اردو
Saturday 19th of October 2019
  383
  0
  0

جناب سکینہ علیھا السلام

جناب سکینہ علیھا السلام

اکثرموٴرخین لکھتے ھیں : آپ کی وفات کی علامت وہ خواب تھا،جو آپ نے زندان شام میں دیکھاتھا،چنانچہ شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ نے” منتھی الامال“[i] میں کتاب” عثیرالاحزان“ کے حوالہ سے نقل کیاھے کہ یزیدنے اہلبیت علیھم السلام کوایسے زندان میں قیدکیاتھاجس میں سردی اور گرمی سے بچنے کے لئے کوئی انتظام نہ تھا، یھاں تک کے شدت گرمی سے ان کے جسموں کی کھال اُترنے لگی تھی ، اوران سے زرد پانی اورپیپ جاری ھوگیاتھا،بعض مقاتل میں ھے کے اہلبیت علیہم السلام جس مقام میں قیدتھے وہ ایک کھنڈرکی شکل میں تھا،کیونکہ یزیدکایہ مقصدتھاکہ وہ مکان ان پرگرپڑے اوریہ سب کے سب ختم ھوجائے۔
شیخ بھائی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ھیں : خاندان نبوت علیہ السلام کی خواتین، جب مقید کر کے لے جائی جانے لگیں تو وہ اپنے مردوں کے حالات جو شھید ھوگئے تھے، بچوں اور بچیوں سے پوشیدہ رکھتی تھیں ،اورھربچہ سے کہتی تھیں کہ ”تمھارے باپ فلاں سفرپرگئے ھوئے ھیں ،اوروہ واپس آجائےں گے“ یھاں تک کے وہ یزیدکے قیدخانہ میں پہنچ گئےں ،ان میں ایک چارسال کی بچی تھی ، یہ بچی ایک رات نیندسے بیدارھوئی اورکہنے لگی:” میرے باباحسین علیہ السلام کھاں ھیں ؟ میں نے ابھی خواب میں دیکھاھے“ وہ بچی بہت پریشان ھوئی، جس سے تمام خواتین اور بچے بھی رونے لگے ،اور جب انکی آہ وفغاں بلند ھوئی تو یزید جو اپنے قصرمیں سورھا تھا وہ بیدار ھوگیا،اور حالات معلوم کئے اسے تمام واقعہ بتایا گیا،تو وہ لعین کہنے لگا ، کہ اس کے باپ کا سر لے جاکر اس کے پاس رکھ دیا جائے پس وہ سرلایاگیا،اوراس چارسالہ بچی کے پاس رکھ دیاگیا،اس نے دریافت کیاکہ یہ کیاچیزھے؟ توبتایاگیاکہ ”یہ تمھارے پدرکاسرھے، وہ بچی ڈرگئی اورفریادکرنے لگی، اور بیمارھوگئی، اوراسی حالت میں اس کی روح قفس عنصری سے پروازکرگئی۔ [ii]

جناب سکینہ علیھا السلام کی قبرمیں پانی کابھرجانا حاج ملا ھاشم خراسانی کتاب -”منتخب التواریخ“میں نقل کرتے ھیں کہ عالم جلیل شیخ علی شامی رحمۃ اللہ علیہ نے نجف اشرف میں حقیر (ھاشم خراسانی )سے کھا تھا کہ میرے جد بزرگوار آقا سید ابراھیم دمشقی جن کا نسب سید مرتضٰی رحمۃ اللہ علیہ (علم الھدیٰ)سے ملاتا ھے ، بہت بزرگ اور محترم شخصیت کے حامل تھے ، آپ کی تین بیٹیاں تھیں ، ایک رات بڑی بیٹی نے خواب میں جناب سکینہ علیھا السلام کو یہ کہتے دیکھا: ”اپنے پدر سے کھو کہ میری قبر میں پانی بھر گیا ھے ،اور میری لحد اور بدن زیر آب ھے ، جس سے مجھے اذیت ھورھی ھے ،والی شام سے جاکر کھے کہ میری قبر کو تعمیر کروائے “صبح کو لڑکی نے اپنے والد سے خواب بیان کیا ،مگر سید نے دشمنوں کے خوف کی وجہ سے خواب پر زیادہ توجہ نھیں دی ۔
دوسری شب سید کی دوسری بیٹی نے یھی خواب دیکھا اور اپنے والدسے بیان کیا ، مگر سید نے پھر کوئی اھمیت نہ دی ۔
تیسری شب سید کی چھوٹی بیٹی نے اسی طرح کا خواب دیکھا ،اوراس بار خواب میں جناب سکینہ علیھا السلام نے تاکید کرتے ھوئے فرمایا : آخر کیوں تیرے والد والی شام کو کیوں نھیں خبر دیتے ؟
صبح سیدنے والی شام سے اس خواب کوبیان کیا،اس نے حکم دیاکہ تمام شام کے علماء وصلحاء جائےں غسل کریں اورپاک لباس زیب تن کریں ، پھرحرم کے قفل کوکھولےں ،اورجس کے ھاتھ سے قفل کھل جائے ،وھی قبربھی کھولے ،اس کے بعدجسدمطھرکوباھرنکالے اوردوبارہ قبرکوتعمیرکرے ۔
پس تمام علماء نے مکمل آداب کے ساتھ غسل کیا،اورپاک کپڑے پہنے ،مگرکسی کے ھاتھوں سے قفل نھیں کھل سکاسوائے مرحوم سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ کے، البتہ بعد میں تمام علماء وصلحاء حرم شریف میں داخل ھوئے،اورھرایک نے کدال اُٹھاکرزمین کوکھودناشروع کیامگرکسی کی بھی کدال زمین پراثر نہ کرسکی سوائے سیدکے ،اس کے بعدحرم کوخالی کیاگیا،اورلحدکوشگافتہ کیاگیا،سید رحمۃ اللہ علیہ نے دیکھاکہ ایک بدن نازنین لحداورکفن کے درمیان بالکل صحیح وسالم ھے ،لیکن پانی لحد میں بہت زیادجمع ھے،سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس مخدرہٴ عصمت وطھارت علیہ السلام کے جسم اقدس کولحدسے باھرنکالااوراپنے زانوں پررکھا،تین روزتک آپ نے اسی طرح اپنے زانوں پرجسدمبارک کو رکھے رکھا،اورگریہ کرتے رھے ،تین روزبعدجب پانی بالکل خالی کردیاگیا آپ نے اس جسم نازنین کوپھرسے لحدمیں بندکردیا،اس درمیان نمازکے اوقات میں سید؛جناب سکینہ علیھا السلام کے لاشہ کوکسی پاک جگہ رکھ دیتے تھے ، اس معجزہ کی وجہ سے سیدابراھیم رحمۃ اللہ علیہ کوان تین دنوں میں نہ بھوک کااحساس ھوانہ پیاس کی شدت محسوس ھوئی اورنہ ھی آپ کاوضوباطل ھوا،جب آپ اس مخدرہٴ عصمت و طھارت کو دفن کررھے تھے،تو آپ نے دعاکی کہ یاخدا !مجھے ایک بیٹاعطاکر،چنانچہ سید کی یہ دعامستجاب ھوئی، اوراس ضعیفی میں خدانے فرزندکی دولت عطافرمائی ،جسکانام آپ رحمۃ اللہ علیہ نے سیدمصطفی رکھا،یہ واقعہ ۱۲۸۰ ھ ء میں پیش آیاتھا۔[iii]
آج جناب سکینہ علیھا السلام کے مرقداقدس کی وجہ سے شھردمشق منورھے، اور آپ کاحرم ناصرف یہ کہ شیعوں کی زیارت گاہ بناھواھے، بلکہ اہل سنت بھی اس سے کافی عقیدت رکھتے ھیں ،جناب سکینہ علیھا السلام کاحرم آج بھی انسانی ذہنوں کوچودہ سوسال پُرانی یاددلاتاھے ،کہ یزیداپنی تما ترکوششوں کے باوجوداسلام کے نام کونہ مٹاسکا،بلکہ اس کوشش میں وہ خودمٹ گیا، آج اسلام بھی زندہ ھے اور بحمداللہ اس کے بچانے والے اہلبیت علیھم السلام بھی زندہ ھیں ۔

حشر تک سوئے گی زنداں میں سکینہ چین سے
کہئے گا بابا سے اب تڑپیں نہ دختر کے لئے
(علامہ ذیشان حیدر جوادی )
-----------------------------

[i] ماخوذاز” منتھی ال آمال“ ج ۱ ،فصل۸
[ii] ماخوذ از”منتھی ال آمال“ج ۱ ، فصل۸
[iii] ”منتخب التواریخ“ص

  383
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      مھربانی کرکے امامت کے اثبات اور کی ضرورت کو عقلی دلائل ...
      کیا حضرت علی علیھ السلام کی وه حالت ، جس میں انھوں نے ...
      کیا دھمکی دینے کی غرض سے خودکشی کا اقدام قضا و قدر الھی ...
      امام علی علیھ السلام کی امامت کے ثبوت میں قرآن مجید کی ...
      ۳۸ عیسائی حرم شاہ چراغ (س) میں شیعہ ہو گئے
      "سکینہ" اور "وقار" کے درمیان فرق کیا ہے، مجھے ...
      کیا، لفظ یٰس سنتے وقت صلوات پڑھنا صحیح هے اور کیا اس ...
      صرف چند انبیاء علیهم السلام کے نام قرآن مجید میں ذکر هو ...
      علامہ سید ساجد علی نقوی: نئے ادارے اور وردیاں تبدیل ...
      میثاقِ مدینہ

 
user comment