قرآن میں تحریف نہیں ہوئی


امیرالمومنین علی (ع) - جلسه هشتم _ 10رمضان - رمضان 1436 - مسجد حضرت امیر -  

 

ہمارا عقیدہ ہے کہ آج جو قرآن کریم امت مسلمہ کے ہاتھوں میں  ہے یہ وہی قرآن ہے جو پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہوا تھا ،نہ اس میں سے کچھ کم ہوا ہے اور نہ ہی اس میں کچھ اضافہ کیا گیا ہے۔

پہلے دن سے ہی کاتبان وحی کے ایک بڑے گروہ کا آیتوں کے نزول کے بعد ان کو لکھنا اور مسلمانوں کا ذمہ داری کے ساتھ رات دن ان کی تکرار کرنا اور اپنی پنجگانہ نمازوں میں ان کی تلاوت کرنا،اصحاب کے ایک بڑے گروہ کا آیات قرآن کو حفظ کرنا ،یہ سب باتیں اس بات کا سبب بنیں کہ قرآن کریم میں کوئی معمولی سی بھی تحریف واقع نہ ہو سکی ، الحمد للهحافظان وقاریان قرآن کا اسلامی سماج میں ہمیشہ سے ہی ایک اہم  مقام رہا ہے اور آج بھی ہے ۔
قرآن مجید

اس کے علاوہ الله نے اس کی حفاظت کی خود ضمانت لی ہے۔ لہٰذا الله کی ضمانت کے بعد اس میں تحریف نہ ممکن ہے <انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون> یعنی ہم نے ہی اس قرآن کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کرتے ہیں۔

تمام علماء اسلام چاہے وہ سنی ہوں یا شیعہ اس بات پر متفق ہیں کہ قرآن کریم میں کوئی تحریف نہیں ہوئی ہے ۔ دونوں طرف کے صرف چند افراد ہی ایسے ہیں جنھوں نے قرآن کریم میں تحریف کے وجود کو روایتوں کے ذریعہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے ۔ لیکن دونوں گروہ کے جید علماء نے اس نظریہ کی تردید کی ہے اور تحریف سے متعلق روایات کو جعلی یا پھر تحریف معنوی سے منسوب مانا ہے۔ تحریف معنوی یعنی قرآن کریم کی آیات کی غلط تفسیر ۔

 

وہ کوتاہ فکر افراد جو قرآن کریم کی تحریف کے سلسلہ میں مصر ہیں اور شیعہ یا سنی مذہب کی طرف تحریف کی نسبت دیتے ہیں ان کا نظریہ دونوں مذہبوں کے مشہور وبزرگ علماء کے نظریوں کے خلاف ہے۔ یہ لوگ نادانی میں قرآن کریم  پر وار کرتے ہیں اور ناروا تعصب کی بنا پر اس عظیم آسمانی کتاب کے اعتبار کو ہی زیر سوال لے آتے ہیں اور اپنے اس عمل کے ذریعہ دشمن کو تقویت پہونچاتے ہیں ۔
قرآن مجید

قرآن کریم کی جمع آوری کی تاریخ کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ سے ہی مسلمانوں نے قرآن کریم کی کتابت ،حفظ ،تلاوت اور حفاظت کے فوق العادہ انتظامات کئے تھے۔ خاص طور پر پہلے دن سے ہی کاتبان وحی کا وجود ہمارے لئے اس بات کو روشن کردیتا ہے کہ قرآن کریم میں تحریف ناممکن ہے ۔

ہمارا عقید ہے کہ اس مشہور قرآن کے علاوہ کسی دوسرے قرآن کا وجود نہیں ہے ۔اس کی دلیل بہت ہی روشن ہے سب کے لئے تحقیق کا دروازہ کھلا ہوا ہے ،جس کا دل چاہے آکر تحقیق کرے آج ہمارے گھروں میں ،مسجدوں میں اور ہمارے عمومی کتاب خانوں میں قرآن کریم موجود ہے۔ یہاںتک کہ قرآن کریم کے کئی کئی سو سال پرانے خطی نسخے بھی ہمارے عجائب گھروں میں موجود ہیں جو اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ وہی قرآن ہے جو آج تمام اسلامی ممالک میں رائج ہے۔ اگر ماضی میں ان مسائل پر تحقیق ممکن نہیں تھی تو آج تو سب کے لئے تحقیق کا دروازہ کھلا ہوا ہے ایک مختصر سی تحقیق کے بعد اس ناروا نسبت کا بے اساس ہونا ظاہر ہو جائے گا۔

 

 فبشر عبادی  الذین یستمعون القول فیتبعون احسنہ>  یعنی میرے بندوں کو خوش خبری دو ، ان بندوں کو جو باتوں کو سن کر ان میں سے نیک باتوں کی پیروی کرتے ہیں ۔آج کل ہمارے حوزات علمیہ میں علوم قرآن کی وسیع پیمانہ پر تدریس ہو رہی ہے اور ان دروس میں سب سے اہم بحث عدم تحریف قرآن کریم ہے.

سخنرانی های مرتبط
پربازدیدترین
ماه مبارک رمضان استاد شیخ حسین انصاریان مسجد استاد حسین انصاریان مسجد امیر ماه رمضان ماه مهمانی خدا مسجد امیر تهران استاد انصاریان مسجد حضرت امیر