اردو
Sunday 9th of August 2020
  12
  0
  0

طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے

معنویت کی طرف رجحان پیدا کرنے اور اسے عروج بخشنے کے لئے میدان ہموار ہے، بس کام اتنا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی طرح ہمیں خود لوگوں کی تلاش میں جانا ہوگا۔ آنحضرت (ص) کی ایک صفت اس طرح بیان کی گئی ہے: ''طبیب دوّار بطبہ قد احکم مراھمہ و احمیٰ مواسمہ۔'' (نہج البلاغہ، خطبہ107)
طبیب، جو خود مریض کے پاس جائے

معنویت کی طرف رجحان پیدا کرنے اور اسے عروج بخشنے کے لئے میدان ہموار ہے، بس کام اتنا ہے کہ رسول اکرم (ص) کی طرح ہمیں خود لوگوں کی تلاش میں جانا ہوگا۔ آنحضرت (ص) کی ایک صفت اس طرح بیان کی گئی ہے: ''طبیب دوّار بطبہ قد احکم مراھمہ و احمیٰ مواسمہ۔''

 (نہج البلاغہ، خطبہ107)

 رسول اکرم (ص) گھوم گھوم کر طبابت کرنے والے طبیب کی مانند تھے۔ عام طور سے طبیب اپنے مطب میں بیٹھے رہتے ہیں اور مریض ان کے قریب جاتے ہیں لیکن انبیاء اس انتظار میں گھر نہیں بیٹھے رہتے تھے کہ لوگ ان کی طرف رجوع کریں بلکہ وہ خود لوگوں کی طرف جاتے تھے۔ وہ اپنے بستہ طبابت میں مرہم بھی رکھتے تھے، نشتر بھی رکھتے تھے اور زخم کو داغنے کا وسیلہ بھی ساتھ رکہتے تھے۔


source : tebyan
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    نعت رسول پاک
    اخلاق کی لغوی اور اصطلاحی تعریف
    مثالی معاشرے کی ضرورت و اہمیت:
    معاشرہ کی تربیت کا نبوی (ص) طریقہ کار
    مثالی معاشرے کی اہم خصوصیات۔
    اولاد کی تربیت میں محبت کا کردار
    امام حسین علیہ السلام
    قصيدہ بردہ شريف کے خالق امام بوصيري رحمة اللہ عليہ
    تشیع کے اندر مختلف فرقے
    اخلاق اور مکارمِ اخلاق

 
user comment