لوگوں کي اکثريت سخت گير، غير لچک دار اور منہ زور رويوں کي حامل ہے۔ چھوٹي چھوٹي بات پر شرک و بدعت کے فتووں کي بوچھاڑ ان کا وطيرہ بن چکا ہے۔ اسلام کي تعليماتِ محبت و حکمت کے برعکس وہ جہاد کا لبادہ اوڑھ کر دنيا بھر ميں قتل و غارت گري کو اپنا شعار بنائے بيٹھے ہيں اور (اِلَّا مَاشَاءَ اﷲ) في زمانہ ان کي اکثريت کے اسي مجموعي تاثر کي وجہ سے دشمنانِ اسلام پوري اسلامي دنيا کو ’’دہشت گرد‘‘ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہيں۔ صاحبانِ فہم و بصيرت جانتے ہيں کہ موجودہ دور ميں اسلام کو اس بے بنياد الزام تراشي نے جتنا نقصان ديا ہے ماضي ميں کوئي بڑي سے بڑي جنگي شکست بھي نہيں دے سکي۔ سب سے بڑا نقصان يہ ہوا کہ اسلام جو کہ دينِ دعوت تھا، اس کے مغربي دنيا ميں فروغ و نفوذ کے امکانات مسدود ہو گئے ہيں مغرب جو عقل و دانش پر منحصر بات کو سنتا ہے اس پراپيگنڈے سے مرعوب ہو کر اسلام کي دعوت کا پيغام سننے کے لئے تيار نہيں۔ ہم سمجھتے ہيں کہ يہ سب کچھ اسي انتہا پسندي کي وجہ سے ہو رہا ہے جو روحِ دين کے خلاف ہے۔ اس طبقہ کے انتہا پسندانہ رويوں کي وجہ سے آج کفر کو بالواسطہ اسلام کے خلاف صف آرائي کرنے کا بہانہ مل رہا ہے۔

تيسرا گروہ۔ ۔ ۔ معتدلين

معتدلين کا طبقہ وہ ہے جو توازن اور اعتدال کي راہ پر گامزن ہو کر افراط و تفريط کے درميان توسط کي روش اختيار کئے ہوئے ہے۔ يہ طبقہ جو اللہ تعاليٰ کي ذات کو لاشريک مانتا ہے، يہ لوگ معرفتِ خداوندي اور رضائے الٰہي کے حصول کو زندگي کا مقصود اور معراج سمجھتے ہيں۔ قرآن و سنت اور شريعت نے جو حدود مقرر کي ہيں ان کو نہ توڑتے ہيں اور نہ پھلانگ جانے کي جسارت کرتے ہيں۔ وہ انبيائے کرام ں کي شان ميں حکمتِ مثليت کا اقرار تو کرتے ہيں مگر شانِ امتياز و فضيلت پر اصرار کرتے ہيں جبکہ مقصرين انبياء کي شانِ فضيلت کا محض اقرار کرتے ہيںاور مثليت پر اصرار کرتے ہيں۔ يہ طبقہ صحابہ کرام، ائمہ اہل بيتِ اطہار، فقہاء و محدثين اور اہلِ و لايت و طريقت کو وہي حيثيت ديتا ہے جو نقلاً اور عقلاً مبني بر صداقت ہے۔ يہ طبقہ نہ تو ائمہ و فقہاء کو انبياء و رُسل عليہم السلام کي طرح معصوم سمجھتا ہے اور نہ ان کي شان ميں تنقيص و تخفيف کي جسارت و گستاخي کرتا ہے۔ يہ طبقہ نہ تو اِن کو يہ حيثيت ديتا ہے کہ ان کے ہر قول و فعل، ان کے اجتہادي تفردات اور ان کے مخصوص اعمال و مشاغل کو بلا دليل شرعي حجتِ قاطع کي حيثيت سے تسليم کرے اور راہِ قرآن و سنت کي بجائے انہيں مدارِ اِستدلال بنائے اور نہ ہي يہ اس حد تک جاتا ہے کہ ان کي بعض اجتہادي خطاؤں کو مخصوص ذوقي و روحاني مشاغل کي بناء پر سرے سے رد کر دے۔ اعتدال کي يہ روش في زمانہ ناپيد ہوتي چلي جا رہي ہے۔

راقم بھي اکابرينِ امت کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے اِسي طريق اور منہج کي تجديد کے لئے ہمہ تن مصروف و مشغول ہے۔ يہي مسلکِ صحابہ کرام، تابعينِ عظام اور قرونِ اوليٰ کے ائمہ واسلاف اور اولياء و صالحين کا ہے۔ يہي حقيقت ميں سوادِ اعظم کي راہ ہے اور اسي کو اکابر نے مسلکِ اہل السنۃ والجماعۃ سے تعبير کيا ہے۔

روشِ اعتدال پر قائم رہنا بذاتِ خود ايک امتحان ہے

روشِ اعتدال پر قائم رہنا آسان کام نہيں بلکہ ايک بڑا چيلنج اور امتحان ہے۔ اِس روش کا انسان چکي کے دو کھردرے پاٹوں کے درميان پستا رہتا ہے۔ اِس سے نہ تو پہلا گروہ خوش ہوتا ہے اور نہ دوسرا۔ افراط اور تفريط ميں مبتلا لوگ ہر دو سمت سے ايسے لوگوں پر حملہ آور ہوتے ہيں اور عوام ان کے شور و غوغہ سے متاثر ہوتے رہتے ہيں۔

راقم کا ذاتي رُجحان اور طبعي ميلان بربنائے تحقيق توسط، اعتدال اور توازن کو پسند کرتا ہے۔

ہم نہ تو کسي مباح و مستحب کو بدعت قرار دينا پسند کرتے ہيں، نہ کسي مکروہ اور خلاف اوليٰ کو حرام کہنا گوارا کرتے ہيں۔ نہ عام درجہ کے امرِ ممنوع کو کفر اور نہ مطلقاً ناجائز کو شرک کا درجہ ديتے ہيں۔ اسي طرح نہ کسي جائز و مستحب کو سنّت مؤکدہ يا واجب کا درجہ اور نہ محض سنّت کو فرض کا، نہ اوليٰ و خلافِ اوليٰ اور مستحسن وغير مستحسن کے فرق کو فرض اور حرام کے فرق ميں بدلتے ہيں۔ نہ امورِ خير و برکت اور معمولاتِ سلف صالحين کے ترک کرنے کے حق ميں ہيں اور نہ انہيں عملاً واجباتِ دين ميں شامل کرتے ہيں۔

الغرض معروف کو منکر اور منکر کو معروف بنانا ہمارا معمول نہيں۔ راقم سوئِ ظن سے ہر ممکن اجتناب اور فتويٰ زني سے حتي الوسعيٰ گريز کرتا ہے مگر محبتِ رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم سے محروم کو بدبخت اور اہانتِ رسول صلي اللہ عليہ وآلہ وسلم کے مرتکب کو قطعي کافر سمجھتا ہے۔ 


source : http://www.shiastudies.com/urdu/modules.php?name=News&file=article&sid=943
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

ظلم بالائے ظلم جرم بالائے جرم
نماز جماعت
واقعہ کربلا کے پس پردہ عوامل
انتخاب عورت
اسلامی تعلیمات حقیقت پر مبنی
امیرالمومنین (علیہ السلام) کے ذریعہ منیٰ میں سورۂ ...
امام بخاری کی مختصر سوانح حیات بیان کیجئے؟
قرآن فہمی
انقلاب اسلامی کی کامیابی کی سینتیسویں سالگرہ کی ...
حضرت امام حسين عليہ السلام اور اسلامي حکومت

 
user comment