انسانی زندگی میں انفرادی ذمہ داریاں


امیرالمومنین علی (ع) - جلسه اول - 1 رمضان - رمضان 1436 - مسجد حضرت امیر -  

اگر آپ کو یاد ہو تو ہم نے گذشتہ کئي پروگراموں ميں زندگي کے بامقصد ، اور منظم ہونے کے بارے ميں گفتگو کی ۔ ان اصولوں کی رعایت اور پابندی ،انسان کے طرز زندگي میں اہم کردار کی حامل ہوتی ہے ۔اسی بناء پر دین اسلام کی تعلیمات اور اسی طرح  پیغمبراکرم (ص) اور آپ کے اہلبیت علیھم السلام کی سیرت میں اس امر پر بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ۔  ہماری زندگي کے تمام انفرادی و اجتماعی فرائض میں ان اصولوں کی رعایت سے نظم پیدا ہوتا ہے اور وہ امور بخوبی انجام پاتےہیں ۔ اس پروگرام میں ہم انسانی طرز زندگی ميں انفرادی ذمہ داریوں اور فرائض کے بارے میں آپ سے کفتگو کریں گے۔

انفرادی ذمہ داریوں سے ہماری مراد وہ ذمہ داریاں اور فرائض ہیں کہ جن پر فرد اس بات پر توجہ کئے بغیر کہ وہ ایک خاندان یا معاشرے میں زندگی رہا ہے ، انہیں انجام دیتا ہے ۔ مثلا علم سیکھنا ، عبادت کرنا ، حفظان صحت کے اصولوں کی انفرادی طور پر رعایت اور صحیح و سالم کھانوں اور غذاؤں کا استعمال ، کھیل ، تفریح ، لباس کی نوعیت اور آراستگي ، کسی معین پیشے یا کام سے وابستگي وغیرہ وہ جملہ موارد ہیں جنہیں انسان کی انفرادی زندگی سے مربوط قرار دیا جاتا ہے ۔ اس مرحلے میں ہم اسلامی تعلیمات کی رو سے زندگی میں علم کے حصول اور غور و فکر کی اہمیت کے بارے میں روشنی ڈالیں گے ۔

آپ دن اور رات میں کس حد تک اپنا وقت غور وفکر اور مطالعے میں صرف کرتے ہیں اور اس کے لئے وقت مخصوص کرتے ہیں ؟ اور یاپھر ایک مہینے میں کتنی کتابوں کا مطالعہ کرتے ہیں اوراپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں ؟ ۔ غور وفکر انسان کا سب سے مقدس اورعظیم ترین سرمایہ ہے اور انسان کی اہم ترین خصوصیات ميں سے ہے کہ جو انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز بنا دیتی ہے ۔ انسان ایک عاقل اور فکر کرنے والی مخلوق ہے جو مختلف مسائل کے بارے میں غور و فکر کرنے کی قدرت و صلاحیت رکھتی ہے ۔ درحقیقت انسان کا ر شد و کمال اس کے فکری بلوغ اور توانائی  سے وابستہ ہے بلا شبہ غور و فکر اور علم و آگہی میں وسعت ، انسان کے طرز زندگي پر اہم اثرات مرتب کرسکتی ہے ۔ فرزند رسول خدا حضرت امام صادق علیہ السلام ارشاد فرماتےہیں نجات اور سلامتی ہمیشہ غور و فکر کرنے میں  ہے ۔

 ہر کام اور ہر فیصلہ غور و فکر کے  ساتھ ہونا چاہیئے ۔ زندگی کےامور و مسائل ميں غور وفکر کے فقدان کا ایک سبب ، شاید ہر چیز کو سطحی نظر سے دیکھنا ہے ۔ اس لحاظ سے کہ انسان ایک عجلت پسند مخلوق ہے اور جلدی اپنے مطلوب و مقصود تک رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے اس لئے یہی جلدی بازی  اس بات کا باعث بنتی ہے کہ  انسان ، اچھے اوربرے ، خوبصورتی و بد صورتی ، حق و باطل اور اصلاح اور فساد میں تمیز نہیں دے پاتا ۔ اسی سبب سے  بہت سی انفرادی ، خاندانی اور سماجی برائیوں اور مسائل کے وجود میں آنے کا سبب ، کام میں غور و فکر کے فقدان کو قرار دینا چاہیئے ۔ رسول خدا (ص) فرماتے ہیں میں تمہیں نصیحت کرتاہوں کہ جب بھی تم کوئی کام انجام دینا چاہو تو اس کے انجام کےبارے میں فکر کرو ، اگر اس میں بھلائی ہے تو اسے انجام دو اور اگر نقصان اور فساد و تباہی کا خطرہ ہے تو اسے انجام نہ دو ۔

  زندگي کے مادی و معنوی امور ميں غور و فکر اور قوت ادراک سے بے توجہی ، اس کے کمزور ہونے کا باعث بنتی ہے ۔ لیکن فکر سے صحیح استفادہ اس بات کا باعث بنتا ہے کہ عقل کی افادیت میں اضافہ ہو ۔ زندگي کو بے کار اور سستی و کاہلی میں گذارنے سے انسان کی قوت فکر و ادراک میں کمی آجاتی ہے ۔ حضرت امام صادق (ع) نے اپنے ایک صحابی کو جو ثروت مند اور بے نیاز ہونے کے سبب ، کام اورتجارت سے ہاتھ کھینچ چکاتھا اور اپنے اوقات کو بیکار گذارا کرتا تھا فرمایا کہ تجارت اور کام کو پھر سے شروع کرو اس لئے بے کار رہنے سے انسان کی عقل کم ہوتی ہے ۔ دوسری طرف اسلام میں حد سے زیادہ کام اور مشغولیت کو بھی مذموم قرار دیا گیا ہے ۔ کیوں کہ جس کام کو وہ انجام دے رہا ہے  ،اس کے بارے میں غور و فکر کرنے کا موقع ہاتھ سے نکل جاتا ہے اور اس طرح سے وہ تخیلات ، تشویش اور ذہنی الجھنوں میں گرفتار ہوجاتا ہے ۔

اپنے امور میں غور وفکر کے علاوہ علم کا حصول بھی اسلامی نقطۂ نگاہ سے ایک مقدس اور اعلی حقیقت ہے ۔ اسلام علم و فضل کا احترام کرنے کے ساتھ ہی مسلمانوں کو حصول علم کی ترغیب دلاتا ہے ۔چنانچہ غار حراء میں پیغمبراسلام (ص) پر جو ابتدائي آیات نازل ہوئیں وہ علم و فضل کےبارے میں ہیں ۔ خداو ند عالم ان آیات میں خود کو معلم انسانیت متعارف کرارہا ہے ۔ قرآن ميں معلم اور استاد ہونا اور تعلیم حاصل کرنےکا حکم دینا ، پیغمبران خدا کی ایک خصوصیت بتائی گئی ہے ۔ قرآن میں ایک اور جگہ ، غیر عالموں پر عالموں کی برتری کو بیان کیا گیا ہے اور قرآن کی آیات میں عالموں اور جاہلوں کے برابر نہ ہونے پر تاکید کی گئی ہے ۔ اسلامی تعلیمات میں غور وفکر کے بغیر ، کمال کی جانب قدم بڑھانا ممکن نہیں ہے ۔ خداو ند عالم بھی عالموں کےلئے ایک خاص درجے اور مقام و منزلت کا قائل ہے اور اس نےعلماء کو غیر علماء پر برتری اور فضیلت دی ہے ۔

 علم کی فضیلت میں بس یہی کہنا کافی ہوگا کہ اسلام نے علم کے حصول کو ہر مرد و زن پر واجب قرار دیا ہے اور زندگي کے تمام امور میں کامیابی اور آخرت میں فلاح و نجات ، مفید علم سے وابستہ ہے ۔ وہ علم جوانسان کو فائدہ نہ پہنچائے اس کی مثال اس دوا کی مانند ہے کہ جس سے فائدہ نہ پہنچے ۔ غور و فکر سے انسان میں دنیا اور آخرت کے بارے میں ایک مضبوط نظریہ پیداہوتا ہے جس سے اس میں دنیا و آخرت کی مصلحتوں کو سمجھنے کی قوت حاصل ہوتی ہے  ۔ اور پھر وہ اپنی حقیقی مصلحتوں کے مطابق عمل کرتا ہے ۔

انسان کے معنوی کمال تک رسائی ميں غور وفکر کا کردار اس حد تک ہے کہ اسلامی مآخذ میں غور فکر کو بہترین عبادت قرار دیا گیا ہے اور ایک ساعت غور وفکر کا ثواب ایک سے ستر سال تک کی عبادت کے ثواب کے برابر ہے ۔ غورو فکر سے انسان کی عقل کی قوت نشوو نما پاتی اور آخر کار اعلی مقصد تک رسائی کے حصول میں مددگار واقع ہوتی ہے ۔

جو غور وفکر نہيں کرتا وہ اپنی خلقت کے آغاز سے غافل ہوجاتا ہے اور اس صورت میں ممکن ہے کہ غیر خدا کی عبادت میں مبتلا ہوجائے ۔ اس بناءپر ایک مسلمان کو چاہئے کہ اپنے روز و شب میں سے کچھ وقت علم کےحصول اور اپنی معلومات میں اضافے سے مختص کرے ۔ پیغمبر اسلام (ص) غور و فکر اور حصول علم کی اہمیت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہيں ۔ جس دن میرے علم میں کوئی اضافہ نہ ہو اور مجھے خدا سے مزید قربت حاصل نہ ہو اس دن سورج کا طلوع ہونا میرے لئے مبارک نہیں ہے ۔

ایک روایت  میں حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام فرماتے ہيں علم حاصل کرو اس لئے کہ علم بدن کی توانائی اور قوت ہے ۔ اس جملے سے امام علیہ السلام کا مقصد یہ ہے کہ علم  انسان کو ایک بہتر زندگی گذارنے کی قوت عطا کرتا ہے ۔ بدن کی توانائی سے مراد ، علم کے سائے ميں دنیا کی نعمتوں سے صحیح استفادہ کرنا ہے ۔ قرآن کے عظیم مفسر علامہ طبا طبائی اس سلسلے میں کہتے ہیں ۔ فکر، جتنی زیادہ صحیح ہوگي زندگي میں استحکام بھی زیادہ آئیگا ۔مستحکم زندگی ، ٹھوس فکر سے وابستہ اور اس پر منحصر ہے ۔

دوسری جانب  بعض روایات میں علم کے حصول کو دین کے کمال سے تعبیر کیا گيا ہے ۔ یہاں علم سے مراد وہ علم ہے جو انسان کی سعادت و کامیابی کی جانب  ہدایت کرے ، نہ وہ علم جو انسان کو گمراہی کے گڑھے میں ڈھکیل دے ۔ ہر علم ميں ہدایت کا پہلو مضمر ہونا چاہئے ۔ اگر کوئی اپنے علم میں اضافہ کرناچاہتا ہے لیکن اگر اس علم سے اس کی ہدایت میں  اضافہ نہیں ہورہا ہے تو اس سے خداوند عالم سے دوری بڑھتی جاتی ہے ۔ مجموعی طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے علم کا استعمال ، زندگي میں  اعلی مقاصد کےحصول میں ہوناچاہئے نہ یہ کہ اس سے انسان میں انحراف پیدا ہو ۔ اس بناء پر بعض عقائد مثلا توحید ، نبوت اور قیامت کےبارے میں غور و فکر کی بہت زیادہ ضرورت ہوتی ہے ۔ جب فکری دلائل کے ذریعے عقائد کی بنیادیں مضبوط ہوں گی تو بلا شبہ انسان کے طرز زندگی پر اس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے ۔

دوسری طرف اسلام میں علم کو سیکھنے اور اسے سکھانے کی بہت زیادہ تاکید کی گئي ہے ۔ دین اسلام کی تعلیمات میں ہر قسم کی صنعت و حرفت کا سیکھنا ، کہ جس کی فرد اورمعاشرے کو ضرورت ہے اور اسی طرح ایسی ضرورت کی چیزیں بنانا کہ جن کا استعمال گناہ و معصیت اور فساد کا ذریعہ نہ بنے ، لازمی اور ضروری ہے ۔ اس بناءپر یہ امر واضح ہے کہ فرد اور معاشرے کی ترقی کے لئے ہر قسم کی علمی و تحقیقاتی کوشش کی بہت زیادہ اہمیت ہے ۔ چنانچہ اس بحث کا خلا صہ کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہےکہ غور و فکراور علم کا حاصل کرنا اسلامی طرز زندگي میں ایک اہم اصول اور ایک مسلمان کے فرا‏‏‏‏‏ئض میں سے ہے کہ وہ علم کے صحیح حصول کے ذریعے مناسب راستے کی تشخیص دے سکے اور اس کے لئے لازمی تدابیر اختیار کرے ۔

سخنرانی های مرتبط
مسجد مسجد امیر تهران مسجد حضرت امیر سخنرانی استاد انصاریان سخنرانی مکتوب استاد انصاریان سخنرانی استاد انصاریان در مسجد امیر سخنرانی ها