اردو
Monday 23rd of April 2018
code: 83336

صفات ذاتی وصفات فعلی

صفات ذاتی وصفات فعلی

صفات خدا سے متعلق مختلف تقسیمات بیان کی گئیں ھیں جن میں سے اھم ترین صفات ذاتی (یعنی توحید ذات) اور صفات فعلی (توحید فعلی) ھیں۔

 

صفات ذاتی

صفات ذاتی سے مراد یہ ھے کہ خدا کی ذات کے ماوراء کسی شےٴ کا تصور کئے بغیران صفات کو خدا سے متصف کیا جائے۔ دوسرے الفاظ میں، ان صفات کو خدا سے متصف یا مرتبط کرنے کے لئے صرف خدا کی ذات ھی کافی ھے یعنی کسی خارجی امر کو مدنظر رکھنے یا ذات خدا کا ان سے تقابل کرنے کی کوئی ضرورت نھیں ھے۔ حیات وقدرت جیسی صفات اس زمرے میں آتی ھیں۔ اگر اس کائنات اور عالم ھستی میں ذات خدا کے ماسوا کوئی بھی موجود نہ ھو یعنی فقط اور فقط خدا تنھا ھو تو بھی خدا کو حی اور قادر کھا جاسکتا ھے۔

 

صفات فعلی

صفات ذاتی کے بالمقابل، صفات فعلی ھیں کہ جب تک خدا کی ذات سے خارج کسی امر یا شیٴ کو مدنظر نہ رکھا جائے ، ان صفات کو خدا کی ذات کے ساتھ نھیں جوڑا جاسکتا۔ لھٰذا صفات فعلی وہ صفات ھیں کہ جن کے اتصاف کے لئے ذات خدا کے علاوہ کوئی شیٴ ھو تاکہ اس کی ذات سے اس شیٴ کا رابطہ قائم کیا جاسکے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بھی موجود کائنات میں وجود نہ رکھتا ھو تو خدا کو خالق نھیں کھا جاسکتا۔ اسی طرح اگر کسی بھی مخلوق پر تکالیف واحکام الٰھی کی انجام دھی واجب نہ ھو تو خدا کوشارع نیز اگر کوئی بھی بندہ معصیت ونافرمانی خدا انجام نہ دے تو خدا کو غفور بھی نھیں کھا جاسکتا۔

یھیں سے یہ بات بھی واضح ھو جاتی ھے کہ خالق، شارع اور غفور جیسی صفات، صفات فعلی میں شمار کی جاتی ھیں۔ صفات فعلی وذاتی میں اھم ترین امتیاز وفرق مندرجہ ذیل ھیں:

 

(۱) صفات فعلی وہ صفات ھیں جو ذات سے صادر ھونے والے فعل کو مدنظر رکھتے ھوئے اس کے ساتھ تقابل کے ذریعہ ذات سے متصف ھوتی ھیں یعنی یہ صفات فعل خدا سے انتزاع اور اخذ کی جاتی ھیں جب کہ صفات ذاتی فقط اور فقط دائرہٴ ذات کے ذریعہ ھی اخذ کی جاسکتی ھیں۔

 

(۲) صفات فعلی قابل نفی و اثبات ھیں ،اس معنی میں کہ بعض شرائط میں ان کی نفی کی جاسکتی ھے اور بعض میں اثبات۔ دوسرے الفاظ میں ،ان میں سے ذات خدا سے ھر صفت کی نفی یا اثبات ممکن ھے مثلاً خدا زمین کو خلق کرنے سے قبل ”خالق زمین“ نھیں تھا لیکن خلقت زمین کے بعد کھا جاسکتا ھے کہ ”خدا خالق زمین ھے۔“

اسی طرح بعثت رسول اکرم سے پھلے خدا قرآن کا نازل کرنے والا نھیں تھا لیکن بعثت کے بعد ”منزِّل قرآن“ ھوگیا۔

اس کے برخلاف ، صفات ذاتی ھمیشہ اور تمام شرائط و اوقات میں ذات اقدس خدا سے پیوستہ اور آمیختہ ھیں یعنی کسی بھی صورت میں خدا کی ذات سے ان کو خارج نھیں کیا جاسکتا نیز خدا از ازل تا ابد ان صفات کا حامل و و اجدرھے گا۔

latest article

  الکافی
  حدیث نجوم پر عقلی اور نقلی نقد
  گھر کو کیسے جنت بنائیں؟ پہلا حصہ
  امامت کے بارے میں مکتب خلفاء کا نظریہ اور استدلال
  اہداف بعثت انبیاء
  جمع بین صلاتین کا مسئلہ
  مبطلاتِ روزہ
  بچوں کو منظم کیسے کیا جائے؟
  بے مروت آدمی
  پھل اور فروٹ کی خصوصیات(حصہ پنجم)

user comment

بازدید ترین مطالب سال

انتخاب کوفه به عنوان مقر حکومت امام علی (ع)

حکایت خدمت به پدر و مادر

داستانى عجيب از برزخ مردگان‏

فلسفه نماز چیست و ما چرا نماز می خوانیم؟ (پاسخ ...

رضايت و خشنودي خدا در چیست و چگونه خداوند از ...

چگونه بفهميم كه خداوند ما را دوست دارد و از ...

سخنراني مهم استاد انصاريان در روز شهادت حضرت ...

در کانال تلگرام مطالب ناب استاد انصاریان عضو ...

مرگ و عالم آخرت

نرم افزار اندروید پایگاه اطلاع رسانی استاد ...

پر بازدید ترین مطالب ماه

سِرِّ نديدن مرده خود در خواب‏

ذکری برای رهایی از سختی ها و بلاها

آیه وفا (میلاد حضرت عباس علیه السلام)

سرانجام كسي كه نماز نخواند چه مي شود و مجازات ...

رمز موفقيت ابن ‏سينا

تنها گناه نابخشودنی

اهمیت ذکر صلوات در ماه شعبان

اهمیت و ارزش و فضیلت های ماه شعبان

رفع گرفتاری با توسل به امام رضا (ع)

بهترین دعاها برای قنوتِ نماز

پر بازدید ترین مطالب روز

با این کلید، ثروتمند شوید!!

آیا حوریان و لذت های بهشتی فقط برای مردان است؟

روش امام زین العابدین(ع) در تربیت روحی

چند روايت عجيب در مورد پدر و مادر

چگونه بفهیم عاقبت به خیر می‌شویم یا نه؟

طلبه ای که به لوستر های حرم امیر المومنین ...

عشق امام سجاد (ع) به عبادت

آيا فكر گناه كردن هم گناه محسوب مي گردد، عواقب ...

تقيه چيست و انجام آن در چه مواردي لازم است؟

فرق كلّي حيوان با انسان در چیست ؟