اردو
Saturday 15th of August 2020
  698
  0
  0

پاکستان؛ یا علی مدد والا لاکٹ گلے میں ڈالنے کے جرم میں دسویں کلاس کے طالبعلم کا قتل

پاکستان کی ریاست پنجاب کے علاقے کوہاٹ کی روڈ اٹک کے بوائز ہائی اسکول کے ایک طالبعلم کو دوستوں نے صرف اس جرم پر ذبح کر دیا کہ اس نے اپنے گلے میں یا علی مدد کا لاکٹ پہن رکھا تھا تفصیلات کے مطابق سابقہ فوجی سید مستان شاہ سکنہ بھال سیداں کا جواں سال
پاکستان؛ یا علی مدد والا لاکٹ گلے میں ڈالنے کے جرم میں دسویں کلاس کے طالبعلم کا قتل

پاکستان کی ریاست پنجاب کے علاقے کوہاٹ کی روڈ اٹک کے بوائز ہائی اسکول کے ایک طالبعلم کو دوستوں نے صرف اس جرم پر ذبح کر دیا کہ اس نے اپنے گلے میں یا علی مدد کا لاکٹ پہن رکھا تھا
تفصیلات کے مطابق سابقہ فوجی سید مستان شاہ سکنہ بھال سیداں کا جواں سال بیٹا سید مزمل حسین شاہ بوائز ہائی سکول فتح جنگ میں جماعت دہم بی کا طالب علم تھا، 20 جنوری  2016 کو گھر سے سکول گیا اور واپس نہ آیا تو والدین کو تشویش ہوئی، ڈھونڈنا شروع کر دیا، پولیس کو اطلاع کی، ڈی ایس پی راجہ طاہر بشیر اور ایس ایچ او چودھری اختر علی کی نگرانی میں تفتیشی آفیسر ایس آئی انجم سہیل اور اے ایس آئی حافظ شبیر احمد نے سکول سے تفتیش شروع کی تو مقتول سمیت کلاس کے 4 طالب علم سکول سے غیر حاضر تھے، پولیس نے دور افتادہ گاؤں سے جماعت دہم کے طالب علم حافظ احمد شعیب کو گرفتار کرکے تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ حافظ محمد علی اور کاشف سے مل کر مزمل حسین شاہ کو قتل کرکے لاش ویران جگہ میں دبا دی۔ ملزم کی نشاندہی پر پولیس نے بوائز ڈگری کالج کے قریب کھیتوں میں مٹی تلے دبی لاش برآمد کر لی، مقتول مزمل حسین شاہ کا گلہ تیز دھار آلے سے کٹا ہوا تھا، مقتول سکول یونیفارم اور بیگ سمیت خون میں لت پت پڑا تھا، پولیس نے دوسرے ملزم کاشف کو بھی گرفتار کر لیا۔

مقتول کے والدین نے بتایا کہ مزمل حسین شاہ صوم صلاۃ کا پابند اور فرمانبردار لڑکا تھا، اس نے 2 ماہ قبل گھر میں 3 ملزمان کے بارے میں بتایا کہ وہ اسکے گلے میں ’’یاعلی مدد‘‘ والے لاکٹ اور ماتم داری پر سخت تنقید کرتے ہیں، مذہبی بحث مباحثہ کی وجہ سے انکا جھگڑا بھی ہوا، بعد میں صلح صفائی ہوگئی مگر ملزمان کے دل سے بغض نہ گیا۔ مقتول کے والد نے کہا کہ 23 سال پاک فوج میں ملازمت کی میرے 2 بیٹے اور 3 بیٹیاں ہیں، انتہائی مشکل سے گذر اوقات کر رہے تھے کہ ظالموں نے میری کمر توڑ دی، میرے بڑھاپے کا سہارا مجھ سے چھین لیا 3 روز سے ہمارے گھر میں چولہا نہیں جلا، مزمل حسین شاہ گھر میں سب سے لاڈلا تھا، ظالموں کی بے رحمانہ کارروائی نے میری کمر کا زور توڑ دیا۔ دروزاے پر نظریں جمائے بیٹھی مقتول کی والدہ اور اسکی بہنوں پر غشی طاری ہے، میری آرمی چیف، وزیراعظم، وزیر اعلٰی پنجاب اور وزیر داخلہ سے درخواست ہے کہ مجھے انصاف دلایا جائے، فتح جنگ میں بھی ضرب عضب کی طرح آپریشن کیا جائے۔

اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ تکفیری شدت پسندی کی یہ سوچ پاکستان کے تعلیمی اداروں کے اندر پروان چڑھتی ہے جہاں پر اب دوست دوست کا گلا کاٹ رہا ہے۔


source : abna24
  698
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    پشاور،سپاہ صحابہ کے دہشتگرد کی فائرنگ سے قیصر عباس ...
    تہران میں برطانوی سفارتخانہ دوبارہ کھل گیا
    عازمین حج و عمرہ اور اعلیٰ سرکاری حکام کی طرح ہوائی سفر ...
    بن لادن کمپنی نے مکہ میں ۷ گاڑیوں کو نذر آتش کر دیا
    ہفتہ وحدت کی مناسبت سے قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام
    بلوچستان میں کوئلے کی کانیں بیٹھ جانے سے 16 مزدور جانبحق
    یمنی فوج اور عوامی رضاکروں نے سعودی عرب کے چار فوجی ...
    القاعدہ کا دوسرا نام داعش ہے/ داعش کو وجود میں لانے ...
    نائجیریا میں دھماکے سے 47 افراد ہلاک
    نائجیریا کے شیعوں کے قتل عام کے خلاف ایران، انگلینڈ ...

 
user comment