اردو
Wednesday 3rd of March 2021
273
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

نجف اشرف

نجف کے معنی سخت اور بلند زمین کے ھیں، یعنی ایسی بلندی جھاں پانی نہ پہنچ سکے، یہ شھر بغدادسے ۱۰۰کلومیٹر سے دور ھے، اور تقریباََ۶۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر کربلا کے جنوب میں واقع ھے، اس کی آب وھوا بہت گرم اور خشک رہتی ھے، علامہ مجلسی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ھیں: ” نجف پہلے ایک پھاڑ کی شکل میں تھا، اسی پر حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا پناہ لینے کے
نجف اشرف



نجف کے معنی سخت اور بلند زمین کے ھیں، یعنی ایسی بلندی جھاں پانی نہ پہنچ سکے، یہ شھر بغدادسے ۱۰۰کلومیٹر سے دور ھے، اور تقریباََ۶۰ کلومیٹر کے فاصلہ پر کربلا کے جنوب میں واقع ھے، اس کی آب وھوا بہت گرم اور خشک رہتی ھے، علامہ مجلسی رحمۃ اللہ علیہ نقل کرتے ھیں: ” نجف پہلے ایک پھاڑ کی شکل میں تھا، اسی پر حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا پناہ لینے کے لئے پہنچ گیا تھا، جب حضرت نوح علیہ السلام نے کھا کہ کشتی میں آ جاؤ تو اس نے جواب دیا کہ میں تو پھاڑ کے اوپر چڑھ جاؤ ں گااور -ڈوبنے سے نجات پاؤں گا، اسکے باوجود چونکہ اس نے امر الٰھی کی مخالفت کی تھی لہٰذا طوفان بلا میں غرق ھوگیا۔1

 

تاریخ حرم مطھر حضرت علی علیہ السلام

آستان مقدس حضرت علی علیہ السلام نجف کے مرکز میں واقع ھے، آستانہ ٴ نجف اشرف پر ایک سنھرا گنبد رتعمیر ھے، صحن مطھر حضرت امیرالمومنین علیہ السلام کافی وسیع ھے، اور صحن کے اطراف میں کئی محراب نما کمرے بنے ھوئے ھیں ۔
قبرِ مطھرکو چاندی کے صندوق اور ضریح اقدس کو سونے کی جالیوں سے شاہ اسماعیل صفوی کے دور میں آراستہ کیا گیا تھا۔اور ضریح مطھر کو ہندوستان اور چین کے ہنر مندوں نے ۱۳۴۵ھ۔ق۔ میں اسماعیلی فرقہ کے توسط سے ہندوستان میں تعمیر کیا، حرم مطھر کی آئینہ کاری اصفھان کے ہنر مندوں نے کی، اور اطراف حرم میں جو نقش ونگاری کا کام ھے وہ ایرانی ہنرمندوں کی محنت کا سر چشمہ ھے۔ 2
حرم کے اطراف میں جوصحن ھے اس کے کمروں میں مختلف مراجع وبزرگانِ دین کی قبریں ھیں، اس مقدس صحن میں کل پا نچ دروازے ھیں ۔
1۔ ان میں سب سے بڑا دروازہ مشرق میں باب کبیر کے نام سے مشھور ھے۔
2۔ باب طوسی: ۔یہ دروازہ شمال میں شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی یاد میں تعمیر کیا گیا ھے۔ اوراس کے مقابل خیابان شیخ طوسی ھے۔
3۔ باب قبلہ: ۔ یہ دروازہ جنوب میں باب قبلہ کے نام سے معروف ھے۔
4۔ باب سلطانی: ۔یہ دروازہ سلطان عزیز عثمانی کے دورمیں تعمیر کیا گیا، جو حرم کے مغرب میں واقع ھے۔
5۔ پانچواں دروازہ: ۔یہ باب کبیر کے نزدیک واقع ھے۔

 

فضیلت زیارت امیرالمومنین

سیدعبدالکر یم ابن طاؤس رحمۃ اللہ علیہ صفوان جمال سے روایت کرتے ھیں :
” ھم امام صادق ں کے ھمراہ کوفہ میں وارد ھوئے، جب امام علیہ السلام منصور دوانقی کے پاس جارھے تھے، تو آپ نے فرمایا: اے صفوان! اونٹ کو بٹھاؤ کیوں کہ یہ علاقہ میرے جد امیرالمو منین ں کی قبر کے نزدیک علاقہ ھے، پس آپ اترے غسل کیا لباس تبدیل کیا اور پیروں سے جوتیاں اتاردیں اور فرمایا: تم بھی ایسا ھی کرو ۔3
امام علیہ السلام پھر نجف کی طرف روانہ ھوئے اور فرمایا: آہستہ آہستہ قدم بڑھاؤاور سر کو جھکا لو کہ خدا وندعالم تمھارے لئے ھر قدم پر ایک لاکھ نیکیاں لکھے گا اور ایک لاکھ گناہ بخش دے گا، ایک لاکھ درجات بلند کرے گا، ایک لاکھ حاجتوں کو پورا کرے گا، اور تمھارے لئے صدیق وشھید کا ثواب لکھے گا، امام علیہ السلام بھی جارھے تھے، اور ھم بھی ان کے ھمراہ سکون کے ساتھ تسبیح وتہلیل کرتے ھوئے چل رھے تھے، یھاں تک کہ ھم لوگ ایک بلندی پر پہنچے، امام علیہ السلام نے دائیں بائیں نگاہ -کی اور جو لکڑی آپ کے پاس تھی اس سے ایک لکیر کھینچی پھر فرمایا: تلاش کرو میں نے تلاش کیا توایک قبر کا نشان پایا، اس وقت آپ کی آنکھوں سے آنسوں جاری ھوکر چھرہ پر آگئے“
حضرت امام صادق ں سے روایت ھے کہ خدا وند عالم نے ملائکہ سے زیادہ کسی مخلوق کو نھیں پیدا کیا اور حقیقت یہ ھے کہ روزانہ سترہزار ملائکہ نازل ھوکر بیت المعمور پر آتے ھیں اور اس کے گرد طواف کرتے ھیں پھر وھاں سے فارغ ھوکر کعبہ کے طواف کو جاتے ھیں، یھاں سے قبر پیغمبر (ص) پر آتے ھیں اور آپ پرسلام کرتے ھیں، اوریھاں سے حرم امیرالمو منین ں کی جانب آتے ھیں، ان پر سلام کرتے ھیں، اسکے بعد قبر امام حسین ں پر آتے ھیں اور ان پربھی سلام کرتے ھیں، پھر آسمان پر چلے جاتے ھیں اور اسی طرح یہ سلسلہ روزِ قیامت تک جاری رھے گا۔
آپ ھی سے منقول ھے: جو شخص امیرالمو منین ں کی زیارت ان کے حق کو پہچانتے ھوئے کرے (یعنی ان کو امام علیہ السلام مانتا ھو جس کی اطاعت واجب ھے) اور خلیفہ بلا فصل جانتا ھو، تکبر اور جبر کے اعتبار سے زیارت کو نہ آیا ھو، تو خدا اس کے لئے ایک لاکھ شھیدوں کا ثواب لکھتا ھے، اور اس کے پچھلے آئندہ کے تمام گناھوں کو بخش دیتا ھے اور وہ روزقیامت اس طرح اٹھایا جائے گا کہ ھول محشر سے بے خوف ھوگا، اور خدا اس پر حساب آسان کردے گا، ملائکہ اس کا استقبال کریں گے، وہ جب زیارت سے واپس ھوگا تو ملائکہ اس کے پیچھے پیچھے اس کے گھر تک آئیں گے، اگر بیمار ھوگیا تو اس کی عیادت کریں گے، اگر مرگیا تو اس کے جنازہ کی مشایعت کریں گے، اوراس کی بخشش کے لئے دعائیں کریں گے۔
اور یہ بھی روایت میں آیا ھے کہ جو شخص امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت ان کے حق کو پہچان کرکرے خدا اس کے لئے ھر قدم پر حج مقبول اور عمرہ پسندیدہ کا ثواب لکھتا ھے، امام صادق علیہ السلام ھی سے روایت ھے کہ میں کہتا ھوں پشت کوفہ پر ایک قبر ھے، اس کی پناہ میں کوئی غم زدہ نھیں آتا ھے مگر یہ کہ خدا اس کو شفا دیتا ھے۔
جناب شیخ عباس قمی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ھیں: ” معتبر خبروں سے ظاھر ھوتا ھے کہ خداوندعالم نے امیرالمومنین علیہ السلام اوران کی پاکیزہ اولاد کی قبروں کو خوفزدہ کی پناہ گاہ، بے چاروں کا ملجااورزمین والوں کے لئے امان بنایا ھے، جب کوئی غم زدہ ان کے پاس آجاتا ھے اس کا غم دور ھوجاتا ھے اور مصیبت زدہ اپنے کو اس سے مس کرتا ھے توشفا پاتا ھے، اور جو پناہ چاہتا ھے اسکو امان مل جاتی ھے، لہٰذا جب کبھی زیارت کا ارادہ کرے تو غسل کرے پاک لباس پہنے اور خوشبو استعمال کرے، اورجب ضریح اقدس کے قریب پہنچ جائے تو دعائیں زیادہ کرے، کیوں کہ یہ حاجتوں کے طلب کرنے کا مقام ھے اور زیادہ استغفار کرے، کہ یہ گناھوں کی مغفرت کا مقام ھے اور اپنی حاجت خدا سے طلب کرے کہ یہ دعاؤں کے قبول ھونے کامقام ھے۔
واضح رھے کہ مستحب ھے سرامام حسین علیہ السلام کی زیارت پڑھناقبر امیرالمومنین علیہ السلام کے نزدیک، اور مستدرک میں مرزا محمدا بن المشہدی رحمۃ اللہ علیہ سے نقل ھوا ھے کہ حضرت امام صادق علیہ السلام نے سر امام حسین علیہ السلام کی زیارت امیرالمومنین علیہ السلام کے سرھانے کی، اور آپ نے وھاں چاررکعت نماز پڑھی۔
مختصر یہ کہ امیرالمومنین علیہ السلام کی زیارت کو غنیمت سمجھنا چاہئے، اور اس حرم مطھر میں زیادہ سے زیادہ نمازیں پڑھنی چاہئے، اس لئے کہ آپ کی قبر کے پاس کوئی ایک نماز کا پڑھنا دولاکھ نمازوں کے برابر ھے اور امام جعفر صادق علیہ السلام ھی سے منقول ھے کہ جوشخص امام علی علیہ السلام کی زیارت کرے اورچار رکعت نماز آپکی قبر کے نزدیک پڑھے، تو اس کے لئے حج اور عمرہ کا ثواب لکھا جائے گا۔4

 

حضرت علی علیہ السلام کے مختصر حالات زندگی

نام: علی ابن ابیطالب علیہ السلام
کنیت: ابوالحسن، ابوالحسین، ابوتراب، ابوالسبطین
القاب: امیرالمومنین، سید الوصیین، سیدالمسلمین، سید الاوصیاء، سید العرب،
منصب: دوسرے معصوم اورپہلے امام
تاریخ ولادت: ۱۳رجب ا لمرجب ۳۰ ھ ئعام الفیل(پیغمبراکرمکی ہجرت سے۲۳سال پہلے)
جائے ولادت: مکہ معظمہ، بیت اللہ الحرام خانہ کعبہ کے اندر پیدا ھوئے ۔
شجرئہ نسب: علی ابن ابیطالب ابن عبد ا لمطلب ابن ھاشم ا بن عبد مناف۔
والدہ: فاطمہ بنت اسدا بن ھاشم (فاطمہ بنت اسد، آغازاسلام کی عظیم خواتین سے اور ان پہلی خواتین میں تھیں کہ جوپیغمبر اکر م پر ایمان لائیں)
مدت امامت: ۔پیغمبراکرم (ص) کی رحلت سے لےکر۲۱رمضان المبارک ۴۰ ھ۔ق۔ تک تقریباََ تیس سال ۔
تاریخ وسبب شھادت: ۲۱رمضان المبارک ۴۰ ھ ئعبدالر رحمن ابن ملجم مرادی (نھر وان کی جنگ سے بچنے والے خارجی) نے مسجد کوفہ کے محراب میں آپ کو۱۹رمضان المبارک کی صبح حالت سجدہ میں زھر آلودتلوار کی کاری ضرب لگائی جس کے نتیجے میں آپ نے ۲۱ رمضان المبارک کوجام شھادت نوش فرمایا۔
محل دفن: نجف اشرف سرزمین عراق
حضرت علی علیہ السلام کے چند اقوال
حکمت مومن کی گمشدہ چیز ھے، پس حکمت کو لے لواگرچہ اسے منافق سے ھی لیناپڑے
”گھٹیا ترین علم وہ ھے جوفقط زبان تک محدود رھے، اور بہترین علم وہ ھے جو اعضاء و جوارح سے ظاھر ھو“ 5

زیارت امیرالمومنین علیہ السلام کے مخصوص ایام

1۔ روزغدیر: ۔امام علی رضا علیہ السلام سے روایت ھے کہ آپ نے ابو نصر سے فرمایا: اے ابن ابی نصر! جھاں کھیں بھی رھوقبر امیرالمومنین علیہ السلام کے پاس روز غدیر حاضرر ھو چونکہ خداوندعالم اس روزاس مومن اور مومنہ کے ساٹھ سالہ گناھوں کو بخشتا ھے جو روز غدیرحضرت کی زیارت کرے اور انکو آتش جہنم سے آزاد کرتا ھے۔
2۔ تیرارجب المرجب
3۔ روز ولادت حضرت رسول اکرم (ص)
4۔ روزمبعث۲۷رجب کی رات اوردن میں زیارت کرنا۔6
اد رھے کہ قبر جناب آدم اورجناب نوح بھی اسی مزار اقدس میں واقع ھے۔

 

قبرستان وادیٴ السلام

وادیٴ السلام نجف اشرف کے مشرقی جانب کوفہ اور کربلا کے راستہ پر واقع ھے، اسکا شمار دنیا کے سب سے بڑے قبرستان میں ھوتا ھے، بر خلاف اس کے کہ یہ قبرستان دیکھنے میں تو معمولی نظر آتا ھے، لیکن اس کی فضیلت روایات میں بہت آئی ھے، ایک روایت میں ھے کہ جب کوئی مومن اس جھان سے رخصت ھوتا ھے تو اس کی روح کو ندا دی جاتی ھے کہ وہ وادی السلام سے ملحق ھوجائے۔7
یوں تواس قبرستان میں ہزاروں کی تعداد میں علماء دین مدفون ھے، لیکن یھاں ھم چند علماء کرام کا تذکرہ کررھے ھیں جو یھاں دفن ھیں ۔

 
1۔ شیخ محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ

ان کا شمار شیعوں کے بزرگ ترین علماء میں ھوتا ھے، جو ”صاحب جواھر“ کے نام سے بھی معروف ھیں، آپ کی کتاب ”جواھرالکلام“ھے جو شیعوں کی عظیم ترین فقھی کتابوں میں شمار ھوتی ھے، اوراس نکتہ کو مد نظر رکھتے ھوئے کہ اس کی ھر سطر میں اسقدر دقیق علمی مطالب موجود ھیں کہ صرف ایک صفحہ کے مطالعہ میں اچھا خاصہ وقت صرف ھوتاھے، اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ھے کہ اس بیس ہزارصفحہ کی کتا ب تالیف کرنے میں کتنا وقت اور توانائی صرف ھوئی ھوگی؟ آپ نے ۳۰سال تک مسلسل محنت کی جب کھیں یہ عظیم شاہکار وجود میں آسکا، آپ نے بہت سے شاگردوں کی تربیت فرمائی ھے۔ 8

 
2۔ شیخ جعفر کاشف الغطاء رحمۃ اللہ علیہ

آپ شیخ محمد حسن رحمۃ اللہ علیہ صاحب جواھر کے استاداور سیدمہدی بحرالعلوم رحمۃ اللہ علیہ کے شاگرد ھیں، فقہ میں ان کی مشھور کتاب” کشف الغطاء “ ھے، ۱۲۲۸ میں وفات پائی، فقہ میں کاشف الغطارحمۃ اللہ علیہ کے نظریات بڑی گھرائی اور باریک بینی کے حامل ھیں ۔9
مذکورہ علماء کے علاوہ شیخ احمد کاشف الغطاء رحمۃ اللہ علیہ، آل قزوینی رحمۃ اللہ علیہ اورشیخ عبدالکریم جزائری رحمۃ اللہ علیہ جیسے پایہ کے علماء بھی وادی السلام میں ابدی نیند سو رھے ھیں (خدا وندمتعال تمام علماء اعلام کو جواررحمت میں جگہ عنایت فرمائے)

 
3۔ مقام امام زمان علیہ السلام

یہ مقام بھی قبرستان وادئی السلام کے اندر واقع میں ھے، اور امام ز مان علیہ السلام کے نام سے مشھور ھے، زائرین حضرات یھاں امام زمانہ علیہ السلام کی زیارت پڑھتے ھیں ۔

 
4۔ آرامگاہ حضرت ھود علیہ السلام و حضرت صالح علیہ السلام

وادی ا لسلام ھی میں جناب صالح علیہ السلام اور جناب ھود علیہ السلام کی قبر یں واقع ھیں، اور ان پر باقاعدہ گنبد بھی تعمیر کیا گیا ھے۔

 

نجف اشرف میں دیگر علماء کی قبریں

یوں تو اس سر زمین نے ہزاروں اور لاکھوں علماء پیدا کئے ھیں، اور ہزاروں علماء اور مجتہدین اس مقدس سرزمیں کی آغوش میں محوخواب ھیں، لیکن کتاب کی وسعت کو پیش نظر رکھتے ھوئے ھم نے یھاں چند معروف علماء کا ذکر کیا ھے ۔

 
1۔ آرامگاہ سید مہدی بحرالعلوم رحمۃ اللہ علیہ

بحرالعلوم رحمۃ اللہ علیہ ۱۱۵۴ھ۔ق۔میں پیدا ھوئے، اور ان کی وفات ۱۲۱۱ ھ۔ق۔ میں نجف اشرف میں ھوئی، ان کی قبر مسجد شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کے ایک گوشہ میں ھے ۔
ا ٓپ معنوی مقامات کی وجہ سے اخلاق وکردار کے بلند مرتبہ پر فائز تھے، یھی وجہ ھے کہ شیعہ علماء کے نزدیک بہت زیادہ قابل احترام سمجھے جاتے ھیں ۔ 10
انھیں درجہ عصمت سے قریب مانا جاتا ھے، اور آپ کی ذات سے بہت سی کرامتیں بیان کی جاتی ھیں، شھید مر تضیٰ مطھری نقل کرتے ھیں کہ علامہ کاشف الغطارحمۃ اللہ علیہ اپنے عمامہ کی تحت الحنک سے آپ کی نعلینوں کاغبار صاف کیاکرتے تھے ۔11

 
2۔ علامہ حلی

حسن ابن یوسف ابن مطھرا بن حلی رحمۃ اللہ علیہ، علامہ حلی رحمۃ اللہ علیہ کے نام سے مشھور ھیں، ان کا شمار شیعوں کے بزرگ علماء میں ھوتا ھے، اور اپنے زمانہ کے عجیب وغریب شخص مانے جاتے ھیں، تقریباََایک سو جلد کتابیں ان کی موجود ھیں ان میں سے بعض ایسی ھیں جو آپ کی عجوبہ شخصیت ھونے پر دلالت کرتی ھیں، آپکی کتابوں میں ”ارشاد“”تبصرةالمتعلمین “”تذکرةا لفقھا ء “اور”مختلف الشیعہ“ بہت زیادہ معروف ھیں ۔ 12
علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے ۷۲۶ ھ۔ق۔ میں وفات پائی ان کا مقبرہ بھی حرم کے شمالی حصہ کی نگہبانی کے ایک کمرہ میں ھے۔

 
3۔ مقدس اردبیلی رحمۃ اللہ علیہ

ا حمدا بن محمد اردبیلی رحمۃ اللہ علیہ، مقدس اردبیلی کے نام سے مشھور ھیں، آپ زہد وتقویٰ کی ضرب المثل سے جانے جاتے ھیں، آپ نجف میں رہتے تھے، شاہ عباس نے بہت اصرار کیا کہ اصفھان تشریف لے آئیں لیکن آپ نے منظور نھیں کیا، ان کے ایران نہ آنے کی وجہ سے نجف اشرف حوزہ علمیہ اصفھان کے مقابلہ میں دوسرا علمی مرکز بن گیا، شھید ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزنداور ان کے نواسے آپ کے شاگرد تھے، آپ کی وفات ۹۹۳ ھ۔ق۔ میں ھوئی۔ 13
ان کی قبر صحن امام علی علیہ السلام کے دیوارکے کنارہ ایک کمرہ میں ھے۔

 
4۔شیخ مرتضیٰ انصاری رحمۃ اللہ علیہ

ان کا نسب جناب جابر ابن عبداللہ انصاری تک پہنچتا ھے جو رسول خدا (ص) کے بزرگ صحابی تھے، آپ بیس سال کی عمر تک اپنے پدر کے پاس تحصیل علم کرتے رھے اس کے بعد اپنے پدر بزرگوار کے ھمراہ عتبات وعالیات کی زیارت کے لئے تشریف گئے، جب علمائے وقت نے ان کی خداداد صلاحیتوں کا مشاہدہ کیا تو ان کے پدر بزرگوار سے کھا: ”ان کو اپنے ساتھ واپس نہ لے جائیں “ شیخ انصاری رحمۃ اللہ علیہ کوخا تم الفقھاء والمجتہدین کا لقب دیا گیا ھے، آپ کی دو کتابیں (رسائل اور مکاسب) بہت زیادہ مشھور ھیں، جو آج بھی طلاب علوم دینیہ کو حوزہ علمیہ میں پڑھائی جاتی ھیں، آپ کا زہد وتقویٰ بھی زباں زدخاص وعام ھے، فقہ و اصول میں آپ نے کچھ ایسی جدت پیدا کی جس کی مثال نھیں ملتی، آپ نے۱۲۸۱ ھ۔ق۔ میں نجف اشرف میں وفات پائی۔ 14
ان کی قبر باب قبلہ کی طرف نگہبانی کے دالان کے ایک کمرہ میں ھے ۔

 
5۔ آخوند خراسانی رحمۃ اللہ علیہ

ملا محمد کاظم خراسانی رحمۃ اللہ علیہ ۱۲۵۵ ھ۔ق۔ مشہد مقدس میں پیدا ھوئے ان کا شمار کامیاب ترین مدرسین میں ھوتا ھے، تقریباََ۱۲۰۰/شاگرد آپ کے محضر مبارک میں علوم اسلامی کا حاصل کرتے تھے، قابل غور بات یہ ھے کہ ان میں ۲۰۰/ افراد خود مجتہدتھے، عصر حاضر کے فقھاء جیسے ابوالحسن اصفھانی رحمۃ اللہ علیہ، محمد حسن اصفھانی رحمۃ اللہ علیہ، آقا حسین بروجردی رحمۃ اللہ علیہ، آقاحسین قمی رحمۃ اللہ علیہ، آقاضیاء الدین عراقی رحمۃ اللہ علیہ، سب آپ کے شاگردھیں، البتہ آپ زیادہ تر علم اصول میں مشھور تھے، آپ کی کتاب” کفایة الاصول“ بہت معروف ھے۔15
رحمۃ اللہ علیہ ۱۳۲۹ ھ۔ق۔ کو نجف اشرف میں انتقال ھوا آپ کی قبر مقبرہ جنوب میں باب الذہب کے دالان میں واقع ھے، اور آپ ھی کے بغل میں مشھور فقیہ میرزا حبیب اللہ رشتی رحمۃ اللہ علیہ اور سید ابوالحسن اصفھانی رحمۃ اللہ علیہ بھی دفن ھیں ۔

 
6۔ آیة اللہ بہبھانی رحمۃ اللہ علیہ

محمد باقرابن محمد اکمل بہبھانی رحمۃ اللہ علیہ، جو وحید بہبھانی کے نا م سے جانے جاتے ھیں، آپ نے کربلا کو اپنا مرکز بنا لیا تھا، اور وھیں سے بہت سے شاگرد پر وان چڑھائے، سید بحرالعلومرحمۃ اللہ علیہ اور شیخ جعفر کاشف الغطا رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ اللہ علیہ آپ کے شاگردوں میں شمار ھوتے ھیں ۔16
یہ مخالفوں کے ھاتھوں شھید کردئے گئے تھے، ان کی قبر دوسرے مقبرہ میں شمال کی طرف باب سوق میں واقع ھے۔17

 
7۔ میرزا نائینی رحمۃ اللہ علیہ

آیة اللہ حاج میرزا حسین نائنی رحمۃ اللہ علیہ چودھویں صدی ہجری کے بزرگ فقھاء واصولین میں شمار ھوتے ھیں، آپ کا مزار بھی نجف اشرف میں حرم کے قریب جنوبی سمت میں واقع ھے۔

 
8۔ آرامگاہ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ

ابو جعفر شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ (بانی ٴحوزئہ علمیہ نجف اشرف کے) شھر طوس (خراسان) میں ۳۸۵ھ۔ق۔ میں پیدا ھوئے، آپ” کتب اربعہ“ میں دو کتا بوں کے موٴلف ھیں، بچپن سے جوانی تک کا زمانہ گھریلوں تعلیم وتربیت میں گزرا، پھر آپ بغداد پہنچے جھاں محلہ کرخ میں مسجد نقطویہ نحوی میں اصول کافی کا درس ھوتا تھا، یوں تو شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے کتنے ھی بزرگ اساتیدکے سامنے زانوئے ادب تہ کیا، لیکن شیخ مفیدرحمۃ اللہ علیہ اور سید مرتضیٰرحمۃ اللہ علیہ سے آپ نے زیادہ علمی استفادہ کیا، ایک مرتبہ شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ کی درس گاہ اور ان کا سارا سامان بغدادمیں جلا دیاگیا، وھاں سے شیعہ خوف وھراس کے عالم میں ترک سکونت کرنے لگے آخر کار۴۴۸ھ۔ق۔ میں شیخ بھی تنگ آکر نجف اشرف منتقل ھوگئے، اور۲۲ رجب ۴۶۰ ھ کو پچھتر ۷۵ سال کی عمر میں انتقال فرمایا اور اپنے ھی مکان میں دفن ھو ئے ۔
یوں تو شیخ طوسی رحمۃ اللہ علیہ نے ھر موضوع پر کتابیں لکھیں جن کی تعداد سیکڑوں میں ھے لیکن”تہذیب“ اور”استبصار“ آپ کی مھم تصانیف ھیں ۔ ۱)

 
9۔ آقا سید ابوالقاسم خوئی رحمۃ اللہ علیہ

جناب آیة اللہ العظمیٰ سید ابولقاسم الخوئی کی ولادت، ۱۵ رجب المرجب ۱۳۱۷ء ھ کو شھرخوئی(آذربائیجان ایران) میں ھوئی، آپ اپنے والد محترم کے ھمراہ ۱۳۳۰ھ۔ق۔ میں نجف اشرف روانہ ھوئے اوراسی شھر کو اپنا مسکن بنالیا پھر یھاں حصول علم کی خاطر میر زا نائینی اور محقق اصفھانی جیسے جید علماء اور اساتید کے سامنے زانوئے ادب تہہ کیااور آخر کار مرحوم آیة اللہ محسن حکیم کے بعد ایک مرجع کی صورت میں عالم اسلام کے سامنے خود کو پیش کیا۔
آیة اللہ شھید محمد باقر صدر رحمۃ اللہ علیہ، آیة اللہ محمد تقی بہجت، علامہ محمد تقی جعفری، آیة اللہ شیخ کاظم تبریزی، آیةاللہ شیخ مرتضیٰ نجفی، آیة اللہ شیخ حسن صافی اصفھانی آپ کے شاگردوں میں شمار ھوتے ھیں ۔
آپ کی تالیف کردہ کتابوں میں ”البیان فی تفسیر القر آن“ ، ”رسالہٴ لباس مشکوک“ ، ”منھاج الصالحین“ اور ”معجم رجال الحدیث“ بہت زیادہ معروف ھیں ۔
آقائی خوئی رحمۃ اللہ علیہ نے سات صفر ۱۴۱۳ھ۔ق۔ میں وفات پائی، نجف اشرف میں حرم امام علی علیہ السلام کے میں آپ کی قبر واقع ھے۔
اس کے علاوہ اور کئی علماء کی قبریں صحن امام علی علیہ السلام یا اطراف حرم میں موجود ھیں، ان بزرگان اور علماء میں سید ابوالحسن اصفھانی رحمۃ اللہ علیہ، شیخ محمد حسن آشتیانی رحمۃ اللہ علیہ رحمۃ اللہ علیہ، سید محمد شاھرودی رحمۃ اللہ علیہ، حاج آقا حسین قمی رحمۃ اللہ علیہ، اور آقاضیاء الدین عراقی رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ شامل ھیں ۔

 
مسجد شیخ انصاری رحمۃ اللہ علیہ

اس مسجد میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نماز جماعت پڑھایا کرتے تھے اور درس بھی اسی مسجد میں دیا کرتے تھے ۔

مقام حضرت زین العابدین علیہ السلام

جب چوتھے امام علیہ السلام اپنے جد کی زیارت کے لئے نجف آئے تو آپ نے اس مسجد میں نماز پڑھی آج بھی یہ مقام نجف اشرف کے مغرب میں واقع ھے۔

 

مسجد ہندی

یہ مسجد، مسجد ہندی کے نام سے جانی جاتی ھے اوریہ نجف کی بزرگ ترین مساجد میں شماھوتی ھے، اور حرم مبارک مولا علی علیہ السلام کے نزدیک واقع ھے اس مسجد کے بارے میں نقل کیا گیا ھے کہ جب اس کا سنگ بنیاد رکھا جارھا تھا تو یہ شرط لگائی گئی کہ وہ شخص اس کا سنگ بنیاد رکھے گا، جو کبھی بھی حالت جنابت میں نہ سویا ھو، اور نہ ھی اس کی نماز شب کبھی قضا ھوئی ھو، اس وقت فقط اس شخص کے علاوہ کوئی دوسرا ان شرائط پر نہ ا تر سکا لہٰذا اس بزرگ کے دست مبارک سے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور انھیں کے نام سے اس مسجد کے نام کو منسوب کردیا گیا ۔
________________________________________

1.بحارالانوار ماخوذاز”عتبات عالیات“نجف اشرف۔
2.تاریخ شیعیان علی
3.یہ ایک امام علیہ السلام کے زیارت کرنے کا طریقہ ھے، لہٰذا ھمیں بھی اس سنت پر عمل کرنا چاہئے۔
4.مفاتیح الجنان “باب زیارت امیرالمومنین علیہ السلام ۔
5.خاندان عصمت “امام علی علیہ السلام۔
.6مفاتیح الجنان“۔ باب زیارت امیرالمومنین علیہ السلام ۔
.7عتبات عالیات نجف اشرف۔
8 . رسالہٴ توحید“ج ۸، شمارہ ۳ ۔
9 . رسالہٴ توحید“ج ۸، شمارہ ۳ ۔
10 . عتبات عالیات “نجف اشرف۔
11.علم فقہ “شھید مطہری رحمۃ اللہ علیہ ۔
12.علم فقہ “شھید مطہری رحمۃ اللہ علیہ ۔
13.علم فقہ “شھید مطہری رحمۃ اللہ علیہ ۔
14.علم فقہ “شھید مطہری رحمۃ اللہ علیہ ۔
15.علم فقہ “شھید مطہری رحمۃ اللہ علیہ ۔
16.علم فقہ“ شھید مطہری رحمۃ اللہ علیہ ۔
17.عتبات عالیات“نجف اشرف۔


source : alhassanain
273
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

حضرت خدیجۃ الکبری سلام اللہ علیھا
جناب خدیجہ کے ساتھ شادی
امامت آیہء مباہلہ کی روشنی میں
ايران کے اسلامي انقلاب کے اثرات
تاريخ اسلام کي ايک عظيم المرتبت خاتون " حميدہ بنت ...
بوہری اور آغا خانیوں میں کیا فرق ہے؟ انکی تاریخ کیا ہے ...
بنی نجار میں ایک عورت
واقعہ قرطاس
تاریخ تشیع
صلح امام حسن (ع) کیوں؟ صلح کے ثمرات

 
user comment