اردو
Monday 20th of November 2017
code: 83891
سیاست علوی

فصل اول
مقدمہ

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں جیسے ہی سیاست کا نام آتا ہے عام طور پر ذہنوں میں مکر و فریب، ظلم و ستم، انسانی فضل و شرف کی رسوائی، خونریزی، آباد بستیوں کی ویرانی اور نوامیس الٰہی کی پامالی کا تصور ہوتا ہے۔ لفظ سیاست سابق حکمرانوں کے گندے کرتوت اور بداعمالیوں کی وجہ سے اپنے حقیقی معنی اور معنوی حیثیت کھوبیٹھا جبکہ تاریخ سیاست کے طویل عرصہ میں قدیم فلاسفہ ہمیشہ سیاست کو ایک مستقل حیثیت دیتے رہے کہ جو سیاست مدن کے نام سے مشہور ہے۔
امام علیٴ کی سیاست اور الٰہی حکمت عملی کو سمجھنے سے پہلے نہج البلاغہ کی حکمت نظری اور اس کے بنیادی عقائد سے اچھی طرح باخبر ہونا ضروری ہے۔ چنانچہ اگر نہج البلاغہ کی حکمت نظری جھوٹ، دغا بازی، فریب، مکاری اور ظلم و ستم کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتی تو ان کی سیاست میں ان چیزوں کو تلاش کرنا حماقت کے سوا کچھ نہیں۔
بلاشبہ علی ابن ابی طالبٴ ان چند مستثنی شخصیتوں میں سے ہیں جن کا آئین سیاست، الٰہی مکتب فکر اور انسانی فضل و کمالات پر استوار ہے۔ اگر چہ سیاست کی یہ سیرت و روش خود ان کی ذات کیلئے گراں ثابت ہوئی اوراس نے سرکشیوں اور فسادیوں کو ان کے مقابل لا کھڑا کیا لیکن دوسری طرف علیٴ کی یہی روش بشری فضل و کمال کی ایسی راہ معین کررہی تھی جو تاریخ سیاست میں عالم انسانیت کے لئے اک معیار اور نمونہ بن گئی۔
ہم اس مقالہ میں حضرت امام علیٴ کی منطقی سیاست کا جائزہ لیں گے اور نہج البلاغہ کے خطبوں سے بہ حد امکاں سیاست کا حقیقی مفہوم، سیاست کی فکری بنیاد، سیاست کے اصول، سیاست علوی کے وظائف اورمنشورات و... بیان کرنے کی کوشش کریں گے۔

 
موضوع کی اہمیت

انسان فطرتاً سماجی ہوتا ہے لہٰذا بغیر سماج کے زندگی بسر نہیں کرسکتا اور اجتماع کا لازمہ نیاز بشری کی تکمیل ہے اور نیاز بشری کی تکمیل کا لازمہ تدبیر اور حکومت ہے اسی لئے ابن خلدون کہتا ہے :’’حکومت کی تشکیل انسان کی فطری ضرورتوں کا تقاضا ہے‘‘۔ ارسطو جیسا مفکر کہتا ہے :’’...سیاسی دانش کی غایت تمام علوم و دانش سے افضل اور بہتر ہے اور سیاست بالاترین نیکی ہے...‘‘۔ اسی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے حضرت امام علیٴ فرماتے ہیں :’’الا کلکم راع و کلکم مسؤل عن رعیتہ‘‘۔(١)

 
سیاست کا مفہوم

دائرۃ المعارف بستانی، عربی لغت لاروس ، منجد الطلاب، المعجم الوسیط، فرھنگ عمید جیسی لغت کی کتابوں و اخوان الصفا اور اخلاق ناصری جیسی اہم کتابوں کے مآخذ اور متون میں مندرج لفظ سیاست کے معنوں پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ سیاست کے حقیقی معنی انسانی معاشرے، ملک اور عوام کی سرپرستی اور قیادت کے پہلوؤں پر مشتمل ہیں جن کے ذریعہ ان کی فلاح و بہبودی اور ترقی کی ضمانت ملتی ہو۔ (٢)
سیاست کی اصطلاحی تعریف میں ارسطو کہتا ہے :’’ضروری ہے کہ ہر مجموعہ کا اہم ترین موضوع سب سے اچھی نیکی قرار پائے اور اس کا نام سیاست و حکومت رکھا جائے...اور سیاست میں نیکی کا مطلب سماجی انصاف کے علاوہ اور کچھ نہیں ہے جو عوام کی اصلاح اور بہبودی سے وابستہ ہے۔‘‘(٣) اسی کے بالکل برعکس اُوسولڈ اشپنگلرکہتا ہے کہ سیاست یعنی افراد کے ذریعہ ہدف کا معین کیا جانا اور اسے ہر طرح سے حاصل کرنے کی سعی و کوشش کرنا۔ (٤) وہ صرف دین اور سیاست کو جدا کرنے کیلئے کہتا ہے کہ ایک فطری سیاستداں کے نزدیک حق و باطل کی کوئی اہمیت نہیں ہے یعنی اس کے نزدیک وہ وحشی درندے جو حصول اقتدار کی خاطر ہر طرح کا فعل درست سمجھتے ہیں، سیاستداں کہلائیں گے۔

 
فصل دوم
سیاست علوی کی فکری اساس اور دیگر سیاستوں کا معیار

صدیوں سے سیاست کے سلسلہ میں بیان کی جانے والی یہ غلط تعریف سیاستدانوں اور حکمرانوں کی اس فکر کی عکاس ہے کہ ہم تمام مخلوق پر حکومت کرنے کیلئے پیدا کئے گئے ہیں اسی لئے اگر کبھی کسی سیاستداں کی زبان پر انصاف، مظلوموں کی حمایت اور نظم و ضبط جیسے کلمات جاری ہوجاتے ہیں تو ان کو کوئی اہمیت نہیں دی جاتی بلکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ اپنی حکومت کو مزید مستحکم کرنے کی چالیں ہیں۔
گذشتہ وضاحت کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ حقیقت کے متلاشی اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ اگر سیاست سے مراد وہ مفہوم ہے جسکی تشریح اوسولڈ اشپنگلر نے کی ہے تو یقین جانیں کہ حضرت علیٴ ایسی سیاست سے پوری طرح واقف تو تھے مگر اس پر عمل پیرا نہ تھے کیونکہ آپ خود فرماتے ہیں :’’لو لا التقيٰ لکنت ادهيٰ الناس‘‘۔ (٥)اور ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں :’’ہم ایسے زمانے میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں اکثر افراد مکرو فریب کو ہوشیاری سمجھتے ہیں اور نادان لوگ اس قسم کے حیلوں کو راہ حل سمجھتے ہیں ...ایک حقیقی رہبر ان تمام دھوکوں کو بخوبی سمجھتا ہے لیکن خود کبھی اسے اختیار نہیں کرتا کیونکہ خدا کا حکم اسکے قدم روک دیتا ہے... لیکن جس کو دین کا درد نہ ہو وہ ایسے کاموں میں پوری طرح ڈوب جاتا ہے ‘‘۔ (٦) ایک دوسری جگہ بھی آپ نے صاف لفظوں میں فرمایا کہ خدا کی قسم! معاویہ مجھ سے زیرک نہیں ہے لیکن وہ مکرو فریب اور فسق و فجور سے کام لیتا ہے اور اگر مجھے مکرو فریب سے نفرت نہ ہوتی تو میں لوگوں میں سے سب سے زیادہ زیرک ہوتا... خدا کی قسم! مجھے عیاری اور فریب سے غفلت میں نہیں ڈالا جاسکتا اور نہ حالات کی سختیوں کے ذریعہ دبایا جاسکتا ہے۔ (٧) ’’تم لوگ مجھ سے یہ چاہتے ہو کہ ملت پر ظلم و ستم کرکے فتح و کامرانی کی راہ تلاش کروں؟ خدا کی قسم! جب تک ایک ستارہ دوسرے ستارہ کے پیچھے چل رہا ہے (یعنی یہ دنیا برقرار ہے) میں اس کام کے قریب بھی نہ جاؤں گا۔ اگر یہ مال خود میرا ہوتا تب بھی میں اسے لوگوں میں برابر تقسیم کرتا چہ جائیکہ یہ اللہ کا مال ہے...‘‘۔(٨)
آپ کا یہ جملہ ان لوگوں کے نظریات پر خط بطلان کھینچ دیتا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مقصد کیلئے ہر طرح کا وسیلہ اختیار کرنا جائز ہے کیونکہ اسلامی سیاست کی کامیابی کیلئے جوروستم کو ہرگزوسیلہ نہیں بنایا جاسکتا۔ دوسرے لفظوں میں خون کوخون سے نہیں دھویا جاسکتا بلکہ ’’ملاک السیاسةالعدل‘‘(٩)’’بئس السیاسة الجور‘‘(۱۰) ’’جمال السیاسة العدل‘‘(١١) ’’حسن السیاسةقواة الرّعیة‘‘(١۲) پھر فرماتے ہیں :’’والله لا اريٰ اصلاحکم بافساد نفسی‘‘(١٣) بلکہ ’’حسن السیاسة یستدیم الرعیه‘‘(١٤) ’’من حسنت سیاسته وجب طاعته‘‘(١٥) اور حکومت اسی طرح کی سیاست سے باقی بھی رہ سکتی ہے جیسا کہ رسول خدا۰ نے فرمایا کہ حکومت کفر کے ساتھ تو رہ سکتی ہے مگر ظلم کے ساتھ باقی نہیں رہ سکتی۔(١٦)

 
غلط اور نفرت آمیز سیاست

یہ تھا حضرت علیٴ کی سیاست کا فکری محور۔ ہاں! امیرشام بھی ایک سیاستداں تھا مگر اسکی سیاست کا معیار اتنا گھناؤنا تھا کہ جس سے ہرانصاف پسند انسان نفرت کرتا ہے۔ اگر اس کی سیاست سے آشنائی چاہتے ہوں تو اس دستور کو پڑھیں جو اس نے سفیان بن عوف غامدی کے لئے جاری کیا تھا۔ اس عبارت کو ملاحظہ کریں:
’’سفیان بن عوف غامدی کہتا ہے کہ امیرشام نے مجھے بلایا اور کہا کہ تم کو ایک عظیم لشکر کے ہمراہ بھیج رہا ہوں ۔ فرات کے کنارے سے ہوتے ہوئے ’’ہیئت‘‘ پہونچو۔ اس پر قبضہ کرو، اگر اہل قریہ مخالفت کریں تو ان سب پر حملہ کرکے ان کے جان و مال کو غارت کردو...ایسے وقت میں وہ افراد جو تمہاری رائے سے متفق نہ ہوں ان کو قتل کردینا، راستے میں جو بھی آبادی ملے اسے تباہ و برباد کردینا، لوگوں کے اموال کو ضبط کرلینا کیونکہ مال و ثروت کی لوٹ مار قتل عام کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے اثرات زیادہ ہوتے ہیں‘‘۔ (١٧)
یہ تھا ایک بڑے سیاستداں کا حکم جو ایک ایسے اسلامی معاشرے میں تھا جہاں کے انسانوں کی اہمیت اس کی نظر میں ایک چیونٹی سے کم تھی۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ چنگیزخاں کچھ دیر سے دنیا میں آیا، کاش امیرشام کے زمانے میں ہوتا تو اس کے سیاسی نظریات کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرکے بیٹھتا اور سیاست کے آئین سیکھتا۔ اسی لئے امام علیٴ نے امیرشام کے جواب میں لکھا تھا :’’تم کہاں اور ملت کے اموال کی نگرانی کہاں؟ جبکہ دین سے متعلق نہ تیری پچھلی زندگی درخشاں اور تابناک ہے نہ ہی تو کسی قابل ذکر شرف کا حامل ہے...‘‘ (١٨) پھر ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں :’’تمہارا اس فاضل و مفضول حاکم و رعایا (سیاست) کے مسئلہ سے کیا تعلق ہے؟...‘‘ (١٩)
علامہ محمد تقی جعفری لکھتے ہیں کہ اس جملے میں امام یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اے معاویہ تم لوگوں کی رہبری نہیں کرسکتے۔ سیاست و حکومت اور نظم و نسق سے تمہارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ تم خدعہ، نیرنگ، ظلم و ستم اور فتنہ و فساد میں ہی غرق رہو۔ (٢١)
مختصر یہ کہ اسلامی سیاست میں خدا اور آخرت پر ایمان، دین اور انسانی فضائل، صداقت اور حسن نیت، خلوص ، خدمت اور حقیقت اصل محور ہوتی ہے جبکہ دوسرے تمام سیاسی طریقوں میں مادی جوڑ توڑ، خود خواہی، ریاکاری، بے اعتباری، ظلم و ستم، ناانصافی، نفرت انگیز دوغلی پالیسی، مکاری اور عیاری کو محور قرار دیاجاتا ہے۔

 
حضرت امام علی علیہ السلام اور حکومت

حضرت عیسیٴٰ کی ولادت سے چار صدی پہلے یونانی معاشرے میں ارسطو نے ’’سیاست‘‘ کے موضوع پر ایک کتاب لکھی تھی جس میں تین طرح کی حکومتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے:
(١)تاناشاہی (٢) اشرافی(بالا طبقے کی حکومت) (٣) جمہوری حکومت۔
تاریخ علم سیاست کی طویل مدت میں جمہوری حکومت سب سے بہتر سمجھی گئی ہے جبکہ نہج البلاغہ میں سیاست کا مفہوم اس مفہوم سے قریب ہے جسمیں کسی قسم کا دھوکا اور فریب شامل نہ ہو لیکن ان دونوں کے درمیان وہ بنیادی اختلاف بھی موجود ہے جو اسلامی نظام میں روح سیاست کے تشخص کا باعث ہوتا ہے اور وہ ہے حاکمیت خدائے لایزال۔
امام علیٴ کی مختصر پنج سالہ حکومت، تاریخ بشریت میں ایک نمونہ کی حیثیت رکھتی ہے کیونکہ آپ ہمیشہ حکومت کو امانت سمجھتے تھے اور خود قرآن نے بھی اس بات کی تائید کی ہے ۔ آپ اسی نظریہ پر خود بھی عمل پیرا رہے اور ارکان حکومت کو بھی اس پر عمل کرنے کی تاکید کی۔ آپ نے اشعث بن قیس کو لکھا کہ یہ تمہارا منصب کوئی لقمہ تر نہیں ہے بلکہ تمہاری گردن پر امانت الٰہی ہے اور تم ایک بلند ہستی کے زیرنگرانی حفاظت پر مامور ہو... اور خبردار کسی مستحکم دلیل کے بغیر کسی بڑے کام میں ہاتھ مت ڈالنا۔ (٢١) اور ایک دوسری جگہ اپنے کارمندوں سے خطاب کرتے ہیں : ’’ومن استهان باالامانة...‘‘(٢٢)
دوسری کئی جگہوں پر آپ کے خطوط اور خطابات میں لفظ امانت کو ذمہ داری سے تعبیر کیا گیا ہے۔ حضرت امیرالمومنینٴ کے ان جملوں سے دو بات سامنے آتی ہے :
(١) پہلی بات یہ ہے کہ حکومت ’’ہدف‘‘ نہیں بلکہ وسیلہ ہے۔ جسے دنیاوالوں نے ایک منصب اور بہت بڑا عہدہ سمجھ رکھا ہے اس کی ارزش علی کی نظر میں بکری کی ناک سے نکلنے والی رطوبت سے کمتر اور مکھی کے پر سے زیادہ ہلکی ہے بلکہ ثروت و حکومت علی کی نظر میں سور کی ان انتڑیوں سے زیادہ ذلیل ہے جو کسی کوڑھی کے ہاتھ میں ہوں۔ امام علیٴ کی نظر میں وہ حکومت جس سے حق کا قیام اور باطل کا خاتمہ نہ ہو تو اس کی قیمت کہنہ وپیوند زدہ جوتیوں سے کمتر ہے۔’’والله لهی احب الی من امرتکم...‘‘(٢٣)
(٢) اور دوسری بات یہ ہے کہ حکومت خدمت گذاری کا نام ہے۔ حکومت کی اہمیت اور قیمت اس وقت ہے جب یہ ذریعہ ہو خدمت خداوند اور اس کی مخلوق کا۔ آپٴ فرماتے ہیں: ’’خدایا! تو جانتا ہے کہ میں نے حکومت کے بارے میں جو اقدام کیا ہے اس میں نہ سلطنت کا لالچ تھا اور نہ مال دنیا کی تلاش۔ میرا مقصد صرف یہ تھا کہ دین کے آثار کو ان کی منزل تک پہنچاؤں اور شہروں میں اصلاح پیدا کروں تاکہ مظلوم بندے محفوظ ہوجائیں اور معطل حدود قائم ہوجائیں...‘‘ (٢٤) ان جملوں میں خدمت خلق، قیام حق اور اطاعت پروردگار ، حکومت کے اہداف بتائے گئے ہیں۔ امام علیٴ نے حکومت کو خدمت خلق سمجھا اور اس پر عمل کرکے دکھایا جیسا کہ آپٴ مالک اشتر کو لکھتے ہیں :’’واشعر قلبک الرحمة...‘‘ (٢٥) یعنی علیٴ نے مالک کو تاناشاہی اور ڈکٹیٹرشپ سے منع کیا اور فرمایا :’’ولا تقولن انی مومر...‘‘(٢٦)اگر حکومت کو امانت سمجھا جائے تو پھر کبھی ڈکٹیٹرشپ کی گنجائش نہیں ہوسکتی اور جو لوگ امین ہوتے ہیں وہ کبھی خیانت نہیں کرتے۔ امامٴ نے اپنے ایک کارمند کو لکھا :’’بلغنی عند امر...‘‘(٢٧)

 
فصل سوم
اقتصادی سیاست :

حضرت علیٴ نے پوری زندگی حکومت اور عوام کے اقتصادیات کو بہتر بنانے اور فقروناداری کے خلاف جدوجہد میں گزاری۔ آپ معیشت اور اقتصاد کو سدھارنے کیلئے طاقت فرسا کام انجام دینے سے گریز نہیں کرتے تھے بلکہ انہیں خود پرلوگوں کا حق سمجھتے تھے۔آپ اقتصاد کی اہمیت کے پیش نظر فرماتے ہیں :’’کوئی بھی فقیر اپنے معاش سے محروم نہیں ہوتا مگر یہ کہ ایک غنی اس کے مال میں تصرف کرلیتا ہے‘‘۔ (٢٨) پھر فرماتے ہیں :’’جو شخص اپنے کام کی زحمت کو نہیں برداشت کرسکتا وہ فقیری کو تحمل کرنے کیلئے آمادہ ہوجائے‘‘۔ (٢٩)
غرض کہ حضرت علیٴ نے اقتصاد کو بحال کرنے کی خاطر اپنے دورحکومت میں تجارتی بازاروں پر سخت کنٹرول رکھا اور احتکار، کم فروشی، عنین در معاملہ وغیرہ جیسی ناجائز چیزوں سے مقابلہ کیا اور ٹیکس جیسے خمس و زکوٰۃ اور انفاق وغیرہ کو رواج بخشا۔ ایک شخص جو اچھی اور خراب کھجوروں کو الگ کرکے متفاوت قیمت پر بیچ رہا تھا۔ آپ نے اسے دونوں کو مخلوط کرکے متعادل قیمت پر بیچنے کا حکم دیا۔ (٣٠) آپ فرماتے ہیں :’’صرف وہی تاجر صحیح ہیں جو معاملہ میں سچے ہیں باقی سب ہرزہ کار ہیں‘‘۔ (٣١) اسی لئے مالک اشتر کو لکھا تھا:’’معاملات میں بہت سے لوگوں کی روش غیرمناسب ہے یعنی وہ معاملات میں سخت گیر، حریص اور بخیل ہیں اور احتکار سے کام لیتے ہیں۔ ان کی خبر لو اور انہیں سزا دو تاکہ دوسروں کیلئے باعث عبرت ہوں‘‘۔ (٣٢) آپ نے تجارت کو اقتصاد بہال کرنے کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا:’’ اتّجروا بارک اللہ‘‘ (٣٣)تجارت کرو کہ تجارت تمہیں لوگوں سے بے نیاز کردے گی، یہاں تک کہ ذریعہ معاش کی اقسام کو بیان کرتے ہوئے آپ ذریعہ معاش کو پانچ حصوں میں تقسیم کرتے ہیں ۔ (٣٤) اور فقر و ناداری سے بچنے کیلئے ایک معیار بھی بتاتے ہیں :’’جو شخص بھی میانہ روی اختیار کرتا ہے میں اس کی ضمانت لیتا ہوں کہ وہ کبھی فقیر نہیں ہوسکتا۔‘‘ (٣٥) یہی وجہ تھی کہ آپ کی حکومت کے دوران عمومی رفاہ کا یہ حال تھا کہ کونے میں رہنے والا غریب شخص بھی گیہوں(گندم) کی روٹی کھاتا اور اس کے سرپر چھت کا سایہ رہتا تھا۔
ایک بوڑھا شخص کھدائی کررہا تھا۔ آپ نے پوچھا کون ہے؟ جواب ملا نصرانی ہے۔ آپ نے حکم دیا کہ اسے بیت المال سے کچھ خرچ کیلئے دے دو۔ آپ کی نظر میں عوام کی معیشت اس قدر اہمیت کی حامل ہے کہ جہاں آپ نے اپنی وصیت میں اور دوسری باتوں کی طرف اپنے فرزندوں کو متوجہ کیا وہیں اس طرف بھی ان کو متوجہ کیا تاکہ ان کی معیشت کبھی خراب نہ ہو۔

 
ثقافتی سیاست

حضرت علیٴ نے اپنے دور حکومت میں ثقافتی سیاست کے پیش نظر سماج و معاشرے کی تعلیم وتربیت، قرآنی تعلیمات پر عمل، آپس میں میل و محبت، اتحاد اور ہمدلی، بدعتوں سے مقابلہ، سالم اور بہتر معیشت کیلئے جد و جہد کرنے میں کوئی لمحہ فروگذاشت نہیں رکھا۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں :’’اے لوگو! ایک حق میرا تمہارے اوپر ہے اور ایک تمہارا میرے اوپر ہے۔ تمہارا حق جو میرے اوپر ہے وہ یہ کہ میں تمہیں نصیحت کروں اور تمہاری معیشت کو نظم بخشوں اور تمہیں تعلیم دوں تاکہ تم جاہل نہ رہو‘‘ ۔(٣٦) امامٴ کے اس جملے سے بخوبی اس بات کا اندازہ ہوتاجاتا ہے کہ حاکم کا جس طرح اپنی رعیت پر حق ہوتا ہے اسی طرح رعیت کا حاکم پر بھی حق ہوتا ہے جسمیں سے ایک تعلیم ہے۔
آپ ہمیشہ سماج و معاشرے میں میل و محبت، اتحاد اور ہمدلی برقرار رکھنا چاہتے تھے اسی لئے فرمایا تھا کہ تم پر لازم ہے کہ تفرقہ و اختلاف سے دور رہو اور ایک دوسرے کو اتحاد کی ترغیب دلاؤ اور ان تمام امور سے اجتناب کرو جن سے قدرت و طاقت کم ہوجائے۔ (٣٧) حتی ایک جگہ فرماتے ہیں :’’جو تفرقہ اندازی کرے وہ قتل کا سزاوار ہے چاہے یہ تفرقہ اندازی مجھ سے ہی کیوں نہ سرزد ہو‘‘۔ (٣٨)
آپ نے اپنی اسلامی سیاست میں قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کرنے کیلئے بہت زور دیا اور فرمایا :
’’الله الله فی القرآن لا یسبقکم بالعمل به غیرکم‘‘(٣٩)
آپ نے سماج و معاشرے میں امنیت قائم رکھنے کیلئے بدعتوں کا اس وقت مقابلہ کیا جب عالم یہ تھا کہ دین اشرار کے ہاتھوں میں کٹھپتلی بنا ہوا تھا۔ فرماتے ہیں :’’کوئی بھی بدعت پیدا نہیں ہوتی مگر یہ کہ ایک سنت ترک کرنے کا باعث ہوتی ہے‘‘۔ (٤٠) حسن بصری کو حضرت علیٴ نے بدعتوں کے رواج ہی کی بنیاد پر مسجد سے نکال دیا تھا اور اسی بنیاد پر آپٴ نے اسے اپنی امت کا سامری اور شیطان کا بھائی کہا تھا۔‘‘ (٤١) اسی لئے آپ نے فرمایا :’’امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرو اس لئے یہ کہ فریضہ اگر ترک ہوگیا تو اشرار تمہارے اوپر مسلط ہوجائیں گے...‘‘ (٤٢) ایسی صورت میں ماحول بد سے بدتر ہوتا جائیگا بلکہ مولا کے بقول ’’اس زمانے کے لوگ بھیڑئیے ہوجائیں گے اور بادشاہ و حکام درندے، متوسط طبقہ شکم پرور ہوگا اور غریب و پست طبقہ کے افراد مردہ ہوں گے، صداقت ناپید ہوجائیگی اور جھوٹ کا بول بالا ہوگا‘‘۔ (٤٣) پھر آپٴ نے فرمایا :’’ لوگوں کا فریضہ ہے کہ ذلت و خواری اختیار نہ کریں اور ایسے افراد کے آگے سرتسلیم خم نہ کریں بلکہ ایسے غاصبوں کے حلق میں ہاتھ ڈال کر اپنا حق نکال لیں‘‘۔ (٤٤)

 
سیاست کے بنیادی اصول و ضوابط
١۔نظم:

نظم و ضبط ایک معاشرہ کی بہتر تشکیل و تنظیم کے لئے بڑی اہمیت رکھتا ہے۔ اسی نظم و ضبط کے تحت ذمہ داریاں تقسیم ہوجاتی ہیں اور امور صالح افراد کے سپرد کئے جاتے ہیں۔ اوقات منظم اور قابو میں رہتے ہیں۔ ظاہر سی بات ہے جب امور منظم و مرتب ہوجاتے ہیں تو کامیابیاں کئی گنا بڑھ جاتی ہیں۔ یہ وہ چیز ہے جس سے نہ معاشرہ کا کوئی فرد مستغنی ہے نہ معاشرہ اس سے بے نیاز ہوتا ہے بلکہ حکومت کے ذمہ دار افراد کو تو سب سے زیادہ اس کی ضرورت ہے کہ ان کے امور و معاملات منظم ہوں اور حالات ان کے قابومیں رہیں۔ اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے حضرت علیٴ فرماتے ہیں:’’ میں تم دونوں (حسنٴ و حسینٴ) اور اپنے تمام فرزندوں اور خاندان والوں نیز ان تمام افرادکو جن تک میرا یہ خط پہنچے وصیت کرتا ہوں کہ اللہ کا تقويٰ اختیار کرو، پرہیزگار بنو ، اپنے امو رکو منظم کرو اور آپس میں صلح و صفا کا برتا ؤ کرو‘‘۔ (٤٥)

 
٢۔ ذمہ داریوں کی تقسیم :

یہ ایک بہت باریک اور اہم نکتہ ہے کہ ایک حاکم و ذمہ دار شخص، امور اور ذمہ داریوں کی تقسیم کے سلسلہ میں مناسب افراد کا انتخاب کرے اور پھر معین طور پر ان میں ہر ایک کو الگ الگ کام سونپے، ہر ایک سے ان کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے سلسلہ میں جواب طلب کرے اور اگر کام انجام نہ پائے یا صحیح طور سے انجام نہ پائے تو اس کا سبب تلاش کرے۔ کاموں کی بے ضابطگی اور ذمہ داریوں کا مشخص نہ ہونا طاقت کے بلا وجہ ضائع ہونے، کاموں کے پڑے رہ جانے اور نظام میں گڑبڑی اور خسارہ کا باعث بنے گا۔اس سے ہر ایک کو پرہیز کرنا چاہئے، خاص کر ان افراد کو جو معاشرہ کے امور کی ذمہ داری رکھتے ہیں۔ امام انہی ذمہ داریوں کی تقسیم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’اپنے ہر خدمت گذار اور کارکن کے فریضے کو مشخص و معین کرو تاکہ اس ذمہ داری کے تحت اس سے کام لے سکو کیونکہ یہ ایک بہترین اقدام ہے۔ اس طرح وہ اپنی ذمہ داریوں کو دوسرے کے کاندھے پر نہیں ڈالیں گے ...‘‘ (٤٦) یہی وجہ تھی کہ آپ نے اپنے دور حکومت میں اپنے عمال کو سات گروہ میں تقسیم کیا تھا :
(١) گورنر (٢)حکام (٣)بیت المال کے ذمہ دار (٤)زکوٰۃ اکٹھا کرنے والے (٥)معاینہ کار و قضات (٦)کاتبان (٧)حاجبان و دربانان ۔ (٤٧)

 
٣۔ اہل خاندان کا انتخاب:

اگر چہ اسلام میں کسی بھی جگہ خاندان و قبیلہ پر تکیہ نہیں کیا گیا ہے لیکن یہ بھی مسلم ہے کہ انسان اپنے خاندان کے افراد کے عادات و کردار کو دوسرے سے بہتر جانتا ہے اور ان کے صالح افراد پر ہر شخص سے زیادہ اعتماد کرسکتا ہے۔ اسی لئے امامٴ فرماتے ہیں :’’اور اپنے اہل خاندان کا احترام کرو کیونکہ وہ تمہارے لئے ایسے پر وبال کی حیثیت رکھتے ہیں جن سے تم پرواز کرتے ہو اور ایسی اصل و بنیادیں ہیں جن کی طرف تم پلٹتے ہو اور تمہارے ایسے ہاتھ ہیں جن سے تم کام لیتے ہو‘‘۔ (٤٨)

 
٤۔سیاسی اخلاق اور امور کی نگرانی:

مادی دنیا کی سیاست کے برخلاف جس میں انسانی فضل و شرف اور اخلاق کوئی حیثیت نہیں رکھتے، اسلامی سیاست میں اخلاق و فضائل کو بنیادی اور اصلی حیثیت حاصل ہے۔ دینی رہنماؤں کی سیرت و سیاست اور ان بزرگوں کے سیاسی اصول نہ صرف اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں بلکہ اس روش کیلئے راہنما ہیں۔ اخلاقی اصول کی رعایت چاہے اس کا تعلق خصوصیت سے حاکم کی ذات سے ہو یا پوری قوم و ملت کی عزت و آبرو سے متعلق ہو، ایک بنیادی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔ حضرت امام علیٴ اپنے عہدنامہ میں مالک اشتر کو یوں تحریر فرماتے ہیں :’’ رعایا کے درمیان تمہاری نظر میں سب سے زیادہ ناپسند اور سب سے زیادہ دور اس شخص کو ہونا چاہئے جو برابر لوگوں کی عیب جوئی کیا کرتا ہے اوران کے برملا کرنے پر اصرار کرتا ہے کیونکہ لوگوں میں عیب تو پائے ہی جاتے ہیں اور سب سے زیادہ حاکم کا حق ہے کہ ان کی پردہ پوشی کرے۔ لہٰذا پوشیدہ عیوب کو آشکار نہ کرو اور جو کچھ ظاہر ہوگیا ہو ان کا جواز اور صفائی پیش کرو اور جو عیوب پوشیدہ ہیں ان کا معاملہ خدا پر چھوڑ دو۔ جہاں تک ہوسکے دوسروں سے کینہ کی ہر گرہ کھول دو اور انتقام کی ہررسی کو کاٹ ڈالو، ہر وہ چیز جو تمہارے لئے مناسب نہیں اس سے لاتعلق بن جاؤ، چغلخورکی باتوں کی جلدی سے تصدیق نہ کرو کیونکہ وہ فریب کار ہوتا ہے اگر چہ خیرخواہ بن کر سامنے آتا ہے۔‘‘ (٤٩)پھر آپ نے صفین میں ایک خطبہ کے دوران فرمایا :’’مجھ سے اس (ڈرے اور سہمے) انداز میں باتیں نہ کیا کرو جس طرح جابر و سرکش حاکموں سے کی جاتی ہیں اور نہ ہی اس طرح ملا کرو جیسے کسی غصہ ور سردار سے محتاط انداز میں ملا جاتا ہے۔ مجھ سے رابطہ قائم کرنے کے سلسلہ میں چاپلوسی اور خوشامد کا طریقہ اپنانے کی ضرورت نہیں ہے...‘‘(٥٠)

 
٥۔فریب اور ظلم، تباہی کے اسباب :

ظلم اور فریب نہ صرف انسان کی آخرت تباہ کرتے ہیں بلکہ بے آبروئی اور بے اعتباری ظلم و فریب کار کے پیچھے پیچھے لگی رہے گی اور دوسروں کو موقع فراہم کرے گی کہ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور اسے نیست و نابود کردیں۔ حضرت علیٴ ایک خط میں معاویہ کو خطاب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’حقیقتاً ظلم و ستم، طغیان،جھوٹ اور فریب انسان کو دین و دنیا دونوں کی تباہی اور ہلاکت کی طرف کھیچ لے جاتے ہیں اور اس کی کمزوریوں کو نکتہ چینوں کے سامنے آشکار کردیتے ہیں ۔تم اچھی طرح جانتے ہو کہ جس چیز کا تمہارے ہاتھ سے چلاجانا مقدور ہوچکا ہے اس تک تم نہیں پہنچ سکتے...‘‘ (٥١)

 
٦۔ حاکم کیلئے خودستائی ؛زہر:

حضرت علیٴ مالک اشتر کے نام تحریر کردہ عہدنامہ میں فرماتے ہیں : ’’دیکھو خودپسندی سے پرہیز کرو اور تمہیں جو چیز خودستائی کی طرف مائل کرے اس پر تکیہ نہ کرو اور اپنی بڑائی کا اظہار کرنے سے ہمیشہ دور رہو کیونکہ یہی لمحے شیطان کے نفوذ کرنے کے حساس ترین مواقع ہوتے ہیں تاکہ اس طرح وہ نیک بندوں کے اچھے کاموں کو ضائع کردے۔‘‘(٥٢) اقتدار اور سطوت میں کھیلنے والے ایک سیاستداں اور حاکم کیلئے خودپسندی، تملق بازی، چاپلوسی اور فرعونیت کا شمار اخلاقی بلاؤںمیں ہوتا ہے۔ یہ آگ اس وقت اور زیادہ بھڑک اٹھتی ہے جب غلامانہ ذہنیت کے افراد اپنی مدح و ستائش اور چاپلوسی کے ذریعہ حکام کے کبر و نخوت اور غرور کو بڑھانے لگتے ہیں۔
حضرت علیٴ گھوڑے پر سوار ہو کر کہیں جارہے تھے۔ ایک شخص آپ کے پیچھے پیچھے پیادہ روانہ ہوا تاکہ اپنی کارگذاری حضرت سے بیان کرے۔ امامٴ نے اس سے فرمایا :’’واپس پلٹ جاؤ کیونکہ تمہارا یہ انداز مومن کیلئے ذلت کا نمونہ اور حاکم و والی کیلئے فتنہ کا سبب ہے‘‘۔ (٥٣)

 
٧۔ نفس کی حاکمیت سے رہائی:

امامٴ نے اپنی فوج کے ایک سردار اسود بن قطبہ کو ایک خط میں تحریر فرمایا :’’...حاکم جب نفسانی ہوا و ہوس میں گرفتار ہوجاتا ہے تو اسکا نفس اسے بہت سارے امور میں عادلانہ اقدام کرنے سے روک دیتا ہے۔ پس لوگوں کے امور و معاملات تمہاری نظر میں حق کی میزان پر برابر ہونے چاہئیں کیونکہ ظلم و ستم، حق کا ہم پلہ اور اس کا بدل نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا اس طرح کی غلطیوں سے پرہیز کرو اور اپنے نفس کو فرائض الٰہی کی انجام دہی کیلئے رام اور آمادہ کرو۔ ثواب کی امید رکھو اور اس کے عذاب سے ڈرتے رہو‘‘۔ (٥٤) گوناگوں خواہشات و میلانات اور حق و انصاف کے محور سے گریز حاکم کے دل میں بہت سی گرہوں اور رکاوٹوں کو جنم دیتے ہیں جن کی وجہ سے وہ حق و حقیقت کے مرکزی نقطہ سے دور ہوجاتا ہے اور اس پر توجہ نہیں کرپاتا۔ ان تمام فسادات کی جڑ نفس ہے لہٰذا اپنے نفس کو قابو میں رکھنا چاہئے اور اس کی خواہشوں کو خدا کی رضا اور خوشنودی کی راہ میں ذلیل و حقیر بنا دینا چاہئے۔ ایک حاکم کیلئے ریاضت و سلوک کا تازیانہ بہت ضروری ہے جس سے وہ اپنے نفس کو ہمیشہ مودب کرتا رہے۔ خدا کے عذاب کا خوف اور ثواب آخرت کی امید ہی اس کے لئے سب سے زیادہ مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

 
٨۔بندئہ خدا بھی ،شمشیر خدا بھی:

یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس پر امامٴ نے پوری تاکید فرمائی ہے۔ حضرت ٴنے اہل مصر کو ایک خط تحریر فرمایا جس میںمالک بن حارث اشتر کو اپنی طرف سے مصر والوں کا حاکم و والی مقرر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’...میں نے بندگان خدا میں سے ایک ایسا شخص تم لوگوںکی طرف روانہ کیا ہے جو نہ خوف کے دنوں میں سوتا ہے اور نہ وحشت کی گھڑیوں میں دشمن کے مقابل سست پڑتا ہے۔ جو فسادیوں اور تباہ کاروں کے لئے آگ کے شعلوں سے کہیں زیادہ آتش بار ہے۔ وہ مالک بن حارث مذحجی ہیں۔ اس کی باتوں کو سنو اور جہاں تک وہ حق کے مطابق ہو اس کی اطاعت کرو۔ یقینا وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک ایسی تلوار ہے جو نہ کاٹ میں کند ہوتی ہے اور نہ وار میں بے اثر‘‘۔ (٥٥) یہاں قابل توجہ نکتہ یہ ہے کہ امامٴ نے اس بات کا ذکر بھی ضروی سمجھا کہ میرے نمائندے یعنی مالک اشتر کی اطاعت فقط حق کے دائرے میں لازم و واجب ہے۔ اسلام ،حق کی پیروی سکھاتا ہے، شخصیت پرستی نہیں۔ شخصیت بھی حق کی بنیاد پر قابل قدر ہوتی ہے۔ بنابرایں ہر شخص چاہے وہ کسی بھی عہدہ یا درجہ پر فائز ہو صرف حق کے معیار پر قانونی حیثیت پاتا ہے۔ شخصیتوں کے تقدس کے فریب میں آکر لوگوں کو حق کا معیار نہ بھولنا چاہئے اور نہ شخصیتوں کا شکار ہونا چاہئے ورنہ لوگ اس سے غلط فائدہ اٹھانے لگیں گے اور حق شخصیتوں کے سایہ میں گم ہوکر رہ جائے گا یا پامال ہوجائے گا۔

 
فصل چہارم
علوی سیاست کے فرائض:

کسی معاشرہ پر حاکم نظام میں فرائض کی تقسیم کے ذیل میں تین طاقتوں کی بات سامنے آتی ہے :
(١) مقننہ ۔ یعنی قانون ساز طاقت
(٢)عدلیہ۔ یعنی قانونی امور میں رجوع اور حالات کے مطابق احکام صادر کرنے والی طاقت
(٣)انتظامیہ (مجریہ)۔ یعنی احکام کا اجرا کرنے والی طاقت۔
ہم اس ڈھانچہ کے تحت حضرت علیٴ کے سیاسی نظام کے ارکان کو مشخص کرنا چاہیں تو یہ کہیں گے کہ اس ڈھانچہ کی سب سے پہلی طاقت یعنی قانون ساز طاقت کی جس طرح دوسرے تمام سیاسی نظام تعریف بیان کرتے ہیں، نہج البلاغہ میں سرے سے اس کا وجو دہی نہیں ہے۔ کیونکہ دوسرے سیاسی نظام عوامی نمائندوں کی آرا کو ہی مطلق طور سے قانون کا سرچشمہ تصور کرتے ہیں جو قانونی طور پر اکثریت کی منظوری کے بعد ہی قابل اجرا ہوتا ہے جبکہ نہج البلاغہ کے سیاسی نظام میں قوانین کا سرچشمہ پہلے سے مشخص کیا جاچکا ہے اور اس کے تمام اصول و کلیات وحی الٰہی سے ماخوذ ہیں۔

(١) مقننہ ’’قرآن و سنت کا سرچشمہ‘‘:

امام علیٴ مالک اشترکو لکھتے ہیں :’’جس کام میں بھی سنگینی اور الجھاؤ کا احساس کرتے ہو یا جن امور میں تردد کا شکار ہوجاتے ہو انہیں خدا اور رسول کے حوالے کردو... خدا کے حوالہ کرنے کا مطلب اس کی روشن و واضح آیتوں کی طرف رجوع کرنا اور ان کے مطابق عمل کرنا ہے اور پیغمبرکے حوالہ کرنے کا مطلب آنحضرت کی وسیع و جامع اور غیراختلافی سنت کی پیروی ہے‘‘۔ (٥٦)

(٢) عدلیہ یا’’ محکمہ قضا‘‘:

حضرت علیٴ نے اس محکمہ کی اہمیت کے پیش نظر اس موضوع پر خاص تاکید فرمائی ہے۔ آپ مالک اشتر کو لکھتے ہیں:’’لوگوں کے درمیان قضاوت اور فیصلے کے لئے ایسے شخص کا انتخاب کرو جو تمہاری نگاہ میں رعایا میں سب سے بہتر ہو۔ ایسا شخص جو اس کام میں عاجز و مجبور نہ ہوتا ہو اور طرفین کے رویہ سے غصہ میں نہ آتا ہو۔ اپنے اشتباہ اور لغزش پر اصرار و ہٹ دھرمی کا اظہار نہ کرتا ہو اور حق کو پہچان کر اسکی طرف رجوع کرنے اور اسے اختیار کرنے میں تامل یا طبیعت پر بوجھ نہ محسوس کرتا ہو۔ اس کا نفس طمع و لالچ کا شکار نہ ہوتا ہو اوربغیر پوری چھان بین کئے سرسری طور پر کسی معاملہ کو سمجھنے پر اکتفا نہ کرتا ہو۔ شبہہ کے مقامات پر احتیاط سے کام لیتا ہو اور دلائل کی بنیاد پر ہی فیصلہ کرتا ہو۔ شکایت کرنے والوں کے بار بار رجوع کرنے سے تھکتا اور دل تنگ نہ ہوتا ہو۔ معاملات کی تحقیق اور گتھیوں کو سلجھانے میں بڑے صبر و تحمل سے کام لیتا ہو اور حق کو پہچان لینے کے بعد اس کے مطابق بے دھڑک فیصلہ سنادیتا ہو۔ خوشامد و چاپلوسی اسے مغرور نہ بنا دے اور فریب اسے گمراہ نہ کردے۔ البتہ ایسے لوگ بہت کم ہیں‘‘۔(٥٧)

(٣) مجریہ ’’منتظمہ‘‘:

نظام سیاست کے ارکان میں سے ایک قانون کو نافذ کرنے والا رکن بھی ہے جس میں وزرائ ، اسکے معاونین، سکریٹری و... سے لے کر معمولی خدمت گزاروں تک سیکڑوں افراد حکومت کے معاون و مددگار ہوتے ہیں۔ ان افراد کا انتخاب و تقرر خود ایک مسئلہ ہے اور ان مختلف صنف کے افراد اور حکومت کے باہمی روابط اکثر ایک دوسرے پر اور خود معاشرے پر ایک دوسرا مسئلہ ہیں۔
امامٴ نے تفصیل کے ساتھ ان دونوں پہلوؤں کی وضاحت فرمائی ہے۔ ملاحظہ ہو :’’تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ رعایا میں کئی طبقے ہوتے ہیں جن کی فلاح و بہبودی ایک دوسرے سے وابستہ ہے اوریہ ایک دوسرے سے بے نیاز نہیں ہیں۔ یہ طبقے کچھ اس طرح ہیں:
خدا کے سپاہی (لشکر)، عمومی و خصوصی شعبوں کے منشی، عدالتوں کے قاضی، امن و انصاف قائم کرنے پر مامور افراد، ذمی کفار اور مسلمانوں سے جزیہ ،خراج اور دیگر ٹیکس وصول کرنے والے، تجار اور اہل صنعت وحرفت اور معاشرہ کا غریب و محتاج اور نچلا طبقہ؛
خداوندعالم نے ہر ایک کا حق معین کردیا ہے اور کتاب خدا و سنت پیغمبر۰ میں اس کی حدبندی کردی ہے جو ایک عہد اور آئین نامہ کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے‘‘۔ (٥٨)

 
سیاست علوی کے منصب اور منشورات

چونکہ نہج البلاغہ کے سیاسی نظام میں حکومت، ملت سے الگ نہیں ہے اسی لئے ہم دیکھتے ہیں کہ کلام امامٴ میں بلااستثنا معاشرہ کے تمام طبقات کا ذکر موجود ہے اور جسطرح مسلح فوجوں نیز عدالتی حکام کا ذکر کیا گیا ہے یوں ہی کاریگروں، مزدوروں، کسانوں، تاجروں اور فقراء کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی سب کے لئے مخصوص حدود و حقوق بھی معین کئے گئے ہیں۔ آپٴ نے مالک اشتر کے عہدنامہ میں حکومت کا ایک مکمل نظام ذکر کیا ہے جس کو تفصیل سے ذکر کرنا اس محدود مقالہ میں ممکن نہیں ہے۔ لہٰذا یہاں اس بہترین اور نفیس سیاست و حکومت کے صرف چند اجزاء اختصار کے ساتھ پیش کرنا چاہوں گا جسکے بغیر دنیا کی کسی بھی حکومت کا نظام مکمل نہیں ہوسکتا۔

١۔ نگرانی اور جانچ پڑتال:

آپٴ فرماتے ہیں :’’... اس کے بعد ان کی کارگزاریوں کی دیکھ بھال اور نگرانی رکھو، سچے اور وفادار افراد کو بطور ناظر ان کے اوپر معین کرو کیونکہ ان کی خفیہ نگرانی اور جانچ پڑتال انہیں امانت کی رعایت اور لوگوں کے ساتھ نرم روئی پر مجبور کردے گی۔ اپنے مددگاروں اور معاونوں سے خود کو محفوظ رکھنا۔ اگر ان میں سے کوئی خیانت کا مرتکب ہو تو ...رسوائی کا طوق اس کے گلے میں ڈال دو‘‘۔(٥٩)

٢۔ اکثریت کی رضا مندی:

آپٴ فرماتے ہیں :’’او ر تم کو وہی امر سب سے زیادہ پسند ہونا چاہئے جو بلحاظ حق سب سے زیادہ وسط میں واقع ہو، بلحاظ عدل سب سے زیادہ عمومیت رکھتا ہو اور رعایا کی رضامندی کا سب سے زیادہ جامع ہو کیونکہ عامۃ الناس کی ناراضگی، خواص کی رضامندی کو بے اثر و بے سود بنادیتی ہے اور عامۃ الناس کی رضامندی کے ساتھ خواص کی ناراضگی ناقابل التفات ہوتی ہے و...‘‘(٦٠)

٣۔ حکومت کا عوام کے ساتھ براہ راست ربط:

اس سلسلہ میں پوری تاکید کی گئی ہے کہ حکومت اور اس کے ذمہ دار ،عوام سے دور اور الگ تھلگ نہ رہیں اور اپنے گرد کوئی ایسا حصار نہ قائم کریں کہ عوام ان تک اپنی بات نہ پہنچا سکے۔ حکام اور عوام کے براہ راست تعلق و ارتباط سے بڑے مفید اثرات اور نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ امام علیٴ مکہ کے گورنر قثم ابن عباس کو یوں لکھتے ہیں :’’...تم لوگوں کے لئے حج کی ادائیگی کا سر و سامان کرو اور انہیں اللہ کے یادگار دنوں کی یاد دلاؤ، صبح و شام عمومی جلسہ رکھو، سوالات کرنے والوں کے سوالات کا جواب دو، جاہل کو علم دو علمائ سے تذکر کرو...کسی ضرورتمند کو کبھی ملاقات سے مت روکنا... جو اموال تمہارے پاس جمع ہوجائیں ان پر نظر رکھو اور تمہارے یہاں جو عیال دار اور بھوکے پیاسے لوگ ہیں ان پر صرف کردو...‘‘ (٦١)

٤۔خراج اور مالیات (ٹیکس):

امامٴ نے بازاروں اور کارخانوں کی آمدنیوں کو حکومت کے مالی اعتبار کی حیثیت سے، فوج کے بجٹ، عدالتی محکموں اور دیگر حکومتی اداروں میں کام کرنے والوں نیز معاشرہ کے محروم طبقہ کی ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ قرار دیا ہے۔ اس پر غور کرنے سے یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ تاجروں اور صاحبان صنعت و حرفت کی آمدنی ہی حکومت کی ضرورتوں کو پورا کرنے کا سب سے اہم ذریعہ ہے۔ (٦٢)

٥۔تجار اور اہل صنعت:

امامٴ فرماتے ہیں :’’...اور ان سب کا انحصار تاجروں اور اہل صنعت و حرفت پر ہے جو کسب و کار کے لئے بازاروں اور کارخانوں میں جمع ہوتے ہیں اور اپنی آمدنی و محنت و کاوش سے ان لوگوں کی ضرورتیں پوری کرتے ہیں (اور انہیں آسودہ کردیتے ہیں) کہ دوسروں کی آمدنی اس کی تلافی کے لئے کافی نہیں ہوگی۔‘‘ (٦٣)

٦۔ دفاعی بجٹ:فرماتے ہیں :

’’..اور پھر فوج کا نظم و استحکام بھی ٹیکسوں اور آمدنیوں کے بغیر قائم نہیں رہ سکتا جو خدا نے ان کے اختیار میں دے رکھے ہیں کہ وہ اس کے ذریعہ اپنے دشمن سے جہاد کریں اور خود کو قوی اور ساز و سامان سے آراستہ کریں نیز اپنی ضرورتیں پوری کریں۔‘‘(٦٤)

 
٧۔فوج:آپٴ فرماتے ہیں :

’’فوج خدا کے حکم سے ملت کا مستحکم اور ناقابل تسخیر قلعہ، حکام کی زینت و آبرو، دین کیلئے سرمایہ عزت و افتخار اور معاشرہ میں امن و مان قائم رکھنے کا وسیلہ ہے۔ رعایا کو بغیر اس کے استقلال نہیں حاصل ہوسکتا ہے۔(٦٥)

٨۔ سپہ سالاروںکی دیکھ بھال:

فرماتے ہیں:’’...پھر ان کی اس طرح دیکھ بھال کرو جس طرح ماں باپ اپنی اولاد کی خبرلیتے ہیں...‘‘ (٦٦)

٩۔ بے سہارا بچے اور بوڑھے:

’’...یتیم بچوں اور سال خوردہ بوڑھوں کی سرپرستی کرو جن کا نہ کوئی سہارا ہے اور نہ وہ سوال کے لئے اٹھتے یا ہاتھ پھیلاتے ہیں۔ یہ امر حکام کے لئے اگر چہ سخت اور گراں ہے...لیکن بلاشبہ خداوندعالم ان لوگوں کے لئے جو عاقبت کی بھلائی کے خواہاں، صابر اور اللہ کے وعدہ پر مطمئن ہوں، اس سنگین ذمہ داری کو قابل تحمل بنا دیتا ہے۔‘‘ (٦٧)

١٠۔کمزور اور نچلا طبقہ:

’’...اور آخر میں معاشرہ کا نچلا طبقہ ہے جو محتاج اور تہی دست افراد پر مشتمل ہے اور جن کی ضرورتیں،اعانت اور مالی امداد کے ذریعہ پوری کی جانی چاہئیں۔ خداوندعالم نے معاشرہ کے ان طبقوں میں ہر ایک کے لئے ایک نہ ایک راہ کھول رکھی ہے اور ان کی حیثیت کے مطابق سب کا حکومت اور والی پر حق مقرر فرمایا ہے ۔ حاکم اپنے اس فریضہ سے اسی وقت عہدہ برآہوسکتا ہے جب اس سلسلہ میں عزم و حوصلہ کے ساتھ پوری جد و جہد سے کام لے، خداوندعالم سے نصرت کا طلبگار رہے، حق پر اپنے آپ کو پوری طرح جمائے رہے اور صبر اختیار کرے چاہے اس کی یہ ذمہ داری سبک ہو یا سنگین‘‘۔ (٦٨)

١١۔ مشیران حکومت:’

’...اپنے مشورہ میں بخیل کو ہرگز داخل نہ کرو جو تم کو رعایا پر تفضل کرنے روکے اور فقیر ہوجانے کا خوف دلائے اور نہ اس بزدل کو شریک کرو جو تم کو انصرام امور میں کمزور بنائے اور نہ اس حریص کو (شریک کرو) جو حرص و طمع کو تمہاری نگاہ میں زینت دے۔‘‘(٦٩) بات یہ ہے کہ بخل، جبن اور حرص ہیں تو مختلف طبعی (خصائل) مگر ان کا جامع اور قدرمشترک اللہ سے سوئے ظن ہے۔

١٢۔ انتخاب وزراء:’

’تمہارا سب سے برا وزیر وہ شخص ہوگا جو تم سے پہلے اشرار کا وزیر اور معاصی میں ان کا شریک رہ چکا ہو۔ پس لازم ہے کہ وہ تمہارے خواص میں داخل نہ ہونے پائے...وہ لوگ جنہوں نے کسی ظالم کی مدد ظلم میں اور کسی گنہگار کی تائید ان کے گناہ میں نہ کی ہوگی وہ لوگ تمہارے لئے نہایت سبک بار، اچھے مددگار اور سب سے زیادہ مہرباں ثابت ہوں گے... پس تم انہی لوگوں کو خلوت و جلوت میں خاص ہم نشین بناؤ اور ان میں سے بھی اس شخص کو ترجیح دو جو حق کی تلخ باتیں سب سے کہنے والا ہو...‘‘ (٧٠)

١٣۔ فساد و خونریزی:

’’ناجائز خونریزی سے اپنی سلطنت کو قوت دینا نہ چاہو کیونکہ وہ ضعف و خلل پیدا کرتی ہے بلکہ اس کو فنا اور (دوسرے کی طرف) منتقل کردیتی ہے۔ اگر تم عمداً قتل کروگے تو میرے اور خدا کے نزدیک کوئی عذر پیش نہ کرسکو گے۔‘‘ (٧١)

١٤۔دعوت صلح:آپٴ فرماتے ہیں :

’’...اور تم کسی ایسی (دعوت) صلح کو رد نہ کرو جو دشمن کی طرف سے پیش ہو اور خدا کی مرضی اور خوشنودی بھی اس میں ہو اسلئے کہ صلح سے فوج کو آرام ملے گا، تم کو فکروں سے راحت ہوگی اور بلائ(ملک) کو امن نصیب ہوگا‘‘۔ (٧٢)
غرض کہ مالک اشتر کے عہدنامہ میں جو آپ نے سیاست کے منشور پیش کئے ہیں وہ سیاست کے صفحات پر سنہرے حروف سے لکھنے کے قابل ہیں۔ اگر میں اس کا خلاصہ کرنا چاہوں تو فقط عنوانات کی شکل میں یوں بیان کرسکتا ہوں۔ آپ نے مالک اشتر کو جو منطقی دستور بتائے ہیں ان میں سے خاص مندرجہ ذیل ہیں:
١۔تقويٰ و خودسازی
٢۔عاملوں کو عمل صالح کی تلقین اور عوام کی نگرانی
٣۔ماضی سے سبق لینا
٤۔ضبط نفس
٥۔وقت پر کام کرنا
٦۔سیکرٹریٹ کیسا ہو
٧۔ٹیکس کی وصولی
٨۔انصاف قائم کرنا اور ظلم سے دوری
٩۔حق کا قیام اور عوام کی طرف خاص توجہ
١٠۔نالائق وزیروں سے دوری
١١۔بازار سیاہ اور احتکار کرنے والوں پر پابندی عائد کرنا
١٢۔صفت حمیدہ کا پاس و لحاظ رکھنا
١٣۔دانشمندوں سے تبادلہ خیال کرنا
١٤۔سماج کے مختلف طبقوں تک رسائی
١٥۔ فوجیوں اور حاکم کی قدردانی و تشویق
١٦۔چغل خور سے پرہیز
١٧۔ حاکم کی چوکسی اور ہوشیاری
١٨۔روزمرہ کے مسائل سے حکومت کی دلچسپی
١٩۔عبادت کیلئے خاص وقت معین کرنا
٢٠۔صحیح مدیریت و ذمہ داری کو نبھانا اور لوگوں پر اعتماد و بھروسہ کرنا ٢١۔ذمہ داری کو انجام دینے کیلئے خدا سے مدد طلب کرنا و.......

 
نتیجہ

جب آپ آج کے اس ترقی یافتہ دور میں اقوام متحدہ کا منشور پڑھیں گے تو پتہ چلے گاکہ اسمیں کوئی فصل ایسی نہیں ہے جسکی نظیر امام علیٴ کے دستور میں نہ پائی جاتی ہو بلکہ حضرتٴ کے دستور میں اس سے بہتر اور بالاتر چیزیں موجود ہیں جبکہ اقوام متحدہ کے منشور کو دنیا کے ہزاروں عقلمندوں نے مل کر مرتب کیا ہے لیکن دستور علوی کو صرف تنہا علی ابن ابی طالبٴ نے چودہ سو سال پہلے مرتب کیا ہے۔ جبکہ اقوام متحدہ میں سے جنہوں نے حقوق انسانی کے منشورمرتب کئے تھے انہی لوگوں نے سب سے پہلے اسے توڑ بھی دیا اور حقوق انسانی کو پامال کرنے کیلئے خون کی ندیاں بہا دیں، بستیوں کو ویران کردیا اور انسانی لاشوں کے انبار لگادئیے، ان کے خون سے ہولی کھیلی اور لاشوں پر جشن منایامگر علی ابن ابی طالبٴ نے جو سیاست کے دستور مرتب کئے تھے، ظلم و ستم کی تند آندھیاں بھی اس پر عمل درآمد کو روک نہ سکیں بلکہ علیٴ خوں خوار درندوں میں بھی رہ کر اپنے دستور پرعمل پیرا رہے۔
روئے زمین پر علیٴ ایک واحد ایسا سیاستمدار ہے جس نے اپنی حکمت عملی کیلئے اسلامی حکمت نظری کو انتخاب کیا اور دنیا کی کوئی طاقت ان کی اس الٰہی فکر کو تبدیل نہ کرسکی اور اپنے پنج سالہ دور حکومت میں وہ اس پر سختی سے کاربند رہے۔ بدخواہوں کے طعن و تشنیع، فاسد حکام کی ہاہو، ظالم سلطنتوں کی افتراپردازیوں اور بہتان تراشیوں کے باوجود سیسہ پلائی دیوار کی طرح اپنی اسلامی سیاست پر قائم رہے اور ہر طرح کے نادان دوستوں اور دانا دشمنوں کی وحشت انگیز یلغار کا تن تنہا ڈٹ کر مقابلہ کیا یہاں تک کہ حقوق انسانی کا دفاع کرتے کرتے درجہ شہادت پر فائز ہوگئے۔

 
حوالے اور حواشی

١۔ مقدمہ ابن خلدون، ص٧٨-٧٧
٢۔ دائرۃ معارف بستانی:ساس القوم: دبرھم و توليٰ امرھم۔ الامر قام بہ فھو سائس السیاسۃ استصلاح الخلق بارشادھم اليٰ الطریق المنجی فی العاجل او الاجل السیاسۃ المدنیہ: تدبیر المعاش مع العموم علی سنن العدل والاستقامۃ۔
مجمع البحرین: ساس یسوس: الرعیۃ: امرھا و نھاھا، القیام علی الشی بما یصلحہ
المعجم الوسیط: ساس الناس سیاسۃً: توليٰ ریاستھم و قیادتھم
عربی لغت لاروس: ساس الوالی الرعيّۃ: توليٰ امرھا و احسن النظر الیھا
٣۔ السیاسۃ لارسطو طالیس، ص٩١ ک١ب١ف١ و صفحہ ٢١٢ پر بھی یہی مطلب ہے۔
٤۔ فلسفہ سیاست، اوسولوڈ اشپنگلر، ص٣٩، ٤٠
٥۔ نہج البلاغہ نقل از کتاب اصول سیاست علامہ محمد تقی جعفری
٦۔ایضاً
٧۔ نہج البلاغہ، خطبہ ٢٠٠
٨۔ نہج البلاغہ، خطبہ١٢٦
٩۔ غرر الحکم مادئہ سیاست
١٠۔ ایضاً
١١۔ ایضاً
١٢۔ایضاً
١٣۔ ایضاً
١٤۔ ایضاً
١٥۔ایضاً
١٦۔ ایضاً
١٧۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج١ ،ص١٦
١٨۔ نہج البلاغہ
١٩۔نہج البلاغہ،نامہ ٢٨
٢٠۔نہج البلاغہ
٢١۔نہج البلاغہ،نامہ ٥
٢٢۔نہج البلاغہ،نامہ٢٦
٢٣۔نہج البلاغہ،خطبہ ٣٣
٢٤۔نہج البلاغہ،خطبہ ١٣١
٢٥۔ ایضاً
٢٦۔ایضاً
٢٧۔نہج البلاغہ،نامہ ٤٣
٢٨۔ ’’ما منع فقیر الا بما متع بہ غنی‘‘ علامہ محمد تقی جعفری ، شرح نہج البلاغہ، ج١٠، ص٢٦
٢٩۔ الحیاۃ ، ج٤،ص٣١٩
٣٠۔ علیٴ، ڈاکٹر علی شریعتی ص١٠٤
٣١۔الخارات ص٣٢
٣٢۔نہج البلاغہ،نامہ ٥٣
٣٣۔نہج البلاغہ،قصار ١٦٣
٣٤۔وسائل الشیعہ، ج١٢، ص٤ ’’ان معایش الخلق خمسۃ: الامارۃ والعمارۃ التجارۃ والاجارۃ والصدقات...‘‘
٣٥۔نہج البلاغہ، فیض الاسلام ص١١٥٣
٣٦۔ نہج البلاغہ، خطبہ ٣٤۔ ’’ایھا الناس ان لی علیکم حقا و لکم عليّ حق فاما حقکم عليّ فالنصیحۃ لکم و توفیرفیکم علیکم و تعلیمکم کی لا تجھلوا و تادیبکم کیما تعملوا‘‘
٣٧۔ تجلی امامت، نقل از المصدر ،ص٢٠٦
٣٨۔مناقب، ج١،ص٣٢١
٣٩۔ مناقب آل ابی طالبٴ ، ج٢ ،ص٩٩
٤٠۔نہج البلاغہ، خطبہ ١٩٢
٤١۔نہج البلاغہ، خطبہ ١٢٧
٤٢۔نہج البلاغہ، خطبہ ١٧٤
٤٣۔شرح نہج البلاغہ، علامہ محمد تقی جعفری، ج٢٤،ص١٦٦ ٤٤۔نگرشی بہ تصوف محمد باقر لائینی
٤٥۔طبری، ج٢ ، ص٤٤٩۔ خلافت و ملوکیت ابوالاعليٰ مودودی ص١٠٤
٤٦۔ نہج البلاغہ،خطبہ ١٠٨
٤٧۔ خصوصی مجلہ ’’علیٴ اور عصر حاضر ‘‘ ١٨ذی الحجہ ١٤٢٣ (طٰہ فاؤنڈیشن، قم ایران)
٤٨۔ نہج البلاغہ،مکتوب ٤٧
٤٩۔ نہج البلاغہ،خطبہ ٣١
٥٠۔سیمای کارگزاران علی ابن ابی طالب امیرالمومنینٴ
٥١۔ نہج البلاغہ،نامہ ٣١
٥٢۔ نہج البلاغہ،عہدنا مہ مالک اشتر، نامہ ٥٣
٥٣۔ نہج البلاغہ،خطبہ ٢١٦
٥٤۔ نہج البلاغہ،مکتوب ٤٨
٥٥۔ نہج البلاغہ،مکتوب ٥٣
٥٦۔کلمات قصار ٣١٤
٥٧۔ نہج البلاغہ،مکتوب ٥٩
٥٨۔ نہج البلاغہ،مکتوب ٣٨
٥٩۔ نہج البلاغہ،نامہ ٥٣
٦٠۔ایضاً
٦١۔ایضاً
٦٢۔ایضاً
٦٣۔ایضاً
٦٤۔ایضاً
٦٥۔ایضاً
٦٦۔ایضاً
٦٧،ایضاً
٦٨۔ایضاً
٦٩۔ایضاً
٧٠۔ایضاً
٧١۔ایضاً
٧٢۔ایضاً
٧٣۔ایضاً
٧٤۔ایضاً
٧٥۔ایضاً

user comment
 

latest article

  پیغمبر کی شرافت و بلند ھمتی اور اخلاق حسنہ
  آداب معاشرت رسول اکرم (ص )
  پیغمبر اسلام (ص) کی شخصیت کے بارے میں دانشمند حضرات کیا کہتے ...
  پیغمبر اسلام(ص)کے کلام میں مومن اور منافق کی پہچان کا معیار
  ''سیرة النبی ۖ'' مولانا شبلی نعمانی اور ''اُسوة الرسول ۖ ''سید ...
  دس سالہ بچہ کے اسلام پر گفتگو
  حکومتی کارندوں کے لئے اھم سفارشیں
  حضرت علی علیه السلام کی خلافت حدیث کی روشنی میں
  حضرت علی علیه السلام اور خطبه شقشقیه کی نسبت
  بہج الصباغہ فی شرح نهج البلاغه کے خصوصیات