ہلمند، افغان فورسز کی کارروائی، 100 سے زائد دہشتگرد ہلاک


امیرالمومنین علی (ع) - جلسه یازدهم _ 13 رمضان - رمضان 1436 - مسجد حضرت امیر -  

کی رپورٹ کے مطابق افغانستان کے جنوبی صوبے ہلمند کے ضلع موسیٰ قلعہ کو طالبان کے قبضے سے چھڑوانے کے لیے افغان سیکیورٹی فورسز کی جانب سے شروع کیے گئے آپریشن میں اب تک 100 سے زائد طالبان جنگجوؤں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
افغان نیوز ایجسنی خاما پریس کے مطابق گورنر ہلمند کے ترجمان عمر زواک کا کہنا ہے کہ ضلع موسیٰ قلعہ پر طالبان کا قبضہ چھڑوانے کے لیے فوج کے تازہ دم دستے بھیجے گئے ہیں۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ زمین پر موجود فورسز فضائی مدد کے ساتھ کامیابی سے پیش قدمی کررہی ہیں۔


دوسری جانب افغانستان کی 215ویں میوند فوجی کور کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل محمد رسول زازائی کا کہنا تھا کہ آپریشن کے دوران اب تک 110 طالبان جنگجو ہلاک اور 28 زخمی ہوچکے ہیں۔
خیال رہے کہ ہلمند کے ضلع موسیٰ قلعہ پر طالبان نے 3 روز قبل فورسز سے کئی روز کی جاری لڑائی کے بعد قبضہ کرلیا تھا۔


طالبان کے موسیٰ قلعہ پر قبضے کے حوالے سے ضلعی گورنر محمد شریف خان کا کہنا تھاکہ افغان سیکیورٹی فورسز کا اسلحہ اور خوراک ختم ہوجانے کے بعد طالبان نے گزشتہ رات ضلع پر قبضہ حاصل کرلیا تھا۔
ہلاک ہونے والوں کی تعداد بتائے بغیر ان کا کہنا تھا کہ رات گئے ہونے والے طالبان کے قبضے میں متعدد سیکیورٹی اہلکار ہلاک اور دیگر 15 زخمی بھی ہوئے.


اس سے قبل گزشتہ ہفتے شریف خان نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا تھا کہ طالبان ضلع موسیٰ قلعہ سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں اور اگر مدد نہ پہنچی تو وہ ضلع پر قبضہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔


واضح رہے کہ دسمبر 2014 میں 13 سالہ طویل جنگ کے بعد افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا شروع ہوا لیکن ابھی بھی مقامی افواج کو تربیت کی فراہمی اور مدد کے لیے 12 ہزار 500 غیر ملکی اہلکار افغانستان میں موجود ہیں۔


رواں سال افغان طالبان کے حملوں کی شدت اور تیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس سال کے ابتدائی چار ماہ میں ایک ہزار سے زائد افغان شہری ہلاک ہوچکے ہیں، جبکہ ہلاک ہونے والے اہلکاروں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔

سخنرانی های مرتبط
پربازدیدترین