حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا کے بلند اوصاف


ویژگی های خودشناسان - جلسه دوم _ شب 3 رمضان - رمضان 1436 - حسینیه همدانی ها -  

احاديث سے معلوم ہوتا ہے کہ کريمہء اہلبيت بي بي مقام شفاعت پر فائز ہيں جيسا کہ اُن کے القاب ميں سے ايک لقب شافعہء روزِ جزا ہے اورحضرت امام جعفر صادق عليہ السلام فرماتے ہيں:

‘‘فاطمہ کبريٰ کي شفاعت سے ميرے شيعہ جنت ميں داخل ہوں گے’’-

اب بھي قم مقدسہ ميں ہر زائر کے دل کي اميد کے پس منظر ميں اُس کي زبان پر يہ جملہ وظيفہ بن کر مکرر ہوتا رہتا ہے

‘‘يا فاطمۃ اشفعي لي في الجنۃ’’

خداوندمتعال اس بي بي کي کرامت کے طفيل ہميں بھي ان کي مقبول زيارت اور شفاعت سے بہرہ مند رکھے-

حضرت معصومہ سلام اللہ عليہا نے ايسے خاندان ميں پرورش پائي جو علم و تقوا اور اخلاقي فضايل کا سرچشمہ تھا- آپ سلام اللہ عليہا کے والد ماجد حضرت موسي کاظم عليہ السلام کي شہادت کے بعد آپ عليہ السلام کے فرزند ارجمند حضرت امام علي ابن موسي الرضا عليہ السلام نے اپنے بھائيوں اور بہنوں کي سرپرستي اور تعليم و تربيت کا بيڑا اٹھايا- امام رضا عليہ السلام کي خصوصي توجہات کي وجہ سے امام ہفتم کے سارے فرزند اعلي علمي اور معنوي مراتب پر فائز ہوئے اور اپنے علم و معرفت کي وجہ سے معروف و مشہور ہوگئے-

ابن صباغ ملکي کہتے ہيں: "ابوالحسن موسي المعروف "کاظم" کے ہر فرزند کي اپني ايک خاص اور مشہور فضيلت ہے-"

اس ميں شک نہيں ہے کہ امام موسي کاظم عليہ السلام کے فرزندوں ميں حضرت رضا عليہ السلام کے بعد علمي اور اخلاقي حوالے سے حضرت سيدہ معصومہ سلام اللہ عليہا کا علمي اور اخلاقي مقام سب سے اونچا ہے- يہ والا مقام حضرت سيدہ معصومہ کے ناموں اور القاب اور ان کے بارے ميں ائمہ کي زبان مبارک سے بيان ہونے والي تعاريف و توصيفات سے آشکار ہے- اور اس حقيقت سے واضح ہوتا ہے کہ سيدہ معصومہ بھي ثاني زہرا حضرت زينب کي مانند "عالمہ غير مُعَلَّمہ" ہيں- (عالمہ ہيں مگر ان کا استاد نہيں ہے اور علم انہيں کسي نے سکھايا نہيں ہے)-

حضرت فاطمہ معصومہ سلام اللہ عليہا فضائل و مراتب و مقامات عاليہ کا مظہر ہيں- معصومين عليہم السلام کي روايات آپ سلام اللہ عليہا کے لئے نہايت اونچے مقامات و مراتب کي دليل ہيں-

روى القاضى نور اللّه عن الصادق عليه السلام قال:ان للّه حرماً و هو مكة ألا انَّ لرسول اللّه حرماً و هو المدينة ألا و ان لاميرالمۆمنين عليه السلام حرماً و هو الكوفه الا و انَّ قم الكوفة الصغيرة ألا ان للجنة ثمانيه ابواب ثلاثه منها الى قم تقبض فيها امراة من ولدى اسمها فاطمہ بنت موسى عليهاالسلام و تدخل بشفاعتها شيعتى الجنة باجمعهم-

قاضي نور الله رحمه روايت کرتے ہيں کہ امام صادق عليہ السلام نے فرمايا: "جان لو کہ خدا کے لئے ايک حرم ہے اور وہ مکہ ہے؛ اور حضرت رسول اللہ صلي اللہ عليہ و آلہ وسلم کے لئے بھي ايک حرم ہے اور وہ مدينہ ہے؛ اور حضرت امير المۆمنين عليہ السلام کے لئے بھي ايک حرم ہے اور وہ کوفہ ہے- جان لو کہ قم ہمارا چھوٹا کوفہ ہے، جان لو کہ جنت کي آٹھ دروازے ہيں جن ميں سے تين دروازے قم کي جانب کھلتے ہيں- ميرے فرزندوں ميں سے ايک خاتون – جن کا نام فاطمہ ہے – قم ميں رحلت فرمائيں گي جن کي شفاعت سے ہمارے تمام شيعہ بہشت ميں وارد ہونگے"-

سخنرانی های مرتبط
پربازدیدترین