اردو
Saturday 25th of May 2019
  1152
  0
  0

امامت پر عقلی اور منقوله دلایل

امامت پر عقلی اور منقوله دلایل

شیعہ وسنی کے درمیان اس بات میں کوئی اختلاف نھیں خلیفہٴ پیغمبر  (ص) کا هونا ضروری ھے۔ اختلاف اس میں ھے کہ آیا پیغمبر اسلام   (ص) کے خلیفہ کی خلافت انتصابی ھے یا انتخابی۔

اھلسنت کا عقیدہ ھے کہ خدا اور رسول  (ص) کی جانب سے کسی کے معین کئے جانے کی ضرورت نھیں بلکہ خلیفہٴ رسول امت کے انتخاب سے معین هوجاتا ھے جب کہ شیعوں کا عقیدہ یہ ھے کہ پیغمبر اکرم کے انتخاب کے بغیر جو درحقیقت خدا کی جانب سے انتخاب ھے ، کوئی بھی فرد خلافت کے لئے معین نھیں هوسکتا۔

اس اختلاف میں حاکمیت عقل، قرآن اور سنت کے ھاتھ ھے۔

الف۔قضاوتِ عقل

اور اس کے لئے تین دلیلیں کافی ھیں:

۱۔ اگر ایک موجد ایسا کارخانہ بنائے جس کی پیداوار قیمتی ترین گوھر هو اور اس ایجاد کا مقصد پیدا وار کے اس سلسلے کو ھمیشہ باقی رکھنا هو، یھاں تک کہ موجد کے حضوروغیاب اور زندگی وموت، غرض ھر صورت میں اس کام کو جاری رکھنا نھایت ضروری هو، جب کہ اس پیداوار کے حصول کے لئے، اس کارخانے کے آلات کی بناوٹ اور ان کے طریقہ کار میں ایسی ظرافتوں اور باریکیوں کا خیال رکھا گیا هو جن کے بارے میں اطلاع حاصل کرنا، اس موجد کی رھنمائی کے بغیر نا ممکن هو، کیا یہ بات قابل یقین ھے کہ وہ موجد اس کام کے لئے ایک ایسے دانا شخص کومعین نہ کرے جو اس کارخانے کے آلات کے تمام رازوں سے باخبر هو اور ان کے صحیح استعمال سے واقف هو ؟! بلکہ اس کارخانے کے انجینئیر کے انتخاب کا حق مزدوروں کو دے دے جو ان آلات سے نا آشنا اور ان دقتوں اور باریکیوں سے نا واقف ھیں ؟!

وہ باریک بینی جس کا انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں جاری هونے والے الٰھی قوانین، سنن اور تعلیمات میں خیال رکھا گیا ھے جو کارخانہٴ دین خدا کے آلات واوزار ھیں، کہ جس کارخانے کی پیدا وار ، خزانہٴ  وجود کا قیمتی ترین گوھر، یعنی انسانیت کو معرفت وعبادتِ پروردگار کے کمال تک پہچانا اور شہوت انسانی کو عفت، غضب کو شجاعت اور فکر کو حکمت کے ذریعے توازن دے کر، انصاف وعدالت پر مبنی معاشرے کا قیام ھے، کیامذکورہ موجد کے ایجادکردہ کار خانے میں جاری هونے والی باریکی اور دقت نظری سے کم ھے ؟!

جس کتاب کی تعریف میں خداوند متعال نے فرمایا<وَنَزَّلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ تِبْیَانًا لِکُلِّ شَیْءٍ وَّھُدًی وَّرَحْمَةً>[1] اور<کِتَابٌ اٴَنْزَلْنٰہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلیَ النُّوْرِ>[2] اور<وَمَا اٴَنْزَلْنَا عَلَیْکَ الْکِتَابَ اٴِلاَّ لِتُبَیِّنَ لَھُمُ الَّذِیْ اخْتَلَفُوْافِیْہِ >[3]اس کتاب کے لئے ایسے مبیّن کا هونا ضروری ھے جو اس کتاب میں موجود ھر اس چیز کا استخراج کر سکے جس کے لئے یہ کتا ب تبیان بن کر آئی ھے، ایک ایسا فردجو انسان کے فکری، اخلاقی اور عملی ظلمات پر احاطہ رکھتے هوئے، عالم نور کی جانب انسان کی رھنمائی کر سکے، جو نوع انسان کے تمام تر اختلافات میں حق و باطل کو بیان کر سکتا هو، کہ جن اختلافات کی حدود مبداء ومعاد سے مربوط وجود کے عمیق ترین ایسے مسائل، جنہوں نے نابغہ ترین مفکرین کو اپنے حل میں الجھا رکھا ھے، سے لے کر مثال کے طور پر ایک بچے کے بارے میں دو عورتوں کے جھگڑے تک ھے جو اس بچے کی ماں هونے کی دعویدار ھیں۔

کیا یہ بات تسلیم کی جاسکتی ھے کہ عمومی ھدایت، انسانی تربیت، مشکلات کے حل اور اختلافات کے مٹانے کے لئے قرآن کی افادیت، پیغمبر اکرم  (ص) کی رحلت کے ساتھ ختم هو گئی هو؟!

آیا خدا اور اس کے رسول  (ص) نے اس قانون اور تعلیم وتربیت کے لئے کسی مفسر ومعلم اور مربی کا انتظام نھیں کیا؟! اور کیا اس مفسر ومعلم ومربی کو معین کرنے کا اختیار، قران کے علوم ومعارف سے بے بھرہ لوگوں کو دے دیا ھے؟!

۲۔ انسان کی امامت ورھبری یعنی عقلِ انسان کی پیشوائی وامامت، کیونکہ امامت کی بحث کا موضوع ”انسان کا امام ھے“اور انسان کی انسانیت اس کی عقل وفکر سے ھے ((دعامة الإنسان العقل))[4]

خلقت انسانی کے نظام میں بدن کی قوتیں اور اعضاء، حواس کی رھنمائی کے محتاج ھیں، اعصاب ِحرکت کواعصا ب ِحس کی پیروی کی ضرورت ھے اور خطا ودرستگی میں حواس کی رھبری عقلِ انسانی کے ھاتھ ھے، جب کہ محدود ادراک اور خواھشاتِ نفسانی سے متاثر هونے کی وجہ سے خود عقلِ انسان کو ایسی عقلِ کامل کی رھبری کی ضرورت ھے جو بیماری وعلاج اور انسانی نقص وکمال کے عوامل پر مکمل احاطہ رکھتی هواور خطاو هویٰ سے محفوظ هو، تاکہ اس کی امامت میں انسانی عقل کی ھدایت تحقق پیدا کر سکے اور ایسی کامل عقل کی معرفت کا راستہ یھی ھے کہ خدا اس کی شناخت کروائے۔ اس لحاظ سے امامت کی حقیقت کا تصور، خدا کی جانب سے نصب امام کی تصدیق سے جدا نھیں۔

۳۔ چونکہ امامت قوانین خدا کی حفاظت، تفسیر اور ان کا اجراء ھے، لہٰذا جس دلیل کے تحت قوانین الٰھی کے مبلغ کا معصوم هونا ضروری ھے اسی دلیل سے محافظ، مفسر اور قوانین الٰھی کے اجراء کنندہ کی عصمت بھی ضروری ھے اور جس طرح  ھدایت، جو کہ غرض بعثت ھے، اس وقت باطل هوجاتی ھے جب مبلّغ میں خطا وہویٰ آجاتی ھے، اسی طرح مفسر ومجری قوانین الٰھی کا خطا کار هونا اور خواھشات کے زیر اثر آجانا،اضلال وگمراھی کا سبب ھے اور معصوم کی پہچان خداوندِ متعال کی رھنمائی کے بغیر ناممکن ھے۔

ب۔ قضاوت قرآن :

اختصار کی وجہ سے تین آیات کی طرف اشارہ کرتے ھیں:

پھلی آیت :

<وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اٴَئِمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاٴَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا وَکَانُوْا بِآیَاتِنَا یُوْقِنُوْنَ>[5]

ھر درخت کی شناخت اس کی اصل وفرع، جڑ اور پھل سے هوتی ھے۔شجر امامت کی اصل وفرع، قرآن مجید کی اس آیت میں بیان هوئی ھے۔

صبر اور آیات خداوند کریم پر یقین، امامت کی اصل ھے اور یہ دو لفظ انسان کے بلند ترین مرتبہ کمال کو بیان کرتے ھیں کہ کمال عقلی کی بناء پر ضروری ھے کہ امام معرفت الٰھی اور آیات ربانی ۔ کہ جن آیات کوصیغہٴ جمع کے ساتھ ذات قدوس الٰھیہ کی جانب نسبت دی ھے۔کے لحاظ سے یقین کے مرتبہ پر  اور ارادے کے اعتبار سے مقام صبر پر، جو نفس کو مکروھات خدا سے دور اور اس کے پسندیدہ اعمال پر پابند کردینے کا نام ھے، فائز هو اور یہ دو جملے امام کے علم  اور اس کی عصمت کے بیان گر ھیں۔

فرعِ امامت، امرِ خدا کے ذریعے ھدایت کرنا ھے اور امرِ الٰھی کے ذریعے ھدایت سے عالَم خلق اور عالَم امر کے مابین وساطتِ امام ثابت هوتی ھے اورخود یھی فرع جو اس اصل کا ظہور ھے، امام کے علم وعصمت کی آئینہ دار ھے۔

وہ شجرہ طیبہ جس کی اصل وفرع یہ هوں، اس کی پرورش  قدرت خدا کے بغیر ناممکن ھے، اسی لئے فرمایا: <وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اٴَئِمَّةً یَّھْدُوْنَ بِاٴَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَکَانُوْا بِآیَاتِنَا یُوْقِنُوْنَ>

دوسری آیت :

<وَإِذِ ابْتَلٰی إِبْرَاھِیْمَ رَبُّہ بِکَلِمَاتٍ فَاٴَتَمَّھُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْنَ >[6]

امامت وہ بلند مقام ومنصب ھے جو حضرت ابراھیم (ع) کو کٹھن آزمائشوں، مثال کے طور پر خدا کی راہ میں بیوی اور بچے کو بے آب و گیاہ بیابا ن میں تنھا چھوڑنے، حضرت اسماعیل کی قربانی اور آتش نمرود میں جلنے کے لئے  تیار هونے، اور نبوت ورسالت وخلت جیسے عظیم مراتب طے کرنے کے بعد نصیب هوا اور خداوند متعال نے فرمایا ِٕنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا>اس مقام کی عظمت نے آپ علیہ السلام کی توجہ کو اتنا زیادہ مبذول کیا کہ اپنی ذریت کے لئے بھی اس مقام کی درخواست کی تو خداوند متعال نے فرمایا <لاَ یَنَالُ عَھْدِی الظَّالِمِیْن

اس جملے میں امامت کو خداوند متعال کے عھد سے تعبیر کیا گیا ھے جس پر صاحب عصمت کے علاوہ کوئی دوسرا فائز نھیں هو سکتا اور اس میں بھی شک وتردید نھیں کہ حضرت ابراھیم(ع) نے اپنی پوری کی پوری نسل کے لئے امامت نھیں چاھی هو گی کیونکہ یہ بات ممکن ھی نھیں کہ خلیل اللہ نے عادل پرودرگار سے کسی غیر عادل کے لئے انسانیت کی امامت کو طلب کیا هو، لیکن چونکہ حضرت ابراھیم   (ع) نے اپنی عادل ذریت کے لئے جو درخواست کی تھی،اس کی عمومیت کا دائرہ ذریت کے اس فرد کو بھی شامل کررھا تھا جس سے گذشتہ زمانے میں ظلم سرزد هوچکا هو۔لہٰذا خدا کی جانب سے دئے گئے جواب  کا مقصد یہ تھا کہ ایسے عادل کے حق میں آپ کی یہ دعا مستجاب نھیں جن سے پھلے گناہ سرزد هو چکے ھیں بلکہ حکم عقل وشرع کے مطابق امامت مطلقہ کے لئے عصمت وطھارت مطلقہ شرط ھیں۔

تیسری آیت :

<یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اٴَطِیْعُو اللّٰہَ وَاٴَطِیْعُوا لرَّسُوْلَ وَاٴُوْلِی اْلاٴَمْرِ مِنْکُمْ>[7]

اس آیت کریمہ میں اولی الامر کو رسول پر عطف لیا گیا ھے اور دونوں میں ایک <اطیعوا>پر اکتفا کرنے سے یہ بات ظاھر هوتی ھے کہ اطاعت اولی الامر اور اطاعت رسول  (ص)کے وجوب کی سنخ وحقیقت ایک ھی ھے اور اطاعت رسول  (ص)کی طرح، جو وجوب میں بغیر کسی قید وشر ط اور واجب میں بغیر کسی حد کے، لازم وضروری ھے اور اس طرح کا وجوب ولی ّ امر کی عصمت کے بغیر نا ممکن ھے، کیونکہ کسی کی بھی اطاعت اس  بات سے مقید ھے کہ اس کا حکم، اللہ تعالی کے حکم کا مخالف نہ هو اور عصمت کی وجہ سے معصوم کا فرمان، خد اکے فرمان کے مخالف نھیں هو سکتا، لہٰذا اس کی اطاعت بھی تمام قیود وشرائط سے آزاد ھے۔

اس اعتراف کے بعد کہ امامت، در حقیقت دین کے قیام اور مرکزِ ملت کی حفاظت کے لئے، رسول  (ص)کی ایسی جا نشینی کا نام ھے کہ جس کی اطاعت وپیروی پوری امت پر واجب ھے[8] اور ِٕنَّ اللّٰہَ یَاٴْمُرُ بِالْعَدْلِ وَاْلإِحْسَانِ >[9] <یَاٴْمُرُھُمْ بِالْمَعْرُوْفِ وَیَنْھٰھُمْ عَنِ الْمُنْکَرِ>[10] کے مطابق اگر ولی امر معصوم نہ هو تو اس کی اطاعت ِمطلقہ کا لازمہ یہ ھے کہ خدا ظلم ومنکر کا امر کرے اور عدل ومعروف سے نھی کرے۔

اس کے علاوہ، ولی امر کے غیر معصوم هونے کی صورت میں عین ممکن ھے کہ اس کا حکم خدا اور رسول کے فرمان  سے ٹکرائے اور اس صورت میں اطاعتِ خدا و رسول  (ص)اور اطاعت ولی امر کا حکم، اجتماع ضدین اور ایک امر ِمحال هو گا۔

لہٰذا، نتیجہ یہ هوا کہ کسی قید وشرط کے بغیر اولی الامر کی اطاعت کا حکم، اس بات کی دلیل ھے کہ ان کا حکم خدا اور رسول کے فرمان کے مخالف نھیں ھے اور خود اسی سے عصمت ولی امر بھی ثابت هو جاتی ھے۔

اور یہ کہ معصوم کا تعین عالم السر و الخفیات کے علاوہ کسی اور کے لئے ممکن نھیں ھے۔

  1152
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

      امام علی علیه السلام کی امامت اور خلافت کو کیسے ثابت ...
      مسئلہ فلسطین کے بنیادی فقہی اصول امام خامنہ ای کی نگاہ ...
      سیرت رسول اکرم (ص) میں انسانی عطوفت اور مہربانی کے ...
      ہم امریکہ کی عمر کے آخری ایام سے گذر رہے ہیں: چالمرز ...
      شفاعت کی وضاحت کیجئے؟
      دین اسلام کی خاتمیت کی حقیقت کیا ھے۔ اور جناب سروش کے ...
      کیا تقلید کے ذریعھ اسلام قبول کرنا، خداوند متعال قبول ...
      امام کے معصوم ھونے کی کیا ضرورت ھے اور امام کا معصوم ...
      کیا پیغمبر اکرم (صل الله علیه وآله وسلم) کے تمام الفاظ ...
      عورتوں کے مساجد میں نماز پڑھنے کے بارے میں اسلام کا ...

 
user comment