وجوب، امکان اور امتناع کی اصطلاحات کی ان کی اقسام کے ساتھ تعریف کیجئے اور ممکن الوجود بالذات و ممکن العدم بالذات کا ممکن بالذات سے کونسا رابطہ ہے؟


ویژگی های خودشناسان - جلسه بیست و یکم _ شب 22 رمضان - رمضان 1436 - حسینیه همدانی ها -  

وجوب، امکان، امتناع، ممتنع بالغیر، ممتنع بالقیاس الی الغیر، ممکن بالقیاس الی الغیر اور ممکن بالغیر کی اصطلاحات کی وضاحت کیجئے اور امکان کی قسموں کو بیان کیجئے اور ممکن الوجود بالذات اور ممکن العدم بالذات کا ممکن بالذات سے کیا رابطہ ہے؟
ایک مختصر
وجود کے بارے میں بحث کرنے والے فلاسفہ کہتے ہیں کہ: جس “ معنی” اور “ مفہوم” کو ہم مد نظر لےلیں اور اسے موضوع قرار دیں اور “وجود” کے محمول کے عنوان سے اس سے نسبت دیں، تو ان تین قسموں سے خارج نہیں ہے: یا اس مفہوم و معنی سے وجوب کا رابطہ، وجوب ہے، یعنی ضروری اور وجوباً وہ چیز موجود ہے، کہ اسے “ واجب الوجود” کہتے ہیں۔
اور اگر وجود کا رابطہ اس سے منفی اور امتناعی ھو، یعنی محال ھو کہ وہ چیز موجود ھو، بلکہ ضروری اور وجوباً وہ چیز نہیں ھونی چاہئیے، تو اس چیز کو “ ممتنع الوجود” کہتے ہیں، مثال کے طور پر ایک جسم جو ایک ہی وقت میں گول بھی ھو اور مکعب بھی۔ لیکن اگر وجود کا رابطہ اس معنی و مفہوم سے امکانی رابطہ ھو، یعنی وہ معنی، ذاتی ہیں کہ نہ وجود سے انکار کرتا ہے اور نہ عدم سے، تو اس چیز کو “ممکن الوجود” کہتے ہیں۔
وجوب کی ہر قسم، یعنی امکان اور امتناع کی کچھ مزید قسمیں ہیں:
ممکن الوجود بالذات: یعنی وہ ذات جو بذات خود اور ہر غیر سے قطع نظر نہ اس کے لئے وجود ضروری ہے اور نہ عدم۔ حقیقت میں ممکن بالذات وہ ہے کہ، ایک چیز وجود یا عدم کی بہ نسبت ضروری نہ ھو۔ نتیجہ کے طور پر ہر ممکن بالذات وجود سے موازنہ کرتے ھوئے ممکن ھو اور اسی حالت میں عدم سے موازنہ کرتے ھوئے بھی، امکان کی حالت رکھتی ھو۔ بہ الفاظ دیگر ہر ممکن بالذات، ممکن العدم بالذات و ممکن الوجود بالذات ہے، یعنی ممکن الوجود اور ممکن العدم ذاتی، ممکن بالذات کے لئے سکہ کے دو رخ ہیں۔ اس بنا پر، ممکن الوجود بالذات اور ممکن العدم بالذات، وہی ممکن بالذات ہے۔
 
تفصیلی جوابات
مذکورہ سوال کا جواب مندرجہ ذیل چند حصوں میں تنظیم کیا گیا ہے:
الف۔ وجوب، امکان و امتناع کے معنی:
منطق کے علماء کہتے ہیں کہ اگر ہم ایک محمول کو کسی موضوع سے نسبت دیدیں، مثلاً کہیں کہ “ الف، ب، ہے” تو ب کا الف سے رابطہ، “ وجوب، امکان اور امتناع” کی تین کیفیتوں میں سے ایک ھوگا۔
اس طرح یہ رابطہ، ضروری رابطہ ہے، یعنی، حتمی، نا قابل اجتناب اور نا قابل تخلف ہے، اور بہ الفاظ دیگر، عقل اس کے خلاف قبول کرنے سے انکار کرتی ہے،یا اس کے برعکس ہے، یعنی رابطہ، امتناعی رابطہ ہے، یعنی محال ہے کہ محمول، موضوع کا عارض بن جائے اور بہ الفاظ دیگر، عقل اسے قبول نہیں کرتی ہے، اور یا یہ رابطہ اس طرح ہے کہ مثبت بھی ھوسکتا ہے اور منفی بھی ھوسکتا ہے، یعنی قابل اثبات بھی ہے اور قابل نفی بھی ہے اور بہ الفاظ دیگر، عقل نہ اسے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے اور اس کے برخلاف کو قبول کرنے سے بھی انکار کرتی ہے۔
مثال کے طور پر اگر ہم عدد چار کا رابطہ اس کے جفت ھونا مد نظر رکھیں، تو یہ رابطہ ضروری اور حتمی ہے، عقل اس کے برعکس کو قبول نہیں کرتی ہے، عقل کہتی ہے: عدد چارجفت ہے بالضرورة و بالوجوب۔
پس جو کچھ اس رابطہ پر حاکم ہے وہ وجوب اور ضرورت ہے۔ لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ عدد پانچ جفت ہے، تو رابطہ، امتناعی رابطہ ہے، یعنی عدد پانچ جفت ھونے سے امتناع رکھتا ہے ﴿یعنی انکار کرتا ہے﴾ اور ہماری عقل بھی اس معنی کو درک کرتی ہے اور اسے قبول کرنے سے انکار کرتی ہے۔ پس عدد پانچ اور جفت کے درمیان رابطہ جفت ھونا امتناع اور استحالہ ہے۔
لیکن اگر ہم یہ کہیں آج دھوپ ہے، تو یہ رابطہ ایک امکانی رابطہ ہے، یعنی دن کی طبیعت کا نہ یہ اقتضا ہے کہ حتماً دھوپ ھو اور نہ اس کا اقتضا ہے کہ حتماً بادل ھوں۔ دن کی  طبیعت کے مطابق دونوں چیزیں ممکن ہیں۔ یہاں پر دن اور دھوپ کے درمیان رابطہ ایک امکانی رابطہ ہے۔
لہذا ہر مد نظر موضوع اور محمول کے درمیان رابطہ ان تین حالتوں سے خارج نہیں ہے، جنھیں ایک خاص ملاحظہ کے پیش نظر “ مادہ” کہتے ہیں۔ جو کچھ ہم نے یہاں پر بیان کیا وہ علم منطق کے مطابق تھا۔
وجود کے بارے میں بحث کرنے والے فلاسفہ کہتے ہیں کہ: جس “ معنی” اور “ مفہوم” کو ہم مد نظر لےلیں اور اسے موضوع قرار دیں اور “وجود” کے محمول کے عنوان سے اس سے نسبت دیدیں، تو ان تین قسموں سے خارج نہیں ہے: یا اس مفہوم و معنی سے وجوب کا رابطہ، وجوب ہے، یعنی ضروری اور وجوباً وہ چیز موجود ہے، کہ اسے “ واجب الوجود” کہتے ہیں۔
اور اگر وجود کا رابطہ اس سے منفی اور امتناعی ھو، یعنی محال ھو کہ وہ چیز موجود ھو، بلکہ ضروری اور وجوباً وہ چیز نہیں ھونی چاہئیے، تو اس چیز کو “ ممتنع الوجود” کہتے ہیں، مثال کے طور پر ایک جسم جو ایک ہی وقت میں گول بھی ھو اور مکعب بھی۔ لیکن اگر وجود کا رابطہ اس معنی و مفہوم سے امکانی رابطہ ھو، یعنی وہ معنی، ذاتی ہے کہ نہ وجود سے انکار کرتا ہے اور نہ عدم سے، تو اس چیز کو “ممکن الوجود” کہتے ہیں۔[1]
ب﴾ تین مواد﴿ امکان، امتناع اور وجوب﴾
مذکورہ تین مواد میں سے ہر ایک کی حسب ذیل قسمیں ہیں:
١۔ وجوب بالذات: یعنی وہ موجود جو کسی علت پر استناد کئے بغیر موجود ھو اور قائم بالذات ھو اور اس کا ذات پر عدم محال ھو، اس قسم کے موجود کو “ واجب الوجود” کہے ہیں۔[2]
۲۔ وجوب بالغیر: ممکن ہے ایک چیز اپنی ذات کے مطابق وجود کا امکان رکھتی ھو اور قہری طور پر عدم کا امکان بھی رکھتی ھو، لیکن غیر کے حکم سے، موجود ھو، یعنی اس وجہ سے کہ اس کی علت نے وجود پایا ہے اس کے وجود نے ضرورت پیدا کی ہے اور غیر کے حکم سے، وجود کی ضرورت رکھتی ہے،پس، چونکہ اس کی علت تامہ موجود ہے اس لئے اس نے بھی وجود کی ضرورت پیدا کی ہے۔[3]
۳۔ وجوب بالقیاس الی الغیر:  یعنی یہ شے، اس شے کے موازنہ میں اور اس کے وجود کے فرض کی بنا پر، وجود کا وجوب رکھتی ہے اور اس کا وجود ضروری ہے۔[4]
۴۔ ممکن الوجود بالذات: یعنی ایک ذات جو بذات خود اور ہر غیر سے قطع نظر، نہ اس کے لئے وجود ضروری ہے اور نہ عدم[5] ۔ حقیقت میں ممکن بالذات وہ ہے کہ، ایک چیز وجود کی بہ نسبت عدم کی ضرورت نہیں رکھتی ھو۔ نتیجہ کے طور پر ہر ممکن بالذات وجود سے موازنہ کرکے امکان رکھتی ہے اور اسی حال میں عدم سے موازنہ کرکے، امکان کی حالت رکھتی ھو ۔ بہ الفاظ دیگر، ہر ممکن بالذات، ممکن العدم بالذات و ممکن الوجود بالذات ہے، یعنی ممکن الوجود و ممکن العدم ذاتی، ممکن بالذات کے لئے سکہ کے دو رخ ہیں۔
۵۔ ممکن الوجود بالغیر: امکان کی ایک قسم “ما بالغیر” وجود نہیں رکھ سکتی ہے، یعنی معقول نہیں ہے کہ کسی چیز کے لئے غیر کے ذریعہ امکان حاصل ھو جائے، کیونکہ وہ چیز اپنی ذات کے مطابق یا ممکن ہے یا واجب یا ممتنع۔ اگر ممکن ہے، پس ذات واحد کے مطابق امکان ہے اور اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ اسے غیر کی طرف سے امکان پہنچے اور اگر واجب یا ممتنع ہے، تو لازم آتا ہے کہ واجب بالذات اور ممتنع بالذات، ایک امر خارجی کے ذریعہ ایک ایسی حالت پیدا کرے کہ اس پر عدم بھی جائز ھو اور وجود بھی۔[6]
٦۔ ممتنع الوجود بالغیر: یعنی ایک ایسی چیز جس کے لئے بالذات وجود محال نہیں ہے، بلکہ اگر کوئی وجود عطا کرنے کی علت ھو تو وہ وجود میں آئے گی، لیکن چونکہ علت موجود نہیں ہے اس لئے وہ چیز بھی قہراً و جبراً موجود نہیں ہے۔ پس اس چیز کی علت نہ ھونے کی وجہ سے ، امتناع نے وجود پایا ہے اور چونکہ یہ امتناع عدم علت کی وجہ سے ہے، اسے امتناع بالغیر کہتے ہیں۔[7]
۷۔ ممتنع الوجود بالذات: یعنی یہ کہ ایک چیز کے لئے بالذات وجود محال ھو، اجتماع نقیضین کے مانند کہ ذاتی طور پر محال ہے۔[8]
۸۔ ممکن الوجود بالقیاس الی الغیر: یعنی ہر چیز جس کا اپنے غیر۔۔ اس غیر کے وجود کے فرض پر۔۔ سے موازنہ کیا جائے، تو وہ وجود کا امکان پیدا کرتی ہے۔[9]
۹۔ ممتنع الوجود بالقیاس الی الغیر: یعنی ایک چیز، دوسری چیز کے وجود کے فرض پر، وجود کا امتناع رکھتی ہے۔[10]
ج﴾ امکان کے معانی
امکان کے لئے سات معانی کئے گئ ہیں، جو یہ ہیں:١۔ امکان خاص  ۲۔ امکان عام  ۳۔ امکان اخص  ۴۔ امکان استعدادی  ۵۔ امکان استقبالی  ٦۔ امکان وقوعی  ۷۔ امکان فقری یا وجودی۔ ذیل میں ہم ان میں سے ہر ایک کی وضاحت کرتے ہیں:
١۔ امکان خاص:
یہ ایک ایسی وصف ہے کہ نہ واجب ہے اور نہ ممتنع ہے، یعنی سلب ضرورت ہے مخالف قضیہ کی طرف سے بھی اور موافق قضیہ کی طرف سے بھی، صرف اس چیز کی ذات اور ماہیت کے ملاحظہ سے، ذات اور ماہیت پر عوارض کو مد نظر رکھے بغیر۔ مثال کے طور پر ہم کہتے ہیں:“ الانسان من حیث هی لیس بضروری الو جود و العدم” یعنی انسان اس کی ذات اور ماہیت کے مطابق نہ اس کا وجود ضروری ہے اور نہ عدم۔[11]
۲۔ امکان عام:
یہ سلب ضرورت ہے، مخالف قضیہ کی طرف سے خواہ موافق قضیہ کی طرف سے ضروری ھو یا غیر ضروری، مثال کے طور پر کہا جاتا ہے کہ : «الشئ الفلانی ممکنٌ» یعنی فلاں شے ممتنع و محال نہیں ہے۔ یہاں پر صرف مخالف کی جانب سے امکان جو “ امتناع” ہے، سلب ضرورت ھوا ہے، لیکن اس کی ضرورت یا عدم ضرورت کے بارے میں کوئی چیز نہیں کہی گئی ہے۔[12]
۳۔ امکان اخص:
کسی چیز سے ضرورت ذاتیہ، وصفیہ اور وقتیہ کے سلب ھونے کو “ امکان اخص” کہتے ہیں، مثال کے طورپر ہم کہتے ہیں: «الانسان کاتب بالامکان» اور اس قضیہ میں امکان سے مراد، امکان اخص ہے، کیونکہ انسانیت کی ماہیت اور ذات کتابت کی ضرورت کا اقتضا نہیں کرتی ہے اور اسی طرح وصف یا وقت یا وہ زمانہ جو انسان کے لئے کتابت یا لکھنے کی ضرورت کا سبب ہے، اس قضیہ میں ذکر نہیں ھوا ہے ۔ اس معنی میں قضیہ میں امکان کا متحقق ھونا، عقل کے اعتبار سے ہے، جو ایک محمول کو ایک موضوع سے موازنہ کرتی ہے۔ لیکن انسان کے لئے لکھنے کا امکان اس کی عقل کے اعتبار سے یا محمول کے موضوع سے موازنہ کے اعتبار سے علت کے وجود کی وجہ سے کتابت کی ضرورت کے ثبوت سے ہرگز منافات نہیں رکھتا ہے۔[13]
۴۔ امکان استعدادی:
یہ استعدادی کیفیت ہے، جو صور و اعراض کے لئے متعاقب اور پے در پے مادہ کی آمادگی کا سبب بن جاتی ہے اور شدت و ضعف کی قابلیت رکھتی ہے۔[14]
وضاحت یہ کہ، ہر جسم کسی دوسرے جسم میں تبدیل ھونے کا امکان رکھتا ہے،  مثال کے طور پر ایک عنصر کے دوسرے عنصر میں تبدیل ھونے کے مانند یا کسی عنصر یا عناصر کے معدنی مواد یا نباتات و حیوانات میں بالقوہ یا بالفعل تبدیل ھونے کے مانند۔ چنانچہ ہر جسم اپنی نوع کے دو یا چند جسموں میں تبدیل ھونے کا امکان رکھتا ہے، اس امکان کا وصل و فصل، ایک قسم کی کیفیت میں تبدیلی ہے کہ اسے کیفیت استعدادی یا امکان استعدادی کہا جاتا ہے، اس میں شدت، ضعف، کمال اور نقص کی قابلیت ھوتی ہے، چنانچہ جنین کے ایک ذی روح موجود میں تبدیل ھونے کی استعداد نطفہ کے استعداد سے زیادہ ہے۔[15]
اور اگر ہم اس نطفہ کو اس کی ذات کے لحاظ سے مد نظر رکھیں کہ استعداد محض ہے، اس قسم کے امکان کو“ استعداد” کہتے ہیں، لیکن اگر عقلی اعتبار سے، کہ یہ نطفہ مستقبل میں، اس میں تخلیق کی شرائط متحقق ھونے کی صورت میں انسان بن جائے گا، یعنی آنے والے ایک زمان و مکان میں مساعد شرائط کے پیش نظر انسان بننے کا امکان ہے، اسے استعدادی امکان کہا جاتا ہے۔[16]
۵۔ امکان استقبالی:
امکان استقبالی، ایک چیز سے ماہیت و ذات، وصف اور زمان کے لحاظ سے بھی اور شرط محمول کی ضرورت کے لحاظ سے بھی سلب ضرورت ہے۔ اس قسم کا امکان، مستقبل کے امور سے مخصوص ہے کہ ابھی متحقق نہیں ھوئے ہیں تاکہ محمول کی شرط کی ضرورت ان میں ثابت ھو، جیسے: «زیدٌ کاتبٌ غداً بالامکان» یعنی زید ممکن ہے کل کاتب بن جائے۔”[17]
امکان استقبالی، بہ الفاظ دیگر وہی امکان استعدادی ہے لیکن مستقبل کے حال کی وصف کے ساتھ ۔[18]
٦۔ امکان وقوعی:
امکان وقوعی، ماہیت کے لئے وصف عقلی ہے، اس زاویہ سے کہ اس کے علاوہ کہ اس کا وجود ذاتی طور پر محال نہیں ہے۔[19]
بعض فلاسفہ نے امکان وقوعی کو وہی امان استعدادی جانا ہے۔[20] لیکن بعض دوسرے فلاسفہ ان دو میں فرق کے قائل ہیں اور کہا ہے امکان استعدادی مادی امور سے متعلق ہے، جبکہ امکان وقوعی عمومیت رکھتا ہے اور غیر مادی امور میں بھی شامل ھوتا ہے۔[21]
۷۔ امکان فقری﴿ وجودی﴾:
امکان فقری وجودی، یعنی یہ کہ یہ وجود، عین وجود اور موجودیت ہے، حقیقی ہے، غیر سے متعلق اور غیر کا محتاج، بلکہ غیر سے عین تعلق و احتیاج ہے اور غیر کی بقاء پر باقی اور محفوظ ہے۔[22] مخلوقات کا امکان اسی معنی میں ہے کہ صدرالمتالھین نے پہلی بار اس سے متعلق آگاہی پیدا کی اور اسے امکان فقری کا نام رکھا ہے۔
د۔ قاعدہ امکان اشرف و اخس:
اب ہم ایک قاعدہ کے بارے میں، جو امکان سے متعلق ہے ایک مختصر وضاحت پیش کرتے ہیں، یہ قاعدہ“ قاعدہ امکان اشرف و اخس” کے نام سے مشہور ہے۔ یہ قاعدہ حکمت اشراقی سہرورد ی کا ایک اہم قاعدہ ہے کہ اس سے بہت سے مطالب من جملہ عقول و ارباب انواع ثابت ھوتے ہیں۔[23]
وضاحت: اگر دو امکان موجودات کو مد نظررکھیں کہ ایک دوسرے سے اشرف ھوں، تو اشرف موجود غیر اشرف پر مقدم ھوگا اور غیر اشرف کی بہ نسبت کوئی علت رکھنا چاہئیے۔ پس جب اشرف کا وجود ہمارے لئے ثابت نہ ھو تو ہم غیر اشرف کے وجود سے اس کے وجود کا انکشاف کرسکتے ہیں، اور اس قاعدہ سے استفادہ کرنے کی کیفیت، زیر بحث مسئلہ کے لئے اس صورت میں ہے کہ جو ہر عقلائی، اشرف دوسرے جواہر سے ہے اور اس قاعدہ کے مطابق مقدم کے رتبہ پر متحقق ھونا چاہئیے اس طرح کہ ان کے وجود کا کاشف مرتبہ مقدم ہے۔[24]
قاعدہ امکان اخس ایک ایسا قاعدہ ہے، جسے ملاصدرا نے تاسیس کیا ہے تاکہ اس سے استفادہ کرکے اس دنیا کے قاعدہ امکان اشرف اور قاعدہ اخس کو بھی ثابت کریں، یعنی اگر موجود ممکن اخس وجود پاچکا ھو، تو اس سے قبل موجود ممکن اشرفی موجود ھونا چاہئیے، جو اس کی علت ھو۔[25]
 
[1] ۔ مطهری، مرتضی، مجموعه آثار، ج 5، ص 180 و 181، انتشارات صدرا، طبع چهارم، 1380ش.
[2] ۔ طباطبایی، سید محمد حسین، اصول فلسفه و روش رئالیسم، تعلیقه، توضیح و تصحیح: مطهری، مرتضی، ج 3، ص 90، انتشارات صدرا، قم، طبع ششم، 1368ش.
[3] ۔ مجموعه آثار، ج 10، ص 100؛ و ر.ک: اصول فلسفه و روش رئالیسم، ج 3، ص 90.
[4] ۔ طباطبایی، سید محمد حسین، بدایة الحکمة، ص 45، مؤسسة النّشر الاسلامی، قم، بی تا؛ مجموعه آثار، ج 10، ص 103.
[5] ۔ دایة الحکمة، ص 45.
[6] ۔ ایضاً؛ ملاحظہ ھو : نهایة الحکمة مرحلۀ چهارم، فصل دوم؛ مجموعه آثار، ج 10، ص 102 و 103؛ اصول فلسفه و روش رئالیسم، ج 3، ص 91.
[7] ۔ اصول فلسفه و روش رئالیسم، ج 3، ص 90.
[8] ۔ ایضاً۔
[9] ۔ مجموعه آثار، ج 10، ص 103.
[10]۔اضاً۔
[11] ۔ دایة الحکمه، ص 48.
[12] ۔ایضاً۔
[13] ۔ ایضاً، ص 48 و 49.
[14] ۔ سجادى، سيد جعفر، فرهنگ معارف اسلامى، ج 1، ص 301، انتشارات دانشگاه تهران، طبع سوم، 1373ش؛ و ملاحظہ ھو: سجادى، سيد جعفر، فرهنگ اصطلاحات فلسفى ملاصدرا، ص 100 و 101، وزارت فرهنگ و ارشاد اسلامى، تهران، طبع اول، 1379ش؛ بدایة الحکمة، ص 49.
[15] ۔ مصباح یزدی، محمد تقی، آموزش فلسفه، ج 2، ص 174، سازمان تبلیغات اسلامی، تهران، طبع دوم، 1366ش.
[16] ۔ ایضاً، ص 49.
[17] ۔ ایضاً، ص 49.
[18] ۔ فرهنگ اصطلاحات فلسفى ملاصدرا، ص 101.
[19] ۔ آموزش فلسفه، ج 2، ص 195.
[20]۔ صليبا، جميل، صانعى دره بيدى، منوچهر، فرهنگ فلسفى، ص 162، انتشارات حكمت، تهران، طبع اول، 1366ش؛ جهامى، جيرار، موسوعة مصطلحات الفلسفة عند العرب، ص 114، مكتبة لبنان ناشرون، بيروت، طبع اول، 1998م.
[21] ۔ بدایة الحکمة، ص 50.
[22] ۔ اصول فلسفه و روش رئالیسم، ج 3، ص 110؛ و ملاحظہ ھو: نمایه های «تقریر برهان صدیقین»، سؤال 11908؛ «ملاک احتیاج معلول به علت هستی بخش»، سؤال 4861.
[23] ۔ شيخ اشراق، مجموعه مصنفات شیخ اشراق، به تصحيح و مقدمه: كربن، هانرى، نصر، سيد حسين، حبيبى، نجفقلى، ج 4، ص 13،  ‏مؤسسه مطالعات و تحقيقات فرهنگى، تهران، طبع دوم، 1375ش؛ و ر.ک: الشهرزورى، شمس الدين، رسائل الشجرة الالهية فى علوم الحقايق الربانية، مقدمه، تصحيح و تحقيق: حبيبى‏، نجفقلى، ص 339 – 344، مؤسسه حكمت و فلسفه ايران، تهران، طبع اول، 1383ش.
[24] ۔ آموزش فلسفه، ج 2، ص 162 و 163.
[25] ۔ایضاً، ص 166؛ فرهنگ اصطلاحات فلسفى ملاصدرا، ص 99 و 100؛ و ر.ک: صدر المتألهين، الحكمة المتعالية فى الاسفار العقلية الاربعة، ج 2، ص 58 و 59؛ ج 7، ص 109، 244- 247 و 257، دار احياء التراث، بيروت، طبع سوم، 1981م

سخنرانی های مرتبط
پربازدیدترین
سخنرانی استاد انصاریان سخنرانی مکتوب استاد انصاریان سخنرانی استاد انصاریان در حسینیه همدانی ها سخنرانی ها