اردو
Thursday 24th of September 2020
  41
  0
  0

زندگى كے روشن و تاريك پھلو

انسان كى زندگى راحت و تكليف سے عبارت ھے ۔ ان ميں سے ھر ايك انسان كى كوتاہ و محدود زندگى پر سايہ فگن ھے ھر شخص اپنے مقسوم كے مطابق ان دونوں سے دو چار ھوتا ھے اور اسى تلخ حقيقت كے مطابق انسان راحت و الم كے درميان اپنى پورى زندگى گزار ديتا ھے ۔

يہ تو ھمارے امكان سے باھر كى بات ھے كہ اس ناموس ابدى ميں كوئى تغير كر ديں اور اپنى مرضى كے سانچہ ميں اس كو ڈھال ليں ۔ ليكن يہ بھرحال ممكن ھے كہ زندگي كى حقيقت كو جان لينے كے بعد اس زندگى كے خوبصورت موجودات كى طرف اپنى نظروں كو موڑ ديں اور اس كے بد شكل موجودات كى طرف سے اپنى نظروں كو ھٹا ليں ۔ يا اس كے بر عكس اشياء كے روشن و درخشندہ پھلوؤں كو بھول كر ان كے سياہ و تيرہ و تار پھلوؤں كى طرف متوجہ ھو جائيں ۔ مختصر لفظوں ميں يوں سمجھئے كہ ھر شخص كے پاس اتنى قدرت ھے كہ اپنى فكر كو ان دونوں ميں سے كسى ايك طرف مركوز كر دے ۔ اور اپني دنيا كو اسى رنگ ميں رنگ لے جس كى طرف اس كا ميلان ھے ۔

ھمارے لئے يہ بھى ضرورى ھے كہ ايسى نا ملائم چيزيں جو زندگى كے لئے سدّ راہ بنتى ھوں ان سے مقابلہ كرنے كے لئے اپنى برد بارى كو محفوظ كر ليں ۔ ورنہ پھر ھم ايسى خسارتوں سے دو چار ھوں گے جن كا جبران ممكن نہ ھو گا ۔ اور يہ بھى ھو سكتا ھے كہ حادثات كے مقابلہ ميں ھم سر نگوں ھو جائيں ۔

بعض لوگوں كا خيال ھے كہ اگر زندگى كے حادثات اس طرح نہ ھوتے جيسے كہ ھيں تو ھم سب سعيد و نيك بخت ھوتے ليكن يہ تصور غلط ھے كيونكہ ھمارى بد بختيوں كا ڈنڈا حادثات زندگى سے نھيں ملتا ۔ بلكہ ھمارى شقاوت و بد بختى كا دار مدار حادثات سے كس طرح نمٹنے پر موقوف ھے كيونكہ يہ ممكن ھے كہ عوامل خارجى كے اثرات كو انسان اپنے دل و جان اوراپنى روح كى طاقت سے بدل دے اور اس طرح كسب توفيق كر لے ۔

ايك مشھور رائٹر لكھتا ھے: ھمارے افكار كا دار مدار نا راضگى پر ھے ۔ ھم چاھے جس حالت ميں ھوں چاھے جس صورت ميں ھوں ناراض رھتے ھيں ۔ اور شكوہ بر لب رھتے ھيں ۔ يہ گريہ و رازي شكوہ و شكايت ھمارے خمير ميں ھے ۔ انسانى وجود كى تخليق كچھ اس طرح ھوئى ھے كہ ھميشہ روحانى و جسمانى نا مناسب چيزوں سے رنج و عذاب ميں گرفتار رھتا ھے ھر روز ايك نئى آرزو كا اسير رھتا ھے ۔ بلكہ بسا اوقات تو اس كو يہ بھى نھيں معلوم ھوتا كہ كيا چاھتا ھے؟ اور كس چيز كى تمنا ركھتا ھے انسان خيال كرتا ھے كہ خوش بختى تو دوسروں كے پاس ھے (ميں تو بھت ھى بد بخت ھوں) لھذا ان سے رشك كرتا ھے اور اپنے كو تكليف ميں مبتلا كرتا ھے ۔ انسانى وجود ايك ايسے بچہ كے مانند ھے جو ھميشہ سوز و گذار ميں مبتلا رھتے ھيں ۔ ھمارى آزادى و آسائش صرف اسى صورت ميں ممكن ھے جب اس بچہ كو حقيقت كے ديكھنے پر آمادہ كريں ۔ اور اس قسم كى بيھودہ خواھشات سے اس كو روك ديں ۔ اس بچہ كى آنكھيں جو بے حساب خواھشات كى وجہ سے برائى كے علاوہ كچھ بھى نھيں ديكہ پاتيں انكو اچھائيوں كے ديكھنے پرمجبور كريں ۔ اس بچہ كو يہ سمجھ لينا چاھئے كہ اس باغ زندگى ميں ھر آنكہ والا اپنے دامن كو پھولوں سے بھر ليتا ھے اور اندھا سوائے كانٹوں كے كچھ بھى نھيں حاصل كر پاتا ۔ اگر ھم اپنى كم حوصلگى و بد گمانى ھى كے راستہ پر نہ چليں اور نگاہ تحقيق سے ديكھيں تو ھم كو معلوم ھو گا كہ ھر زمانہ اور ھر عھد ميں بلكہ اس زمانہ ميں بھى جب كہ دنيا ھولناك گرداب ميں پھنس چكى ھے اور ھمارى زندگى ھر وقت زير و زبر رھتى ھے اور ھر وقت اچھائى و برائى سے دو چار ھونا پڑتا ھے ھم باغ زندگى ميں ھر جگہ گلھائے زيبا كو چشم بينا سے ديكہ سكتے ھيں ۔

انسان كى سعادت و نيك بختى ميں اس كے افكار كو كافى دخل ھے بلكہ انسانى سعادت كا اكيلا موٴثر صرف اس كى عقل اور فكر ھے ۔بد گمان شخص كى نظر ميں غير معمولى حادثہ بھت ھى عظيم ھوتا ھے اس كى كمر كو توڑ ديتا ھے بد گمان شخص اس كو برداشت نھيں كر پاتا ۔ ليكن حسن ظن ركھنے والا شخص جو صرف زندگى كے روشن پھلوؤں كو ديكھنے كا عادى ھے اور بدي كى جگہ ھميشہ نيكى پر عقيدہ ركھتا ھے وہ ان مصائب و آلام كے مقابلہ ميں جن سے زندگى ميں اجتناب ممكن نھيں ھے سر تسليم خم كر ديتا ھے ۔ انتھا يہ ھے كہ دشوار ترين مصائب كے وقت بھى وہ مقاومت كرتا ھے اور متانت و برد بارى كے راستہ سے خارج نھيں ھوتا ۔

جو لوگ يہ خيال كرتے ھيں كہ ان ھى كى ذات بد بختى كا محور ھے وہ اپنى زندگى شكنجوں سے بھرى ھوئي اور تاريك گزارتے ھيں ۔ اور ضرورت سے زيادہ حساسيت كى بنا پر مصائب و آلام كے مقابلہ ميں اپنى طاقت كو بيكار خرچ كر كے تباہ كر ديتے ھيں ۔ اور دنيا كي ان نعمتوں اور بركتوں سے جو لوگوں كا احاطہ كئے ھوئے ھيں بے خبر و غافل رھتے ھيں ۔

ايك دانشمند كھتا ھے: دنيا لوگوں كے داتھ وھى برتاؤ كرتى ھے جو لوگ اس كے داتھ كرتے ھيں وہ بالكل برابر كا معاملہ كرتى ھے اگر آپ اس كے سامنے ھنسيں گے تو وہ بھى ھنسے گى ۔ اور اگر آپ اس كے سامنے چيں بہ جبيں ھونگے تو وہ بھى ترش روئى سے پيش آئے گى ۔ اگر آپ فكر كريں گے تو وہ آپ كو مفكرين كى فھرست ميں شامل كر ديگى ۔ اگر آپ سچے و رحم دل ھوں گے تو آپ اپنے ارد گرد ايسے لوگوں كو ديكھيں گے جو آپ سے خلوص ركھتے ھونگے آپ سے محبت كرتے ھونگے ۔ آلام و مصائب بظاھر چاھے جتنے تلخ و ناگوار ھوں ليكن روح كو اپنے مخصوص ثمرات ديتے رھتے ھيں ۔ كيونكہ روحانى طاقتيں آلام كى گھٹا ٹوپ تاريكى ميں مزيد روشن و متجلى ھوتى ھيں ۔ اور انھيں دار و گير ، مصائب و آلام فدا كارى و قربانى كے مراحل سے گزرتى ھوئى انسانى كمالات كي چوٹى پر پھونچ جاتى ھيں ۔

بد گمانى كے نقصانات

بد گمانى ايك بھت ھى خطرناك قسم كى روحاني بيمارى ھے اور بھت سى ناكاميابيوں اور ما يوسيوں كا سر چشمہ ھے ۔ يہ ايك ايسي بيمارى ھے جو انسان كى روح كو عذاب و الم ميں مبتلا كر ديتى ھے اور اسكے برے اثرات انسانى شخصيت سے نا قابل محو ھوا كرتے ھيں ۔رنج و غم ھى وہ مركز احساس ھے جھاں سے ممكن ھے بد گمانى كا آغاز ھوتا ھو اور احساسات و جذبات ميں ايك شديد انقلاب و طوفان كا سبب بنتا ھو ، بد گمانى كا بيج جو اس راہ گزر سے مزرعھٴ قلب ميں بويا جاتا ھے وہ انسانى افكار و انديشوں پر ناگوار و تلخ اثرات مرتب كرتا ھے ۔جس كا آئينہ روح بد گمانى كے غبار سے كثيف و تاريك ھو چكا ھو اس ميں محض يھى نھيں كہ آفرينش كى خوبياں و زيبا ئياں اجاگر نھيں ھو سكتيں بلكہ سعادت و خوش بختى اپنى صورت بدل كر ملال و نكبت بن كر ظاھر ھوتى ھے اور ايسا شخص كسى بھى شخص كے كردار و افكار كو بے غرض تصور نھيں كر سكتا ۔ اس قسم كے اشخاص كى روحانيت چونكہ منفى ھے اس لئے ان ميں مثبت قوت مقصود ھوتى ھے ۔ اور ايسے لوگ اپنے افكار بد سے اپنے لئے مشكلات پيدا كر ليتے ھيں ۔ اور اپنى طاقت كو ايسے حادثات ميں غور و فكر كر كے بتاہ و بر باد كر ليتے ھيں جن سے شايد ان كا زندگي ميں كبھى سابقہ بھى نہ پڑے ۔

جس طرح حسن ِظن ركھنے والے شخص كى طاقت اس كے اطرافيوں ميں اثر انداز ھوتى ھے اور وہ شخص اپنے آس پاس كے لوگوں كى روح اميد كو طاقت بخشتا ھے اسى طرح بد گمان شخص اپنے آس پاس كے لوگوں كے دلوں ميں رنج و غم كى كاشت كرتا ھے اور لوگوں كے اس چراغ اميد كو خاموش كر ديتا ھے جو زندگى كے پيچ و خم ميں ضو فشاں رھتا ھے ۔بد گمانى كے برے اثرات صرف روح تك ھى محدود نھيں رھتے بلكہ جسم پر بھى اس كے اثرات مرتب ھوتے ھيں ۔ اس كي بيماريوں كا علاج مشكل ھو جاتا ھے ۔ ايك عظيم طبيب كھتا ھے: جو شخص ھر ايك سے بد گمانى ركھتا ھو اورھر چيز كے بارے ميں غلط نظر يہ ركھتا ھو اس كا علاج كرنا اس سے كھيں زيادہ مشكل ھے جتنا دريا ميں خود كشى كي نيت سے چھلانگ لگانے والے كو بچانا مشكل ھے ۔ جو شخص ناراضگيوں اور ھيجان كے درميان زندگى بسر كرتا ھو اس كو دوا دينا ايسا ھى ھے جيسے كھولتے ھوئے روغن زيتون ميں پانى ڈالنا اس لئے كہ دوا كا اثر مرتب ھونے كے لئے يہ بھي ضرورى ھے كہ روح اعتمادكى مالك ھو اور وہ اپنے سكون فكر كي حفاظت كر سكتا ھو ۔

بد گمان شخص كے اندر كنارہ كشى دوسروں كے داتھ مل جل كر رھنے سے اجتناب كے اثرات با قاعدہ مشاھدہ كئے جا سكتے ھيں اور اسى نا پسنديدہ عادت كے تحت وہ شخص اپنے اندر استعداد ترقى كو كھو بيٹھتا ھے اور اس كا نتيجہ يہ ھوتا ھے كہ وہ ناپسنديدہ زندگى بسر كرنے پر مجبور ھو جاتا ھے ۔ خود كشى كى ايك علت فكر و روح پر بد گمانى كا مسلط ھو جانا بھى ھے اور اس قسم كے نا قابل بخشائش گناہ كا ارتكاب اسى وجہ سے كيا جاتا ھے ۔

اگر آپ اپنے معاشرہ پر نظر ڈاليں تو معلوم ھو گا كہ لوگ جو ايك دوسرے كے بارے ميں گفتگو كيا كرتے ھيں وہ سب بغير مطالعہ بغير غور و فكر اور بد گمانى كى وجہ سے ھوتى ھے۔  اور اسى كے داتھ داتھ ان كى قوت فيصلہ بھى كمزور ھوتى ھے ليكن پھر بھى صحيح و اطمينان بخش تشخيص سے پھلے اپنا حتمى فيصلہ دے ديتے ھيں ۔ ايسے لوگ بلا تصور كى تصديق كے قائل ھوتے ھيں ۔ كبھى ان كى گفتگو ميں شخصى غرض بھي نماياں ھوتى ھے اور يھى سب سے بڑا وہ عيب ھے جس كى وجہ سے رشتہ الفت و محبت ٹوٹ جاتا ھے ۔ اتحاد قلبى ختم ھو جاتا ايك دوسرے پر اعتماد كا سلسلہ نابود ھو جاتا ھے اوران كے اخلاقيات تباہ و بر باد ھو جاتے ھيں ۔

بھت سى ايسى عداوتيں اور دشمنياں جن كا نقصان افراد و اجتماع كے لئے نا قابل جبران ھوتا ھے وہ ان خلاف واقع بد گمانيوں كي پيدا وار ھوتى ھيں ۔ معاشرے كے مختلف طبقات ميں بد گمانى رخنہ اندازى كرتى ھے ۔ انتھا يہ ھے كہ يہ بد گمانى دانشمندوں اور فلسفيوں كو بھى متاثر كر ديتى ھے ھر قوم و ملت كے مختلف ادوار ميں ايسے دانشمند پيدا ھوئے ھيں كہ اسى بد گمانى كى وجہ سے ان كے طرز تفكر ميں گھرى تاريكى پائى جاتى ھے اور يہ حضرات علم و دانش كے سھارے ھميشہ جامعہ ٴ بشريت كى خدمت كرنے كے بجائے نظام آفرينش ميں نقد و تبصرہ كر كے اسي كى عيب جوئى كرتے رھے ھيں اور اس طرح ان لوگوں نے اپنے مسموم افكار غلط منطق كے ذريعہ معاشرے كى روح كو مسموم بنا ديا ۔ مبادى اخلاق بلكہ مباديٴ عقائد كو بھى مورد ِ استھزا قرار ديا ۔ بعض فلسفيوں ميں بد گماني اتنى شديد ھو گئى تھى كہ انھوں نے انساني آبادى كى بڑھتى ھوئى تعداد اور فقر و فاقہ كے خوف سے وحشت زدہ ھو كر انسانى نسل كو محدود كرنے كے لئے ھر چيز كو جائز قرار دے ديا يھاں تك كہ انسانى آبادى كو كم كرنے كے لئے وحشيانہ قتل و غارتگرى خونريزى كو بھى جائز قرار دے ديا تھا ۔ ظاھر سى بات ھے كہ اگر دنياكے لوگ ان كے زھريلے خيالات پر عمل كرتے تو آج اس روئے زمين پر علم و تمدن كا كوئى وجود بھى نہ ھوتا ۔

انھيں بد گمان فلسفيوں ميں ايك شخص بنام ابو العلاء معرى تھا كہ جس كے تمام تر افكار اسى بد گمانى كے محور پر گھوما كرتے تھے اور وہ زندگى كو عذاب سمجھتا تھا ۔ نسل بشر كو ختم كرنے كے لئے اس نے شادى بياہ پيدائش اولاد كو حرام قرار دے ديا تھا ۔ كھا جاتا ھے كہ جب اس كے مرنے كا وقت قريب آيا تو اس نے وصيت كى كہ ميرے لوح مزار پريہ جملہ كندہ كر ديا جائے:

”يہ قبر ميرے باپ كے ان جرائم ميں سے جو اس نے مجھ پر كئے ھيں ايك نشانى ھے ليكن ميں نے كسى پر كوئى جرم نھيں كيا ھے “۔

بد گمانى سے اسلام كا مقابلہ

قرآن مجيد نے بد گمانى كو بھت بڑا شمار كيا ھے اور مسلمانوں كو اس بات سے روكا ھے كہ ايك دوسرے كے بارے ميں بدگمانى كريں ۔ چنانچہ ارشاد ھے: ”ياا يّھا الذين اٰمنوا اجتنبوا كثيرا من الظن ان بعض الظن اثم“ اے ايماندارو! بھت سے گمان (بد) سے بچے رھو كيونكہ بعض بد گمانى گناہ ھے 1

دين اسلام نے لوگوں كو بغير كسى قطعى دليل كے بد گماني كرنے سے روكا ھے ۔ رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كا ارشاد ھے: مسلمانوں كى تين چيزيں تم پر حرام ھيں ۱۔خون ۲۔ مال ۳۔ بد گماني۔ 2 جس طرح كسى مدرك و دليل كے بغير كسى كے مال كو دوسرے كى طرف منتقل كرنا غير شرعى ھے اسى طرح لوگوں كے بارے ميں بد گمانى كرنا بھى حرام اور غير شرعى فعل ھے اور اصل قضيہ كے ثابت ھونے سے پھلے كسي كو متھم كرنا جائز نھيں ھے ۔ حضرت على عليہ السلام كا ارشاد ھے:

صرف بد گمانى كى بنا پر كسى كے خلاف حكم لگا دينا نا انصافى ھے 3 حضرت على عليہ السلام نے بد گماني كے نقصانات ، نفسياتى بيمارياں روحانى مفاسد كو بھت جامع و بديع انداز ميں بيان فرمايا ھے:خبر دار كسى سے بد گمانى نہ كرو كيونكہ بد گمانى عبادت كو فاسد اور گناہ كے بوجہ كو زيادہ كرتى ھے 4 نيك لوگوں سے بد گمانى ان كے حق ميں ظلم و بے انصافى ھے چنانچہ ارشاد مولائے كائنات ھے:

نيك شخص كے بارے ميں بد گمانى بد ترين گناہ اور قبيح ترين ظلم ھے 5 دوستوں سے بد گمانى قطع روابط اور دوستي و الفت كے ختم ھونے كا سبب ھے چنانچہ ارشاد ھے: جس كے دل پر بد گمانى كا غلبہ ھو جاتا ھے اس كے اور اس كے دوستوں كے درميان صفائى كي گنجائش باقى نھيں رھتى ۔ 6

بد گماني جس طرح انسان كے اخلاق و زندگى كو بر باد كرتى ھے اسى طرح دوسروں كے اخلاقيات و روح كو خراب كر ديتى ھے ۔ اور يہ بھى ممكن ھے كہ جن لوگوں كے بارے ميں بد گماني كى جائے ان كے اخلاقيات صراط مستقيم سے منحرف ھو جائيں اور وہ لوگ فساد و رذائل ميں مبتلا ھو جائيں جيسا كہ حضرت على عليہ السلام نے فرمايا: بد گمانى بھت سے امور كو فاسد كر ديتى ھے اور برائيوں پر آمادہ كرتى ھے ۔ 7

ڈاكٹر ماردن كھتا ھے: بھت سے ايسے نوكر ھيں جن كے مالك ان سے ھميشہ بد گمان رھتے ھيں اور خيال كرتے ھيں كہ يہ ملازمين چور ھيں ايسے نوكر آخر كار چورى كرنے لگتے ھيں اور اس قسم كى بد گمانى كا چاھے ھاتہ و زبان سے اظھار بھى نہ كيا جائے پھر بھى وہ اپنى برى تاثير چھوڑتي ھيں اور اس كى روح مسموم ھو جاتى ھے اور اس كو چورى پر ورغلانے لگتى ھے ۔ 8

حضرت على عليہ السلام اسى سلسلہ ميں فرماتے ھيں: كھيں تم ( اپنى بيوى سے بد گمانى كى بنا پر ) اپنى غيرت كا اظھار نہ كر بيٹھو كيونكہ يہ بات صحيح آدمى كو برائى پر اور بے گناہ كو گناہ پر آمادہ كرتى ھے ۔ 9

بد گمانى كرنے والا شخص كبھى اپنے جسم و روح كى سلامتى سے بھى ھاتہ دھو بيٹھتا ھے ۔ جيسا كہ حضرت علي عليہ السلام نے فرمايا: بد گمان شخص كو تندرستى و آرام نصيب نھيں ھوتا ۔ 10

ڈاكٹر مارل اس سلسلہ ميں كھتا ھے: (انسان كى) بعض عادتيں اس كى عمر كو كم كر ديتى ھيں مثلا ھر چيز پر تنقيد كى عادت ھر شئى سے بد گمانى كى عادت ! (عمر كو كم كر ديتى ھے) كيونكہ يہ منفي نفسياتى عادت ،اعصاب اور داخلى غدود كو متاثر كر ديتى ھے ۔ اور اس كا نتيجہ كبھى عملى اختلال كى صورت ميں اور كبھى جسمانى نقصان كى صورت ميں ظاھر ھوتا ھے ۔ 11

ڈاكٹر ماردن كا كھنا ھے: بد گمانى صحت كو خراب كر ديتى ھے ۔ پيدائشى قوتوں كو كمزور كر ديتى ھے اور ايك متوازن روح كسى برائى كا كبھى انتظار نھيں كرتى ۔ مثلا ھميشہ اس كى يھى آرزو رھتى ھے كہ نيكيوں سے روبرو رھے كيونكہ اسے معلوم ھے نيكي ايك حقيقت ابدى ھے اور بد گمانى اچھى طاقتوں كے كمزور كر دينے كے سوا كچھ بھى نھيں ھے ۔ جيسے تاريكى فى نفسہ كوئى مستقل چيز نھيں ھے بلكہ عدم نور كا نام تاريكى ھے ۔ لھذا نور كى تلاش ميں دوڑ و ! نور دل سے تاريكى كو ختم كر ديتا ھے 12

بد گمان شخص لوگوں سے وحشت كرتا ھے جيسا كہ حضرت على عليہ السلام نے فرمايا: جو حسن ظن نھيں ركھتا وہ ھر ايك سے وحشت كرتا ھے ۔ 13

ڈاكٹر فارمر كھتا ھے: جس مجلس ميں ھر شخص اپنى راى اور اپنے نظر يہ كو بيان كر رھا ھو اس ميں اگر كوئى شخص صريحى طور سے اپنى فكر و نظر كے اظھار سے ڈرتا ھو اور جو شخص وسيع و چوڑى سڑكوں كو چھوڑ كر تنگ و تاريك گليوں ميں اس خوف سے راستہ چلتا ھو كہ كھيں چوڑى سڑكوں پر يا عمومى تفريح گاھوں ميں اپنے كسى رشتہ دار سے ملاقات نہ ھو جائے ،يہ سب لوگ يا تو واھمہ كے شكار ھيں يا پھر ان كى روح پر بد گمانى مسلط ھے ۔ 14

بد گمانى كى علتوں ميں سے ايك علت ماضى كى تلخ ياديں بھى ھيں جو انسان كے اندر چھپى ھوتي ھيں اور انسان كو بد گمانى پر آمادہ كرتى ھيں ۔ ايك اردو كا شاعر كھتا ھے

يادِ ماضى عذاب ھے يا رب

چھين لے مجھ سے حافظہ ميرا

انھيں ماضى كى تلخ يادوں نے شاعر كو اس شعر پر آمادہ كر ديا ۔ حضرت على عليہ السلام كا ارشاد ھے: انسان كے دل كى گھرائيوں ميں ايسى تلخ ياديں اور برائياں پوشيدہ ھيں جن سے عقل فرار كرتى ھے ۔ 15

ڈاكٹر ھيلن شاختر كھتا ھے: جن لوگوں كو اپنى ذات پر اطمينان و بھروسہ نھيں ھوتا وہ معمولى سے رنج سے متاثر ھو جاتے ھيں اور ان تكليفوں كى ياديں ان كے دلوں ميں غير شعورى طور سے باقى رہ جاتى ھيں جو ان كے افعال و اقوال ، اعمال و افكار كو متاثر كر ديتى ھيں ۔ جس كى وجہ سے وہ لوگ سخت مزاج ، غمگين اور بد گمان ھو جاتے ھيں اور ان كو پتہ نھيں چل پاتا كہ آخر وہ ان روحانى امراض كے كيونكر شكار ھو گئے ۔ كيونكہ تلخ ياديں ھمارے تحت الشعور ميں مخفى رہ جاتى ھيں اور آسانى سے ظاھر نھيں ھوتيں ۔

دوسرے الفاظ ميں يہ عرض كروں كہ انسان فطرتاً اپنى تلخ يادوں سے فراركرتا ھے ۔ اس كو قطعاً يہ بات پسند نھيں ھوتى كہ ان يادوں كو خزانہ حافظہ سے نكال كر نظروں كے سامنے ركھے ليكن يہ پوشيدہ دشمن اپنى كينہ توزى سے دست كش نھيں ھوتا ۔ ھمارے اخلاق ارواح اعمال كو اپنے حسب منشاء ابھارتا رھتا ھے چنانچہ كبھى ايسا بھى ھوتا ھے كہ اپنے سے اور دوسروں سے ايسے اعمال سر زد ھو جاتے ھيں يا ايسى گفتگوئيں سننے ميں آتى ھيں جو بظاھر بے سبب اور باعث كمال تعجب ھوتى ھيں ليكن اگر ھم ان كى كھوج ميں لگ جائيں تو پتہ چلے گا كہ يہ انھيں تلخ يادوں كى دين ھے جو ھمارے تحت الشعور ميں پوشيدہ تھيں ۔ 16

پست فطرت لوگ اپنى ذات كو دوسروں كى طبيعتوں كا پيمانہ سمجھتے ھيں اور اپنى برائيوں كاعكس دوسروں ميں ديكھتے ھيں ۔ چنانچہ حضرت على عليہ السلام نے اس سلسلہ ميں نھايت عمدہ بات فرمائى ھے۔آپ ارشاد فرماتے ھيں: بد طينت شخص كسى كے بارے ميں حسن ظن نھيں ركھتاكيونكہ وہ دوسروں كا قياس اپنى ذات پر كرتا ھے ۔ 17

ڈاكٹر مان اپنى كتاب ” اصول علم نفسيات “ ميں كھتا ھے: اپني ذات كے دفاع ميں رد عمل كى ايك قسم يہ بھى ھے كہ سارى برائيوںاور برے خيالات كو دوسروں كے سرتھوپ ديا جائے تاكہ اپنا نفس جو قلق و اضطراب ميں مبتلا ھے اس سے چھٹكارا حاصل كر لے ۔ قياس بر نفس يہ بد ترين قسم ھے اور جب اس قسم كا دفاع اپنے آخرى مرحلہ پر پھونچ جاتا ھے تو پھر وہ شخص نفسياتي مريض ھو جاتا ھے ۔ اس قسم كا دفاع كبھى كسى جرم كا نتيجہ ھوتا ھے ۔ مثلا جب ھم كسى جرم كا ارتكاب كرتے ھيں تو ھمارے اندر يہ احساس جاگ اٹھتا ھے اور ھم اپنے نفس سے دفاع كے لئے اسى قسم كا جرم دوسروں كے لئے ثابت كرنے لگتے ھيں ۔ 18

حضور سرور كائنات صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم جب مدينہ منورہ پھونچے تو مدينہ والوں ميں سے ايك شخص پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كى خدمت ميں مشرف ھو كر بولا: اے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم !يھاں كے لوگ بھت اچھے اور بھت نيك ھيں يہ كتني اچھى اور مناسب بات ھے كہ سركار يھاں قيام پذير ھوئے ! پيغمبر اسلام صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمايا: تم نے صحيح بات كھى ھے ۔

تھوڑي ھى دير كے بعد ايك دوسرا شخص (وہ بھى مدينہ ھى كا تھا) آيا اور اس نے كھا: اے خدا كے رسول صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم !يھاں كے لوگ بھت ھى پست و فرو مايہ ھيں ۔ بڑے افسوس كى بات ھے كہ آپ جيسى عظيم شخصيت ان لوگوں كے درميان ميں سكونت اختيار كرے رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے اس سے بھى فرمايا: تم سچ كھتے ھو !

ايك صحابى بھى وھاں پر تشريف فرماتھے آنحضرت صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم كے دو متضاد قولوں پر تصديق كرنے سے بھت متعجب ھوئے اور ان سے رھا نہ گيا پوچہ ھي ليا: حضور صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم آپ نے دونوں كى تصديق كر دى حالانكہ دونوں كے قول متضاد تھے؟

رسول خدا صلى اللہ عليہ و آلہ وسلم نے فرمايا: ان دونوں نے اپنى اپنى ذات پر قياس كرتے ھوئے كھا تھا ۔ جس كے اندر جو صفتيں تھيں اس نے اسى كے مطابق بات كى انھوں نے جيسا تصور كيا ويسا كھا ۔ يعنى ھر ايك كى بات اس كے اعتبار سے سچ تھى ۔

البتہ يہ بات ضرور ذھن ميں ركھنى چاھئے كہ جس بد گمانى سے روكا گيا ھے وہ انحراف فكرى اور برائى كى طرف ميلان نفس اور اس پر اصرار ھے ۔ اور جو چيز حرام ھے وہ بد گمانى پر اثر مرتب كرنا ھے ۔ ورنہ ھزاروں خيالات جو دل ميں پيدا ھوتے رھتے ھيں اور قلب سے عبور كرتے ھيںاور ان پر كوئى اثر مرتب نھيں كيا جاتا كيونكہ وہ سب غير اختياري ھيں اور ان كو روكنا انسان كى طاقت سے باھر كى چيز ھے لھذا اس كو مورد تكليف نھيں قرار ديا جا سكتا يعني ان سے ممانعت نھيں كى جا سكتى ۔

بھرحال چونكہ بد گمانى كرنے والوں كى تلخ زندگى كا سر چشمہ يھى بد گمانى ھے اس لئے اس بات كى تلاش و جستجو كرنى چاھئے كہ آخر يہ بيمارى كيسے پيدا ھوتى ھے؟ اور بيمارى كى تشخيص كے بعد اس كے علاج و معالجہ كى طرف توجہ كرنى چاھئے !۔

1. سورہ حجرات /۱۲

2. ترمذى كتاب البرّ باب ۱۸ ، ابن ماجہ كتاب الفتن باب ۲ ، صحيح مسلم كتاب البرّ باب ۳۲ ، مسند احمد ج۲ ص ۲۷۷ و ج ۳ ص ۴۹۱

3. نھج البلاغہ مترجم ص ۱۷۴

4. غرر الحكم ص ۱۵۴

5. غرر الحكم ص ۴۳۶

6. غرر الحكم ص ۶۹۸

7. غرر الحكم ص ۴۳۳

8. پيروزى فكر

9. غرر الحكم ص ۱۵۲

10. غر ر الحكم ص ۸۳۵

11. راہ رسم زندگى

12. پيروزى فكر

13. غرر الحكم ص ۷۱۲

14. راز خوش بختى

15. غرر الحكم ص ۲۹

16. رشد شخصيت

17. غر ر الحكم ص ۸۰

18. اصول روانشناسى


source : http://www.sadeqin.com/View/Seminars/SeminarView.aspx?SeminarID=125&LanguageID=6
  41
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

تمام وسائل کو بروی کار لاکر امت مسلمہ کو طاقتور بنائيں
حضرت علی کرم اللہ وجھہ اور حقوق انسانی
اتحاد بین المسلمین کیلئے ضروری ہے کہ اختلافات کو ...
اولاد کے مالی حقوق
علامہ محمد اقبال اور پیغام وحدت امت
صہیونی جنگی جرائم کے نئے پہلو: فلسطینیوں کے اعضائے ...
خاتون قرآن کی روشنی میں
مسلمان نوجوان اسلامی معاشرے کی قوّت
تعمیر انسانیت کا منشور!
ماں باپ کی خوشنودی

 
user comment