اردو
Monday 14th of October 2019
  252
  0
  0

حضرت زینب (س) عالمہ غیر معلمہ ہیں

قال علی ابن الحسین علیهما السلام: « انت بحمد الله عالمة غیر معلمة فهمة غیر مفهمة»(1)
امام زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں کہ بحمد اللہ میری پھوپھی (زینب سلام علیہا) عالمہ غیرمعلمہ ہیں اور ایسی دانا کہ آپ کو کسی نے پڑھایا نہیں ہے.
زینب سلام علیہا کی حشمت و عظمت کے لئے یہی کافی تھا کہ انھیں خالق حکیم نے علم لدنی ودانش وہبی سے سرفراز فرمایا تھا اور عزیزان گرامی آج کی مجلس کا عنوان ہے ”زینب کربلا سے شام تک “ زینب ایک فردنہیں بلکہ اپنے مقدس وجود میں ایک عظیم کائنات سمیٹے ہوئے ہیں ایک ایسی عظیم کائنات جس میں عقل و شعور کی شمعیں اپنی مقدس کرنوں سے کاشانہ انسانیت کے دروبام کو روشن کئے ہوئے ہیں اور جس کے مینار عظمت پر کردار سازی کا پر چم لہراتا ہوا نظر آتا ہے زینب کے مقدس وجود میں دنیائے بشریت کی تمام عظمتیں اور پاکیز ہ رفعتیں سمٹ کر اپنے آثار نمایاں کرتی ہوئی نظر آتی ہیں زینب کا دوسری عام خواتینوں پر قیاس کرنا یقینا ناانصافی ہے کیونکہ امتیاز وانفردی حیثیت اور تشخص ہی کے سائے میں ان کی قدآور شخصیت کے بنیادی خدو خال نمایاں ہو سکتے ہیں اور یہ کہنا قطعاً مبالغہ نہیں کہ زینب ایک ہوتے ہوئے بھی کئی ایک تھیں زینب نے کربلا کی سرزمین پر کسب کمال میں وہ مقام حاصل کیا جس کی سرحدیں دائرہ امکان میںآنے والے ہر کمال سے آگے نکل گئیں اورزینب کی شخصیت تاریخ بشریت کی کردار ساز ہستیوں میں ایک عظیم و منفرد مثال بن گئی ہم فضیلتوں کمالات اور امتیازی خصوصیات کی دنیا پر نظر ڈالتے ہیں تو زینب کی نظیر ہمیں کہیں نظر نہیں آتی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ زینب جیساکہ میں نے بیان کیا ہے کہ اپنے وجود میں ایک عظیم کائنات سمیٹے ہوئے جس کی مثال عام خواتین میں نہیں مل سکتی ہے اور یہ بات یہ ایک مسلم حقیقت بن چکی ہے کہ انسانی صفات کو جس زاویے پر پرکھا جائے زینب کا نام اپنی امتیازی خصوصیت کے ساتھ سامنے آتا ہے جس میں وجود انسانی کے ممکنہ پہلوؤں کی خوبصورت تصویر اپنی معنوی قدروں کے ساتھ نمایاںدکھا ئی دیتی ہے۔
جناب زینب ان تمام صفات کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلاغت کی عظیم دولت و نعمت سے بھی بہر مند تھی زینب بنت علی تاریخ اسلام کے مثبت اور انقلاب آفریں کردار کا دوسرا نام ہے صنف نازک کی فطری ذمہ داریوں کو پورا کرنے اور بنی نوع آدم علیہ السلام کو حقیقت کی پاکیز ہ راہ دکھانے میں جہاں مریم و آسیہ وہاجرہ و خدیجہ اور طیب وطاہر صدیقہ طاہر ہ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہم کی عبقری شخصیت اپنے مقدس کردار کی روشنی میں ہمیشہ جبین تاریخ کی زینت بن کر نمونہ عمل ثابت ہوئی ہیں وہاں زینب بھی اپنے عظیم باپ کی زینت بنکر انقلاب کربلا کا پرچم اٹھائے ہوئے آواز حق و باطل سچ و جھوٹ ایمان و کفر اور عدل وظلم کے درمیان حد فاصل کے طور پر پہچانی جاتی ہیں زینب نے اپنے عظیم کردار سے آمریت کو بے نقاب کیا ظلم و استبداد کی قلعی کھول دی دنیا کے زوال پزیر حسن وجمال پر قربان ہونے والوں کو آخرت کی ابدیت نواز حقیقت کا پاکیزہ چہرہ دیکھا یا صبرو استقامت کا کوہ گراں بنکر علی علیہ السلام کی بیٹی نے ایسا کردار پیش کیا جس سے ارباب ظلم و جود کو شرمندگی اور ندامت کے سوا کچھ نہ مل سکا زینب کو علی و فاطمہ علیہما السلام کے معصوم کردار ورثے میں ملے اما م حسن علیہ السلام کا حسن وتدبیر جہاں زینب کے احساس عظمت کی بنیاد بنا وہاں امام حسین علیہ السلام کا عزم واستقلال علی علیہ السلام کی بیٹی کے صبر و استقامت کی روح بن گیا ، تاریخ اسلام میں زینب نے ایک منفرد مقام پایا اور ایساعظیم کارنامہ سرانجام دیا جو رہتی دنیاتک دنیائے انسانیت کے لئے مشعل راہ واسوہ حسنہ بن گیا۔
زینب بنت علی(ع)تاریخ اسلام میں اپنی مخصوص انفرادیت کی حامل ہے اور واقعہ کربلا میں آپ کے صبر شجاعانہ جہاد نے امام حسین علیہ السلام کے مقدس مشن کو تکمیل یقینی بنایا آپ نے دین اسلام کی پاکیزہ تعلیمات کا تحفظ وپاسداری میں اپناکردار اس طرح ادا کیا کہ جیسے ابوطالب(ع)رسول اللہ (ص)کی پرورش میں اپنے بھتیجے کے تحفظ کے لئے اپنی اولاد کو نچھا ور کرنا پسند کرتے تھے کیونکہ ایک ہی ہدف تھا کہ محمد بچ جائے وارث اسلام بچ جائے بالکل اسی طرح زینب کاحال ہے کہ اسلام بچ جائے دین بچ جائے چاہے کوئی بھی قربانی دینی پڑے اسی لئے تاریخ میں زینب کی قربانی کی مثال نہیں ملتی یہ شجاع کی بیٹی ہے جس کی شجاعت کا لوہا بڑے بڑوں نے مانا تھا اس شجاعت کے پیکر کی ولادت باسعادت کے موقع پر جب اسم مبارک کی بات آئی تو تاریخ گواہ ہے کہ سیدہ زینب کی ولادت ہجرت کے پانچویں سال میں جمادی الا ولی کی پانچ تاریخ کو ہوئی اور آپ اپنے بھائی حسین علیہ السلام کے ایک سال بعد متولد ہوئیں جس وقت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا اس گوہر نایاب کو اپنے ہاتھوں پر اٹھائے ہوئے دل کے اندر اس کی آنے والی زندگی کے چمن کو سجائے رسول اللہ (ص)کی خدمت میں حاضر ہوئیں اورعرض کی کہ اے بابا اس بچی کا نام تجویز فرمائیں ،روایت کی گئی کہ جس وقت جناب زینب بنت علی ابن ابیطالب علیہم السلام کی ولادت با سعادت ہو ئی تو رسول اللہ(ص)کو ولادت کی خبر دی گئی آپ بہ نفس نفیس فاطمہ الزہرا علیہا السلام کے گھر تشریف لائے اور فاطمہ زہرا سے فرمایا اے میری بیٹی ،اپنی تازہ مولودہ بچی کو مجھے دو پس جب کہ شہزادی نے زینب بنت علی علیہمالسلام کو رسول اکرم (ص)کے سامنے پیش کیا تو رسول اللہ (ص)نے زینب کو اپنی آغوش میں لیکر بحکم خدااس بچی کانام زینب رکھا اس لئے کہ زینب کے معنی ہیں باپ کی زینت جس طرح عربی زبان میں ”زین “معنی زینت اور ”اب“معنی باپ کے ہیں یعنی باپ کی زینت ہیں ،اپنے سینہ ٴ اقدس سے لگالیا اور اپنا رخسار مبارک زینب بنت علی(ع) کے رخسار مبارک پر رکھ کر بلند آواز سے اتنا گریہ کیا کہ آپ کے آنسوں آپ کی ریش مبارک پر جاری ہوگئے فاطمہ زہرا نے فرمایا اے بابا جان آپ کے رونے کا کیا سبب ہے اے بابا آپ کی دونوں آنکھوں کو اللہ نے رلایا نہیں ہے ؟تو رسول اللہ (ص) نے فرمایا اے میری بیٹی فاطمہ آگاہ ہو جاؤ کہ یہ بچی تمہارے اور میرے بعدبلاؤں میں مبتلاہوگی اور اس پر طرح طرح کے مصائب پڑیں گے پس یہ سن کر فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہانے بھی گریہ کیا اور پھر فرمایا اے بابا جان جو شخص میری اس بیٹی اور اس کے مصائب پر بکاکرے گا تو اس کو کیا ثواب ملے گا ؟ تورسول اللہ نے فرمایا اے میرے جگر کے ٹکڑے اور اے میری آنکھوں کی ٹھنڈک ، جو شخص زینب کے مصائب پر گریہ کنا ہوگا تو اس کے گریہ کا ثواب اس شخص کے ثواب کے مانند ہوگا جو زینب کے دونوں بھائیوں پر گریہ کرنے کا ہے۔ ۔(2)

زینب اس باعظمت خاتون کانام ہے جن کا طفولیت فضیلتوں کے ایسے پاکیزہ ماحول میں گذرا ہے جو اپنی تمام جہتوں سے کمالات میں گھرا ہوا تھا جس کی طفولیت پر نبوت و امامت کاسایہ ہر وقت موجود تھا اور اس پر ہر سمت نورانی اقدار محیط تھیں رسول اسلام (ص)نے انھیں اپنی روحانی عنایتوں سے نوازا اور اپنے اخلاق کریمہ سے زینب کی فکری تربیت کی بنیادیں مضبوط و مستحکم کیں نبوت کے بعد امامت کے وارث مولائے کائنات نے انھیں علم و حکمت کی غذا سے سیر کیا عصمت کبری فاطمہ زہرا نے انھیں فضیلتوں اور کمالات کی ایسی گھٹی پلائی جس سے زینب کی تطہیر و تزکیہ نفس کا سامان فراہم ہوگیا اسی کے ساتھ ساتھ حسنین شریفین نے انھیں بچپن ہی سے اپنی شفقت آمیز مرافقت کا شرف بخشا یہ تھی زینب کے پاکیزہ تربیت کی وہ پختا بنیادیں جن سے اس مخدومہ اعلی کا عہد طفولیت تکامل انسانی کی ایک مثال بن گیا. (3) وہ زینب جو قرة عین المرتضی جو علی مرتضی کی آنکھوں کی ٹھنڈک ہو جو علی مرتضی کی آنکھوں کانور ہو وہ زینب جو علی مرتضی کی قربانیوں کو منزل تکمیل تک پہنچانے والی ہو وہ زینب جو”عقیلة القریش“ہو جو قریش کی عقیلہ و فاضلہ ہو وہ زینب جو امین اللہ ہو اللہ کی امانتدار ہو گھر لٹ جائے سر سے چادر چھن جائے بے گھر ہو جائے لیکن اللہ کی امانت اسلام پر حرف نہ آئے، قرآن پر حرف نہ آئے،انسانیت بچ جائے، خدا کی تسبیح و تہلیل کی امانتداری میں خیانتداری نہ پیدا ہو، وہ ہے زینب جو ”آیة من آیات اللہ“آیات خدا میں ہم اہلبیت خدا ہیں ہم اللہ کی نشانیوں میں سے ہم اللہ کی ایک نشانی ہیں وہ زینب جومظلومہ وحیدہ بے مثل مظلومہ جس کی وضاحت آپ کے مصائب میں ہوگی جو مظلوموں میں سے ایک مظلومہ ”ملیکة الدنیا“وہ زینب جو جہان کی ملکہ ہے جو ہماری عبادتوں کی ضامن ہے جو ہماری زینب اس بلند پائے کی بی بی کا نام جس کا احترام وہ کرتا جس کا احترام انبیاء ما سبق نے کیا ہے جس کو جبرائیل نے لوریاں سنائی ہیں کیو نکہ یہ بی بی زینب ثانی زہرا سلام اللہ علیہا ہے اور زہرا کا حترام وہ کرتا تھا جس کا احترام ایک لاکھ چو بیس ہزار انبیاء کرتے تھے میں جملہ حوالہ کررہا ہو ں اگر بیدار ہو کر آپ نے غور کیا تو بہت محظوظ ہو نگے جس رحمة للعالمین کے احترام میں ایک لاکھ انبیاء کھڑے ہوتے ہو ئے نظر آئے عیسی نے انجیل میں نام محمد دیکھا احترام رحمة للعالمین میں کھڑے ہوگئے موسی نے توریت میں دیکھا ایک بار اس نبی کے اوپر درود پڑھنے لگے تو مددکے لئے پکارا احترام محمد میں سفینہ ساحل پہ جا کے کھڑاہوگیا (یعنی رک گیا )عزیزوں غور نہیں کیا جس رحمت للعالمین کے احترام میں ایک کم ایک لا کھ چوبیس ہزار انبیا ء کا، کارواں کھڑا ہو جائے تووہ رحمت للعالمین بھی تو کسی کے احترا م میں کھڑا ہوتا ہو گا اب تاریخ بتاتی ہے کہ جب بھی فاطمہ سلام اللہ علیہا محمد (ص) کے پاس آئیں محمد کھڑے ہو گئے تو اب مجھے کہنے دیجیئے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ استاد کھڑا ہو اور شاگرد بیٹھا رہے سردار کھڑا ہو سپاہی بیٹھے رہیں تو اب بات واضح ہو گئی کہ محمد(ص)اکیلے نہیں فاطمہ کے احترام میں کھڑے ہوئے بلکہ یوں کہہ دوں ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کا کارواں احترام فاطمة الزہرا سلام اللہ علیہامیں کھڑا ہوااب زینب ہیں ثانی زہرا اگران کے تابوت و ان کے حرم کے سامنے احترام میں اگر شیعہ کھڑا ہو جائے تو سمجھ لنیا کہ وہ سنت پیغمبر ادا کررہا ہے ۔
کائنات کی سب سے محکم و مقدس شخصیتوں کے درمیان پرورش پانے والی خاتون کتنی محکم و مقدس ہوگی اس کا علم و تقوی کتنا بلندو بالا ہوگا یہی وجہ ہے کہ روایت کے جملہ ہیںکہ آپ عالمہ غیر معلمہ ہیں آپ جب تک مدینہ ںمیں رہیں آپ کے علم کا چر چہ ہو تا رہا اور جب آپ مدینہ سے کوفہ تشریف لائیںتو کوفہ کی عورتوں نے اپنے اپنے شوہروں سے کہا کہ تم علی سے درخواست کرو کہ آپ مردوں کی تعلیم و تربیت کے لئے کافی ہیں لیکن ہماری عو رتوں نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اگر ہو سکے تو آپ اپنی بیٹی زینب سے کہہ دیں کہ ہم لوگ جاہل نہ رہ سکیں ایک روز کوفہ کی اہل ایمان خواتین رسول زادی کی خدمت میں جمع ہو گئیںاور ان سے درخواست کی کہ انھیں معارف الٰہیہ سے مستفیض فرمائیں زینب نے مستورات کوفہ کے لئے درس تفسیر قرآن شروع کیا اور چند دنوں میں ہی خواتین کی کثیر تعداد علوم الٰہی سے فیضیاب ہونے لگی آپ روز بہ روز قرآن مجید کی تفسیر بیان کر تی تھیںاور روزبہ روز تفسیر قرآن کے درس میں خواتین کی تعداد میں کثرت ہو رہی تھی درس تفسیر قرآن عروج پر پہنچ رہا تھااور ساتھ ہی کوفہ میں آپ کے علم کا چرچہ روز بروز ہر مردو زن کی زبان پر تھااور ہر گھر میں آپ کے علم کی تعریفیں ہو رہی تھیں اور لوگ علی(ع) کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کی بیٹی کے علم کی تعریفیں کیا کرتے تھے یہ اس کی بیٹی کی تعریفیں ہو رہی ہے جس کا باپ ”راسخون فی العلم “ جس کا باپ باب شہر علم ہے جس کا باپ استاد ملائکہ ہے ۔


(1) (خصائص زینبیہ ص ۷۹ وزینب زینب ہے ص سفینةالبحار جلد ۱ص۵۵۸)
(2)خصائص زینبیہ :ص۵۲زینب زینب ہے۷۳
(3)صحیفہ وفا :ص

  252
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      مھربانی کرکے امامت کے اثبات اور کی ضرورت کو عقلی دلائل ...
      کیا حضرت علی علیھ السلام کی وه حالت ، جس میں انھوں نے ...
      کیا دھمکی دینے کی غرض سے خودکشی کا اقدام قضا و قدر الھی ...
      امام علی علیھ السلام کی امامت کے ثبوت میں قرآن مجید کی ...
      ۳۸ عیسائی حرم شاہ چراغ (س) میں شیعہ ہو گئے
      "سکینہ" اور "وقار" کے درمیان فرق کیا ہے، مجھے ...
      کیا، لفظ یٰس سنتے وقت صلوات پڑھنا صحیح هے اور کیا اس ...
      صرف چند انبیاء علیهم السلام کے نام قرآن مجید میں ذکر هو ...
      علامہ سید ساجد علی نقوی: نئے ادارے اور وردیاں تبدیل ...
      میثاقِ مدینہ

 
user comment