اردو
Thursday 1st of October 2020
  12
  0
  0

خدا کے غضب سے بچو

قرآن میں ہم دیکھتے ہیں کہ غضب کا لفظ بعض مخصوص کے لیۓ استعمال ہوا ہے ۔ مثال کے طور پر قوم عاد کے لیۓ ۔ جن پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے ان کے گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دوسرے افراد سے سنگین ہوتے ہیں ۔ قرآن سے رہنمائی لیتے ہیں کہ کن چیزوں کی وجہ سے خدا کا غضب نازل ہوتا ہے ۔ 1۔ وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۔ (شورى- 16) ترجمہ : اور جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے
خدا کے غضب سے بچو

قرآن میں ہم دیکھتے ہیں کہ غضب کا لفظ بعض مخصوص کے لیۓ استعمال ہوا ہے ۔ مثال کے طور پر قوم عاد کے لیۓ ۔ جن پر خدا کا غضب نازل ہوتا ہے  ان کے گناہ ایسے ہوتے ہیں کہ وہ دوسرے افراد سے سنگین ہوتے ہیں ۔
قرآن سے رہنمائی لیتے ہیں کہ کن چیزوں کی وجہ سے خدا کا غضب نازل ہوتا ہے ۔
1۔ وَالَّذِينَ يُحَاجُّونَ فِي اللَّهِ مِن بَعْدِ مَا اسْتُجِيبَ لَهُ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِندَ رَبِّهِمْ وَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ شَدِيدٌ ۔ (شورى- 16)
ترجمہ : اور جو لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں بعد اس کے کہ اسے مان لیا گیا ہے، ان کے پروردگار کے نزدیک ان کی دلیل باطل ہے اور ان پر غضب ہے اور ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔
2۔ وَإِذْ قُلْتُمْ يَا مُوسَى لَن نَّصْبِرَ عَلَىَ طَعَامٍ وَاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنبِتُ الأَرْضُ مِن بَقْلِهَا وَقِثَّآئِهَا وَفُومِهَا وَعَدَسِهَا وَبَصَلِهَا قَالَ أَتَسْتَبْدِلُونَ الَّذِي هُوَ أَدْنَى بِالَّذِي هُوَ خَيْرٌ اهْبِطُواْ مِصْراً فَإِنَّ لَكُم مَّا سَأَلْتُمْ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ وَبَآوُوْاْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللَّهِ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ كَانُواْ يَكْفُرُونَ بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ الْحَقِّ ذَلِكَ بِمَا عَصَواْ وَّكَانُواْ يَعْتَدُونَ۔ (بقره- 61)
ترجمہ : اور ( وہ وقت یاد کرو) جب تم نے کہا تھا : اے موسیٰ! ہم ایک ہی قسم کے طعام پر ہرگز صبر نہیں کر سکتے، پس آپ اپنے رب سے کہہ دیجیے کہ ہمارے لیے زمین سے اگنے والی چیزیں فراہم کرے، جیسے ساگ، ککڑی، گیہوں، مسور اور پیاز، (موسیٰ نے) کہا:کیا تم اعلیٰ کی جگہ ادنیٰ چیز لینا چاہتے ہو؟ ایسا ہے تو کسی شہر میں اتر جاو جو کچھ تم مانگتے ہو تمہیں مل جائے گا اور ان پر ذلت و محتاجی تھوپ دی گئی اور وہ اللہ کے غضب میں مبتلا ہو گئے، ایسا اس لیے ہوا کہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے رہتے تھے اور انبیاء کو ناحق قتل کرتے تھے اور یہ سب اس لیے ہوا کہ وہ نافرمانی اور حد سے تجاوز کیا کرتے تھے۔
3۔ وَمَن يَقْتُلْ مُوْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَآوُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا (نساء- 93)
ترجمہ : اور جو شخص کسی مومن کو عمداً قتل کر دے تو اس کی سزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہو گی اور ایسے شخص کے لیے اس نے ایک بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ ( جاری ہے )


source : tebyan
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

باب تقلید
روز حساب
قبر کی پہلی رات
اللّٰہ کی تعریف اور توصیف میں
مولی کے لغوی معنی میں غور و فکر
نبوت عامہ -2
جن اور اجنہ کےبارے میں معلومات (قسط -2)
شیعہ اور اہل سنت کے امام مہدی علیہ السلام کے بارے میں ...
ولایت ہی امتِ مسلمہ و ملتِ تشیع کے لئے نکتۂ اتحاد ہے
ولایت؛ کیوں اور کیسے؟

 
user comment