اردو
Wednesday 27th of October 2021
563
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

مجلس شوری کا تجزیہ

حضرت عمر نےممبران کے متعلق اپنی رائے کا بھی کھل کر اظہار فرمایا ۔حضرت عمر نے محدود شوری تشکیل دی تھی جب کہ اس حساس مسئلہ کے لئے وسیع البنیاد شوری کی ضرورت تھی ۔
1:- حضرت عمر نے شوری کو مشروط بنادیا تھا ، انہیں آزادی فکر کی اجازت نہیں دی گئی ۔
2:- شوری کے ہاتھ پاؤں اس طرح سے باندھ دئیے گئے کہ محافظ کو یہ حکم صادر کیا گیا کہ ان میں سے جو بھی اکثریتی رائے سے اختلاف کرے ،اسے بلا تامل موت کے گھاٹ اتار دیا جائے ۔
3:- اگر دونوں طرف سے ممبران کی تعداد برابر ہو تو پھر عبدالرحمن بن عوف کی پارٹی کو ترجیح دی جائے آخر عبدالرحمن ابن عوف کی رائے کو ہی آخری اور حتمی رائے قراردینے کی کیا ضرورت تھی ؟
4:-کیا عبد الرحمن بن عوف کی رائے کو اس لئے تو فیصلہ کن نہیں قرار دیا گیا کہ انہوں نے دس برس پہلے حضرت ابوبکر کے استفسار پرحضرت عمر کی حمایت کی تھی ؟
5:- کیا قرآن وسنت میں اس بات کا کوئی ثبوت ملتا ہے کہ جو عبدالرحمن بن عوف کی رائے کی مخالفت کرے وہ واجب القتل ہے ؟
6:- ایک مومن کے قتل کی سزا تو اللہ تعالی نے یہ بیان کی ہے "ومن یقتل مومنا متعمدا فجزاؤہ جھنم خالدا فیھا وغضب اللہ علیہ ولعنہ واعدلہ عذابا عظیما " جو کوئی جان بوجھ کر مومن قتل کرے ان کی جزا جہنم ہے وہ اس
میں ہمیشہ رہے گا اور اللہ اس پر ناراض ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس کے لئے بہت بڑا عذاب تیار کیا ہے "۔
جب کہ ایک عام مومن کے قتل کی یہ سزا یہے تو اصحاب رسول اور وہ بھی حضرت کے بقول جن سے رسول خدا راضی ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ، ان کے قتل کی سزا کیا ہوگی ؟
7:- برادران اہل سنت اکثر فرمایا کرتے ہیں کہ رسول خدا نے فرمایا : میرے بعد صحابی ستاروں ک طرح ہیں ۔تم جس کی پیروی کروگے ہدایت پاؤگے ۔
توکیا مذکورہ حدیث حضرت عمر کے پیش نظر نہ تھی کہ ان ستاروں کا اختلاف امت اسلامیہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہے ۔ آخر انہوں نے اختلافی ستاروں کو قتل کرنے کا فرمان صادر کیوں فرمایا ؟
8:-کیا دنیا کے کسی مہذب معاشرے میں حزب اختلاف کو قتل کرنا درست سمجھا جاتا ہے ؟
9:- کیا عبدالرحمن بن عوف کی شخصیت حق وباطل کا معیار تھی کہ ان کی رائے سے اختلاف کرنے والا گردن زدنی قرار دیا جائے ؟
10 :- حضرت عمر اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس نظریہ کے قائل رہے تھے کہ خلیفہ مقرر نہ کرنا سنت رسول ہے اور حضرت ابو بکر کی سنت ہے ۔تو آخر وہ کونسی وجوہات تھیں کہ جن کی وجہ سے حضرت عمر نے رسول خدا(ص) کی سنت کو چھوڑ کر سنت ابو بکر کی پیروی کی؟
11:-قرآن مجید میں رسول خدا کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے راستے سے انحراف کرنے سے منع کیاگیا ہے ۔اس کے باوجود وہ علل واسباب کیا تھے جن کی بنا پر اتباع رسول کو چھوڑنا پڑا ۔؟
12:- خلافت کو صرف چھ افراد میں منحصر کرنے کی کیا ضرورت تھی اور ان
کے علاوہ پوری امت اسلامیہ میں کوئی جوہر قابل نہیں تھا ؟
13:- اگر جواب میں یہ کہا جائے کہ ان سے رسول خدا (ص) راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے تھے ،تو ہمیں اس جواب کے تسلیم کرنے میں تامل ہوگا کیونکہ شوری ممبران میں سے طلحہ بن عبیداللہ کے متعلق خود حضرت عمر نے فرمایا تھا کہ :
تمہاری اس غلط گفتگو کی وجہ سے رسول خدا (ص) مرتے دم تک تجھ سے ناراض تھے ۔ جب ایسے فرد بھی شوری میں شامل تھے تو یہ کیسے تسلیم کرلیا جائے کہ ان افراد کی تعیین رضائے رسول کی وجہ سے عمل میں آئی تھی ؟
14:- اگر بالفرض یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ ان افراد سے رسول خدا (ص) راضی تھے تو کیا اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ان چھ افراد کے علاوہ حضور کریم باقی تمام صحابہ اور امت اسلامیہ سے ناراض تھے ؟
15:- اگر کہا جائے کہ ایسا نہیں ہے تو پھر ان کی وجہ کیا قرارپائے گی کہ رسول خدا تو ہزاروں افراد سے راضی ہوکر دنیا سے رخصت ہوں اور خلافت کو صرف چھ افراد میں محدود کیا جائے ؟
16:-سعید بن عمرو بن نفیل کے متعلق حضرت عمر نے خود اعتراف کیا کہ ان میں شوری کی شمولیت کی جملہ صفات موجود نہیں ہیں ۔اس کے باوجود انہیں شوری کا ممبر کیوں نہ بننے دیا گیا ؟
17:- حضرت علی کے متعلق خلیفہ ثانی نے جو تبصرہ کیا کہ ان میں مزاح زیادہ ہے ۔تو کیا حضرت عمر کے علاوہ بھی کسی نے حضر ت علی کے متعلق یہ رائے دی تھی ؟
18:- کیا حضرت علی کی زندگی کا مطالعہ صرف حضرت عمر کو ہی نصیب ہوا تھا ۔ان کے علاوہ حضرت علی کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل تھی ؟
اگر ان کی زندگی باقی لوگوں سے اوجھل نہ تھی تو باقی دنیا کو علی میں مزاح کا عیب آخر کیوں نظر نہ آیا ؟
اس کے لئے ابن عباس کا یہ قول بھی ہمیشہ مدنظر چاہئیے کہ حضرت علی (ع) اتنے بارعب تھے کہ ہم ان کے رعب ودبدبہ کی وجہ سے گفتگو کا آغاز کرنے سے گھبرایا کرتے تھے ۔
19:-شوری کے لئے جن افراد کو چنا گیا ، کیا ان سب کی اسلامی خدمات یکساں تھیں یا ان میں کچھ فرق بھی تھا؟اوراگر فرق اور یقینا تھا تو پھر حضرت عمر نے ان سب کو ایک ہی صف میں کیوں لا کھڑا کیا ؟۔
20:- کیا شوری ممبران کے ایک دوسرے سے خاندانی اور عائلی روابط تو نہ تھے ؟
21:- اگر ان کے درمیان عائلی روابط موجود تھے تو کیا وہ قرابت داری کی وجہ سے کسی کی ناجائز حمایت بھی کرسکتے تھے یا نہیں ؟
22:-کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ طلحہ کا تعلق حضرت ابو بکر کے خاندان بنی تمیم سے تھا اور اس خاندان کی علی سے تعلقات کی نوعیت پیچ پیچ تھی ؟
23:- سعد بن ابی وقاص اور عبدالرحمن بن عوف کا تعلق بنی زہرہ سے تھا اور بنی زہرہ کے یہ دونوں چشم وچراغ بنی امیہ سے قریبی رشتہ داری رکھتے تھے ۔سعد بن ابی وقاص کی ماں حمنہ بنت سفیان تھی اور وہ حضرت عثمان کی بہن تھیں اور کیا اس نازک مرحلہ پر یہ امید کی جاسکتی تھی کہ عبدالرحمن اپنی بیوی کے بھائی کو چھوڑ کر کسی اور کی حمایت کریں گے؟
24:- حضرت علی کے متعلق حضرت عمر کے ریمارکس کو اگر درست بھی تسلیم کرلیا جائے تو کیا حس مزاح کی وجہ سے کسی کو حق سے محروم ٹھہرانا درست ہے ؟
25:- مورخ طبری کی روایت آپ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ حضرت عمر نے خود کہا تھا کہ علی لوگوں کو حق پرچلانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اگر یہ بات درست تھی اور یقینا درست بھی ہے تو پھر وہ کونسے عوامل تھے جس کی بنیاد پر علی (ع) کے انتخاب کو مشکوک بنایا گیا؟ علاوہ ازیں شوری کے اجلاس میں جو "پھرتیاں " دکھائی گئیں وہ بھی قابل توجہ ہیں ۔
26:-عبد الرحمن بن عوف نے بڑی چالاکی دکھائی اور اپنے آپ کو خلافت کی امیدواری سے دستبراری کرلیا تا کہ لوگ ان کی غیر جانبداری پر کوئی تنقید نہ کرسکیں ۔
تو اس سلسلہ میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان کی دست برادری ایک اتفاقیہ امر تھی یا پہلے سے طے شدہ منصوبے کی ایک کڑی تھی ؟
27:- عبدالرحمن نے اپنی دست برداری کے بعد اپنے قریبی عزیز کو منتخب نہیں کیا تھا ؟
28:-کیا حضرت عثمان کے انتخاب میں اقرباء پروری کا جذبہ تو کار فرما نہ تھا ؟
29:- عبد الرحمن بن عوف نے خلافت کیلئے تین شرائط عائد کی تھیں (1)اللہ کی کتاب(2)سنت رسول (3)سیرت شیخین ۔ان شرائط میں کتاب اللہ اور سنت رسول (ص) کی موجودگی کے باوجود"سیرت شیخین" کا اضافہ کیوں کیا گیا ؟
30:- سیرت شیخین اگر قرآن وسنت کی تعبیر وتفسیر ہے تو شرائط میں کتاب وسنت کی شرط تو پہلے سے موجود تھی ۔ اس کے باوجود اس شرط کو الگ کیوں رکھا گیا ؟
31:- اور اگر سیرت شیخین قرآن وسنت کے علاوہ کوئی اور چیز تھی تو خلافت کے لئے اسے ایک شرط کے طور پر کیوں پیش کیا گیا ؟
32:- کتب تاریخ میں ہمیں بہت سے ایسے مواقع نظر آتے ہیں جہاں حضرت
ابو بکر کا موقف کچھ تھا اور حضرت عمر کا موقف کچھ اور تھا تو اب ان کے بعد میں آنے والا خلیفہ اگر سیرت شيخین کو قبول بھی کرلیتا تو جس مسئلہ میں خود شیخین کا باہمی اختلاف تھا۔ اس مسئلہ میں وہ کسی کی سیرت کو ترجیح دیتا اور کس کی سیرت سے انحراف کرتا؟ تاریخ وحدیث میں بہت سے ایسے مواقع ہیں جہاں حضرت عمر کا طرز عمل سیرت نبوی سے مختلف تھا

563
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

واقعہ فدک
خدا اور پیغمبر یہودیت کی نگاہ میں
امام حسين (ع) کي طرف سے آزادي کي حمايت
ابو بصير كى داستان اور شرط دوم كا خاتمہ( مطالعہ كيلئے)
امامت و سلطنت کا بنيادي فرق
امام حسين (ع) كى سوانح عمري (پہلا حصہ )
همیں معلوم هے کے پوری دنیا میں ﮐﭽﮭ ایسے افراد پائے ...
ماہ محرم الحرام کے مراقبات
حضرت شاہ عبدالعظيم عليہ السلام کي زيارت گاہ
خليفہ دوم کي سيرت(تاريخ اسلام کا تعجب خيز مسئلہ)

 
user comment