اردو
Sunday 24th of January 2021
273
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

اصحاب القريہ

اصحاب القريہ

انطاكيہ كے رسول

""انطاكيہ ""شام كے علاقہ كا ايك قديم شہر ہے بعض كے قول كے مطابق يہ شہر مسيح عليہ السلام سے تين سو سال پہلے تعمير ہوا،يہ شہر قديم زمانے ميں دولت و ثروت اور علم و تجارت كے لحاظ سے مملكت روم كے تين بڑے شہروں ميں سے ايك شمار ہوتا تھا_

 

شہر انطاكيہ ،حلب سے ايك سو كلو ميٹر سے كچھ كم اور اسكندريہ سے تقريبا ساٹھ كلو ميٹر كے فاصلے پر واقع ہے _

يہ خليفہ ثانى كے زمانہ ميں ""ابو عبيدہ جراح"" كے ہاتھوں فتح ہوااور روميوں كے ہاتھوں سے نكل گيا اس ميں رہنے والے لوگ عيسائي تھے انھوں نے جزيہ دينا قبول كر ليا اور آپنے مذہب پر باقى رہ گئے _

 

پہلى عالمى جنگ كے بعد يہ شہر"" فرانسيسيوں"" نے اسے چھوڑنے كا فيصلہ كيا تو اس بات كے پيش نظر كہ ان كے شام سے نكلنے كے بعد اس ملك ميں ہونے والے فتنہ و فساد سے عيسائيوں كو كوئي گزند نہ پہنچے، انھوں نے اسے تركى كے حوالے كرديا_

 

انطاكيہ عيسائيوں كى نگاہ ميں اسى طرح دوسرا مذہبى شہر شمار ہوتا ہے جس طرح مسلمانوں كى نظر ميں

مدينہ ہے اور ان كا پہلا شہر بيت المقدس ہے جس سے حضرت عيسى عليہ السلام نے آپنى دعوت كى ابتداء كى او راس كے بعد حضرت عيسى (ع) پر ايمان لانے والوں ميں سے ايك گروہ نے انطاكيہ كى طرف ہجرت كى اور"" پولس"" اور"" برنابا"" شہروں كى طرف گئے، انھوں نے لوگوں كو اس دين كى طرف دعوت دى ،يہاں سے دين عيسوى نے وسعت حاصل كي، اسى بناء پرقرآن ميں اس شہر كے بارے ميں خصوصيت كے ساتھ گفتگو ہوئي ہے_

 

قرآن اس واقعہ كو بيان كرتے ہوئے فرماتا ہے:

""تم ان سے بستى والوں كى مثال بيان كرو كہ جس وقت خدا كے رسول ان كى طرف آئے_""(1)

قرآن اس اجمالى بيان كے بعد ان كے قصے كى تفصيل بيان كرتے ہوئے كہتا ہے: "" وہ وقت كہ جب ہم نے دو رسولوںكو ان كى طرف بھيجا ليكن انھوں نے ہمارے رسولوں كى تكذيب كى ،لہذا ہم نے ان دو كى تقويت كے لئے تيسرا رسول بھيجا ،ان تينوں نے كہا كہ ہم تمہارى طرف خدا كى طرف سے بھيجے ہوئے ہيں""_(2)

 

اس بارے ميں كہ يہ رسول كون تھے ،مفسرين كے درميان اختلا ف ہے ،بعض نے كہا ہے كہ ان دو كے نام"" شمعون ""اور ""يوحنا""تھے اور تيسرے كا نام ""پولس ""تھا اور بعض نے ان كے دوسرے نام ذكر كئے ہيں_

 

اس بارے ميں بھى مفسرين ميں اختلاف ہے كہ وہ خدا كے پيغمبراور رسول تھے يا حضرت مسيح عليہ السلام كے بھيجے ہوئے اور ان كے نمائند ے تھے (اور اگر خدا يہ فرماتا ہے كہ ہم نے انھيں بھيجا تواس كى وجہ يہ ہے كہ مسيح عليہ السلام كے بھيجے ہوئے بھى خدا ہى كے رسول ہيں )_يہ اختلافى مسئلہ ہے اگر چہ قرآن ظاہر پہلى تفسير كے موافق ہے اگر چہ اس نتيجہ ميں كہ جو قرآن لينا چاہتا ہے كوئي فرق نہيں پڑتا _

 

اب ہميں يہ ديكھنا ہے كہ اس گمراہ قوم نے ان رسولوں كى دعوت پر كيا رد عمل ظاہر كيا ؟قرآن كہتا ہے:

انھوں نے بھى وہى بہانہ كياكہ جو بہت سے سركش كافروں نے گزشتہ خدائي پيغمبروں كے جواب ميں كيا تھا: ""انھوں نے كہا ،تم تو ہم ہى جيسے بشر ہو اور خدائے رحمن نے كوئي چيز نازل نہيں كى ہے، تمہارے پاس جھوٹ كے سوا اور كچھ نہيں ہے _""(3)

 

اگر خدا كى طرف سے كوئي بھيجا ہوا ہى آنا تھا تو كوئي مقرب فرشتہ ہونا چاہئے تھا ،نہ كہ ہم جيسا انسان اور اسى امر كو انھوں نے رسولوں كى تكذيب اور فرمان الہى كے نزول كے انكار كى دليل خيال كيا _

 

حالانكہ وہ خود بھى جانتے تھے كہ پورى تاريخ ميں سب رسول نسل ادم عليہ السلام ہى سے ہوئے ہيں ان ميں حضرت ابراہيم عليہ السلام بھى تھے كہ جن كى رسالت سب مانتے تھے ،يقينا وہ انسان ہى تھے اس سے قطع نظر كيا انسانوں كى ضروريات ،مشكلات اور تكليفيں انسان كے علاوہ كوئي اور سمجھ سكتا ہے_؟(4)

 

بہر حال يہى پيغمبر اس گمراہ قوم كى شديد اور سخت مخالفت كے باوجود مايوس نہ ہوئے اور انھوں نے كمزورى نہ دكھائي اور ان كے جواب ميں ""كہا:ہمارا پروردگار جانتا ہے كہ يقينا ہم تمہارى طرف اس كے بھيجے ہوئے ہيں _""

 

""اور ہمارے ذمہ تو واضح اور آشکار طورپر ابلاغ رسالت كے علاوہ اور كوئي چيز نہيں ہے _""(وما علينا الا البلاغ المبين)

مسلمہ طورپر انھوں نے صرف دعوى ہى نہيں كيا اور قسم پر ہى قناعت نہيں كي، بلكہ""بلاغ مبين ""ان كا ابلاغ ""بلاغ مبين ""كا مصداق نہ ہونا كيونكہ ""بلاغ مبين""تو اس طرح ہونا چاہئے كہ حقيقت سب تك پہنچ جائے اور بات يقينى اور محكم دلائل اور واضح معجزات كے سوا ممكن نہيں ہے _ بعض روآیات ميں بھى آیا ہے كہ انھوں نے حضرت مسيح عليہ السلام كى طرح بعض ناقابل علاج بيماروںكو حكم خدا سے شفا بخشي_

 
رز سرخ

 

ہم آپ كو سنگسار كر ديں گے

ليكن يہ دل كے اندھے واضح منطق اور معجزات كے سامنے نہ صرف جھكے نہيں بلكہ انھوں نے آپنى خشونت اور سختى ميں اضافہ كر ديا اور تكذيب كے مرحلے سے قدم اگے بڑھاتے ہوئے تہديد اور شدت كے مرحلے ميں داخل ہوگئے ""انھوں نے كہا:ہم تو تمہيں فال بد سمجھتے ہيں تمہارا وجود منحوس ہے اور تم ہمارے شہر كے بد بختى كا سبب ہو_""(5)

ممكن ہے كہ ان انبياء الہى كے انے كے ساتھ ہى ا س شہر كے لوگوں كى زندگى ميں ان كے گناہوں كے زير اثر يا خدائي تنبيہ كے طورپر بعض مشكلات پيش ائي ہوں ،جيسا كہ بعض مفسرين نے نقل بھى كيا ہے كہ ايك مدت تك بارش كا نزول منقطع رہا،ليكن انھوں نے نہ صرف يہ كہ كوئي عبرت حاصل نہيں كى بلكہ اس امر كو پيغمبروں كى دعوت كے ساتھ وابستہ كرديا_

 

پھر اس پر بس نہيں كى بلكہ كھلى دھمكيوں كے ساتھ آپنى قبيح نيتوں كو ظاہر كيا اور كہا:""اگر تم ان باتوں سے دستبردار نہ ہوئے تو ہم يقينى طورپر سنگسار كرديں گے اور ہمارى طرف سے تمہيں دردناك سزاملے گي""_(6) يہ وہ مقام تھا كہ خدا كے پيغمبر آپنى منہ بولتى منطق كے ساتھ ان كى فضول ہذيانى باتوں كا جواب دينے كے لئے تيار ہوگئے اور ""انھوں نے كہا : تمہارى بد بختى اور نحوست خود تمہارى ہى طرف سے ہے اور اگر تم ٹھيك طرح سے غور كرو تو اس حقيقت سے واقف ہو جاو گے ""_(7)

 

اگر بدبختى اور منحوس حوادث تمہارے معاشرے كو گھيرے ہوئے ہيں اور بركات الہيہ تمہارے درميان ميں سے اٹھ گئي ہيں تو اس كا عامل آپنے اندر آپنے پست افكار اور قبيح اعمال ميں تلاش كرو نہ كہ ہمارى دعوت ميں ،يہ تمہيں ہى ہو كہ جنھوں نے بت پرستى ،خود غرضى ،ظلم اور شہوت پر ستى سے آپنے زندگى كى فضا كو تاريك بناڈالا ہے اور خدا كى بر كات كو آپنے سے منقطع كر كے ركھ ديا ہے ""_

 

تمہارى اصلى بيمارى وہى تمہارا حد سے تجاوزہے اگر تم تو حيد كا انكار كرتے ہوئے شرك كى طرف رخ كرتے ہو تو اس كى وجہ حق سے تجاوز ہے اور اگر تمہار ا معاشرہ بُرے انجام ميں گرفتار ہوا ہے تو اس كا سبب بھى گناہ ميں زيادتى اور شہوات ميں الودگى ہے خلاصہ يہ كہ اگر خيرخواہوں كى خير خواہى كے جواب ميں تم انھيں موت كى دھمكى ديتے ہو تو يہ بھى تمہارے تجاوز كى بنآپر ہے_

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(1)سورہ ى س آيت 13

(2)سورہ ى س آيت 14

(3)سورہ ى س آيت 15

(4)يہاں پر خدا كى صفت رحمانيت كا ذكر كيوں كياگيا ہے ؟ممكن ہے كہ يہ اس لحاظ سے ہو كہ خدا ان كى بات كو نقل كرتے ہوئے خصوصيت سے اس صفت كاذكر كرتا ہے تاكہ ان كا جواب خود ان كى بات ہى سے حل ہو جائے ،كيونكہ يہ بات كيسے ممكن ہو سكتى ہے كہ وہ خدا كہ جس كى رحمت عامہ نے سارے عالم كو گھيرركھا ہے وہ انسانوں كى تربيت اور رشد و تكامل كى طر ف دعوت دينے كے لئے پيغمبر نہ بھيجے _ يہ احتمال بھى ہے كہ انھوں نے خصوصيت كے ساتھ وصف رحمن كا اس لئے ذكر كيا ہے كہ وہ يہ كہيں كہ خدا وند مہربان آپنے بندوں كا كام پيغمبروں كے بھيجنے اور مشكل ذمہ دارياں عائد كرنے سے نہيں كرتا وہ تو ازاد ركھتا ہے ،يہ كمزور اور بے بنياد منطق اس گروہ كے انكار كے ساتھ ہم اہنگ تھي_

 (5)سورہ ى س آيت 18

(6)سورہ ى س آيت 18

(7)سورہ ى س ايت

273
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

شیطان کی پہچان قرآن کی نظر میں
اسلام ميں سب سے پہلى شہادت
دین کیا هے ؟ اسکے اغراض و مقاصد کیا هیں؟ کیا انسان کی ...
حضرت لوط عليہ السلام
غزوہٴ بنی سلیم اور غزوہ غطفان
شھادت حضرت حبيب
حضرت علی کی مشکلات‘ہمارے لیے عبرتیں
ابی بن کعب کی شخصیت کیسی تھی؟
جناب ام کلثوم کی شادی عمر سے ایک افسانہ
دربارِ یزید میں بنتِ زہرا کا انقلاب آفریں خطبہ

 
user comment