اردو
Sunday 12th of July 2020
  891
  0
  0

حیدرآباد تعلیمی بورڈ کی اسلام دشمن سازش

حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے تحت ہونے والے انٹر میڈیٹ (گیارھویں اور بارھویں جماعت )کے امتحانات میں مسلم ھسٹری کے پرچہ اول کے سوال نمبر آٹھ میں یہ کہا گیا ہے کہ سانحہ کربلا اسلام کے خوبصورت نام پر بد نما دھبہ ہے

حیدرآباد تعلیمی بورڈ(انٹر میڈیٹ) کی جانب سے ایسے سوالات کی اشاعت اور پرچوں میں شائع کئے جانے کو علمائے پاکستان نے اسلام اور پاکستان کے خلاف ایک گھناؤنی سازش قرار دیا ہے ،جبکہ ملت جعفریہ سمیت دیگر مکاتب فکر میں بھی غم و غصہ اور شدید بے چینی پائی جاتی ہے۔

یہ بات یاد رہے کہ پاکستان میں ناصبی ایجنٹوں نے سانحہ عاشور اور سانحہ اربعن امام حسین علیہ السلام کے بعد سے اب تک مختلف طریقوں سے ملت جعفریہ کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنا رکھا ہے جبکہ اب نوبت یہاں تک جا پہنچی کہ ناصبیوں نے تعلیمی میدان میں بھی عقائد کی جنگ چھیڑ دی ہے جو کہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ یہ غیر ملکی ناصبی ایجنٹ پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برداشت نہیں کرتے جس کی وجہ سے ایسے گھناؤنے فعل سر انجام دیتے رہتے ہیں ، واضح رہے کہ میٹرک اور انٹر میڈیٹ سطح پر پڑھائے جانے والے تعلیمی نصاب میں شیعہ طالب علموں کے لئے الگ کورس کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے شیعہ طلباء کو شدید مسائل کا سامنا ہے ،اور حیدرآباد تعلی بورڈ کی جانب سے اس طرح کے شر پسندانہ سوالات کی اشاعت نہ صرف ملت جعفریہ کی دل آزاری کا باعث ہے بلکہ امت مسلمہ کے لئے ایک سوالیہ نشان ہے۔

حیدرآباد تعلیمی بورڈ کی اس گھناؤنی اور غیر تعلیمی حرکت پرتمام مکاتب فکر کے علماء اورسنجیدہ افراد میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور علماء نے حیدرآباد انٹر میڈیٹ تعلیمی بورڈ کی اس گھناؤنی حرکت کو اسلام اور پاکستان کی سلامتی کے خلاف سازش قرار دیا ہے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ ناصبی ایجنٹوں کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے تا کہ مملکت پاکستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رہے اور اس طرح کے ناپاک عزائنم رکھنے والوں کو قلع قمع کیا جائے۔

دریں اثناء جعفریہ الائنس پاکستان کے صوبائی صدر راشد رضوی نے حید رآباد تعلیمی بورڈ کی اس گھناؤنی حرکت کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جعفریہ الائنس پاکستان حیدر آباد نے تعلیمی بورڈ حیدرآباد کے خلاف قانونی کاروائی عمل میںلانے کے لئے پانچ رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو علماء اور پروفیسرز حضرات سے مل کر اپنی رپورٹ مرتب کرے گی اور متنازعہ سوال کے حوالے سے قانونی چارہ جوئی کی جائے گی تا کہ ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے اور سخت سے سخت سزا دی جائے،ان کاکہنا تھا کہ شیعہ طلبہ کے لئے  دینیات موجود ہے لیکن کسی بھی تعلیمی ادارے میں انہیں نہیں پڑھائی جاتی جس کی وجہ سے شیعہ طلبہ و طالبات کو شدید دشواری کا سامنا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اس طرح کے واقعات سے کشیدگی پھیلنے کا خدشہ بھی رہتا ہے ۔

انہوں نے حکومت سندھ سے مطالبہ کیا کہ حیدرآباد تعلیمی بورڈ کی اس گھناؤنی حرکت پر کاروائی عمل میں لائی جائے اور متعلقہ افراد کو سخت سے سخت سزا دی جائے ،انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام اسکولوں اور کالجز میں شیعہ طلبا و طالبات کے لئے شیعہ دینیات کی تعلیم کو پڑھانے کا مکمل بندو بست کیا جائے اور شیعہ علماء کی مدد سے ہی ان کو پڑھایا جائے ،اس موقع پر ان کے ہمراہ مولانا قنبری اور مولانا ساجد حسین ساجدی کے علاوہ دیگر بھی شریک تھے۔


source : http://abna.ir/data.asp?lang=6&id=187760
  891
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    عراق کا شہر فلوجہ فوج کے مکمل محاصرے میں
    سرینگر میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپیں/ کپواڑہ ...
    پاکستان؛ یا علی مدد والا لاکٹ گلے میں ڈالنے کے جرم میں ...
    علمی میدان میں اچھی پوزیشنیں حاصل کرنا فرزندان انقلاب ...
    ہندوستانی حجاج کے اہل خانہ بھی سعودی عرب روانہ
    راولپنڈی میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے نجف شاہ اور ان کا ...
    رہبر انقلاب اسلامی کی مرقد امام خمینی (رہ) اور گلزار ...
    250 ہندووں نے دین اسلام قبول کرلیا
    سامرا میں پولیس چھاونی پر خودکش حملہ ۵۰ سے زائد اہلکار ...
    افغانستان؛ صوبہ ارزگان میں طالبان کا پولیس چوکیوں پر ...

 
user comment