اردو
Saturday 17th of April 2021
2693
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

کتب اھل سنت میں بارہ اماموں کا ذکر

اھل سنت کی معتبر کتابوں میں بارہ اما م خصوصاً امام مھدی ارواحنا لہ الفداء (عج) کے اوصاف کے بارے میں متعدد روایات موجود ھیں،یھاں تک کہ ان احادیث کی وجہ سے بعض علمائے اھل سنت نے اپنی اپنی کتابوں میں آخری امام کیلئے ایک مستقل فصل قرار دی ھے اور بعض نے امام عصر(ع) کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھی ھیں،لیکن فی الحال ھم صحیحین سے اس بارے میں نقل شدہ روایات پیش کر نے پر اکتفا ء کرتے ھیں :
کتب اھل سنت میں بارہ اماموں کا ذکر

ھل سنت کی معتبر کتابوں میں بارہ اما م خصوصاً امام مھدی ارواحنا لہ الفداء (عج) کے اوصاف کے بارے میں متعدد روایات موجود ھیں،یھاں تک کہ ان احادیث کی وجہ سے بعض علمائے اھل سنت نے اپنی اپنی کتابوں میں آخری امام کیلئے ایک مستقل فصل قرار دی ھے اور بعض نے امام عصر(ع) کے بارے میں مستقل کتابیں بھی لکھی ھیں،لیکن فی الحال ھم صحیحین سے اس بارے میں نقل شدہ روایات پیش کر نے پر اکتفا ء کرتے ھیں :
۱۔,,…عن عبد الملک؛ سمعت جابر بن سمرة ؛قال: سمعت النبی(ص)یقول: یکون اثنیٰ عشرامیرا، فقال کلمة، لم اسمعها،فقال ابی: انه قال: کلهم من قریش“ [1]
عبد الملک نے جابر بن سمرہ سے نقل کیا ھے:
میں نے رسول خدا(ص) سے سنا : آپ نے فرمایا: (میرے بعد میرے) بارہ امیر و خلیفہ ہوں گے، جابر کھتے ھیں : دوسرا کلمہ میں نے ٹھیک سے نھیں سنا جس میں آنحضرت(ص) نے ان بارہ خلفاء کے بارے میں بتلایا تھا کہ وہ کس قبیلہ سے ہوں گے، لیکن بعد میں میرے پدر بزگوار نے مجھ سے کھا: وہ جملہ جو تم نے نھیں سنا وہ یہ تھا کہ وہ تمام خلفاء قریش سے ہوں گے۔
مسلم نے بھی اس حدیث کو آٹھ سندوں کے ساتھ اپنی کتاب میں نقل کیا ھے اور ا ن میں سے ایک حدیث میں اس طرح آ یا ھے:
”…جابر بن سمرة؛ قال:انطلقتُ الی رسول(ص) اللّٰہ ومعی ابی، فسمعته، یقول: لایَزَالُ هذَا الدین عَزِیزاً مَنِیعاً اِلیٰ اِثْنیٰ عَشَرَ خلیفة،ً قال کلمة ،صَمَّنِیْها الناس،ُ فقلتُ لابی ما قال؟ قال :کلهم من قریش“ [2]
جابر بن سمرہ کھتے ھیں :
ایک مرتبہ میں اپنے والد بزرگوار کے ساتھ خدمت رسول خدا(ص) میں مشرف ہوا تو میں نے رسول(ص) سے سنا :آپ فرما رھے تھے: یہ دین الہٰی بارہ خلفاء تک عزیز اور غالب رھے گا،اس کے بعد دوسرا جملہ میں نہ سن سکا کیو نکہ صدائے مجلس سننے سے حا ئل ہوگئی تھی، لیکن میرے پدر بزرگوار نے کھا :وہ جملہ یہ تھا:یہ تمام بارہ خلفاء قریش سے ہوں گے۔

اس حدیث کومختلف مضامین کے ساتھ اھل سنت کی اھم کتابوں میں کثرت کے ساتھ نقل کیا گیا ھے اور یہ حدیث مسلمانوں کے دیگر فرقوں کے بطلان اور مذھب شیعہ کے حق ہونے پر ایک محکم و مضبوط دلیل ھے، اس لئے کہ اس حدیث کا مضمون مذھب شیعہ کے علاوہ کسی اور فرقہ ٴ اسلامی کے رهنماؤں سے منطبق نھیں ہوتا،کیونکہ اھل سنت خلفائے راشدین (جو چار ھیں ) کے قائل ھیں ، یا پھر امام حسن مجتبی (ع) کی خلافت کو ملا دیں توپانچ ہوتے ھیں ، لیکن حدیث میں رسول(ص) نے بارہ فرمائے ھیں ، لہٰذا ان کے مذھب سے یہ حدیث منطبق نھیں ہوتی اور اگر خلفائے بنی امیہ و بنی عباس کو ملایا جائے توسب سے پھلے یہ کہ ان کی تعداد بارہ سے زیادہ ہوتی ھے۔دوسرے یہ کہ ان میں سے اکثرخلفاء اھل فسق و فجور تھے، انھوں نے اپنی ساری عمر گناہوں ،قتل، غارتگری و خونریزی ، شراب نوشی اور زناکاری میں گزاری لہٰذا رسول(ص) ان کو کیسے اپنا جانشین قرار دے سکتے ھیں ؟! پھرجس طرح یہ حدیث اھل سنت حضرات کے خلفاء کی تعداد سے منطبق نھیں ہوتی اسی طرح فرقہٴزیدیہ،اسماعیلیہ ، فطحیہ، سے بھی منطبق نھیں ہوتی ،کیونکہ ان کے مذھب کے خلفاء کی تعداد ۱۲ سے کم ھے، لہٰذا صرف شیعہ اثنا عشریہ کے خلفاء کی تعداد سے منطبق ہوتی ھے، ان میں سر فھرست مولائے متقیان حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام اور آخر حضرت مھدی حجة ابن الحسن العسکری (عج) ارواحنا لہ الفداء ھیں ۔
۲۔ … جابر بن عبدالله وابوسعید قالا: قال رسول الله :یکون فی آخر الزمان خلیفة یقسم المال ولا یعده۔ [3]
جابر بن عبد اللہ اور ابوسعید نے رسول اکرم(ص) سے نقل کیا ھے :
آپ(ص) نے ارشاد فرمایا: آخری زمانہ میں میرا ایک جانشین و امام ہوگا جو مال و ثروت کو( ناپ و تول کے ساتھ ) تقسیم کرے گا نہ کہ گنے گا۔
۳۔ … عن ابی سعید؛ قال: قال رسول الله : من خلفاء کم خلیفة یحشو المال حشیاً ولا یعده عداً۔ [4]
ابو سعید نے رسول خدا(ص) سے دوسری حدیث نقل کی ھے ؛ آنحضرت(ص) نے فرمایا: تمھار ے خلفاء اور ائمہ میں سے ایک خلیفہ و امام وہ ہوگا جو مال کو مٹھی سے تقسیم کرے گا نہ کہ عدد و شمار سے۔
امام زمانہ (عج) کے بارے میں فاضل نَوَوی شارح صحیح مسلم؛ مذکور ہ حدیث کی لغت حل کرنے کے بعد لکھتے ھیں :
سونا اور چاندی کی اس قسم کی تقسیم ک ا سبب یہ ھے کہ اس وقت ان حضرت(ع) کی وجہ سے کثرت سے فتوحا ت ہوں گی جن سے غنائم اورمال وثروت فراوانی سے حا صل ہوگا اور آپ اس وقت اپنی سخاوت اور بے نیاز ی کا اس طرح مظاھرہ فرمائیں گے، اس کے بعد کھتے ھیں : سنن ترمذی و ابی واؤد میں ایک حدیث کے ضمن میں اس خلیفہ کا نام (مھدی) مرقوم ھے، اس کے بعد اس حدیث کو سنن ترمذ ی سے نقل کرتے ھیں کہ رسول(ص) نے فرمایا :قیامت واقع نھیں ہوگی جب تک میرے اھل بیت ( خاندان )سے میرا ھمنام، جانشین ظاھر ھو کر عرب پر مسلط نہ ھو جائے۔
اس کے بعد نووی کھتے ھیں :
ترمذی نے اس حدیث کو صحیح جانا ھے اور سنن داوٴد میں اس حدیث کے آخر میں یہ بھی تحریر ھے : ” وہ خلیفہ اس زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دے گا جیسے وہ ظلم و ستم سے بھری ہوگی۔“
۴۔ امام بخاری نے ابوھریرہ سے نقل کیا ھیکہ آنحضرت نے فرمایا:
”کَیْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ اِبنُ مَرْیَم فِیکُم وَاِمامُکم مِنْکُمْ“[5]
تمھارا اس وقت خوشی سے کیا حال ہوگا جب ابن مریم حضرت عیسی تمھارے درمیان نازل ہوں گے اور تمھارا امام تم میں سے ہوگا؟
ابن حجر نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا ھے کہ امام شافعی اپنی کتاب ”المناقب“ میں تحریر کرتے ھیں :
اس امت میں امام مھدی (ع)کا وجود اور آپ کا حضرت عیسی (ع) کو نماز پڑھانا حد تواتر کے طور پر ثابت ھے۔[6]
ابن حجر اس کے بعد کھتے ھیں :
بدر الدین عینی اس حدیث کی مفصل شرح کرنے کے بعد اس طرح نتیجہ گیری کرتے ھیں :
”حضرت عیسی (ع) کا اس امت مسلمہ کے امام مھدی(ع) کے پیچھے قیامت سے نزدیک آخری زمانہ میں نماز پڑھنا ،اس بات کی دلیل ھے کہ جو لوگ قائل ھیں کہ زمین کبھی حجت خد ا سے خالی نھیں ، وہ درست ھے اور ان کا یہ عقیده حق بجانب ھے۔“[7]
اور امام نووی”کتاب تہذیب الاسماء“ میں کلمہٴعیسیٰ کے ذیل میں تحریر کرتے ھیں:
” حضرت عیسیٰ(ع) کا آخری زمانہ میں امام مھدی(ع) کے پیچھے نماز پڑھنے کیلئے آنا اسلام کی تائید اور تصدیق کی خاطر ھے ،نہ کہ اپنی نبوت اور مسیحت کو بیان کرنے کے لئے اور خدا وند متعال حضرت عیسیٰ(ع) کو امام مھدی (ع) کے پیچھے نماز پڑھواکر رسول (ص)اکرم کے احترام میں اس امت اسلام کو قابل افتخار بنانا چاھتا ھے۔“[8]
قارئین محترم! یہ تھی چند حدیثیں جوصحیحین میں وارد ہوئی ھیں ،جن سے بعض عقیدہٴتشیع کی تائیدہوتی ھے،لیکن مذکورہ مطالب کو صحیح بخاری اورصحیح مسلم کے بعض متعصب شا رحین اور عصر حا ضر کے چند نام نھاد سنی مصنفین ہضم کرنے سے قاصر نظر آتے ھیں (اورنہ جانے کیوں ان مطالب کی بنا پر عارضہٴ شکم ِ درد میں مبتلا دکھائی دیتے ھیں!)اور بجائے اس کے کہ یہ لوگ ان حدیثوں کے مفہوم کے سامنے سرتسلیم خم کرتے،انھوں نے ایسی ایسی الٹی،سیدھی،ضد و نقیض اور غیر قابل ِ قبول توجیھات و تاویلات نقل کی ھیں جو صریحا عقل و نقل کے خلاف ھیں ۔
چنانچہ عصرحا ضر کے بعض محققین جب ان توجیھات کے فساد کی طرف متوجہ ھو ئے تو انھوں نے سرے سے مذکورہ حدیثوں کی شرح کرنے سے گریز کرتے ہوئے ایک دوسرا راستہ اپنایا! مثلاً شیخ محمود ابوریہ اپنی کتاب میں اس حدیث کی شرح کرنے سے گریز کرتے ہوئے اس طرح لکھتے ھیں :
”یہ روایات مشکل ترین حدیثوں میں سے ھیں،جن کا سمجھنا بھت دشوار ھے، بلکہ اس کے واقعی مفہوم کو درک کرنا ھمارے امکان میں ھے ھی نھیں، لہٰذا ان حدیثوں کی تشریح کے بجائے ھ میں اپنا گرانقدروقت اور اپنی قیمتی عمر دوسرے مفیدعلمی مطالب میں صرف کر نی چاھیئے۔‘ ‘[9]

جی ھاں!جو احادیث ان کے عقیده کے خلاف ہوتی ھیں، وہ ان کے نزدیک قابل ِ بحث و تمحیث اور لائق تشریح و تو ضیح نھیں ہوا کرتیں!!ان کا واقعی مفہوم درک(ہضم ) کرنا ان کے بس میں نھیں ہوتا!!حقائق بیان کرنے سے یونھی جان چرائی جاتی ھے ،اللہ بچائے ایسے ناحق شناسوں سے ۔

حوالہ جات

[1] صحیح بخاری ج۹، کتاب الاحکام، باب(۵۲)”استخلاف“ حدیث۶۷۹۶۔ صحیح مسلم ج۶، کتاب الامارة، باب(۱۱)” الناس تبع القریش و الخلافة فی قریش“حدیث ۱۸۲۱۔
[2] صحیح مسلم ج ۶ ،کتاب الامارہ ،باب۱حدیث۱۸۲۱۔(کتاب الامارة کی حدیث نمبر۹) ۔
[3] صحیح مسلم جلد۸ ،کتاب الفتن ،باب” لاتقوم الساعة حتی یمر الرجل…“ حدیث۲۹۱۳۔۲۹۱۴۔
[4] صحیح مسلم جلد۸ ،کتاب الفتن، باب ”لاتقوم الساعة حتی یمر الرجل…“ حدیث۲۹۱۳،۲۹۱۴۔
[5] صحیح بخاری جلد۴ ،کتاب الانبیاء ،باب ”نزول عیسی ابن مریم “حدیث ۳۲۶۵۔
[6] فتح ا لباری شرحا لبخاری ج۷ ،کتاب الانبیاء باب قولہ تعالی : واذکر فی الکتاب مریم …ص ۳۰۵۔
[7] عمدة القاری جلد۱۶ ،کتاب الانبیاء باب قولہ تعالی : واذکر فی الکتاب مریم …۔
[8] الا صابة جلد۴،عیسی المسیح بن مریم الصدیقة بنت عمران ، ص۶۳۸۔
[9] اضواء علی السنة المحمدیہ ، مصنفہ، شیخ محمود ابوریہ۔


source : alhassanain
2693
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

اقوال حضرت امام علی النقی علیہ السلام
امام حسین اپنے والد بزرگوار کے ساتھ
بعثت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآله وسلم کے خطوط بادشاہوں اور ...
سیدالشہداء کے لئے گریہ و بکاء کے آثار و برکات
پیغمبر (ص) امامت کو الٰہی منصب سمجھتے ہیں
باغ فدک کے تعجبات
نبوّت عامہ اور امامت
پیغام کربلا، مظلوم کربلا کی زبان مبارک سے
ولایت کے دفاع میں فاطمہ زہراء کا کردار

 
user comment