اردو
Sunday 20th of June 2021
534
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

مسوڑھوں اور دانتوں کی حفاظت کیجئے

صحت دیکھا گیا ہے کہ ثقیل اور بھاری چکنائی آمیز غذائیں اور میٹھی اشیائ کا کثرت سے استعمال انسانی صحت کے لئے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے، اس کے باوجود عام طور پر لوگ اس وقت محتاط رویہ اپناتے ہیں جب انہیں مختلف تکالیف اور امراض گھیر لیتے ہیں۔ ہارٹ اٹیک، ذیابیطس، معدے کے امراض، السر، دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل عام طور پر غیر متوازن
مسوڑھوں اور دانتوں کی حفاظت کیجئے

صحت


دیکھا گیا ہے کہ ثقیل اور بھاری چکنائی آمیز غذائیں اور میٹھی اشیائ کا کثرت سے استعمال انسانی صحت کے لئے ہمیشہ نقصان دہ ثابت ہوا ہے، اس کے باوجود عام طور پر لوگ اس وقت محتاط رویہ اپناتے ہیں جب انہیں مختلف تکالیف اور امراض گھیر لیتے ہیں۔ ہارٹ اٹیک، ذیابیطس، معدے کے امراض، السر، دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل عام طور پر غیر متوازن غذاوں کے استعمال کا ہی نتیجہ ہوتے ہیں لیکن اس مضمون میں ہم دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل پر روشنی ڈالیں گے۔
محکمہ صحت کاعملہ دانتوں کے امراض اور ان کے خطرناک نتائج کے بارے میں بخوبی علم رکھتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں صحت پر وہ توجہ نہیں دی جاتی جو امریکہ سمیت دیگر یورپی ممالک میں دی جاتی ہے اور نہ لوگوں کی اس ضمن میں بہتر رہنمائی کی جاتی ہے جو موجودہ جدید دور کا اہم ترین تقاضا ہے۔ انہیں ایسے طریقوں اور پرہیزی عوامل کے بارے میں نہیں بتایا جاتا جن کو اپناکر وہ (ORAL HEALTH) یعنی منہ کی صحت کو بہتر بناسکیں اور ان امراض سے خود کو محفوظ رکھ سکیں جو دانتوں اور مسوڑھوں کی خرابی کے باعث پیدا ہوتے ہیں۔ منہ کی صحت (ORAL HEALTH) ہماری عام صحت کا انتہائی اہم اور لازمی حصہ ہے۔ ایسے لوگ جو صحت مند، پرکشش، چمکتے دمکتے اور موتیوں جیسے سفید دانت اور مضبوط مسوڑھے رکھتے ہیں وہ اپنی عام زندگی میں اور دوسرں سے گفت و شنید کرتے وقت زیادہ بااعتماد اور خوش دکھائی دیتے ہیں جبکہ اس کی نسبت ایسے افراد جن کے مسوڑھے خراب اور دانت گندے، میلے، ٹیڑھے میڑھے، اوپر نیچے یا ٹوٹے اور کمزور ہوں ان میں دورانِ گفتگو وہ اعتماد اور خوشی نظر نہیں آتی۔ تاہم منہ کی بہتر دیکھ بھال اور جدید طبّی سہولتوں سے دانتوں اور مسوڑھوں کی بیماریوں اور خامیوں پر قابو پانا بہت آسان ہوگیا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس کی نوبت ہی کیوں آنے دی جائے؟
دانتوں کے ماہرین کے مطابق چند سادہ سی باتوں کا خیال رکھ کر ہم منہ کی صحت (ORAL HEALTH) کو بہتر بناسکتے ہیں۔
٭ دانتوں اور مسوڑھوں کی روزانہ دو مرتبہ اچھی طرح صفائی اپنا معمول بنالیں اور اس میں کبھی غفلت نہ کریں۔
٭ مشروبات اور دیگر ایسی اشیائ جن میں شکر کی مقدار زیادہ ہو، کم سے کم استعمال کریں۔
٭ ہر سال اپنے دانتوں کا کسی ماہر ڈینٹسٹ سے معائنہ کروائیں۔
٭ دانت میں کوئی تکلیف محسوس ہو یا مسوڑھوں سے خون آنے لگے تو ڈینٹسٹ کے پا س جانے میں ایک منٹ کی تاخیر بھی نہ کریں۔
یاد رکھئے! منہ کی بہتر صحت حفظانِ صحت کے اصولوں میں بنیادی حیثیت کی حامل ہے۔ دانتوں اور مسوڑھوں کے امراض اسی وقت پیدا ہوں گے جب ان کی جانب سے غفلت برتی جائے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دانتوں کی حفاظت کا آغاز دودھ کے دانتوں سے ہی کردینا چاہیے۔ کیونکہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ بچپن میں برتی ہوئی غفلت آگے چل کر پیچیدہ نوعیت کے مسائل کا سبب بنتی ہے۔ لہٰذا دودھ کے دانتوں کو یہ کہہ کر نظرانداز کرنا کہ نئے دانت آجائیں گے، قطعی درست سوچ نہیں۔
بچوں کو بھی دن میں بڑوں کی طرح دو مرتبہ برش کرانا ضروری ہے۔ لیکن اس کے لئے اس بات کا خیال رکھناچاہیے کہ جو برش استعمال کیا جائے وہ نرم ہو اور اس سے بچوں کے مسوڑھوں یا دانتوں کو نقصان پہنچنے کا احتمال نہ ہو۔
شروع سے ہی بچوں کی خوراک کے معاملے میں محتاط رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ انہیں تسلسل کے ساتھ مشروبات اور دیگر شکر کی زائد مقدار رکھنے والی غذاوں کا عادی نہ ہونے دیں۔ انہیں ٹافیاں، چاکلیٹ اور بسکٹ کی لت نہ پڑنے دیں۔ کھانے کی میز پر ایسی اشیائ رکھنے سے گریز کریں جو بچوں کے دانتوں کے لئے نقصان دہ ہوں۔ اس کے علاوہ پھلوں کے جوس کو مزید میٹھا بنانے کے لئے اس میں شکر مت ڈالیں اور کوشش کریں کہ انہیں بوتل میں جوس نہ پلایا جائے۔ خاص طور پر ان بچوں کو جو بوتل کو پکڑنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہوں اور طویل عرصے تک بوتل کو ساتھ چمٹائے رکھتے ہوں۔ بچوں کا مسلسل فیڈر استعمال کرنا ان کے دانتوں اور مسوڑھوں کو نقصان پہنچاسکتا ہے۔

دانتوں کے امراض وجوہات
دانتوں کے امراض کا سبب منہ میں موجود ایسے بیکٹریا ہوتے ہیں جو دانتوں میں بچ جانے والی خوراک کے ذرات سے ایسڈز (تیزاب) پیدا کرتے ہیں۔ خاص طور پر منہ میں موجود شکر کے ذرات سے ان کی پیدائش بہت زیادہ ہوتی ہے۔ یہ ایسڈ براہِ راست دانتوں پر حملہ کرتے ہیں۔ جس سے دانتوں کی وہ مخصوص دھات جس سے دانت بنتے ہیں، کمزور پڑنے لگتی ہے۔ اس عمل کو (DEMINERALISATION) کہتے ہیں۔ اس صورتحال میں منہ میں موجود لعاب اور فلورائیڈ ایسڈز جو دانتوں کی حفاظت کا کام کرتے ہیں الٹے دانتوں کے دشمن بن جاتے ہیں اور یوں دانتوں کی تباہی کا آغاز ہوجاتا ہے۔
دنیا کے ماہرینِ دندان اس بات پر متفق ہیں کہ فلورائیڈ ٹوتھ پیسٹ کے استعمال سے 15 سے 30 فیصد تک دانتوں کے امراض میں کمی آتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ یہ تناسب اس سے بھی زیادہ ہو۔ بالغوں میں 95 فیصد افراد ایسے ہیں جو مسوڑھوں کی خرابی کے شکار ہیں لیکن صرف 10 فیصد ایسے ہیں جنہیں سنجیدہ نوعیت کے امراض کا سامنا ہے۔ مسوڑھوں کی خرابی یا بیماری کے دوران مسوڑھے سوج جاتے ہیں اور دانتوں کو برش کرتے وقت ان سے خون آتا ہے۔ اس مرض کو طبّی زبان میں (GAINGIVTIS) کہا جاتا ہے۔ اس بیماری کی ایڈوانس شکل یہ ہے کہ یہ دانتوں کی ہڈی ریشے اور جڑوں پر حملہ کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق لعاب یا تھوک منہ میں موجود قدرتی دفاعی نظام ہے جو دانتوں کو مختلف امراض سے روکتا ہے۔ یہ دانتوں پر (PALQUE) جمنے نہیں دیتا بلکہ دانتوں کے لئے غسل کا کام دیتا ہے اور غذا کوہضم کرنے میں بھی نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اور مزید یہ کہ منہ میں بچ جانے والی شکر کی صفائی بھی کرتا ہے۔ پھل، سبزیاں، پنیر اور شکر سے پاک چیونگم کے استعمال سے لعاب کے فائدہ مند اثرات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

مسوڑھوں کی سوزش کیا ہے
مسوڑھوں کی خرابی یا سوزش جیسے مرض کی علامات بہت چھپی ہوئی ہوتی ہیں۔ اسی لئے اس کا اندازہ لگانا عام طور پر مشکل ہوتا ہے۔ کیونکہ ابتدائ میں مسوڑھوں کی ظاہری حالت میں کوئی فرق نہیں آتا لیکن اس دوران بیکٹریا مسوڑھوں کی اندرونی بافتوں یا ٹشوز کو تباہ کرنا شروع کرچکا ہوتا ہے مگر یہ نظر نہیں آتا چنانچہ کیسے اندازہ لگایا جائے کہ آپ اس کا شکار ہوچکے ہیں۔ آئیے ہم آپ کی اس ضمن میں ممکنہ حد تک رہنمائی کرتے ہیں۔
اگر آپ کے مسوڑھے مرض میں مبتلا ہوچکے ہیں تو برش یا فلاز (FLOSS) کرتے وقت ہوشیار رہیں۔ آپ کے مسوڑھوں کے نیچے کوئی مرض پروان چڑھ رہا ہے جو آہستہ آہستہ تمام مسوڑھوں کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے۔ چنانچہ اس سے پہلے کہ ایسی نوبت آئے آپ ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
مسوڑھوں کے مرض کی دوسری قسم زیادہ نمایاں ہے۔ بیکٹریا مسوڑھوں کے ریشوں کے انتہائی اندر تک چلا جاتا ہے اور جسم کے دفاعی نظام کو کمزور کر دیتا ہے۔ اس وقت تک کبھی مریض کو کوئی سخت قسم کا دردمحسوس نہیں ہوتا۔ اکثر لوگ اس صورتِ حال کا شکار ہونے کے باوجود اندازہ نہیں کر پاتے کہ ان کے مسوڑھے تباہی کی جانب گام زن ہیں۔ اس دوران دانتوں کے درمیان ریشے سوجے ہوئے محسوس ہوتے ہیں اور مسوڑھوں کا نچلا حصہ ہلکا سیاہ پڑ جاتا ہے اور بہت ممکن ہے کہ جب برش کیا جائے تو خون پہلے کی نسبت زیادہ آنے لگے۔ یہاں تک کہ بہتر سے بہتر دانتوں کی کریم اور پیسٹ کے استعمال سے بھی خون کی زیادتی میں کوئی فرق نہیں آتا۔
بیماری کی تیسرے مرحلے پر مسوڑھوں کی سوجن اور ان کی سرخ رنگت زیادہ واضح ہوکر سامنے آجاتی ہے۔ ہر شخص آسانی سے اندازہ لگاسکتا ہے کہ وہ مسوڑھوں کی خرابی سے دوچار ہے۔ نہ صرف وہ خود بلکہ گفتگو کے دوران متعلقہ شخص کے منہ سے ناگوار بو بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ اس سطح پر اگر علاج نہ کرایا جائے تو دانتوں کے مکمل ضائع ہوجانے کا احتمال بڑھ جاتا ہے کیونکہ اس دوران بیکٹریا مکمل طور پر مسوڑھوں کے اندر اور باہر پھیل چکا ہوتا ہے اور ایسے ایسڈز انتہائی تیز رفتاری سے پیدا کر رہا ہوتا ہے جو دانتوں کو مکمل طور پر تباہ کردیں۔

مناسب احتیاط
یہ سچ ہے کہ اکثر بیکٹریا مسوڑھوں کے نیچے پرورش پاتے ہیں اور اکثر اوقات مہنگے سے مہنگے پیسٹ کی بھی پہنچ سے دور رہتے ہیں اور ان کی غذا کا بڑا ذریعہ دانتوں میں پھنسی ہوئی خوراک ہوتی ہے۔
یہ بیکٹریا ایسے مادے خارج کرتے ہیں جو مسوڑھوں کے نرم ریشوں کو تباہ کر کے رکھ دیتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مسوڑھوں کے اندرونی ریشوں کو بھی شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ مسوڑھوں کے اندرونی ریشے بھی بیرونی ریشوں کی طرح نرم ہوتے ہیں اور بیکٹریا سے خارج ہونے والے خطرناک کیمیکل سے خود کو بچانے میں ناکام رہتے ہیں۔ بیکٹریا مسوڑھوں اور دانتوں میں موجود درزوں کو جائے پناہ بناتے ہیں اور یہ ان کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ہوتی ہے۔ ان میں سے بعض بیکٹریا کی افزائش نسل اس قدر تیزی سے ہوتی ہے کہ وہ چند گھنٹوں میں لاکھوں کی تعداد تک پہنچ جاتے ہیں۔
ہارمونل تبدیل (HORMONAL CHANGE) ایسے افراد جو وبائی یا دائمی امراض کا شکار ہوں جیسے ایڈز، ذیابیطس وغیرہ ان میں بیکٹریا کے بڑھنے کی رفتار عام لوگوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے جس سے ان کے مسوڑھے جلد خراب ہوجاتے ہیں۔ چند خواتین میں حمل کے دوران یا دورانِ حیض بھی ہارمونز کی تبدیلی مسوڑھوں کی سوزش اور ان کی رنگت گہری سرخ ہوجاتی ہے۔ تاہم عام طور پر اس دوران عام احتیاط سے ہی مسئلہ حل ہوجاتا ہے لیکن بدستور غفلت سنگین مسائل سے دوچار کرسکتی ہے۔
دانتوں کے ماہرین کی رائے میں اگر دانتوں پر پلیک (PLAQUE) مسوڑھوں کی بیماری پیدا کرنے والے مکلس جرثومے اور (TARTAR) کیلشیم فاسفیٹ پر مبنی زردی مضبوطی سے جم گئی ہو اور وہ کسی پیسٹ سے دور نہ ہوتی ہو تو ڈینٹسٹ کے پاس جانا ضروری ہوجاتا ہے۔
اگر بچہ دانت کے درد کی شکایت کرتا ہے تو اسے فوراً ماہر کے پاس لے جائیں۔
جو بچہ انگوٹھا چوستا ہو اسے اس عادت سے بہرطور نجات دلائیں۔
داتوں میں اگر کوئی خلا پیدا ہوجائے تو کسی ماہر سے فوراً پُر کرائیں اور اسے بڑھنے نہ دیں۔
آرتھوڈونٹسٹ اور ڈینٹسٹ سے آپ کا رابطہ رہنا چاہیے۔ وقتاً فوقتاً دانتوں کا چیک اپ کراتے رہیں۔ ہمیں یقین ہے کہ ہماری بتائی ہوئی تجاویز پر عمل کر کے نہ صرف آپ دانتوں اور مسوڑھوں کے مسائل سے ہمیشہ دور رہ سکتے ہیں ان کے باعث لاحق ہونے والے دیگر امراض سے بھی محفوظ رہیں گے بلکہ زندگی میں زیادہ اعتماد اور باوقار دکھائی دیں گے۔


source : alhassanain
534
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

قرآن و سنت کی روشنی میں امت اسلامیہ کی بیداری
ساباط و کربلا ایک ہی مقصد کے دونام
شیعہ اثنا عشری عقائد کا مختصر تعارف
رمضان المبارک کے فضائل
غدیر کا ھدف امام کا معین کرنا-2
اقوال حضرت امام علی النقی علیہ السلام
امام جعفر صادق (ع ) کے احادیث
شیر خدا اور شیر رسول جناب حمزہ علیہ السلام
حضرت فاطمہ (س)کی شہادت افسانہ نہیں ہے
جھوٹ

 
user comment