اردو
Thursday 13th of August 2020
  12
  0
  0

نبوت و امامت باہم ہیں

متواتر احادیث اور اسلام کی قطعی تاریخ صاف گواہی دیتی ہیں کہ نبوت اور امامت دونوں کا اعلان ایک ہی دن ہوا اور جس روز پیغمبراکرم (ص)خدا کی طرف سے اپنے خاندان والوں کے درمیان اپنی رسالت کا اعلان کرنے پر مامور ہوئے تھے اسی روز آپ (ص) نے اپنا خلیفہ و جانشین بھی معین فرما دیا تھا۔ اسلام کے گرانقدر مفسرین و محدثین لکھتے ہیں کہ جب آیت”و انذر عشیرتک الاقربین
نبوت و امامت باہم ہیں

متواتر احادیث اور اسلام کی قطعی تاریخ صاف گواہی دیتی ہیں کہ نبوت اور امامت دونوں کا اعلان ایک ہی دن ہوا اور جس روز پیغمبراکرم (ص)خدا کی طرف سے اپنے خاندان والوں کے درمیان اپنی رسالت کا اعلان کرنے پر مامور ہوئے تھے اسی روز آپ (ص) نے اپنا خلیفہ و جانشین بھی معین فرما دیا تھا۔

اسلام کے گرانقدر مفسرین و محدثین لکھتے ہیں کہ جب آیت”و انذر عشیرتک الاقربین“ (شعراء /۲۱۴) نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو خاندان والوں کے لئے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا جنھیں آنحضرت (ص) نے مہمان بلایا تھا۔ حضرت علی علیہ السلام نے بھی پیغمبر (ص)کے حکم سے کھانا تیار کیا اور بنی ہاشم کی پینتالیس شخصیتیں اس مجلس میں اکٹھا ہوئیں۔ پہلے روز ابو لہب کی بیہودہ باتوں کی وجہ سے پیغمبر اکرم (ص) اپنی رسالت کا پیغام سنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ دوسرے روز پھر یہ دعوت کی گئی اور مہمانوں کے کھانا کھا لینے کے بعد پیغمبر (ص)اپنی جگہ کھڑے ہوئے اور خداوند عالم کی حمد و ثنا کرنے کے بعد فرمایا:
میں تم لوگوں اور دنیا کے تمام انسانوں کے لئے خدا کا پیغمبر ہوں اور تم لوگوں کے لئے دنیا وآخرت کی بھلائی لایا ہوں۔ خدا نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تم لوگوں کو اس دین کی طرف دعوت دوں تم میں سے جو شخص اس کام میں میری  مدد کرے گا وہ میرا وصی اور جانشین ہوگا۔

اس وقت حضرت علی بن ابیطالب (ع) کے علاوہ کسی نے بھی اٹھ کر پیغمبر (ص)کی نصرت و مدد کا اعلان نہیں کیا۔ پیغمبر اکرم (ص) نے حضرت علی علیہ السلام کو بیٹھ جانے کا حکم دیا اور دوبارہ اور تیسری بار بھی اپنا جملہ دہرایا اور ہر بار حضرت علی (ع)کے علاوہ کسی نے آپ (ص) کی حمایت اور اس راہ میں آپ (ص) کی نصرت و فدا کاری کا اظہار نہیں کیا۔ اس وقت پیغمبر (ص) نے اپنے خاندان والوں کی طرف رخ کرکے فرمایا: ”ان ھذااٴخی و وصی و خلیفتی فیکم فاسمعوا و اطیعوا“ یعنی علی (ع) میرا بھائی اور تمہارے درمیان میرا وصی و جانشین ہے،پس تم پر لازم ہے کہ اس کا فرمان سنو اور اس کی اطاعت کرو۔

 

تاریخ کا یہ واقعہ اس قدر مسلّم ہے کہ ابن تیمیہ جس کا خاندان اہل بیت (ع) سے عناد سب پر ظاہر ہے ،کے علاوہ کسی نے بھی اس کی صحت سے انکار نہیں کیا ہے۔ یہ حدیث حضرت علی (ع) کی امامت کی دلیل ہونے کے علاوہ اس بات کی سب سے اہم گواہ ہے کہ امامت کا مسئلہ امت کے اختیار میں نہیں ہے۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ جانشین کا اعلان اس قدر اہم تھا کہ نبوت و امامت دونوں منصبوں کے مالک افراد کا اعلان ایک ہی دن پیغمبر (ص)کے خاندان والوں کے سامنے کیا گیا ۔

 

یہ واقعہ تین بعثت کو پیش آیا اور اس وقت تک پیغمبر اکرم (ص)کی دعوت مخصوص افراد کے ذریعہ لوگوں تک پہنچائی جاتی تھی اور تقریباً ۵۰ پچاس افراد اس وقت تک مسلمان ہوئے تھے۔


source : tebyan
  12
  0
  0
امتیاز شما به این مطلب ؟

latest article

    حج بيت اللہ ايک اہم عبادت
    ولایت
    قیامت: قرآن کے آئینہ میں
    بے مروت آدمی
    شرک کیا ھے؟
    آسمان اور ستاروں کا تھس نھس ھوجانا
    ابدی زندگی اور اخروی حیات
    شیخ الازہر: شیعہ مسلمان ہیں/ کسی سنی کے شیعہ ہونے میں ...
    ہماری کہانیاں
    مسئلہ امامت فروع دین میں سے ہے نہ کہ اصول دین میں سے

 
user comment