اردو
Sunday 20th of September 2020
  12
  0
  0

شناخت خدا اور اس کي طرف رغبت کا فطري ھونا

قرآن مجيد کي آيتوں کي رو سے شناخت خدا بھي فطري ھے اور اس کي طرف رغبت و جستجو بھي۔ بحث ”وجود خدا بديھي ھے“ کے ذيل ميں کھا جا چکا ھے کہ خدا کے وجود کا باور اور اعتراف، عام اور سبھي کے لئے قابل قبول رھا ھے يعني وجود خدا کوئي ايسا مجھول مسئلہ نھيں ھے جو اثبات کا محتاج ھو? اس بحث کے ذريعے شناخت خدا کا فطري ھونا ثابت ھو چکا ھے۔
شناخت خدا اور اس کي طرف رغبت کا فطري ھونا

قرآن مجيد کي آيتوں کي رو سے شناخت خدا بھي فطري ھے اور اس کي طرف رغبت و جستجو بھي۔ بحث ”وجود خدا بديھي ھے“ کے ذيل ميں کھا جا چکا ھے کہ خدا کے وجود کا باور اور اعتراف، عام اور سبھي کے لئے قابل قبول رھا ھے يعني وجود خدا کوئي ايسا مجھول مسئلہ نھيں ھے جو اثبات کا محتاج ھو? اس بحث کے ذريعے شناخت خدا کا فطري ھونا ثابت ھو چکا ھے۔

اس سلسلے ميں جو آيتيں دلالت کرتي ھيں ان ميں سے ايک سورہ  روم کي تيسويں آيت ھے جس کو آيہ فطرت کھا جاتا ھے:

(فاقم وجھک للدين حنيفاً فطرة الله التي فطر الناس عليھا لا تبديل لخلق الله ذلک الدين القيم ولکن اکثر الناس لا يعلمون)

اپنا رخ پروردگار کے خالص دين کي طرف کر لو کيونکہ يہ فطرت ھے جس پر الله نے انسانوں کو پيدا کيا ھے۔  اس کي تخليق ميں کوئي تغير و تبدل نھيں ھوتا اور يھي محکم و استوار دين ھے ليکن اکثر لوگ اس حقيقت کو نھيں جانتے۔ مذکورہ آيت مکمل وضاحت و صراحت کے ساتھ دين کو فطري امر کے طور پر پيش کرتي ھے۔ اس آيت ميںدين سے کيا مراد ھے، اس سلسلے ميں مفسرين دو رائے پيش کرتے ھيں:

(الف) دين سے مراد معارف و احکام مخصوصاً اسلام کے حقيقي اور بنيادي معارف واحکام کامجموعہ ھے۔ اس رائے کے مطابق، دين کے اندر موجود تمام کليات کہ جن ميں سے اھم ترين شناخت اور عبادت خدا ھے، فطرت انسان ميں راسخ کردئے گئے ھيں۔ مرحوم علامہ طباطبائي نے اپني تفسير،” تفسير الميزان“ ميں اسي نظريے کو منتخب کيا ھے۔    

(ب) دين سے مراد وہ دين ھے جو فطرت کے مطابق ھواور اس کے معني خدا کے سامنے تسليم محض اور سر بسجود ھوجانا ھے کيونکہ دين کا لب لباب خضوع و خشوع ، فرمانبرداري و اطاعت کے ماسوا کچھ نھيں ھے:

(ان الدين عند الله الاسلام)

خدا کے نزديک دين فقط اسلام ھے۔

اس رائے کے مطابق، دين کے فطري ھونے کا مطلب يہ ھے کہ انسان کي خلقت ميں ايسے تمايلات واوصاف شامل کردئے گئے ھيں جو اسے خدا کي عبادت کي طرف اکساتے رھتے ھيں۔ واضح ھے کہ اگر خداپرستي فطري ھو تو خدا شناسي بھي فطري ھوجائے گي کيونکہ فطرتہ يہ ممکن نھيں ھے کہ انسان اس کي پرستش کرے جس کو وہ جانتا بھي نہ ھو۔


source : tebyan
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

نھج البلاغہ
اسلام و عیسائیت
حضرت امام رضا علیہ السلام کی والدہ ماجدہ
ولایت فقیہ عقلی اور نقلی دلائل کی روشنی میں
ايک دوسرے کي نسبت مياں بيوي کے حقوق
اسلام میں حجاب
کربلا کے بعد (قسط نمبر 2)
اسلامی تعلیمات حقیقت پر مبنی
نویں محرم؛ تاسوعائے حسینی، کاروان حسینی میں شمولیت کا ...
توہین کا سامنا کیا مگر حجاب کو اختیار کیا

 
user comment