اردو
Monday 17th of June 2019
  4860
  0
  0

اسلام میں متعہ

اسلام یقینی طور پر سعادتوں اور خوش بختیوں کا پیغام لے کر آیا ہے ۔ اسلام لوگوں کو بَلاؤں میں اور مشکلات کے پیچ و خم میں پھنسانے کے لئے ہرگز نہيں آیا۔ زندگی کے کسی شعبے میں کمزوری کا پھلو نہيں لایا ہے ۔ انسانی خوش بختی میں بہت اہم کردہر ادا کرتا ہے اسلام نے انسان کی زندگی کو سعادت سے ہمکنار کرنے میں معمولی فروگذاشت بھی نہيں برتی ہے اور اپنی انہيں گونا گوں خصوصیات کی بنا پر کامل ترین مذھب ہے ۔

اسلام اپنے اندر اتنی صلاحیت رکھتا ہے کہ موجودہ دور کی جملہ ضرورتوں کا مثبت جواب دے سکے ۔ شادی بیاہ و تشکیل خاندان سے متعلق قوانین، اسلام کے ان عظیم قوانین میں داخل ہيں جن کا جواب دنیا کا کوئی مذھب نہيں پیش کر سکا ، کلیسا کا رویہ شادی بیاہ کے مسئلے میں اسلام کے بالکل برعکس ہے ۔ اور کلیسا کے کارکنان اور پادریوں کے لئے شادی کلی طور پر منع کی گئی ہے۔

یہ مسلمہ امر ہے کہ جب فطرت کے تقاضوں کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کی جائیں گی اور اس فطری مطالبے کا صحیح جواب نہ دیا جائے گا تو جنسی بے راہ روی کا ہونا ناگزیر ہوجائے گا ۔ شادی بیاہ سے اجتناب یا شادی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کی بنا پر شادی کا عدم امکان بہت سی برائیوں اور جنسی بے راہ روی کا سبب بنا ہے۔ دینی شخصیات کے سلسلے میں عیسائیت کا عقیدہ بھی حتی کہ کلیسا میں بسہغیوں کا پیش خیمہ ہے ۔

اسلام کا لوگوں کو ابتدائے بلوغ پر شادی کی ترغیب دلانا در حقیقت اس جنسی قوت سے استفادہ کرنے کی دلیل ہے لیکن اسی کے ساتھ اسلام حیوانوں کی طرح اس قوت سے لطف اندوز ہونے کو منع کرتا ہے اور ایسے طریقے پر آمادہ کرتا ہے جو انسان کے لائق و سزاوار ہو چونکہ بال بچوں سے محبت کرنا انسانی فطرت کا تقاضا ہے اور انسانی فطرت کے اندر جنسی قوت کا وجود بھی مسلم ہے لھذا اسلام اس کو تسلیم کرتا ہے اور اس قوت سے اخلاقی و قانونی حدود میں رہتے ہوئے بھرپور لطف اندوز ہونے کی اجازت دیتا ہے اور لوگوں کے لئے شادی بیاہ کو زینت تصور کرتا ہے ۔اسلام میں جنسی خواہش کی بنیاد پربیوی بچوں سے محبت انسانوں کے لئے باعث زینت قرار دیا گیا ہے۔ “(زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَاتِ مِنَ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِيرِ الْمُقَنطَرَةِ مِنَ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَيْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِكَ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَاللّهُ عِندَهُ حُسْنُ الْمَآبِ(۱)

چودہ سو سال پہلے اجتماعی ضرورتوں کی بنا ء پر آج کی موجودہ عالمگیر فحاشی و بدکاری کے خاتمے کے لئے اسلام نے نہایت ہی سادہ و آسان شرائط کے ساتھ متعہ کا قانون بنایا تھا اور اس طرح مفاسد کا خاتمہ کر کے بشریت کو فلاح و بہبود کی طرف دعوت دی تھی ۔

اسلام سے پھلے زمانہ جاھلیت میں دیگر نا شائستہ افعال کی طرح فحاشی اور نا مشروع جنسی روابط بھی ایک عام چیز تھی ، کھلے عام فحاشی کے اڈے بنائے گئے تہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے اعمال و اخلاق و افکار کی اصلاح اور جنسی بے راہ روی کو روکنے کے لئے متعہ کا قانون بنایا اور اسی قانون کے زیر سایہ جنسی خواہش کو صحیح راستے پر لگایا ۔ رسول اسلام  صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کی طرف سے ایک منادی نے کوچہ و بازار میں اعلان کیا کہ اے: لوگو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے تمہارے لئے متعہ کو جائز قرار دیا ہے ۔ جنسی پیاس بجھانے کے لئے صحیح طریقوں کا استعمال کرو، بدکاری و جنسی بے راہ روی کو چھوڑ دو ۔(۲)

اس قانون کی بناء پر مرد و عورت نکاح دائمی کے بوجہ سے بچتے ہوئے محدود وقت کے لئے متعہ کر سکتے ہیں اور مدت کے ختم ہونے تک زوجیت کی رعایت کی جائے گی۔

 

متعہ میں نہ تو توارث ہے (مرد اور عورت کو ایک دوسرے  کا ترکہ نهیں ملتا) نہ مرد عورت کو خوراک ، پوشاک اور گھر دینے کا ذمہ دار ہے لیکن نکاح دائمی کے تمام اصول متعے پر لاگو ہیں۔ متعہ شدہ عورت واقعاً مرد کی بیوی ہے اور زوجیت کے سارے احکام اس پرنافذ ہیں ۔ قرآن فرماتا ہے : (فَمَا اسْتَمْتَعْتُم بِهِ مِنْهُنَّ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ)جن عورتوں سے متعہ کرو انکا مھر ادا کرو۔  ۔ (۳)

اگر متعہ میں مدت معین نہ کی جائے تو وہ نکاح دائمی شمار ہو جائے گا جو ہمیشہ باقی رہے گا اور اس کو ختم کرنے کےلئے طلاق جیسی چیزوں کا سہارا لینا پڑے گا لیکن چونکہ اس کی مدت معین ہوتی ہے اس لئے اس کو متعہ کہا جاتا ہے ۔ نکاح و متعہ سے ہونے والی بیوی میں کوئی اصولی فرق نہيں ہے ۔ صرف اتنا فرق ہے کہ متعہ محدود وقت کے لئے ہوتا ہے اور نکاح غیر محدود وقت کے لئے ہوتا ہے ۔ اسی طرح دا ئمی اور میعادی ازدواج سے ہونے والی اولاد میں بھی کوئی فرق نہيں ہے اور دونوں کو ایک جیسی قانونی اور شرعی رعایتیں حاصل ہيں۔

بدکاری عام ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ لوگ نکاح نہيں کر سکتے کیونکہ شادی کی ذمہ داریاں خصوصاً مالی پریشانی اورکمر توڑ اخراجات ہر شخص کو تشکیل خاندان کی اجازت نہيں دیتا اور یہ مسئلہ ہر زمانے میں رہا ہے۔

اسی طرح تجارت ، دفاعی و فوجی مقاصد ، تحصیل علم ، تفریح اور دیگر امور کی انجام دہی کے لئے انسان کو سفر کرنا پڑتا ہے اور وطن سے دور رہنا پڑتا ہے اور یہ سفر بھی زندگی کی ضروریات میں داخل ہے ۔ اب حالت سفر میں نکاح دائمی یا بال بچوں کو ہر موقع پر ساتھ لئے پھرنا سفر اور اکثر مقامات پر بھت ہی دشوار بلکہ نا ممکن ہے۔ ایسے موقع پرمتعہ کے علاوہ کوئی بھی راہ حل نہيں ہے ۔ اس بات کو پیش نظر رکھ کر دیکھئے کہ عموما ًطویل سفر کرنے والے نوجوان افراد ہوتے ہيں جو بھرپور نوجوانی سے مالامال ہيں اور جنسی خواہش ان کے یاں عروج پر ہوتی ہے تو ایسی صورت میں متعہ کے علاوہ اس مسئلے کا کیا حل ہو سکتا ہے؟

اسی لئے اگر نظم و ضبط کے ساتھ یہ اصلاحی و مترقی (Progressive) قانون نافذ کیا جائے اور صحیح طریقے سے اس کو استعمال کیا جائے تو سماجی انحرافات اور فحشاء و مفاسد کے خلاف بہترین ہتھیار ہے ۔ اور اس طرح فساد و جسم فروشی کو روکا جا سکتا ہے، عمومی اخلاق بہتر ہو سکتے ہيں اور بہت سی دامن آلودہ خواتین نجات پا سکتی ہيں ۔

یہاں صحیح طریقے سے استعمال کی شرط اس لئے لگائی گئی ہے کہ کچھ نادان اور بے لگام لوگ اس قانون سے غلط فائدے حاصل کرنے لگے ہيں اور پہر مخالفین و کوتاہ نظروں کی اس مسئلے کے خلاف بے بنیاد قسم کی تبلیغات نے مسئلے کی صورت ہھی بدل دی ہے اور حقیقت کے بالکل بر عکس اس کا تعارف کرایا ہے، اگر گناہ کی اہمیت نہ سمجھنے والے لوگ متعہ (جو ایک پاکیزہ شادی ہے) کی طرف آجائیں تو صورت حال بالکل بدل سکتی ہے اور پہر قطعی طور پر جسم فروشی و بد کاری کو روکا جا سکتا ہے ۔

صرف متعہ ہی کے لئے یہ بات نہيں ہے کہ لوگ اس کا غلط استعمال کرتے ہيں بلکہ لوگ تو ہر چیز کو غلط استعمال کر سکتے ہيں ۔ ان باتوں کے لئے تہذیب روح اور لوگوں میں اخلاقی بلندی پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اسلام نے لوگوں کے اخلاقی فضائل کی طرف بہت زیادہ توجہ دی ہے ۔

ہر قانون کی خلاف ورزی کرنے پر کچھ نہ کچھ تأدیب و تنبیہ ہوتی ہے اس لئے قانون متعہ کے خلاف ورزی پر بھی تأدیب ہونی چاہئے اور واقعی بات یہ ہے کہ بغیر تأدیب کے متعہ کا فائدہ بھی حاصل نہ ہو سکے گا چونکہ یہ قانون معاشرے کے فائدے کے لئے ہے اس لئے مخالفت کی صورت میں حکومت کو دخل دینا چاہئے اور سرکشوں کو صحیح راستے پر لگانا چاہئے تاکہ فردی و اجتماعی مصلحتیں محفوظ رہ سکیں امام پنجم علیہ السلام نے حضرت علی علیہ السلام سے نقل فرمایا ہے لولا أن عمر نهى عن المتعة ما زنا إلا شقي - اگر خلیفہ دوم متعہ کو حرام نہ کرتا تو کمینہ و پست فطرت افراد کے علاوہ کوئی بھی شخص زنا کا ارتکاب نہ کرتا ۔(۴)

سنی و شیعہ علماء و دانشوران نے عمر بن خطاب کا جو قول نقل کیا ہے اس میں غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ متعہ یقینی طور پر رسول خدا کے زمانے میں رائج تھا لیکن عمر نے نا معلوم اسباب کی بناء پر اپنے دور خلافت میں یہ کھہ کر حرام قرار دیا کہ : (قد عرفت نسخ إباحة المتعة ما روي عن عمر أنه قال في خطبته : متعتان كانتا على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله أنا أنهى عنهما وأعاقب عليهما وقال في خبر آخر لو تقدمت فيها لرجمت) دو متعے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کے زمانے میں رائج و مرسوم تھے ، میں ان دونوں کو روکتا ہوں اور حرام کرتا ہوں جو بھی یہ کام کرے گا اس کو سزا دوں گا اوروہ دونوں متعہ ایک تو متعہ حج ہے اور دوسرا متعہ نساء ہے ۔ اس عبارت سے واضح ہے کہ عمر نے اپنی شخصی رائے سے متعہ کو حرام قرار دیا ۔ حالانکہ بہت سے اصحاب پیغمبر صلی الله علیہ و آلہ و سلم نے عمر کی بات پر کوئی اعتنا نہيں کی اور برابر متعہ کو جائز و حلال سمجھا۔(۵)

آج کی دنیا میں ہر طرف فتنہ اور آزادروی ہے اور عصمت و عفت کے خلاف رسالے ، روزنامے ، شہوت کو ابھارنے والی فلمیں ، سینما ، اور گمراہ باتیں  نشر کرنے والے ریڈیو ، ٹیلی ویژن ، عورتوں کی نیم عریانی، ایسی چیز یں ہيں جو نوجوانوں کے اخلاق کو خراب کرتی ہيں ۔ پاکدامن نوجوان ایک بندگلی میں پھنسے ہيں اسلامی قوانین سے نا واقف لوگ جو متعہ کے بارے میں غلط افواہيں پھیلاتے رہتے ہيں اور نا معقول قسم کا شور و غل کرتے رہتے ہيں اس مشکل کا کیا حل پیش کریں گے۔؟

کیا سارے نوجوان اپنے نفس پر کنٹرول کر لیں گے ؟ اور نوجوانی کی بدمستیوں کے سامنے سینہ سپر ہو سکیں گے ؟ نفس امارہ کو عقل کا تابع بنا سکیں گے؟ چلئے تھوڑی دیر کے لئے ہم مان لیتے ہيں کہ سارے نوجوان اپنے نفس کو قابو میں کر لیں گے لیکن کیا اس سے مقصد خلقت فوت نہ ہو جائے گا؟ کیونکہ نسل انسانی میں قلت پیدا ہوجائے گی نطفے بیکار ہو جائیں گے اور یہ سب روح اسلام کے منافی ہے کیونکہ قرآن مقدس نے اعلان کر دیا ہے : (وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ) خدا وند عالم نے دین اسلام میں دشوار اور نا قابل برداشت بوجھ تمہارے کندہوں پر نہيں ڈالا ہے ۔(۶)

اب یہ سوال اٹھتا ہے کہ متعہ کو ختم کر کے کیا تمام بداخلاقیوں کی اجازت دے دی جائے؟ اور ٓج پورے معاشرے میں سرایت ان برائیوں اور بد بختیوں کو اپنی تمام تر بے شرمیوں کے ساتھ رائج و عام کر دیا جائے ؟ تاکہ بشریت دریائے شہوت میں ڈوب جائے اور انارکی اور لا قانونیت عام کا دور دورہ ہو جائے؟ قرآن کا ارشاد ہے : (الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ)کیا اچھی چیزوں کو چھوڑ کر بری باتوں کو اختیار کرو گے ۔(۷)

دوسری صورت یہ ہے کہ قانون متعہ کو رائج کر کے پریشانی و عسرت کی زندگی بسر کرنے والی کروڑوں مطلقہ ،بن بیاہی اوربیوہ عورتوں کو نجات دی جائے تاکہ ان کی زندگی کی گاڑی پھر سے چل پڑے ۔

مان لیتے ہيں کہ یہ عورتیں اپنی عسر ت و تنگدستی کا علاج کر سکتی ہيں لیکن کیا یہ اپنے باطنی احساسات اور روحانی جذبوں کی بھی تکمیل کر لیں گی؟ اور کیا مردوں کی طرف فطری میلان اور وابستگی کا صحیح جواب دیا جا سکے گا؟ اگر فطری احساسات اور جنسی جذبات کا صحیح تدارک نہ کیا گیا تو بھت ممکن ہے کہ اس کی وجہ سے عورتیں تباہی و بربادی اور آلودگی کے راستے پر لگ جائیں ۔

آج مغربی ممالک میں عورتوں اور مردوں کے درمیان متعہ کی جگہ عملی طور پر نا جائز ”جنسی تعلقات “ نے لے رکھی ہے اور مغربی مفکرین اس نازک صورت حال کے لئے ایک قانون کی ضرورت محسوس کر رہے ہيں اور جواز متعہ کو معاشرے کے لئے ایک ضرورت سمجھنے لگے ہيں ۔

انگریز فلسفی برٹرانڈ راسل (BERTRAND RUSSELL)  لکھتا ہے : آج کی دنیا میں معاشرتی و اقتصادی مسائل و ضروریات نے ہمارے نوجوانوں کی شادی میں تاخیر پیدا کی ہے کیونکہ سو دو سو سال پھلے ایک طالب علم اٹھارہ بیس سال کی عمر میں اپنی تعلیم مکمل کر کے عین شباب میں شادی کے لئے تیار ہو جاتا تھا۔ بھت سے تھی دست لوگ جو تیس چالیس سال محنت کرکے کسی شعبے میں ماہر ہو کر شادی کرتے تھے لیکن آج کل بیس سال کے بعد (اگر ماہر ہو بھی جائیں) ان کا کافی وقت حصول معاش کے چکر میں گذر جاتا ہے۔ عموما ً۳۵ سال سے پھلے شادی بیاہ کی نوبت نہيں آتی، اسی لئے آج کل کے نوجوان تعلیم سے فراغت پانے کے بعد اور شادی کرنے کے وقت تک زندگی کا بھت ہی اہم حصہ مجبوراً - جس طرح بھی ممکن ہو - گذاردیتے ہيں ۔زندگی کے اس حصے سے کسی بھی قیمت پر چشم پوشی نہيں کی جا سکتی، اگر ہم اس کے لئے کوئی فکر نہ کریں گے تو نسل ، اخلاق ، معاشرتی اصول سب کے سب تباہ ہو جائیں گے اسی لئے بمیں کچھ کرنا چاہئے مگر کریں تو کیا کریں ؟ اس مشکل کا حل صرف یہ ہے کہ عمر کے اس حساس حصے میں (لڑکیوں اور لڑکوں کےلئے) میعادی شادی (متعہ) کو قانوناً تسلیم کیا جائے تا کہ وہ عائلی زندگی اور نکاح دائم کی دشواریاں جھیلنے اور غلط اعمال اور نامشروع افعال اورگناہ سے بھی محفوظ ہوں اور بہت سی بیماریوں سے بھی بچے  رہیں۔

امریکی یونیورسٹی کے پروفیسر ویلیان وان لوم (VELYAN WAON LOME) تحریر کرتے ہيں کہ تجربے سے یہ بات ثابت ہوئی ہے کہ نکاح کی عمر گذر جانے کے بعد مرد تازگی اور نشاط  کی طرف مائل نہيں ہوتے اسی لئے جنسی انحرافات کی طرف مائل ہو جاتے ہيں ۔

چنانچہ مغربی ممالک کے اعداد و شمار بتاتے ہيں کہ ۳ سے ۶۵ فیصد شادی شدہ مرد اپنی بیویوں سے خیانت کرتے ہيں۔ اس جنسی بے راہ روی کو ختم کرنے اور نکاح کے مصارف کو ہلکا کرنے کے لئے مخصوص شرائط کے ساتھ _ جس  مدت تک میاں بیوی تیار ہوں- قانونی طور پر بھی متعہ جائز ہوناچاہئے ۔(۸)

حوالے :

(۱)سورہ آل عمران آیت /14

(۲)وسائل ابواب متعھ

(۳) سورہ نساء /آیت 24 

(۴) روى الثعلبي في تفسيره في ج3  ص 286  ، ط الأولى بيروت دار إحياء التراث العربي 

(۵)و روى الجصاص في أحكام القرآن ج 3 ص 94  الى 105  ، قد عرفت نسخ إباحة المتعة ما روي عن عمر ط دار إحياء التراث العربي  بيروت مزید تفصیل کے لئے اھل سنت کی کتب تفسیر ،فقہ ، حدیث کا مطالعہ فرمائیے

(۶) سورہ حج آیت ۷۸ 

(۷)سورہ بقرہ آیت /۶۱

(۸)بھداشت ازدواج از نظر اسلام ص ۱۷۸ 

ترجمہ: ف۔ح۔مہدوی

حدیث پڑھنے والوں کے لئے تحفہ:


source : http://www.abna.ir/data.asp?lang=6&Id=111374
  4860
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      محمود عباس کی بے بسی اور فلسطینی عوام کا مستقبل + مقالہ
      تصویری رپورٹ/ سعودی عرب کے ۳۳ مظلوم شہداء کی قم میں ...
      مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی فوج کی جارحیت جاری، مزید 2 ...
      مولانا عبدالستار خان نیازی کے 18ویں یوم وفات
      لیبیا ،عرب مملک کے درمیان طاقت آزمانے کا میدان بن ...
      ایران کو سیاحتی صنعت سے 12 ارب ڈالر کی آمدنی
      حضرت ابوطالب (ع)؛ حامی پیغمبر(ص) بین الاقوامی علمی ...
      ایرانی تیل کی جگہ پر کرنا آسان کام نہیں : ہندوستان
      وزیر دفاع: ایران کا تعاون نہ ہوتا تو عراق و شام تقسیم ہو ...
      علامتی بھوک ہڑتال: جیکب آباد، شیعہ لاپتہ افراد کی ...

 
user comment