اردو
Friday 12th of August 2022
0
نفر 0

شیعہ سنی مقدسات کی توہین کرنے والا اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار

مکتب تشیع کے جملہ زعماء اور مجتہدین جامع الشرائط (دامت برکاتہم) کا اس بات پر اجماع ہے کہ اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے اور ظاہر ہے کہ جو کوئی بھی شیعہ کے نام پر اہلسن
شیعہ سنی مقدسات کی توہین کرنے والا اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار

  مکتب تشیع کے جملہ زعماء اور مجتہدین جامع الشرائط (دامت برکاتہم) کا اس بات پر اجماع ہے کہ اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرنا حرام ہے اور ظاہر ہے کہ جو کوئی بھی شیعہ کے نام پر اہلسنت کے مقدسات کی توہین کرتا ہے  یا سنی ہو کر شیعہ مقدسات کی توہین کرتا ہے وہ اسلام دشمن طاقتوں کا آلہ کار ہے ۔

اس حوالے سے عصر حاضر کے مراجع عظام سے پوچھے گئے سوال کہ کیا اہلسنت کے مقدسات کی توہین (جیسے خلفائے ثلاثہ اور اہلسنت کے بعض من پسند صحابہ کے نام غیر شائستہ کلام ) کرنا جائز ہے؟۔ عالم تشیع کے دینی مراکز (ایران اور عراق)  کے زعماء دین و مراجع عظام تقلید کے فتاویٰ شرح ذیل  ہیں:

ولی امر مسلمین حضرت آیت اللہ  العظمی امام خامنہ ای: برادران اہل سنت کے مظاہر کی اہانت حرام ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی سید سیستانی: اہل سنت کے مقدسات کو گالی دینا ان تعلیمات کے خلاف ہے جو اہل بیت علیھم السلام نے اپنے شیعوں اور شاگردوں کو دی ہیں ۔

حضرت آیت اللہ العظمی ناصر مکارم شیرازی: دوسروں کے مقدسات کی کسی بھی طرح کی توہین کرنا شرعا جائز نہیں ہے۔

حضرت آیت اللہ العظمی وحید خراسانی: دوسرے مسالک کے ماننے والوں کے ساتھ دشمنی نہیں کرنا چاہیے ،ان کے مقدسات کی توہین نہیں کرنا چاہیے،ان کے بزرگوں پر لعنت بھیجنا  اور ان کو گالی دینا جائز نہیں ہے ،اس لیے کہ یہ چیز ان کو اہل بیت اور ان کے معارف سے دور کیے جانے کا سبب بنے گی ۔

حضرت آیت اللہ العظمی جوادی آملی: صحابہ کو گالی دینا ،شیعوں یا سنیوں کے مقدسات کی توہین کرنا ،دونوں گروہوں کے اعتقادات کی ظالمانہ توہین اور تحقیر کر نا ،حرام ہے اور اختلاف پیدا کرنا اور تفرقے اور جدائی کی آگ روشن کرنا اور امت اسلامی کے اتحاد کو پارہ کرنا گناہ عظیم ہے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی نوری ہمدانی: جائز نہیں ہے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی موسوی اردبیلی: مومنین کو چاہیے کہ موجودہ حالات میں کہ جب کفر و الحاد کا مقابلہ ہے ،ایسے کام کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے کہ جن سے اختلاف میں شدت آئے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی شبیری زنجانی: مومنین کو چاہیے کہ ایسے امور کو انجام دینے سے کہ جو تفرقہ ،اختلاف اور اسلام کی تضعیف کا باعث ہوں اجتناب کریں صحیحہء ابو بصیر میں امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ ؛ان رجلا من تمیم اتی النبی ص فقال اوصنی فکان فیما اوصاہ انقال لا تسبوا الناس فتکسبوا العداوۃ لھم ،لوگوں کو گالی مت دو ورنہ تم ان کی دشمنی کسب کرو گے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی محقق کابلی: اہل سنت کے مقدسات کی توہین سے خود داری کی جائے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی علوی گرگانی: مقدسات اہل سنت کی اہانت جائز نہیں ہے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی مظاہری: مسلمانوں کے مقدسات اور اعتقادات کی توہین اور پیغمبر عظیم الشان صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ماننے والوں کی صفوں کے درمیان تفرقہ ایجاد کرنا عقلا و شرعا جائز نہیں ہے ۔

حضرت آیت اللہ  العظمی مدنی تبریزی: اسلام کسی بھی دین کے مقدسات خاص کر اسلامی مسالک کے مقدسات کی توہین کو جائز قرار نہیں دیتا ،اور ہر ایسی حرکت کہ جو امت اسلامی کے درمیان اختلاف ،خسارے ،اور مسلمانوں کے جانی و مالی نقصان کا باعث ہو وہ حرام اور خلاف شرع ہے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی ھاشمی شاہرودی: ہر عمل یا قول کہ جو شیعہ اور سنی مسلمانوں کے مابین اختلاف اور فتنے کا باعث بنے وہ جائز نہیں ہے ۔


source : abna24
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

اسلام ميں سماجی حقوق (پہلا حصہ)
تحویل قبلہ
قول و فعل میں یکسانیت اورزبان پر کنٹرول
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال
امام علی النقی علیہ السلام کی چالیس حدیثیں
جنت البقیع کے یوم انہدام پر قائد ملت جعفریہ ...
حضرت مختار کی مکہ سے روانگی ، کوفہ میں رسیدگی اور ...
دوسرا حصہ: سقيفہ كے بار ے ميں ابو مخنف كي روايت كا ...
شب قدر کی اھمیت و برکت
امامت آیہء مباہلہ کی روشنی میں

 
user comment