اردو
Sunday 25th of July 2021
331
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

طلاق در اسلام

سب سے پھلے تو یہ جان لینا چاھئے کہ طلاق و جدائی ایک غیر فطری اور سنن آفرینش کے خلاف فعل ھے۔ جس معاشرے میں طلاق کی کثرت ھو جائے سمجہ لینا چاھئے کہ یہ معاشرہ فطری زندگی کے راستے سے بھٹک گیا ھے ۔ علم حقوق کے علماء نے زن و شوھر کے تعلقات کو خاص طورپر مرکز ِتوجہ قراردیتے ھوئے اظھار نظر بھی فرمایا ھے اوربھت سے سماجیات کے ما
طلاق در اسلام



سب سے پھلے تو یہ جان لینا چاھئے کہ طلاق و جدائی ایک غیر فطری اور سنن آفرینش کے خلاف فعل ھے۔ جس معاشرے میں طلاق کی کثرت ھو جائے سمجہ لینا چاھئے کہ یہ معاشرہ فطری زندگی کے راستے سے بھٹک گیا ھے ۔ علم حقوق کے علماء نے زن و شوھر کے تعلقات کو خاص طورپر مرکز ِتوجہ قراردیتے ھوئے اظھار نظر بھی فرمایا ھے اوربھت سے سماجیات کے ماھرین کی رائے ھے کہ چونکہ طلاق دینے کی وجہ سے خاندان پر بُرا اثر پڑتا ھے ، گھر کا ماحول منقلب ھو جاتا ھے اور بچے مختلف قسم کے ذھنی و روحی مفاسد میں مبتلا ھو جاتے ھیں اس لئے مجبوری کے علاوہ طلاق کو ھر صورت میں نا جائز قرار دے دینا چاھئے اور اس سلسلے میں سختی سے کام لینا چاھئے تاکہ کوئی شخص طلاق کا اقدام ھی نہ کر سکے ۔
علم الاجتماع کے ماھرین کی رائے مناسب صحیح مگر بعض موقعوں پر اخلاقی یا روحی لحاظ سے طلاق نا گزیر بن جاتی ھے۔ ایسی صورت میں طلاق نہ دینا تباھی کا پیش خیمہ بن سکتا ھے۔ ذرا سوچئے! اگر شوھر و زوجہ کے حالات میں بھتری کی کوئی صورت ممکن ھی نہ ھو تو اس وقت کیا کرنا چاھئے ؟ کیا اس وقت خانوادے کو اسی طرح جھنم میں جلنے دیا جائے یا ایسی صور ت میں اس مسئلے کا حل طلاق کی صورت میں کرنا چاھئے تاکہ وہ لوگ داخلی کش مکش اور ذھنی تکلیف سے نجات حاصل کر سکیں ؟ اب ان دونوں راستوں میں کونسا راستہ اس دوزخ سے بچانے کے لئے استعمال کرنا چاھئے ؟
اس قسم کے مواقع پر اسلام نے مخصوص شرائط کے ساتہ طلاق کو جائز قرار دیا ھے تاکہ خانوادے کو اس دوزخ سے بچایا جا سکے بر خلاف مسیحیت کے کہ اس نے ایسی صورت میں بھی طلاق کو جائز نھیں سمجھا بلکہ طلاق کو ممنوع قرار دے دیا ھے ۔ !
ایسی صورت میں طلاق دے دینا ھی بھتر ھے کیونکہ طلاق نہ دینے کی صورت میں اختلاف کم ھونے کے بجائے بڑھیں گے ازدواجی زندگی بھرحال بسرنھیں ھو سکے گی لھذا اس موقع پر حقیقت کو تسلیم کر لینا ھی چاھئے اور حلال چیزوں میں مبغوض ترین چیز کا ارتکاب کر لینا ھی بھتر و مناسب ھے اور بھت ممکن ھے کہ طلاق کے بعد مرد و عورت کے ذھن بدل جائیں اپنے کئے پر نادم ھوں اور از سر نو زندگی کی گاڑی کو کھینچنے پر متحد ھو جائیں تو ان کے لئے اسلام نے اس کی گنجائش رکھی ھے کہ عدّہ کے زمانے میں رجوع کر سکتے ھیں ۔
اسلام کی نظر میں بقائے زوجیت اور استحکام خانوادہ نھایت ضروری چیز ھے اسی لئے نظام خانوادے کو محفوظ کرنے کی خاطر بعض قسم کی آزادیوں پر پابندی لگا دی ھے اور طلاق کے مسئلہ میں عورت کے اختیار مطلق کو سلب کرکے محدود اختیار دیکر عورت کے مصالح کو محفوظ کرنا چاھاھے کیونکہ اگر مرد و عورت دونوں کو طلاق کا اختیار دے دیا جائے تو احتمال طلاق دو گنا ھو جائے گا اور ایسا رشتہ جو دونوں طرف سے ٹوٹ جانے والا ھو طرفین کے اعتماد کو متزلزل کر دے گا ۔ لھذا یہ حق کسی ایک ھی کے ھاتہ میں ھونا چاھئے اور چونکہ انتخاب شوھر میں عورت کو کلی اختیار دیا گیا ھے اس لئے طلاق میں بر بنائے انصاف مرد کو یہ اختیار ملنا چاھئے اور اسلام نے یھی کیا بھی ھے ۔
مرد اور عورت کی جسمانی ساخت ایک کو دوسرے سے جدا کرتی ھے اور دونوں کے فطری خصائص بھی الگ الگ ھیں چنانچہ مرد میں قوت فکریہ کا غلبہ ھے ۔ لیکن عورت کے اندر ” احساس و عاطفہ “ کو غلبہ حاصل ھے چنانچہ ڈاکٹر الکسس کارل کھتاھے:,,مردو عورت کے بدن اور بدن کے تمام اجزاء خصوصا اعصابی سلسلے اپنی اپنی جنس کی نشان دھی کرتے ھیںاسلئے تعلیم و تربیت کے ماھرین کو مرد و عورت کے عضوی اختلاف اور ان کے فطری وظائف کو پیش نظر رکھنا چاھئے ۔ اس اساسی نکتہ کی طرف توجہ ھمارے آئندہ تمدن کی بنیادمیں کافی اھمیت رکھتی ھے اور کسی بنیادی اور اھم نکتہ کی طرف توجہ نہ ھونے کی وجہ سے عورتوں کی ترقی کے طرفدار مرد و عورت کے لئے ایک قسم کی تعلیم کے بارے میں سوچتے ھیں اور دونوں کے مشاغل و اختیارات اور عھدے بھی ایک ھی قسم کے چاھتے ھیں ۔،،(۱)
مندرجہ بالا تحریر عورت و مرد کے حقوق وظائف و ذمہ داریوں کے اختلاف پر اچھی خاصی روشنی ڈالتی ھے اسی دقیق حساب کی بنا پر اسلام نے حکم دیا ھے کہ ” طلاق کا اختیار مرد کو ھے “ ۔( ۲)
عورت کے ظرف ا ور مزاج ( جو سراپا ھیجان و تلوّن ھے ) کو دیکھتے ھوئے یہ بات کھی جا سکتی ھے کہ ضروری اور مشترک زندگی عدم استحکام کی صورت میں عورت اس بات پر قادر نھیں ھے کہ اپنے حق سے استفادہ کر سکے بلکہ معمولی بھانہ بھی اس کی مشترک زندگی کے خاتمے اور خانوادے کے سکون کو غارت کر دینے کے لئے کافی ھے ۔
جس طرح اسلام نے تشکیل خانوادہ کے لئے ھر طرح کی سھولتوں کو مھیا کیا ھے اور اس میں پیش آنے والی مشکلات و رکاوٹوں کو ختم کیا ھے اسی طرح طلاق دینے اور خانوادہ کے سکون کو غارت کر دینے کے لئے بھی بھت زیادہ سختی برتی ھے اسلام کسی بھی قیمت پر رشتہٴ ازدواج کو توڑنے اور گھر کے سکون کو درھم و برھم کرنے پر تیار نھیں ھے۔ اسلام کا مطمح نظریہ ھے کہ تمام خانوادے امن و امان سے رھیں، دلوں کو سکون رھے ،مرد و عورت ھم آھنگی کے ساتہ زندگی بسر کریں اسی لئے ابتدائی مرحلے میں ھی اپنی ساری کوشش صرف کر دیتا ھے کہ عقد نکاح مضبوط سے مضبوط تر ھو ، ھاں اگر اصلاح سے مایوس ھو جائے تب بات اور ھے ۔ چنانچہ ایک طرف مردوں کو مخاطب کر کے قرآن کھتا ھے :,, عورتوں کے ساتہ نیک برتاوٴکرو اب اگر تم انھیں ناپسند بھی کرتے ھوتو ھوسکتاھے کہ تم کسی چیز کوناپسند کرتے ھواور خدااسی میں خیرکثیر قراردیدے ۔،،(۳)
در حقیقت نفرت و کراھت کے شعلوں کو خاموش کرنے اور ناراضگی کو دور کرنے کے لئے نیزمردوں کے وجدان کو بیدار کرنے کے لئے اسلام مردوں کو اس امر مکروہ پر صبر و شکیبائی کی تلقین کرتا ھے کہ جن عورتوں کو نا پسند کرتے ھیں ان کو چھوڑ نہ دیں ۔ کیونکہ بھت ممکن ھے کہ ان عورتوں کے وجود ھی میں خیر و برکت ھو اور لوگ اس سے غافل ھوں اور انھیں عورتوں کو نا پسند کرنے کے باوجود جدا نہ کرنے سے خیر و برکت کے دروازے کھلتے ھوں اور دوسری طرف عورتوں کو مخاطب کر کے قرآن سفارش کرتا ھے کہ ” اگر کوئی عورت شوھر سے حقوق ادا نہ کرنے یااسکی کنارہ کشی سے طلاق کا خطرہ محسوس کرے تودونوں کے لئے کوئی حرج نھیں ھے کہ کسی طرح آپس میں صلح کر لیںکہ صلح میں بھتری ھے ۔ ،،(۴)
پیشوایان اسلام نے بھی طلاق کو نھایت نا پسندیدہ فعل قرار دیا ھے اور مختلف بیانات اس کی مذمت کی ھے چنانچہ معصوم علیہ السلام کا ارشاد ھے :,, جو عورت بغیر کسی اھم ضرورت کے اپنے شوھر سے طلاق مانگے تو خدا اس کو اپنی رحمت و عنایت سے محروم کر دے گا ۔ ،،(۵)
دوسری جگہ ارشاد ھے : ,,شادی کرو مگر طلاق نہ دو کیونکہ طلاق عرش الٰھی کو ھلا دیتی ھے ۔،،(۶)
اسلام نے مردوں کو حق طلاق تو ضرور دیا ھے مگر اس اختیار سے غلط فائدہ حاصل کرنے پر پابندی لگا دی ھے اور اختیارات کو بھی مخصوص دائرے میں محدود کر دیا ھے ( مثلا ) مرد ظلم و ایذا کی نیت سے عورت کو طلاق نھیں دے سکتا ۔ اسی طرح اگر طلاق سے مفاسد و خطرات کا یقین ھو تو طلاق کی اجازت نھیں ھے ۔ اسلام نے جو شرائط و قیود طلاق کے لئے معین کر دئے ھیں وہ طلاق کی قلّت کے اھم اسباب ھیں ۔
عورت و مرد کے اختلاف کو دور کرنے کے لئے سب سے پھلا قدم گھریلو عدالت ھے اور یہ چیز اسلام کے ابتکارات میں سے ھے ۔ ابھی تک مغربی ممالک میں اس قسم کا کوئی موثر حربہ کشیدگی دور کرنے اور زن و شوھر میں اتحاد پیدا کرنے کے لئے ایجاد نھیںھوا ھے ۔ اس گھریلو عدالت کا مطلب یہ ھے کہ عورت و مرددونوں کی طرف سے ایک ایک ایسا آدمی منتخب کیا جائے جس میں حاکمیت کے سارے شرائط موجود ھوں پھر یہ دونوں مل بیٹہ کر تمام حالات پر غور و فکرکر کے ایک ایسا فیصلہ دیں جو دونوں کے لئے قابل قبول ھو ۔ چنانچہ قرآن کھتا ھے :,, اگر ان کے اختلاف سے ڈرتے ھو تو ایک شخص مرد کی طرف سے حکم بنے اور ایک عورت کا قریبی رشتے دار حکم بنے ۔ اگر یہ لوگ صلح کرنا چاھتے ھوں ۔ خدا ان کے درمیان صلح قرار دے گا وہ حکیم و دانا ھے ۔،، ( ۷)
لیکن اگر اسباب طلاق بھت گھرے ھوں اور اصلاح کی کوئی صورت ممکن نہ ھو تو پھر دونوں اپنا اپنا راستہ الگ کر لیں ۔ لیکن عمومی عدالتوں کا ان مسائل میں دخیل ھونا بھت مضر ھے کیونکہ یہ بات تجربے میں آچکی ھے کہ عمومی عدالتوں کے دخل دینے سے میاں بیوی کے حالات اور زیادہ خراب ھو جاتے ھیںکیونکہ عمومی عدالتوں کا فریضہ ھے کہ وہ خشک اور نا قابل جھکاؤ قانون کے ما تحت طرفین کی دلیلوں کو سن کر فیصلہ کریں ۔ اب جس کے دلائل مضبوط ھوں گے اس کے حق میں فیصلہ ھو جائے گا وہ لوگ آتش اختلاف کو بجھانے کی کوشش نھیں کرینگے اور نہ اختلاف کے اسباب دور کرنے کی کوشش کریں گے ۔ اس کے علاوہ ایک بڑی خرابی اور بھی ھے کہ طرفین خالص گھریلو باتوں کو اپنا دعویٰ ثابت کرنے کے لئے بیگانہ افراد کے سامنے پیش کریں گے جس سے مرد و عورت کے احساس مجروح ھوتے ھیں ان کی شخصیتیں متاثر ھو جاتی ھیں اور پھر اختلاف کم ھونے کے بجائے بڑہ جاتا ھے ۔
طلاق کے شرائط میں ایک شرط یہ بھی ھے کہ دو عادل افرادکے سامنے صیغہ طلاق جاری کیا جائے ۔اس سلسلے میںقرآن فرماتاھے: طلاق پر دو عادل مسلمانوں کو گواہ بناؤ ۔ (۸)
اب اگر دو عادل شخصیتوں کے بغیرصیغہ طلاق جاری کیا گیا تو طلاق باطل ھے ۔ طلاق میں دو عادل افرادکی شرط کا فائدہ یہ ھے کہ جب ان کے سامنے مسئلہ آئے گا تو وہ اپنی عدالت کی وجہ سے اس بات پر مجبور ھیں کہ کوشش کر کے میاں بیوی میں اختلاف کو ختم کرا دیں ۔ اور حتی الامکان طلاق نہ ھونے دیں لیکن طلاق کے بعد اگر شوھر رجوع کرنا چاھے تو پھر رجوع کے لئے کوئی شرط نھیں ھے یھاں معاملہ طلاق کے بالکل بر عکس ھے کیونکہ اسلام کا نظریہ یہ ھے کہ اتحاد و اتفاق اور رشتہٴ ازدواج کی بقاء میں کسی قسم کی تاخیر نہ ھونی چاھئے ، اختلاف و جدائی کوختم کرنے اور الفت و محبت کو بحال کرنے کے لئے اسلام نے مختلف سھولتیں مھیا کی ھیں ۔
اس کے علاوہ ھر وقت دو عادل افرادکا ملنا بھی ممکن نھیں ھے اس لئے حتی الامکان طلاق میں کمی ھو گی کیونکہ جب تک دو عادل افرادکی تحقیق نہ ھوجائے مرد چاھنے کے بعد بھی طلاق نھیں دے سکتا اسی طرح طلاق کے لئے عورت کا حیض و نفاس سے پاک ھونا بھی شرط ھے ۔ بھت سے ایسے مقامات آتے ھیں کہ مرد طلاق دینے پر آمادہ ھے لیکن عورت کی ناپاکی اس ارادے میں حائل ھو جاتی ھے اور وہ ایک مدت کے لئے ٹل جاتا ھے بھت ممکن ھے کہ اتنے دنوں میں حالات بدل جائیں اور مرد اپنے ارادے سے باز آجائے ۔
سب سے بڑی بات یہ ھے کہ جب مشترک زندگی مرد کے لئے مشکل ھو جائے اور عورت سے بیزاری کی وجہ سے مرد طلاق دینا چاھے تو طلاق کے بعد بھی رشتہٴ ازدواج منقطع نھیں ھوتا اور میاں بیوی ( شرعی طور سے ) ایک دوسرے سے جدا نھیں ھوتے بلکہ عدہ ختم ھونے سے پھلے جس وقت مرد چاھے پھر سے اس سلسلے کو دوام بخش سکتا ھے ۔
آخری اقدام جو اسلام نے بقائے عقد کی خاطر کیا ھے وہ یہ ھے کہ طلاق رجعی دینے کے بعد بھی مرد کا فریضہ ھے کہ عدت کے زمانے یعنی تین ماہ کچہ دن تک عورت کو گھر سے نکال نھیں سکتا اور خود بھی کسی بھت ضروری امر کے بغیر گھر سے باھر نھیں نکل سکتی ، چنانچہ ارشادقرآن ھے: خبردار انھیں انکے گھروںسے نہ نکالنا اور نہ وہ خود نکلیںجب تک کوئی کھلا ھوا گناہ نہ کریں ، یہ خدائی حدود ھیںاور جو خدائی حدودسے تجاوز کریگا اس نے اپنے ھی نفس پر ظلم کیا ھے تمھیں نھیں معلوم کہ شاید خدا اس کے بعد کوئی نئی بات ایجاد کردے ۔(۹)
تین مھینے اور کچہ دن کی مدت ( جس میں عورت کو اپنے شوھر کے گھر رھنا ھی چاھئے ) مرد کو طلاق دینے پر نادم و پشیمان بھی بنا سکتی ھے اور بھت ممکن ھے کہ اس مدت میں محبت و الفت پھر پیدا ھو جائے اور دوبارہ مرد ازدواجی زندگی پر آمادہ ھو جائے ۔ اسی بات کی طرف آیت قرآنی کاآخری حصہ اشارہ کرتا ھے یعنی اس حکم کا فلسفہ کہ عورت عدّہ کے زمانے میں کیوں شوھر کے گھر پر رھے، بیان کر رھی ھے اور اس میں خوبی یہ ھے کہ عدہ رجعیہ میں رجوع کرنے کے لئے کسی خصوصی اھتمام کی ضرورت نھیں ھے بلکہ مرد کے بقاء نکاح کےلئے معمولی خواھش بھی اس بات کے لئے کافی ھے ۔ رجوع میں اتنی سھولت دینااس بات کی دلیل ھے کہ اسلام خانوادے کے اتحادکو ھر قیمت پر باقی رکھنا چاھتا ھے اور طلاق و جدائی و انتشار کو سخت نا پسند کرتا ھے ۔
اسی طرح خلع ( یعنی عورت ، مرد کو نا پسند کرتی ھو اور مھر یا دوسرا مال دے کر شوھر سے جدائی حاصل کرے ) میں بھی یہ بات ملحوظ ھے کہ اگر عورت خلع لینے پر نادم و پشیمان ھو تو اپنے دئے ھوئے مال کو واپس لے کر پھر شوھر کے حق کو دوبارہ محفوظ کر دیتی ھے کہ وہ چاھے تو رجوع کر لے اور زندگی پھر پرانے ڈھرے پر چل نکلے ۔
اسلام نے نکاح کے مقدس رابطے کو بر قرار رکھنے کے لئے ایسے قوانین بنا کر نا قابل تصور حد تک رعایت دی ھے اور خانوادے کے اتحاد کو دوام بخشا ھے کیونکہ بسا اوقات ایسا ھوتا ھے کہ لوگ مختلف اسباب و عوامل کی بناء پر” مَالَہ وَ مَا عَلَیہ“ پر غور کرنے سے پھلے عجلت میں کوئی فیصلہ کر دیتے ھیں اور پھر بعد میں پچھتا تے ھیں اسی لئے طلاق کے لئے اسلام نے اتنے قیود و شرائط معین کر دئے کہ انسان جلدی سے فیصلہ نہ کر سکے اور اس کی وجہ سے حتمی طور پر طلاق کی تعداد میں کمی ھو گی ۔
ان تمام باتوں کے پیش نظر غیر متعصب و منصف مزاج آدمی یہ ماننے پر مجبور ھے کہ دنیا کے ھر نظام سے زیادہ اسلام نے حفظ نکاح میں کوشش کی ھے اور مدعیان اسلام کے لئے کوئی گنجائش نھیں چھوڑی ۔
جھاں عورتوں کے حقوق کو خطرہ لاحق ھو جائے وھاں اسلام نے عورت کی قانونی حمایت کی ھے اور ایسے مواقع کے لئے عورت کو راستے بتائے گئے ھیں تاکہ وہ ایسے حالات میں اپنے کو اس ماحول سے الگ کر سکے ۔ مثلا :
۱۔ نکاح کے وقت عورت مرد سے شرط کر سکتی ھے کہ اگر مرد نے اس کے ساتہ ناروا سلوک کیا یا نان و نفقہ میں کوتاھی برتی یا مسافرت کی یا دوسری شادی کی تو وہ خود وکیل یا وکیل در وکیل ھو کر مرد سے طلاق حاصل کر سکتی ھے ۔
۲۔ امو رجنسی کی ادائیگی میں ٹال مٹول سے کام لے تاکہ شوھر خود ھی اس کو طلاق دے دے ۔
۳۔ اگر شوھر نان و نفقہ نہ دے سکتا ھو یا جنسی امور کی انجام دھی نہ کرے یا اس کے دیگر واجب حقوق کو پورا نہ کرے تو ایسی صورت میں عورت حاکم شرع سے رجوع کر سکتی ھے ۔ اب اگر حاکم شرع کے سامنے عورت کا دعویٰ صحیح ثابت ھو جاتا ھے تو وہ شوھر کو عدالت ، اتحاد ، ادائیگی حقوق پر مجبور کرے گا اور اگر شوھر پھر بھی نھیں مانتا تو حاکم شرع اس کو طلاق پر مجبور کرے گا۔ اگر طلاق بھی نہ دے تو حاکم شرع خود طلاق جاری کر دے گا۔
۴۔ اگر شوھر عورت پر زنا کا الزام لگائے اور بچے کا انکار کر دے کہ یہ میرا نھیں ھے تو عورت کو حق ھے کہ عدالت شرعیہ کی طرف رجوع کرے اگر شوھر اپنے دعوے کو ثابت نہ کر سکے تو مخصوص شرائط کے ساتہ قاضی کے حکم سے دونوں میں جدائی ھو جائے گی ۔
۵۔ اگر میا ں بیوی دونوں ایک دوسرے سے متنفر ھوں تو یھاں بھی بھت آسانی سے جدائی ممکن ھے اس طرح کہ عورت اپنے مھر کو ختم کرے اور مرد زمانھٴ عدہ کے مصارف سے معاف کیاجائے تو ایسی صورت میں بھی عورت مھر کا مطالبہ کئے بغیر اور شوھر زمانہٴ عدہ کا خرچ دئے بغیر آپس میں طلاق حاصل کر سکتے ھیں ۔
۶۔ اگر شوھر مفقود الخبر ھو جائے اور عورت نفقہ یا دوسری باتوں کی وجہ سے سختی و پریشانی میں مبتلا ھو تو وہ حاکم شرع کی طرف رجوع کر کے طلاق حاصل کرسکتی ھے ۔
اسلام نے جس طرح مرد کے تنفر کی طرف تو جہ دی ھے عورت کے تنفر کو بھی پیش نظر رکھا ھے اسی لئے اگر عورت شوھر سے نفرت کرتی ھے اور اپنے کو کسی بھی طرح مشترک زندگی بسر کرنے پر آمادہ نھیں کر سکتی تو شوھر کو مھر بخش کر یا کچہ دے کر طلاق پر آمادہ کر سکتی ھے ۔ قرآن میں ھے ” جو مال تم نے اپنی بیویوں کو دیا ھے اس کو واپس لینا تمھارے لئے جائز نھیں ھے مگر یہ کہ حدود الٰھی کی برقرا ری سے خوف زدہ ھو ( اور نکاح کو باقی نہ رکہ سکتے ھو ) ایسی صورت میں اس مال سے کچہ لے سکتے ھو اور طلاق دے سکتے ھو ۔ (۱۰)
اس سے پتہ چلا کہ اسلام نے عورتوں کے احساسات کا بھی خاص خیال رکھا ھے اور اس کے لئے بھی تکلیف دہ زندگی سے چھٹکارا پانے کا راستہ کھول رکھا ھے جیسا کہ رسول خدا کے زمانے میں ایک واقعہ ایسا پیش آیا تھا ۔ ابن عباس کھتے ھیں کہ ایک دن ” ثابت بن قیس “ کی بیوی ” جمیلہ “ پریشاں حال پیغمبر (ص) کی خدمت میں آئی اور عرض کرنے لگی خدا کے رسول اب میں ایک منٹ بھی ” ثابت “ کے ساتہ زندگی نھیں بسر کر سکتی اور کسی قیمت پر ھم دونوں کا سر ایک تکئیے پر اکٹھا نھیں ھو سکتا اور اس میں اضافہ کرتے ھوئے کھنے لگی کہ میری جدائی و طلاق کی خواھش ” ثابت بن قیس “ کے ایمان یا اخلاق یا کیفیت معاشرت کی کمی کی بناء پر نھیں ھے لیکن مجھے ڈر ھے کہ اگر میں طلاق نہ لوں تو کھیں کفر و بے دینی کی طرف مائل نہ ھوں ۔ میری نفرت کی وجہ یہ ھے کہ میں نے اتفاقاً خیمے کا پردہ اٹھایا تو کیا دیکھتی ھوں کہ ثابت چند لوگوں کے ساتہ آرھے ھیں اور وہ سب میں سب سے زیادہ کالے ، بد صورت ، پستہ قد ھیں ۔ یہ دیکہ کر مجھے کر اھت محسوس ھونے لگی اورمیرے دل میں نفرت پیدا ھو گئی اب میںکسی قیمت پر ان کے ساتہ زندگی نھیں بسر کر سکتی ، پیغمبر (ص) نے اس کو بھت پند و نصیحت فرمائی مگر اس کا کوئی نتیجہ نہ نکلا ۔ اس وقت آپ نے ثابت کو بلا کر پورا قصہ سنایا ۔ ثابت جمیلہ کو ضرورت سے زیادہ چاھنے کے باوجود اس تکلیف دہ بات پر تیار ھو گئے اور مھر میں جو باغ جمیلہ کو دیا ھے اس کو واپس لے کر طلاق دے دی ۔ مختصر یہ کہ اس طرح جمیلہ نے اپنے شوھر ثابت بن قیس سے طلاق خلعی حاصل کر لی ۔ (۱۱)
اسلام میں بعض ایسے موارد بھی ھیں کہ جھاں پر مرد کو طلاق دینے کی ضرورت نھیں ھوتی ھے بلکہ خود عورت کو یہ حق ھوتا ھے کہ وہ عقد نکاح باطل قرار دیدے کچہ مقامات پر عدالت اسلامی کی طرف رجوع کرنے کے بعد عقد نکاح باطل کرنے کا حق حاصل ھوتا ھے اور ایسے بھی مقامات ھیں جھاں عدالت شرعیہ کی طرف مراجعہ کئے بغیر بھی طلاق ھو سکتی ھے مثلا اگر عورت یا مرد دیوانہ ھو جائیں تو دوسرے کونکاح فسخ کر دینے کا حق ھے ۔ ( جرمنی و سوئز ر لینڈ جیسے مغربی ممالک میں بھی دیوانہ ھونا عقد نکاح کے ختم کرنے کا سبب ھے لیکن بعض دوسرے یوروپی ممالک میں جیسے فرانس کے اندر شوھر یا بیوی کا پاگل ھوجانا سبب طلاق نھیں ھے بلکہ اس پر لازم ھے کہ اپنے پاگل جیون ساتھی کو قبول کرے اور اسکے ساتہ زندگی بسر کرے ۔ ظاھر ھے کہ یہ ایک جبری قسم کا حکم ھے لیکن اسلام نے ایسی صورت میں یہ حق دیا ھے کہ اگر جی چاھے تو پاگل کے ساتہ زندگی بسر کرے اور نھیں جی چاھتا تو عقد کو فسخ کر کے اپنے کو آزاد کر لے )
اسی طرح مرد کا خصی ھونا یا عنین ھونا بھی عورت کے لئے حق فسخ کو ثابت کرتا ھے ۔ اسی طرح جبر و اکراہ بھی نکاح کے فسخ ھونے کا سبب ھے ۔ دوسرے اور بھی مواقع ھیں جھاں پر بعض فقھاء نے حق فسخ کو مانا ھے ۔
مغربی معاشرے کا سب سے بڑا درد سر ارکان خانوادہ کا متزلزل ھونا ھے مغربی دنیا کی موجودہ آزادی و بے راہ روی کلیسا کی زبردستیوں کا رد عمل ھے کیونکہ عیسائی مذھب میں سرے سے طلاق کا وجود ھی نھیں ھے ۔ کلیسا کی سختیوں سے مجبور ھو کر حکومتوں نے طلاق کو قانونی حیثیت دی ۔ مثلا اکتوبر ۱۷۸۹ءء کے انقلاب سے پھلے عیسائی مذھب کی بنا ء پر فرانس میں طلاق ممنوع چیز تھی لیکن جدید مدنی حقوق کی تنظیم کے وقت ۱۸۰۴ءء میںلوگوں کے دباؤ کی وجہ سے طلاق کو قانونی حیثیت دی گئی لیکن اس پندرہ سال کے اندرجس میں طلاق کوقانونی حیثیت حاصل تھی۔ بڑی سرعت کے ساتہ طلاق کی تعداد میں کافی اضافہ ھوگیااور پھرکلیساکے دباؤمیں آکر ۱۸۱۶ء میں قانون طلاق کو ختم کر کے ” تفریق جسمانی “ نام کے قانون کو نافذ کیا گیا لیکن پھر لوگوں کا شدید دباؤ پڑنے پر حکومت نے مجبور ھو کر ۱۸۸۴ءء میں محدود طریقے پر عورت و مرد کو قانوناً حق طلاق دیا مندرجہ ذیل مقامات پر قانوناً عورت و مرد کو حق طلاق حاصل ھے ۔

۱۔ اگر مرد یا عورت کسی ایسے جرم کے مرتکب ھو جائیں جس کی بناء پر قانوناً مندرجہ ذیل کسی ایک سزا کے مستحق ھو جائیں ۔ پھانسی ، حبس دوام ، ملک بدری اجتماعی حقوق سے محرومیت ، محنت شاقہ کے ساتہ وقتی قید ۔

۲۔ دونوں میں سے کوئی زنا کا مرتکب ھو جائے لیکن عورت کو حق طلاق اس صورت میں ھو گا کہ جب مرد اس کے گھر میں زنا کا ارتکاب کرے ۔ پولیس کی نظر میں مکمل طور سے یہ خیانت ثابت ھو ۔ اس بنا پر جب میاں بیوی ایک دوسرے سے علاحدگی اختیار کرنا چاھیں تو تیسرے فریق کی بھی موافقت کی ضروری ھو گی اس طرح کہ وقت معین پر سوتے وقت ،شوھر پولیس کو لاکر دکھائے کہ میری بیوی دوسرے مرد کے ساتہ سو رھی ھے ۔پھر جب پولیس شوھر کے ساتہ آکر کسی غیر مرد کو سوتا ھوا دیکھے گی تب جا کر طلاق ھو گی ۔ (۱۲)
ذرا سوچئے کہ حق طلاق کتنی بے حیائی کے بعد حاصل ھوتا ھے ۔ آج کی متمدن دنیا ایک طرف تو عورت کو اجتماعی و سیاسی امور میں شریک ھونے کا حق دلاتی ھے اور دوسری طرف اس کی عزت و شرف کو باز یچھٴ اطفال بناتی ھے اور کس قدر بے حیائی کا مظاھرہ کراتی ھے ۔

۳۔ شوھر یا عورت ایک دوسرے کو آزار پھنچائیں یا اھانت کریں ، یا فحش کلامی کریں ۔ اسی طرح کے دوسرے مواقع ھیں جھاں ایک دوسرے کو طلاق لینے کا حق حاصل ھے ۔
موجودہ دور میں فرانس ، پرتگال اور اٹلی کے اندر ” تفریق جسمانی “ کا رواج ھے ۔ تفریق جسمانی کا مطلب یہ ھے کہ علیحدگی چاھنے والے میاں بیوی الگ الگ وقتی طور پر زندگی بسر کریں ۔ اس جدائی کی مدت زیادہ سے زیادہ تین سال ھوتی ھے اور اس مدت میں اگر چہ عورت جنسی آسودگی دینے سے اور مرد نان و نفقہ دینے سے معاف ھیں مگر دوسرے تمام آثار زوجیت باقی رھتے ھیں ۔ اس مدت کے بعد بھی اگر عورت یا مرد مشترک زندگی بسر کرنے پر تیار نہ ھوں تو طلاق دی جائے گی ۔
امریکہ نے عورت و مرد کو طلاق کے سلسلے میںضرورت سے زیادہ آزادی دے رکھی ھے اس لئے وھاں طلاق بکثرت ھوتی ھے۔ یہ بے حساب آزادی اور مساوی طور سے مرد و عورت کو حق طلاق دینے کی وجہ سے ارکان خانوادہ تزلزل کا شکار ھو گئے ھیں اور اس کے تلخ ترین نتائج ظاھر ھونے لگے ھیں ۔ عورتیں معمولی معمولی بھانوں سے جب جی چاھتا ھے مرد سے الگ ھو جاتی ھیں در حقیقت مغربی دنیا خانوادے اور عورتوں کی خدمت کرنے کے بجائے جنایت کی مرتکب ھوئی ھے ۔
جن ممالک میں عورتوں کو حق طلاق دیا گیا ھے ان کے اجمالی اعداد و شمار کو دیکہ کر ھر عقلمند انسان محو حیرت ھو جاتا ھے ۔ عورتوں کی خواھش پر مغربی دنیا میں ھونے والی طلاقوں کی کثرت اور طلاق لینے کی دلیلوں کو دیکہ کر اسلام کی ژرف نگاھی روز روشن کی طرح آشکار ھو جاتی ھے ۔ متمدن مغربی دنیا میں ھونے والی طلاقوں کا نمونہ ملاحظہ فرمائیے ایک مشھور ھفتہ وار اخبار لکھتا ھے :
شھر اسٹرا سبورگ میں ھونے والی چوٹی کانفرنس کے صدر نے مختلف ممالک میں ھونے والی طلاقوں کے اعدادو شمار افراد کانفرنس کے سامنے اس طرح بیان کئے:
اس اعداد و شمار کے مطابق آخری ایک سال کے اندر فرانس میں ۲۷/ فیصد طلاق عورتوں کی ” مد پرستی “ کے افراط کی وجہ سے ھوئی اور یھی تعداد جرمنی میں ۳۳/ فیصد اور ھالینڈ میں ۳۶ /فیصد اور سوئیڈن میں ۱۸/ فیصد ھوئی ۔
پیرس کی ھر عورت جو مد پرستی کی عادی ھو چاھے افراط کی حد تک نہ بھی ھو پھر بھی ایک سال کے اندر تقریبا ًپانچ ھزاردروپئے بیکار و بیھودہ مصرف میں خرچ کر دیتی ھے ۔
اور یہ کثیر رقم نہ تو اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ھے اور نہ اسکی شخصیت کو بلند و بالا کرتی ھے اور نہ خانوادے کے فلاح و بھبود پر خرچ ھوتی ھے ۔
براہ راست عورت کو حق طلاق دینے کا یہ نتیجہ ھوتا ھے کہ جب صرف ایک مدپرستی جیسی بے ارزش چیز کی وجہ سے اتنی طلاقیں ھوتی ھیں تو دوسرے اسباب کی بناء پر کیا عالم ھو گا ۔؟
عورتوں کو حق طلاق دینے کے جو برے نتائج بر آمد ھوتے ھیں انھوں نے ذمہ داران حکومت میں عجیب و حشت پیدا کر دی ھے اب وہ لوگ اس کے محدود کرنے کے طریقے پر غور و فکر کر رھے ھیں ۔ گذشتہ سال فرانس میں تیس ھزار طلاقیں ھوئیں اور چونکہ ھر سال اس تعداد میں اضافہ ھی ھو رھا ھے اس لئے فرانسیسی خانوادوںکے فیڈ ریشن نے حکومت سے درخواست کی ھے کہ ۱۹۴۱ءء کے مخصوص قانون کو جو ۱۹۴۵ءء میں ختم کر دیا گیا تھا دوبارہ لاگو کیا جائے ۔ اس قانون کے مطابق شادی سے تین سال تک کسی بھی وجہ سے طلاق نھیں دی جا سکتی اور نہ لی جا سکتی ھے ۔ یھی قانون انگلستا ن میں بھی نافذ ھے صرف اس میں دو صورتوں کو مستثنیٰ کر دیا گیا ھے ۔
۱۔ مرد کی طرف سے فوق العادة سختی و وحشت گری ۔
۲۔ عورت کی طرف سے خیانت اور بے اندازہ فساد ۔(۱۳)
امریکی دانش مند لوسون ( LOSUN)تحریر کرتا ھے : جس کے اندر ذرہ برابربھی انسان دوستی موجود ھے وہ اس وحشت ناک اعدادو شمار سے رنجیدہ ھے اور اس کے علاج کی فکر میں ھے ۔ سب سے زیادہ قابل توجہ بات یہ ھے کہ ۸۰ فیصد طلاق عورتوں کی خواھش سے واقع ھوئی اور ھو رھی ھیں۔کثرت طلاق کی علت بھی اسی جگہ تلاش کرنا چاھئے اور قطعی طور پر اس کو محدود کر دینا چاھئے ۔(۱۴)
یھاں پر معاشرے کے اندر (VOLTAIRE) کے قانون طلاق کے سلسلے میں اسلام کی جامعیت کے اعتراف کا ذکر کرنا بھی مناسب ھے ۔ وہ لکھتا ھے :
محمد ایسے عقل مند واضع قانون ھیں جو بشریت کو جھل و فساد و بد بختی سے نجات دینا چاھتے تھے ۔ اپنی خواھش کی تکمیل کے لئے انھوں نے دنیا کے تمام انسانوں، عورت۔ مرد ، چھوٹا۔ بڑا ، عاقل و دیوانہ ، سیاہ و سفید ، زرد و سرخ کے نفع کا خیال رکھا ۔ انھوں نے تعداد ازواج کی اجازت ھرگز نھیں دی ۔ بلکہ اس کے بر خلاف ایشیائی ممالک کے حکمرانوں اور باشاھوں کی بے حساب شادیوں پر پابندی لگا کر چار عورتوں تک محدود کر دیا ۔ شادی بیاہ اور طلاق کے سلسلے میں ان کے قوانین ،آج کے قوانین سے بدر جھا بھتر ھیں ۔ شاید طلاق کے سلسلے میں قرآن سے زیادہ مکمل قانون اب تک نھیں بنایا جا سکا ۔(۱۵)

حوالے
(۱) انسان موجود ناشناختہ ص ۸۴ تا ۸۷
(۲)جواھر: کتاب الطلاق
(۳) سورہ نساء آیت ۱۹
(۴) سورہ نساء آیت ۱۲۸
(۵) مستدرک ج۳ ص ۲
(۶) وسائل ج۳ ص ۱۴۴
(۷)سورہ نساء آیت ۲۵
(۸)سورہ نساء آیت ۲۵
(۹) طلاق آیت ۱
(۱۰)سورہ بقرہ آیت ۲۲۹
(۱۱)مجمع البیا ن ج۱ ص ۱۶۷
(۱۲)طلاق و تجدد ص ۹۹
(۱۳)خواندن ھائے سال ۲۵۔ شمارہ ۱۰۳
(۱۴) المرٴة المسلمة: محمد فرید وجدی
(۱۵)اسلام از نظر والٹیر


source : alhassanain
331
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اصول فقہ کا مختصر تعارف
بے بنیاد الزامات کے تحت دسیوں شہریوں کے سرقلم کرنا ...
ہم فروع دین میں تقلید کیوں کریں ؟
خمس کے تفصیلی مسائل بتا دیجیے
عدل الہٰي کے دلائل
اجتھاد اور تقلید؛ (1) مصنف: شھید آیت اللہ مرتضی مطھری (رح)
مبطلاتِ روزہ
کیا نماز چاشت بدعت ہے؟
جھاد
دنیا کی حقیقت

 
user comment