اردو
Sunday 27th of September 2020
  70
  0
  0

حج بيت اللہ ايک اہم عبادت

اسلام کے پانچ ارکان ميں سے ايک رکن حج ہے جو 9 ہجري ميں مسلمانوں پر فرض کيا گيا- حج بيت اللہ ہر اس صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے جو عاقل، بالغ ہو اور حج کيلئے آمد و رفت کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو- ارشادِ باري تعاليٰ ہے- وَلِلّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً (سورۃ اٰل عمران 3 : 97) ’’اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہ
حج بيت اللہ ايک اہم عبادت

اسلام کے پانچ ارکان ميں سے ايک رکن حج ہے جو 9 ہجري ميں مسلمانوں پر فرض کيا گيا- حج بيت اللہ ہر اس صاحبِ استطاعت مسلمان پر فرض ہے جو عاقل، بالغ ہو اور حج کيلئے آمد و رفت کے اخراجات برداشت کر سکتا ہو- ارشادِ باري تعاليٰ ہے-

وَلِلّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلاً (سورۃ اٰل عمران 3 : 97)

’’اور اللہ کے لئے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھي اس تک پہنچنے کي استطاعت رکھتا ہو اور جو (اس کا) منکر ہو تو بے شک اللہ سب جہانوں سے بے نياز ہے-،،

بيت المقدس کے رہنے والے ايک شخص نے امام زين العابدين عليہ السلام سے طواف کعبہ کے دوران کعبہ کي حقيقت اور اس کے طواف کي حکمت کے بارے سوال پوچھنا چاہا تو آپ نے طواف کے بعد حطيم ميں ميزابِ رحمت کے نيچے اسے اپنے پاس بٹھا کر ارشاد فرمايا :

’’سيدنا حضرت آدم عليہ السلام کي تخليق سے پہلے نوراني فرشتوں سے کائنات نور آباد تھي جو فرمانبردار اور عبادت گزار مخلوق ہے- جن کے بارے ميں قرآن حکيم نے فرمايا :

لاَّ يَعْصُونَ اللَّهَ مَا أَمَرَهُمْ وَيَفْعَلُونَ مَا يُوْمَرُونَO (التحريم 66 : 6)

’’وہ اللہ کي نافرماني نہيں کرتے اور وہي کام انجام ديتے ہيں جس کا انہيں حکم ديا جاتا ہے-،،

اللہ رب العزت نے جب ملائکہ سے فرمايا :

إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (البقرۃ 2 : 30)

’’بے شک ميں زمين ميں اپنا نائب بنانے والا ہوں-،،

توفرشتے عرض کرنے لگے :

أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُّفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِكَ وَنُقَدِّسُ لَكَ (البقرۃ 2 : 30)

’’اے باري تعاليٰ! کيا تو زمين ميں کسي ايسے شخص کو (نائب) بنائے گا جو اس ميں فساد انگيزي کرے گا اور خون ريزي کرے گا؟ حالانکہ ہم تيري حمد کے ساتھ تسبيح کرتے رہتے ہيں اور (ہمہ وقت) پاکيزگي بيان کرتے ہيں-،،

يہ بات ان کے منہ سے نکل گئي مگر انہيں فوراً اپني غلطي کا احساس ہوا اور وہ اپنے رب کو راضي کرنے کے ليے ’’عرشِ علا،، کے گرد طواف کرنے لگے- ان کي زبان پر ايک ہي دعا تھي کہ تو پاک ہے ہماري خطا معاف فرما دے-

معبودِ برحق کو ان کي يہ ادا پسند آئي- انہيں اپني رحمتوں سے نوازتے ہوئے عرش کي سيدھ ميں نيچے ساتويں آسمان پر ايک گھر پيدا فرمايا اور فرشتوں کو حکم فرمايا کہ وہ اس کا طواف کريں تو ان کي خطا معاف کر دي جائے گي- اس گھر کا نام ’’بيت المعمور،، رکھا گيا يعني ايسا گھر جو فرشتوں سے ہر وقت بھرا رہتا ہے ۔


source : tebyan
  70
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

فطرت اور خدا
روح کی بقاء،قیامت کی ایک علامت
اپنے آپ سے بے خبری
ولایت تکوینی کا کیا مطلب هے اور اس کا ائمه معصومین ...
اکمال دین، اتمام نعمت اور خدا پر بدگمانی -1
توحيد قرآن حکيم کے بنيادي اور اساسي موضوعات ميں سے ہے
خدا كي بارگاہ ميں مناجات كا فلسفہ
شیعوں کے نزدیک شریعت کے سرچشمے
معاد پر عقلی اور منقوله دلایل
انجیل اور عیسائیوں کا موعود کے بارے میں نظریہ

 
user comment