اردو
Friday 12th of August 2022
0
نفر 0

قرآن مجید میں عیب جوئي کی مذمت

مذھبی تعلیم کی تحقیق قرآن مجید عیب جو حضرات کوبرے انجام سے ڈراتے ھوئے ان کی اس بری عادت کا نتیجہ بتاتا ھے ؛ ” ویل لکل ھمزة لمزة “ (۱ ) ھر طعنہ دینے والے چغلخور کے لئے ویل ھے ۔
قرآن مجید میں عیب جوئي کی مذمت

مذھبی تعلیم کی تحقیق

قرآن مجید عیب جو حضرات کوبرے انجام سے ڈراتے ھوئے ان کی اس بری عادت کا نتیجہ بتاتا ھے ؛
” ویل لکل ھمزة لمزة “ (۱ ) ھر طعنہ دینے والے چغلخور کے لئے ویل ھے ۔

اسلام نے معاشرہ کی وحدت کی حفاظت کے لئے زندگی کے اندر اصول ادب کی رعایت کو ضروری قرار دیا ھے اور عیب جوئی جو تفرقہ کا سبب اور دوستانہ روابط کے قطع کرنے کی علت ھے ، کو حرام قرار دیا ھے ۔ مسلمانوں کا فریضہ ھے کہ ایک دوسرے کے احترام کو باقی رکھیں ! اور کسی کی اھانت نہ کریں! امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ھیں: ایک مومن کو دوسرے مومن سے اس طرح سکون ملتا ھے جس طرح پیاسے کو ٹھنڈے پانی سے سکون ملتا ھے ۔ ( ۲)

 

امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ھیں : ایک انسان کے اخلاقی عیب کے اثبات کے  لئے یھی بات کافی ھے کہ وہ دوسروں کے جس عیب کو دیکھتا ھے اسی عیب کو اپنے یھاں نھیں دیکہ پاتا ۔ یا یہ کہ دوسروں کو جس کام پر سر زنش کرتا ھے وھی کام خود بھی کرتا ھے یا اپنے دوست کو لا یعنی باتوں سے آزار پھونچاتا ھے ۔ ( ۳)

 

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں : خبر دار ! لوگوں کے عیوب تلاش کرنے والوں کی صحبت سے پرھیز کرو کیونکہ ان لوگوں کا ھم نشین بھی ان کی عیب جوئی سے نھیں بچ سکے گا ۔ ( ۴)

 

اس سلسلہ میں حضرت علی علیہ السلام نے بھت اچھی بات فرمائی ھے : تمھارے نزدیک سب سے بر گزیدہ ترین اس شخص کو ھونا چاھئے جو تم کو تمھارے نقص و عیب کی طرف متوجہ کرے اور تمھاری روح و جان کی مدد کرے ۔

 

ویل کارنگی کھتا ھے : ھمیں اور آپ کو بڑی خوشی کے ساتھ اپنے خلاف ھونے والے نقد و تبصروں کو قبول کر لینا چاھئے ۔ کیونکہ ھم اس سے زیادہ کی توقع نھیں کر سکتے کہ ھمارے اعمال و افکار کا ۳/۴ حصہ صحیح و درست ھو ۔ حد یہ ھے کہ عصر حاضر کا عمیق ترین مفکر” آنسٹائن “بھی اس بات کا معترف ھے کہ اس کے سو میں ننانوے استنتاجات مبنی بر اشتباہ تھے ۔ جس وقت بھی کوئی دشمن ھم پر نقد و تبصرہ کرتا ھے اگر ھم متوجہ نہ ھو ں تو بغیر یہ جانے ھوئے کہ ھمارا مخاطب ھم سے کیا کھنا چاھتا ھے خود بخود ھمارے اندر دفاع کی حالت پیدا ھو جاتی ھے ۔ ھم میں سے ھر شخص اپنے اوپر نقد و تبصرہ سن کر چیں بہ جبیں ھو جاتا ھے اور تعریف و تحسین سے خوشحال ھو جاتا ھے بغیر یہ سوچے ھوئے کہ ھماری جو تنقید یا تحسین کی جار ھی ھے وہ غلط ھے یا صحیح ؟

 

در اصل ھم استدلال و منطق کی مخلوق نھیں ھیں بلکہ ھم احساسات و جذبات کی  مخلوق ھیں ۔ ایک گھرے و تاریک و متلاطم سمندر میں جس طرح ایک چھوٹی سی کشتی ادھر ادھر اچھلتی رھتی ھے اسی طرح ھماری عقل و منطق بھی ھے ھم میں سے اکثر لوگ اپنے بارے میں بھت زیادہ خوش فھمی میں مبتلاء ھوتے ھیں ۔ لیکن جب چالیس سال پیچھے کی طرف دیکھتے ھیں تو اپنی موجودہ حالت پر ھنسی آتی ھے۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا : اگر کوئی دوسروں کے عیوب تلاش کرتا ھے تو اس کو پھلے اپنی ذات سے ابتدا ء کرنی چاھئے ۔( ۵)

 

 ڈاکٹر ھیلن شاختر کھتا ھے : دوسروں کی رفتار و گفتار پر بے جا اعتراض کرنے سے بھتر یہ ھے کہ ان کی مدد کریں ۔

جاھل شخص اپنے عیوب کو دور کرنے کے بجائے اس کے چھپانے کی کوشش کرتا ھے ۔

حضرت علی علیہ السلام فرماتے ھیں: انسان کی خود فریبی و نادانی کے لئے یھی کافی ھے کہ دوسروں کے عیوب کا مشاھدہ کرتے ھوئے اپنے عیوب کو چھپانے کی کوشش کرتا ھے ۔ (۶)

 

ڈاکٹر آویبوری کھتا ھے: ھم اپنی جھالت کی وجہ سے اپنے بھت سے عیوب سے چشم پوشی کرتے ھیں ،اور ان عیوب پر غفلت و تجاھل کا پردہ اس لئے ڈالتے ھیں تاکہ اپنے نفس کو دھوکہ دے سکیں ۔ سب سے زیادہ اس پر تعجب ھے کہ ھم اپنے عیبوں کو تو لوگوں کی نظروں سے چھپانے کی کوشش کرتے ھیں لیکن ان کے اصلاح کی طرف بالکل نھیں سوچتے اور اگر ھمارا کوئی ایسا عیب ظاھر ھو جائے جس کے چھپانے پر ھم قادر نہ ھوں تو ھزاروں ایسے عذر پیدا کر لیتے ھیں جس سے اپنے نفس کو راضی کر سکیں اور دوسروں کو بیوقوف بنا سکیں جس کا مقصد صرف یہ ھوتا ھے کہ لوگوں کی نظروں میں اس عیب کی اھمیت کم کر سکیں ، حالانکہ ھم اس حقیقت سے غافل ھوتے ھیں کہ عیب چاھے جتنا ھلکا ھو وہ مرور ایام کے ساتھ ثقیل ھو تا جاتا ھے ۔جیسے بیج رفتہ رفتہ بھت بڑا درخت بن جاتا ھے ۔( ۷)

 

آج علمائے نفس کے یھاں یہ بات پایھٴ ثبوت کو پھونچ چکی ھے کہ نفس کی بیماریوں اور اس کے علاج کا صرف ایک ھی طریقہ ھے کہ نفس کا مطالعہ کیا جائے اور اس کے بارے میں غور و فکر کی جائے ۔حضرت علی علیہ السلام نے بھی نفسانی بیماریوں کا علاج اسی طرح بیان فرمایا ھے چنانچہ ارشاد فرمایا : ھر عقلمند پر لازم ھے کہ اپنے نفس ( کی بیماریوں ) کا احصاء کرے اور ایمان و عقیدہ و اخلاق و آداب کے سلسلہ میں نفس و روح کے مفاسد و رذائل کو حاصل کر لے یا ان کو اپنے سینے میں محفوظ کر لے یا کسی ڈائری میں لکہ لے اس کے بعد ان کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لئے اقدامات کرے ۔ ( ۸)

 

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔سورہ ھمزہ/۱

۲۔کافی ج /۲ ص/ ۲۴۷

۳۔کافی ج/۲ ،ص/ ۴۵۹

۴۔غرر الحکم ص/ ۱۴۸

۵۔غرر الحکم ص/ ۶۵۹

۶۔ غرر الحکم ص/ ۵۵۹

۷۔در جستجو ئے خوش بختی

۸۔غرر الحکم ص /


source : tebyan
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:
لینک کوتاه

latest article

کلمہ ٴ ”مو لیٰ“ کے معنی کے متعلق بحث
عید سعید فطر
بنت علی حضرت زینب سلام اللہ علیہا ، ایک مثالی ...
انسان قرآن کی نظر میں
اسلام ميں سماجی حقوق (پہلا حصہ)
تحویل قبلہ
قول و فعل میں یکسانیت اورزبان پر کنٹرول
ماہ رجب کی فضیلت اور اس کے اعمال
امام علی النقی علیہ السلام کی چالیس حدیثیں
جنت البقیع کے یوم انہدام پر قائد ملت جعفریہ ...

 
user comment