اردو
Thursday 17th of June 2021
418
0
نفر 0
0% این مطلب را پسندیده اند

قرآن سے انسيت كے مرتبے

معاشرے ميں قرآني تعليمات کو عام کرنا نہايت ضروري ہے - ابھي تک اس بارے ميں کوئي خاطر خواہ کام نہيں ہوا ہے - اس ليۓ ضرورت اس امر کي ہے کہ اس شعبۂ ميں زيادہ سے زيادہ کام کيا جاۓ تاکہ ہمارا معاشرہ قرآن کي شفاعت سے بہرہ مند ہو سکے - ہمارے عوام قرآن سيکھيں، حفظ قرآن کا رواج ہونا چاہئے، ہمارے گھروں ميں ہميشہ تلاوت قرآن ہوني چاہئے- آپ کو معلوم ہے کہ اسلام قرآت قرآن کے سلسلے ميں کيا کہتا ہے؟ ’’اشرف امتي اصحاب الليل و حملہ القرآن‘‘
قرآن سے انسيت كے مرتبے

معاشرے ميں قرآني تعليمات کو عام کرنا نہايت ضروري ہے - ابھي تک اس بارے ميں کوئي خاطر خواہ کام نہيں ہوا ہے - اس ليۓ  ضرورت اس امر کي ہے کہ  اس شعبۂ ميں زيادہ سے زيادہ کام کيا جاۓ تاکہ ہمارا معاشرہ قرآن کي شفاعت  سے بہرہ مند ہو سکے - ہمارے عوام قرآن سيکھيں، حفظ قرآن کا رواج ہونا چاہئے، ہمارے گھروں ميں ہميشہ تلاوت قرآن ہوني چاہئے- آپ کو معلوم ہے کہ اسلام قرآت قرآن کے سلسلے ميں کيا کہتا ہے؟

’’اشرف امتي اصحاب الليل و حملہ القرآن‘‘

ميري امت کے معززين شب زندہ دار اور حاملات قرآن افراد ہيں-

حمل قرآن کا مطلب صرف يہ نہيں ہے کہ ہم قرآني تعليمات و قوانين پر عمل کرتے ہيں بلکہ قرآن سے انسيت ضروري ہے- قرآن کي تلاوت کي جائے، قرآن کو حفظ کيا جائے، گھروں سے تلاوت قرآن کي دلنواز صدائيں بلند ہوں، نسل جوان قرآن پڑھے، بچے قرآن سيکھيں-

مائيں اپنے بچوں کولازمي  طور پر تلاوت قرآن کي تعليم ديں- باپ اپنے بچوں کو تلاوت قرآن کي نصيحت کرنا ايک فريضہ سمجھيں- ذکر قرآن سے معاشرے کو معمور کر ديجئے، ہماري زندگي کو قرآن سے معطر ہونا چاہئے، اس کے بغير نجات ناممکن ہے- صدر اسلام ميں قرآن عوام کے درميان رائج تھا، جو شخص قرآن لکھتا تھا،ياد کرتا تھا، اس کي تلاوت کرتا تھا اسے معاشرے ميں عزت و قدر کي نگاہ سے ديکھا جاتا تھا، وہ پيغمبر0 کي نگاہوں ميں محبوب سمجھا جاتا تھا-

پيغمبر0 اسلام نے عظمت قرآن کا جو سکہ بٹھايا تھا، عوام کے درميان الفت قرآن کي جو موج ايجاد کي تھي وہ ايک عرصہ تک باقي رہي، عوام قرآن سے وابستہ رہے- اور قرآن زندہ تھا- اسلامي حکومت اس وقت اپني حقيقت کھو بيٹھي جب قرآن معاشرے سے رخصت کر ديا گيا-

جب تک عوام ميں قرآن سے انس باقي تھا عياش وشہوت پرست بادشاہوں کے لئے ممکن نہ تھا کہ اعلانيہ فسق و فجور کے بھي مرتکب ہوں اور عوام پر حکومت بھي کرتے رہيں- تاريخ ميں ايسے واقعات ملتے ہيں کہ عوام نے خليفہ کے مقابلے ميں قرآن کے ذريعے مبارزہ و مجادلہ کرکے اسے عاجز و لاجواب کر ديا- يہ سلسلہ خلفائے بني اميہ اور کسي حد تک خلفائے بني عباس کے دور تک باقي رہا- قرآن مجيد معيار و فرقان سمجھا جاتا تھا- عوام اس کے معتقد تھے- جب خليفہ کے رفتار وکردار اس معيارو فرقان سے ميل نہ کھاتے تو عوام ان سے جواب طلب کرتے تھے- لہٰذا قرآن مجيد کو عوامي زندگي سے دور کرنے کوششيں شروع کرديں- حتي کہ اموي خلفائ نے قرآن مجيد کو تيروں سے چھلني کرديا- ہماري تاريخ ايسے حوادث سے دوچار ہوئي ہے- آج ضرورت اس امر کي ہے کہ پھر سے قرآن کي محبت ہمارے دلوں ميں بيدار ہو تاکہ پھر سے اسلامي معاشرے ميں وہي پراني اقدار کو رائج کيا جاۓ جو اسلامي معاشرے  کا شيوہ ہے -

( جاري ہے )


source : tebyan
418
0
0% (نفر 0)
 
نظر شما در مورد این مطلب ؟
 
امتیاز شما به این مطلب ؟
اشتراک گذاری در شبکه های اجتماعی:

latest article

تفسیر "فصل الخطاب" سے اقتباسات (حصہ سوم)
تفسیر "سورہ البقرة " (آیات 26 تا 30)
قرآن سے انسيت كے مرتبے
قرآن و سنت کی روشنی میں امت اسلامیہ کی بیداری
مفسرین کرام نے کلمھ"واضربوھن"(عورتوں کو مارو)کو آیھ ...
تاريخ کي اھميت قرآن کي نظر ميں
خلقت انسان اور قرآن
قرآن مجید کے کس سوره میں "الحی القیوم" کی دو صفتیں ...
زبان قرآن کی شناخت
قرآني دعائيں

 
user comment