اردو
Monday 14th of October 2019
  320
  0
  0

شہر بانو ( امام زین العابدین(ع)کی والدہ )

شہر بانو ( امام زین العابدین(ع)کی والدہ )

بسم الله الرحمن الرحیم
شہر بانو ایران کے بادشاہ یزدجر ساسانی کی بیٹی اور امام زین العابدین (ع) کی والدہ ہیں ۔ عمر کے زمانہ خلافت میں اسلام و ایران کے درمیان ہونے والی جنگ میں اسیر ہو کر مدینہ آئیں ۔ عمر انہیں کنیزی میں فروخت کرنا چاہتا تھے ۔
علی (ع) نے فرمایا :
شہزادی و شہزادوں کو اگرچہ کافر ہی کیوں نہ ہوں بیچنا نہیں چاہیے انہیں ان کی حالت پر چھوڑ دو تاکہ مسلمانوں میں سے کسی کو اپنی ہمسری کے لیۓ پسند کر لیں ۔
شہر بانو نے امام حسین علیہ السلام کو پسند کیا ۔ حضرت علی (ع) نے اپنے بیٹے سے فرمایا کہ ان کا احترام و خیال رکھنا ۔ اس مبارک شادی کا ثمرہ امام علی بن الحسین ہیں ۔ تاریخ اسلام میں یہ بھی ہے کہ شہربانو کے ہمراہ ان کی بہن کیہان بھی تھی جو محمد بن ابی بکر کے حبالۂ نکاح میں آئی ۔ اس سے قاسم پیدا ہوۓ اس بنا پر امام زین العابدین اور قاسم آپس میں خالہ زاد بھائی ہیں ۔ اھل مدینہ کنیزوں سے شادی ،نکاح نہیں کرتے تھے ۔ امام حسین علیہ السلام کے اس انسانی اقدام سے تدریجا یہ رسم ختم ہو گئی اور مسلمانوں میں کنیزوں سے عقد کرنے کا رواج ہو گیا ۔ شہر بانو کا اپنے بیٹے زین العابدین کی ولادت کے بعد ہی انتقال ہوگیا تھا ۔ بچے کی پرورش دیگر عورتوں نے کی تھی ۔

امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں :
"" میں دو بڑی ہستیوں کا بیٹا ہوں ""
کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے جد اور شہربانو والدہ تھیں ۔
ابوالاسود دئلی کہتے ہیں :
وان ولیدا بین کسری و ھاسم
لا کرم من نیطت علیه التمائم ( جو بچہ کسری و ہاشم کی نسل سے پیدا ہوا ہے وہ سب سے زیادہ عظیم و شریف ہے )

  320
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      مھربانی کرکے امامت کے اثبات اور کی ضرورت کو عقلی دلائل ...
      کیا حضرت علی علیھ السلام کی وه حالت ، جس میں انھوں نے ...
      کیا دھمکی دینے کی غرض سے خودکشی کا اقدام قضا و قدر الھی ...
      امام علی علیھ السلام کی امامت کے ثبوت میں قرآن مجید کی ...
      ۳۸ عیسائی حرم شاہ چراغ (س) میں شیعہ ہو گئے
      "سکینہ" اور "وقار" کے درمیان فرق کیا ہے، مجھے ...
      کیا، لفظ یٰس سنتے وقت صلوات پڑھنا صحیح هے اور کیا اس ...
      صرف چند انبیاء علیهم السلام کے نام قرآن مجید میں ذکر هو ...
      علامہ سید ساجد علی نقوی: نئے ادارے اور وردیاں تبدیل ...
      میثاقِ مدینہ

 
user comment