تجسم اعمال


شرح زیارت وارث - شب چهارم چهارشنبه (14-7-1395) - محرم 1437 - حسینیه حضرت قاسم - 6.09 MB -


اعمال کے مجسم ہونے اور اس کی حقیقت کے سلسلے میں وضاحت کریں؟

قیامت کے مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ عمل، افکار، اوصاف اور کردار کا مجسم ہونا ہے یہ بات اس وقت سمجھ میں آئے گی جب اس مقدمہ پر غور کریں گے ۔ اور وہ ہے "عوالم وجود کا تطابق "عوالم ہستی خدائے سبحان کے ذات سے ایک خاص نظام کے تحت (جو اسی کے اسماء کے مظہر ہیں) نشوونما پاتے ہیں اور اسی کے آثار و مظہر ہیں ۔
سب سے پہلا عالم "عالم تجرد و جبروت" ہے جو بلند مرتبہ اور خدائے سبحان سے قریب ہے اس عالم سے جو جتنا قریب ہوگا اتنا ہی عدم و نستی سے دور رہے گا ۔ اسی وجہ سے اس کو "عالم جبروت" کہا گیا ہے ۔ یعنی وہ عالم ہے جس میں ساری چیزوں (جو عوالم دیگر میں نہیں پائی جاتی ہیں) قرب خداوندی کی بناء پر مطلق کمال، مظہر الہی اور خداداد صلاحتیوں سے منزل کمال پر پہونچی ہوئی ہیں ۔
دوسرا عالم " عالم مثال یا ملکوت " ہے جو عالم تجرد سے نشوونما اور دوسرے مرتبہ پر ہے ۔
ہ عالم تجرد کے لحاظ سے سب سے پست، اور یہاں کی مخلوقات قدر ومنزلت کے اعتبار سے "عالم برزخ" کی طرح بعض بعض پر فوقیت رکھتی ہیں اورایک دوسرے کی وجہ سے نشوونما پاتی ہیں ۔
تیسرا عالم "عالم جسم یا عالم مادی" ہے جو کو "عالم ناسوت" اور قرآن کے رو سے "شہادت" بھی کہا گیا ہے یہ عالم برزخ کے بعد ہے اور اسی سے نشوونما پاتا ہے جو بہت پست اور خدائے سبحان سے دورہے ۔ درحقیقت عالم جسم و مادہ محدود، اور مثالی حقائق کا مظہر ہے ۔
جو اس میں جلوہ نماہوتا ہے ۔
اس ترتیب کے لحاظ سے جو چیز عالم مادہ میں پائی جاتی ہے وہی عالم مثال میں موجود ہے لیکن ان دونوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ ان کے قوانین، اور احکام جدا جدا ہیں ۔
اسی طرح جو کچھ عالم مثال میں پایا جاتا ہے بلکل وہی چیز عالم تجرد میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اس کے قوانین اسی سے مخصوص ہیں جس طرح عالم تجرد میں ساری چیزیں موجود ہیں عالم -" اسماء حسنی " میں بھی پائی جاتی ہیں لیکن اس کے قوانین اسی عالم سے مخصوص ہیں جو حقائق عالم مادہ میں پائے جاتے ہیں عالم (مثال، تجرد) اور عالم اسماء حسنی میں بھی کامل طور پر پائی جاتی ہے ۔ پس جو چیز وہاں پائی جارہی ہیں وہی چیز یہاں بھی موجود ہے ۔ عالم مثال کا مادے کی ساری کیفیتوں کو لینے کے باوجود عالم برزخ سے مشابہت رکھنا اور عالم تجرد کا ہر چیز سے بے نیاز ہو کر عالم اسماء کے قوانین سے مشابہ ہونا حقیقت پر مبنی ہے ۔ اس کی مثال پانی ہے لیکن اس دنیا کے پانی میں اور وہاں کے پانی میں آسمان زمین کا فرق ہے اور سب کے ذائقے بھی الگ الگ ہیں ۔ اس پانی کو سب لوگ نہیں پی سکتے ہیں اور نہ ہی دوسرے عالم میں جاسکتا ہے ۔ لیکن اس پانی کا اس دنیا سے اسی طرح ربط ہے جس طرح آگ کا رشتہ مٹی سے ۔ اور پانی کا آگ سے ۔
عوالم ہستی کے مطالبقت کی بنیاد پر انسان بارگاہ خداوندی میں جانے کے بعد اپنے اعمال، کردار اور عقائد کو عوالم دیگر میں شکل و صورت میں دیکھ سکتا ہے ۔ خواہ وہ اچھے اعمال، اور عقائد ہوں یا برے ۔
جب آپ نے ان مطالب کو سمجھ لیا ہے تو جو کچھ انسان اس عالم میں انجام دیتا ہے وہ عوالم دیگر میں ہے یعنی جو کچھ بیان کرتا ہے سب کچھ اس عالم میں ثبت اور لکھ دیا جاتا ہے ۔
اگر ہم نے اچھے امور اور نیک چیزوں سے ارتباط رکھا تو در حقیقت یہ ساری خصوصیتیں اور ہماری روح (عالم ہستی کی مطابقت کے قانون پر) دیگر عوالم تجرد، برزخ اور اسماء کے موافق ہے ۔ البتہ ہماری اس دنیا کی یہی خوبی ہے کہ وہ دیگر عوالم کے قوانین، دستورات اور احکام کے معیار پر ہے ۔ پس ہماری نیکی بھی بالکل وہاں کی طرح ہے چونکہ جسم و روح دونوں ایک دنیا کے ہیں تو پھر عوالم دیگر کے قوانین و دستورات کے مطابق ہوں گے ۔
مثال کے طور پر ایک شخص سخاوت کرتا ہے یہ صفت عوالم دیگر (برزخ)، تجرد، نیز اسماء میں پائی جاتی ہے ان میں کا ہر ایک کے نزدیک " سخاوت " ہے مگر یہ کہ قوانین و دستورات کے مطابق ہو یا اگر کسی شخص میں بری عادت اور برا ہے تو یہ چیز برزخ اور عوالم دیگر میں بھی پائی جاتی ہے ۔ لیکن اسی صورت میں جب کہ اس کے قوانین اور معیار پر صحیح اتررہی ہو ۔ غور طلب بات ہے کہ ہمارے اندر اچھے اور برے اعمال، کردار اور عقیدے سب پائے جارہے ہیں اور اس سے کوئی بھی مستثنی نہیں ہے یعنی اس دنیا میں برزخی، تجردی، اسمائی اوصاف، اعمال، کردار اور عقیدے پائے جاتے ہیں لیکن ہماری نظروں سے اوجھل ہیں ۔ بعبارت دیگر ۔ اس دنیا میں دنیاوی شکل میں ہمارے لئے مشہور ہے اور حجاب اٹھ جانے کے بعد ہم اس کو برزخی صورت میں دیکھ سکتے ہیں ۔
جب روح عالم برزخ میں میں جاتی ہے تو اس کا جانا ہی درحقیقت اعمال، کردار، عقائد اور رفتار سے پردہ ہٹنا ہے جو پہلی منزل اور عوالم باطن سے دوبارہ ملاقات ہے ۔
مثال کے طور پر اس دنیا میں سخاوت کے آثار ہم سے پوشیدہ ہیں لیکن جب مرنے کے بعد دوسرے عالم میں پہونچیں گے تو اس کی ساری خوبیاں نظروں کے سامنے آجائیں گی ۔
یا جو شخص براکردار والا تھا اس دنیا میں اس بری صفت سے غافل تھا اور ہر وقت اسی کی غن میں تھا اور جو خواہشات کہتی تھیں اسی کو انجام دیتا تھا اور ذرہ برابر بری عادت سے منھ نہیں موڑا اور جو دل میں آیا اس کو انجام دیا ۔ یہ بے احتیاطی اس بات کی واقعیت ہے کہ وہ حقیقت سے کوسوں دور رہا ہے ۔ لیکن اس دنیا سے بڑھ کر دیگر عوالم ہیں جو ہماری ہر چیز پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ لیکن ہم ان کو دیکھنے سے عاجز ہیں ۔
جب روح پرواز کرجائے گی تو یہی بدخلقی مختلف صورتوں میں نظر آنے لگے گی ۔ مثال کے طور پر کتا، سانپ، یا بچھو کی صورت میں دیکھے گا ۔
انسان جتنا عالم نور سے ارتباط بڑھاتا چلاجاتا ہے اتنا ہی پردے اٹھتے چلے جاتے ہیں ۔ اور اپنے اعمال، کردار، عقیدے اور رفتار کو اچھی صورتوں میں دیکھتا ہے ۔ اور خود کو منزل معراج پر پاتا ہے، ان مذکور مطالب سے دو حقیقت معلوم ہوتی ہے ۔


1. انسان کے اعمال اصلی اور حقیقی شمائل میں پائے جاتے ہیں اور یہی انسان کی روح (جو حقیقی ہے) جسم مادی سے قطع تعلق کرکے عالم برزخ میں پہونچتی ہے اور جو کچھ اس کے نظام اور قوانین ہیں روح متحمل ہوتی ہے ۔ انسان کے اعمال اسی کے قانون کے لحاظ سے مشکل و شمائل میں رونما ہوں گے ۔ یعنی ہر عمل کی برزخی صورت انسان کی روح کے مطابق اور اسی کی دیگر خصوصیات کے ساتھ ظاہر ہوگی ۔
ہر عمل نیک کی برزخی صورت اسی کے موافق اور اچھی آئے گی اسی کے برعکس جتنا برا عمل ہوگا برزخی صورت اتنی ہی بری اور انسان کے عادات کے مطابق ہوگی ۔ مثال کے طور پر اگر کوئی انسان بدخلقی کے علاوہ رذیل بھی تھا تو اس کی برزخ میں عمل کی صورت کئے کے مانند ہوگی یا کوئی انسان بدخلقی کے ساتھ شریف تھا تو اس کا برا فعل شیر کی صورت میں آئے گا ۔ شہوات نفسانی کے بھی مختلف العباد ہیں خصائل کے مختلف قسمیں ہیں ان میں کا ہر ایک عمل، کردار، رفتار اور عقیدے ( خواہ اچھے ہوں یا برے ) عالم برزخ میں مختلف صورت و شکل میں مجسم ہوگا یہ اس دنیا کے علاوہ دیگر عوالم یعنی عالم تجرد، اسماء میں بھی ہر عمل، عادت، رفتار اور عقیدے ان عوالم کے قوانین و دستورات کے مطابق مجسم ہوتے ہیں اور جتنا ان چیزوں سے دور ہوتا چلاجائے گااتنا ہی پردہ اٹھتا چلاجائے گا اور نظروں کے سامنے تصاویر آنے لگے گیں۔


2. جہاں تک انسان کے سارے اخلاقی صفات، اعمال، کردار، اور اچھی رفتار کا مسئلہ ہے تو یہ حقیقت واقعیت (جو باطن میں موجود ہے) سے قریب ہیں ۔ یعنی جس دن سے ہم نے اس دنیا میں سخاوت کرنا شروع کردیا یہ پہلے بھی اچھی اور بہشت میں جانے کے لئے ضامن ہے اسی کے مقابلہ میں جس دن سے ہم نے برائی کرنا شروع کردیا جو روح کی بیماری کا نتیجہ ہے یہ چیز ہمارے " جہنم " تک کھینچ لے جانے کے لئے کافی ہے ۔ بعبارت دیگر ۔
انسان کا ہر عمل، کردار، اور رفتار کا سرا جنت کی طرف ہے یا جہنم کی طرف ۔ کیونکہ ہر برائی کی جڑ جہنم ہے اور ہر اچھائی کی جڑ جنت ہے ۔
حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔
جب ماہ شعبان کی پہلی تاریخ آتی ہے تو خداوند عالم جنت کے دروازے کھول دیتا ہے اور شجرہ طوبی جس کی پہلی شاخین اس دنیا میں پھیلی ہوئی ہیں منادی دیتی ہیں کہ اے خدا کے بندو !ان شاخوں کو پکڑلو تا کہ جنت کے مستحق بن جاوٴ ۔ اسی طرح ایک اور ندا آتی ہے کہ درخت زقوم کی شاخوں کو نہ تھامنا (اور اس سے دور رہنا) ورنہ تمہیں جہنم میں ڈھکیل دیں گے ۔ پھر آنحضرت نے فرمایا ۔
قسم ہے اس ذات کی جس نے مجھے درجہ رسالت پر مبعوث کیا ہے ۔
در حقیقت اس روز برائی کرنا گویا درخت زقوم کی کسی ایک شاخ کو پکڑنا ہے پس وہ جہنم کی آگ میں جلے گا اور اس کو اوندھے منھ اس میں گرادیا جائے گا ۔
بخدا قسم جس نے مجھے پیغمبر بنایا ہے کہ جس شخص نے واجبی نماز میں تساہلی کی یا اس کو قضا کیا گویا اس نے درخت زقوم کی ایک شاخ کو پکڑلیا ہے ۔ جو فقیر و غریب کی بد حالی کو دیکھنے کے بعد اس کی مدد نہ کرے گویا وہ ہلاک ہوا پھر ایک ایک برے اعمال کو بیان کیا پھر آسمان کی طرف سر اٹھاتو ہنس پڑے اور جب زمین کی طرف دیکھا تو چہرہ سرخ ہوگیا اس کے بعد اصحاب سے فرمایا ۔
اس ذات کی قسم جس نے مجھ (محمد) کو نبوت و رسالت پر فائز کیا ہے ۔
جب میں نے شجرہ طوبی کی بلند ڈالیوں کو دیکھا تو ہر انسان کواپنے اپنے اعتبار سے اس کی کسی نہ کسی ڈالی کو پکڑا ہوا جو جنت کی طرف جارہے ہیں ۔
حتی زید بن حارثہ کو شجرہ طوبی کی ساری ڈالیوں کو پکڑا ہوا دیکھا جس سے ہم خوش و مسرور ہوئے لیکن جب زمین کی طرف دیکھا تو خدا کی قسم جس نے مجھے نبی بناکر بھیجا ہے ۔
درخت زقوم کو بھیلاہو دیکھا کچھ اپنی بد اعمالی کی بناء پر اس کی شاخوں کو تھامے ہوئے ہیں، جہنم میں جارہے ہیں ۔ حتی بعض منافقین کو بھی دیکھا جو درخت زقوم کی پوری شاخوں کو پکڑے ہوئے ہیں اور ان کو جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں رکھا گیا ہے جس سے بہت رنجیدہ ہو ا 1 2
منبع: مرگ تا قیامت (پرسش ہای دانشجویی)؛ مؤلف: محمد رضا کاشفی؛ مترجم: سید کرار حسین رضوی گوپالپوری

----


1. "الی ان قال : وان الله عزوجل اذا کان اول یوم من شعبان امر بابواب الجنة فتفتح، و یامر شجرة طوبی فتطلع اغصانها علی هذه الدنیا، ثم ینادی منادی ربنا عزوجل، یا عبادالله هذه اغصان شجرة طوبی فتعلقوا بها تودیکم الی الجنان و هذہ اغصان شجرة الزقوم فایاکم و ایاها لاتوٴدیکم الی الجحیم، ثم قال: فوالذی بعثنی بالحق نبیا ان من تعامل بابامن الخیر فی ھهذا الیوم فقد تعلق بغصن من اغصان شجرة طوبی فهو موٴید الی الجنان، ثم قال رسول اللہ صلی الله علیه وآله : فمن تطوع للہه بصلاة فی هذا الیوم فقد تعلق منه بغصن ومن تصدق فی هذا الیوم فقد تعلق منهبغصن ومن عفا عن مظلمة فقد تعلق منه بغصن و من تعلق یصلح بین المرء و زوجه و الوالد و ولده القریب قریبه والجار و جاره والا جنبی اجنبیه فقد تعلق منه بغصن ... وکذلک من فعل شیئا من سائر ابواب الخیر فی هذا الیوم فقد تعلق منه بغص، ثم قال رسول الله صلی الله علیه وآله : والذی بعثنی بالحق نبیا و ان من تغاطی بابامن الشر و العصیان فی هذا الیوم فقد تعلق من اغصان الزقوم فهو مودیه الی النار ثم قال رسول الله : والذی بعثنی باالحق نبیا فمن قصر فی صلاته المفروضة و ضیعها فقد تعلق بغصن منه و من جائه فی هذا الیوم فقیر ضعیف یشکواالیه سوء حاله و هو یقدر علی تغییر حاله من غیر ضرر یلحقه و لیس هناک من ینوب عنه و یقوم مقامه فترکه یضیع و یعطب ولم یاخذه بیده فقد تعلق بغصن منه ...ثم رفع رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم طرفه الی السماء ملیا وجعل یضحک و یستبشر ثم خفض طرفه الی الارض فجعل یقطب و یعبس ثم اقبل علی اصحابه ثم قال: والذی بعث محمد ا بالحق نبیا لقدرائت شجرة طوبی ترفع اغصانها و ترتفع المتعلقین بها الی الجنة، ورائت منهم من تعلق منها بغصن و منهم من تعلق بعامة اغصانها فهی ترفعه الی اعلی علائها فبذلک ضحکت و استشرت، ثم نظرت الی الارض فوالذی بعثنی بالحق نبیا لقد رائت شجرة الزقوم تنخفض اغصانها و تحفض المتعلقین بها الی جحیم، ورائت منهم من تعلق بغصن ومنهم من تعلق بغصنین او باغصان علی حسب اشتغالهم علی التباع، وانی لاری بعض المنافقین قد تعلق بعامة اغصانها فهی تخفضه الی اسفل درکاتها فلذالک عبست وقطبت"؛ (بحار الانوار ج ۸، صص۱۶۶۔ ۱۶۸)۔
2. تجسم عمل اور شفاعت ص ۴۱ ۔ ۵۸ ۔ اور معاد یا خدا کی طرف بازگشت ج ۲ ص ۳۰ ۔ ۸۲۔

کلیپ های منتخب این سخنرانی
سخنرانی های مرتبط
پربازدیدترین
تهران سخنرانی مکتوب استاد انصاریان دهۀ اوّل محرّم حسینیۀ حضرت قاسم پاییز 1395هـ.ش. سخنرانی چهارم